رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بحير سعد السحولي 1828
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
9 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: العرباض بن سارية السلمي ( 5583 ) ، عبد الله بن ابي بلال الخزاعي ( 4633 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، علي بن حجر السعدي ( 5757 ) ، حدیث ۔۔۔ عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے آپ فرماتے تھے : ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عقبة بن عامر الجهني ( 5672 ) ، كثير بن مرة الحضرمي ( 6576 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، إسماعيل بن عياش العنسي ( 1050 ) ، الحسن بن عرفة العبدي ( 1276 ) ، حدیث ۔۔۔ عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا کھلے عام صدقہ دینے والا ، اور آہستگی و خاموشی سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چھپا کر صدقہ دینے والا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس حدیث کا معنی و مطلب یہ ہے کہ جو شخص آہستگی سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے ، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ دینا برسر عام صدقہ دینے سے افضل ہے ۔ مفہوم یہ ہے کہ اہل علم کے نزدیک اس سے آدمی عجب (خود نمائی) سے محفوظ رہتا ہے ۔ کیونکہ جو شخص چھپا کر عمل کرتا ہے اس کے عجب میں پڑنے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اس کے کھلے عام عمل کرنے میں ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: العرباض بن سارية السلمي ( 5583 ) ، عبد الله بن ابي بلال الخزاعي ( 4633 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، علي بن حجر السعدي ( 5757 ) ، حدیث ۔۔۔ عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب تک « مسبحات » پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ، آپ فرماتے تھے : ” ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: نواس بن سمعان الكلابي ( 1745 ) ، جبير بن نفير الحضرمي ( 2097 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، علي بن حجر السعدي ( 5757 ) ، حدیث ۔۔۔ نواس بن سمعان کلابی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال دی ہے ، اس صراط مستقیم کے دونوں جانب دو گھر ہیں ، ان گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ، دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ، ایک پکارنے والا اس راستے کے سرے پر کھڑا پکار رہا ہے ، اور دوسرا پکارنے والا اوپر سے پکار رہا ہے ، (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) « واللہ يدعوا إلى دار السلام ويہدي من يشاء إلى صراط مستقيم » ” اللہ تعالیٰ دارالسلام (جنت کی طرف) بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ” صراط مستقیم “ کی ہدایت دیتا ہے “ ، تو وہ دروازے جو صراط مستقیم کے دونوں جانب ہیں وہ حدود اللہ ہیں تو کوئی شخص جب تک پردہ کھول نہ دیا جائے ، حدود اللہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور اوپر سے پکارنے والا اس کے رب کا واعظ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کو سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے زکریا بن عدی کو سنا وہ کہتے تھے کہ ابواسحاق فزاری نے کہا : بقیہ (راوی) تم سے جو ثقہ راویوں کے ذریعہ روایت کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی روایت نہ لو خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: العرباض بن سارية السلمي ( 5583 ) ، عبد الرحمن بن عمرو السلمي ( 4459 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، علي بن حجر السعدي ( 5757 ) ، حدیث ۔۔۔ عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے ، ایک شخص نے کہا : یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے (آخری بار) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں ، تو اللہ کے رسول ! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے ، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں ، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ (امت کے اندر) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم (باقی رہنے والوں) کو میری وصیت ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا ، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں ۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمار ہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے “ ۔ (اور اس پر عمل پیرا رہے) امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ثور بن یزید نے بسند « خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن ساريۃ عن النبي صلى اللہ عليہ وسلم » اسی طرح روایت کی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: معاذ بن جبل الانصاري ( 7547 ) ، كثير بن مرة الحضرمي ( 6576 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، إسماعيل بن عياش العنسي ( 1050 ) ، الحسن بن عرفة العبدي ( 1276 ) ، حدیث ۔۔۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” جو عورت بھی اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو (جنت کی) بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے : تو اسے تکلیف نہ دے ۔ اللہ تجھے ہلاک کرے ، یہ تو ویسے بھی تیرے پاس بس مسافر ہے ، قریب ہے کہ یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، ۲- اسماعیل بن عیاش کی روایتیں جنہیں انہوں نے اہل شام سے روایت کی ہیں بہتر ہے ، لیکن اہل حجاز اور اہل عراق سے ان کی روایتیں منکر ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عمرو بن عبسة السلمي ( 6158 ) ، كثير بن مرة الحضرمي ( 6576 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، حيوة بن شريح الحضرمي ( 2597 ) ، إسحاق بن منصور الكوسج ( 970 ) ، حدیث ۔۔۔ عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے قیامت کے دن اس کے لیے ایک نور ہو گا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: المقدام بن معدي كرب الكندي ( 1686 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، بقية بن الوليد الكلاعي ( 1919 ) ، نعيم بن حماد الخزاعي ( 7912 ) ، عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ( 4900 ) ، حدیث ۔۔۔ مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں ، (۱) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ، (۲) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے ، (۳) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے ، (۴) « فزع الأكبر » (عظیم گھبراہٹ والے دن) سے مامون رہے گا ، (۵) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ، (۶) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی ، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو ذر الغفاري ( 2187 ) ، عويمر بن مالك الانصاري ( 6271 ) ، جبير بن نفير الحضرمي ( 2097 ) ، خالد بن معدان الكلاعي ( 2681 ) ، بحير بن سعد السحولي ( 1828 ) ، إسماعيل بن عياش العنسي ( 1050 ) ، عبد الاعلى بن مسهر الغساني ( 4209 ) ، محمد بن الحسين السمناني ( 6903 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو الدرداء ؓ یا ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تو دن کے شروع میں میری رضا کے لیے چار رکعتیں پڑھا کر ، میں پورے دن تمہارے لیے کافی ہوں گا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k


Search took 0.550 seconds