رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بديل ميسرة العقيلي 1832
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، عبد الله بن شقيق العقيلي ( 4861 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، هارون بن موسى الاعور ( 7989 ) ، جعفر بن سليمان الضبعي ( 2151 ) ، بشر بن هلال الصواف ( 1893 ) ، حدیث ۔۔۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ « فروح وريحان وجنۃ نعيم » پڑھتے تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، ام كلثوم بنت ابي بكر الصديق ( 662 ) ، عبد الله بن عبيد الليثي ( 4929 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، هشام بن ابي عبد الله الدستوائي ( 8035 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، محمد بن ابان البلخي ( 6750 ) ، حدیث ۔۔۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم لوگوں میں سے کوئی کھانا کھائے تو « بسم اللہ » پڑھ لے ، اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے « بسم اللہ في أولہ وآخرہ » ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: اسماء بنت يزيد الانصارية ( 560 ) ، شهر بن حوشب الاشعري ( 3837 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، هشام بن ابي عبد الله الدستوائي ( 8035 ) ، معاذ بن هشام الدستوائي ( 7563 ) ، عبد الله بن محمد الصواف ( 5053 ) ، حدیث ۔۔۔ اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بازو کی آستین کلائی (پہنچوں) تک ہوتی تھی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: مالك بن الحويرث الليثي ( 6665 ) ، ابو عطية مولى بني عقيل ( 276 ) ، بديل بن ميسرة العقيلي ( 1832 ) ، ابان بن يزيد العطار ( 18 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، هناد بن السري التميمي ( 8098 ) ، محمود بن غيلان العدوي ( 7352 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوعطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث ؓ ہماری نماز پڑھنے کی جگہ میں آتے اور حدیث بیان کرتے تھے تو ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھئیے (اور نماز پڑھائیے) ۔ انہوں نے کہا : تمہیں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے یہاں تک کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیوں نہیں آگے بڑھتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ” جو کسی قوم کی زیارت کو جائے تو ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان کی امامت ان ہی میں سے کسی آدمی کو کرنی چاہیئے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ صاحب خانہ زیارت کرنے والے سے زیادہ امامت کا حقدار ہے ، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب اسے اجازت دے دی جائے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اسحاق بن راہویہ نے مالک بن حویرث ؓ کی حدیث کے مطابق کہا ہے اور انہوں نے اس مسئلہ میں سختی برتی ہے کہ صاحب خانہ کو کوئی اور نماز نہ پڑھائے اگرچہ صاحب خانہ اسے اجازت دیدے ، نیز وہ کہتے ہیں : اسی طرح کا حکم مسجد کے بارے میں بھی ہے کہ وہ جب ان کی زیارت کے لیے آیا ہو انہیں میں سے کسی آدمی کو ان کی نماز پڑھانی چاہیئے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k


Search took 0.585 seconds