رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: برد سنان الشامي 1834
کتاب/کتب میں: سنن ابن ماجہ
3 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، واثلة بن الاسقع الليثي ( 8115 ) ، مكحول بن ابي مسلم الشامي ( 7659 ) ، برد بن سنان الشامي ( 1834 ) ، محرز بن عبد الله الجزري ( 6740 ) ، محمد بن خازم الاعمى ( 6936 ) ، علي بن محمد الكوفي ( 5811 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوہریرہ ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے ، قانع بن جاؤ ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے ، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو ، مومن ہو جاؤ گے ، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو ، مسلمان ہو جاؤ گے ، اور کم ہنسا کرو ، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، غضيف بن الحارث السكوني ( 6369 ) ، عبادة بن نسي الكندي ( 4159 ) ، برد بن سنان الشامي ( 1834 ) ، إسماعيل بن علية الاسدي ( 1003 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ ؟ انہوں نے کہا : کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبادة بن الصامت الانصاري ( 4153 ) ، قبيصة بن ذؤيب الخزاعي ( 6453 ) ، إسحاق بن قبيصة الخزاعي ( 963 ) ، برد بن سنان الشامي ( 1834 ) ، يحيى بن حمزة الحضرمي ( 8254 ) ، هشام بن عمار السلمي ( 8056 ) ، حدیث ۔۔۔ قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری ؓ نے (جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں) معاویہ ؓ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا ، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار (اشرفی) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں ، تو کہا : لوگو ! تم سود کھاتے ہو ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ” تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر ، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار “ ، تو معاویہ ؓ نے ان سے کہا : ابوالولید ! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے ، یعنی نقدا نقد میں تفاضل (کمی بیشی) جائز ہے ، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے ، عبادہ ؓ نے کہا : میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے ، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے ، تو ان سے عمر بن خطاب ؓ نے پوچھا : ابوالولید ! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے ؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا ، اور معاویہ ؓ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا ، عمر ؓ نے کہا : ” ابوالولید ! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں ، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں “ ، اور معاویہ ؓ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا ، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k


Search took 0.365 seconds