رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بديل ميسرة العقيلي 1832
کتاب/کتب میں: صحیح مسلم
9 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، الزبير بن الخريت البصري ( 1426 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، محمد بن عبيد الغبري ( 7150 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، عمران بن حدير السدوسي ( 6034 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، الفضيل بن الحسين الجحدري ( 6421 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابن عمر ؓ کہتے ہیں ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا باقی گزشتہ کی طرح بیان کیا مگر اس میں یہ ذکر نہیں کہ پھر اس نے سوال کیا ایک سال کے بعد ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، عبيد الله بن عمر الجشمي ( 5422 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : (یہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہے جیسے آگے معلوم ہو گا) جب ایمان دار کی روح بدن سے نکلتی ہے تو اس کے آگے دو فرشتے آتے ہیں ، اس کو آسمان پر چڑھا لے جاتے ہیں ۔ حماد نے کہا : (جو حدیث کا راوی ہے) کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے اس روح کی خوشبو کا اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے کہتے ہیں (یعنی فرشتے) کوئی پاک روح ہے جو زمیں کی طرف سے آئی ، اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت کرے اور تیرے بدن پر جس کو تو نے آباد رکھا ۔ پھر پروردگار کے پاس اس کو لے جاتے ہیں ۔ وہ فرماتا ہے : ”اس کو لے جاؤ (اپنے مقام میں یعنی علیین میں جہاں مؤمنوں کی ارواح رہتی ہیں) قیامت ہونے تک“ (وہیں رکھو) اور کافر کی جب روح نکلتی ہے ۔ حماد نے کہا : (جو اس حدیث کا راوی ہے) کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے اس کی بدبو کا اور اس پر لعنت کا ذکر کیا ۔ آسمان والے کہتے ہیں : کوئی ناپاک روح ہے جو ز میں کی طرف سے آئی ، پھر حکم ہوتا ہے ”اس کو لے جاؤ (اپنے مقام میں یعنی سجین میں جہاں کافروں کی روحیں رہتی ہیں) قیامت ہونے تک ۔ “ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک باریک کپڑا جو آپ ﷺ اوڑھتے تھے اپنی ناک پر ڈالا (جب کافر کی روح کا ذکر کیا اس کی بدبو بیان کرنے کو) اس طرح سے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  5k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، سليمان بن داود العتكي ( 3583 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور میں اس کے اور نبی ﷺ کے بیچ میں تھا ۔ اسے نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! رات کی نماز کیونکر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” دو ، دو رکعت پھر جب تجھے ڈر ہو صبح کا تو ایک رکعت پڑھ لے اور آخر نماز کے وتر ادا کر ۔ “ پھر پوچھا ایک سال بعد اور میں نبی ﷺ کے پاس اسی طرح تھا (یعنی دونوں کے بیچ میں) اسی شخص نے یا کسی نے ، پھر بھی آپ ﷺ نے اسی کی مثل فرمایا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، محمد بن جعفر الهذلي ( 6904 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن شقیق ؓ نے کہا کہ میں فارس میں بیمار ہوا تھا اور بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا (پھر جب مدینہ میں آیا) سیدہ عائشہ ؓ سے پوچھا ۔ آپ ؓ نے فرمایا : کہ رسول اللہ ﷺ بڑی رات تک نماز بیٹھ کر پڑھتے اور آخر تک حدیث ذکر کی ۔ (یعنی جو اوپر مذکور ہوئی) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ بڑی بڑی رات تک نماز پڑھتے ۔ پھر جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے کھڑے کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، محمد بن جعفر الهذلي ( 6904 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پناہ مانگتے تھے قبر کے عذاب سے اور دوزخ کے عذاب سے اور دجال کے فتنہ سے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو ذر الغفاري ( 2187 ) ، عبد الله بن الصامت الغفاري ( 4709 ) ، زياد بن فيروز البراء ( 3099 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، خالد بن الحارث الهجيمي ( 2625 ) ، يحيى بن حبيب الحارثي ( 8247 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوذر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا : ”کیا کرے گا جب ایسے لوگوں میں رہ جائے گا جو نماز میں دیر کریں گے اس کے وقت سے ؟ “ تو انہوں نے عرض کی کہ آپ ﷺ کیا حکم کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم اپنے وقت پر نماز ادا کر لینا اور اپنے کام کو چلے جانا پھر اگر تکبیر ہو اور تم مسجد میں ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لو ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، اوس بن عبد الله الربعي ( 731 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، الحسين بن ذكوان المعلم ( 1327 ) ، عيسى بن يونس السبيعي ( 6343 ) ، إسحاق بن راهويه المروزي ( 927 ) ، الحسين بن ذكوان المعلم ( 1327 ) ، سليمان بن حيان الجعفري ( 3580 ) ، محمد بن نمير الهمداني ( 7136 ) ، حدیث ۔۔۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ شروع کرتے نماز کو اللہ اکبر کہہ کر اور قرأت کو « الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ » سے (تو « بِسْمِ اللَّـہِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ » آہستہ سے کہتے) اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ (پیٹھ کے برابر رکھتے) بیچ میں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جاتے اور ہر رکعت کے بعد (قعدے میں) التحیات پڑھتے اور بایاں پاؤں بچھا کر داہنا پاؤں کھڑا کرتے اور منع کرتے شیطان کی بیٹھک سے اور منع کرتے تھے اس بات سے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر درندے (جانور) کی طرح بچھائے اور نماز کو سلام سے ختم کرتے تھے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k
رواۃ الحدیث: صفوان بن يعلى التميمي ( 3948 ) ، عطاء بن ابي رباح القرشي ( 5625 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، هشام بن ابي عبد الله الدستوائي ( 8035 ) ، معاذ بن هشام الدستوائي ( 7563 ) ، مالك بن عبد الواحد المسمعي ( 6683 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا صفوان بن یعلیٰ ؓ سے روایت ہے ، یعلیٰ بن منیہ کے ایک نوکر نے (جھگڑا کیا ایک شخص سے) دوسرے نے اس کا ہاتھ دانت سے کاٹا اس نے اپنا ہاتھ گھسیٹا تو دوسرے کے دانت گر پڑے پھر یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا ۔ آپ ﷺ نے اس کو لغو کر دیا اور فرمایا : ”تو چاہتا تھا کہ اس کا ہاتھ چبا ڈالے جیسے اونٹ چبا لیتا ہے ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k


Search took 0.476 seconds