رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بحير سعد السحولي 1828
کتاب/کتب میں: سنن ابي داود
10 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: معاوية بن ابي سفيان الاموي ( 7570 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، عمرو بن عثمان القرشي ( 6163 ) ، حدیث ۔۔۔ خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب ، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے پاس آئے ، تو معاویہ ؓ نے مقدام سے کہا : کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی ؓ کا انتقال ہو گیا ؟ مقدام نے یہ سن کر « انا للہ وانا اليہ راجعون » پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا : کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا ، اور فرمایا : ” یہ میرے مشابہ ہے ، اور حسین علی کے “ ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا : ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا : آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے ، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا ، پھر انہوں نے کہا : معاویہ ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں ، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں ، معاویہ بولے : میں ایسا ہی کروں گا ۔ مقدام نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ معاویہ نے کہا : ہاں ۔ پھر کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں معلوم ہے ، پھر کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں معلوم ہے ۔ تو انہوں نے کہا : معاویہ ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں ؟ تو معاویہ نے کہا : مقدام ! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا ۔ خالد کہتے ہیں : پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا ، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا ، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا ، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا : مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں ، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  7k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن بسر النصري ( 4742 ) ، عبد الله بن ابي بلال الخزاعي ( 4633 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہو گی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبادة بن الصامت الانصاري ( 4153 ) ، جنادة بن ابي امية الازدي ( 2182 ) ، عمير بن الاسود العنسي ( 6076 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، حدیث ۔۔۔ عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں دجال کے متعلق تمہیں اتنی باتیں بتا چکا ہوں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے یاد نہ رکھ سکو گے (تو یاد رکھو) مسیح دجال پستہ قد ہو گا ، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا ، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے ، کانا ہو گا ، آنکھ مٹی ہوئی ہو گی ، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی ، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: العرباض بن سارية السلمي ( 5583 ) ، عبد الله بن ابي بلال الخزاعي ( 4633 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، مؤمل بن الفضل الجزري ( 6651 ) ، حدیث ۔۔۔ عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے « المسبحات » پڑھتے تھے ، اور فرماتے تھے : ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، خيار بن سلمة الشامي ( 2757 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، إبراهيم بن موسى التميمي ( 890 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوزیاد خیار بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پیاز کے متعلق پوچھا کیا تو آپ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جو آخری کھانا تناول کیا اس میں پیاز تھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عوف بن مالك الاشجعي ( 6259 ) ، سيف الشامي ( 3732 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، موسى بن مروان التمار ( 7769 ) ، عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ( 5282 ) ، حدیث ۔۔۔ عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا ، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا : مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے ، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو ، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو : میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عقبة بن عامر الجهني ( 5672 ) ، كثير بن مرة الحضرمي ( 6576 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، إسماعيل بن عياش العنسي ( 1050 ) ، عثمان بن ابي شيبة العبسي ( 5551 ) ، حدیث ۔۔۔ عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن حوالة الازدي ( 4784 ) ، مرثد بن وداعة الجعفي ( 7386 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن حوالہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے ، ایک ٹکڑی شام میں ، ایک یمن میں اور ایک عراق میں “ ۔ ابن حوالہ نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” اپنے اوپر شام کو لازم کر لو ، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے ، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا ، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا ، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: معاذ بن جبل الانصاري ( 7547 ) ، عبد الله بن قيس الكندي ( 5019 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، حدیث ۔۔۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جہاد دو طرح کے ہیں : رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی ، امام کی اطاعت کی ، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا ، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی ، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے ، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار ، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا ، امام کی نافرمانی کی ، اور زمین میں فساد مچایا تو (اسے ثواب کیا ملنا) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: اسم مبهم ( 1131 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، حدیث ۔۔۔ ایک صحابی رسول ؓ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا ، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا ، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے وضو ، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k


Search took 0.515 seconds