رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بسر سعيد الحضرمي 1848
تمام کتب میں:
86 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يزيد بن خصيفة الكندي ( 8454 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، عبد الله بن قيس الاشعري ( 5021 ) ، ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يزيد بن خصيفة الكندي ( 8454 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، علي بن المديني ( 5792 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا ان سے بسر بن سعید اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ ابوموسیٰ ؓ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر ؓ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا ، اس لیے واپس چلا آیا (عمر ؓ کو معلوم ہوا) تو انہوں نے دریافت کیا کہ (اندر آنے میں) کیا بات مانع تھی ؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جانا چاہئے ۔ عمر ؓ نے کہا : واللہ ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہو گا ۔ (ابوموسیٰ ؓ نے مجلس والوں سے پوچھا) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث سنی ہو ؟ ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! تمہارے ساتھ (اس کی گواہی دینے کے سوا) جماعت میں سب سے کم عمر شخص کے کوئی اور نہیں کھڑا ہو گا ۔ ابوسعید نے کہا اور میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا میں ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گیا اور عمر ؓ سے کہا کہ واقعی نبی کریم ﷺ نے ایسا فرمایا ہے ۔ اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ مجھ کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، کہا میں نے ابوسعید ؓ سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 708  -  6k
رواۃ الحدیث: ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عبيد الله بن الاسود الخولاني ( 5370 ) ، ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد ؓ نے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں ۔ “ بسر نے بیان کیا کہ (اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد) پھر زید ؓ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے ۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے ۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ ؓ کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد ؓ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی ۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا ، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے (بشرطیکہ غیر ذی روح کی ہو) ۔ اور عبداللہ بن وہب نے کہا ، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں ، ان سے بکیر نے بیان کیا ، ان سے بسر نے بیان کیا ، ان سے زید نے بیان کیا ، ان سے ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 703  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، موسى بن عقبة القرشي ( 7756 ) ، وهيب بن خالد الباهلي ( 8186 ) ، عفان بن مسلم الباهلي ( 5653 ) ، زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، موسى بن عقبة القرشي ( 7756 ) ، وهيب بن خالد الباهلي ( 8186 ) ، عبد الاعلى بن حماد الباهلي ( 4205 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ابوالنضر سالم سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے زید بن ثابت ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا ۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی ۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی ۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے ، لیکن لوگو ! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو ۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا ، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے ، وہ زید بن ثابت سے ، وہ نبی کریم ﷺ سے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 651  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، عبد الله بن سعيد الفزاري ( 4834 ) ، محمد بن الحسين السمناني ( 6903 ) ، محمد بن زياد الزيادي ( 6975 ) ، عبد الله بن سعيد الفزاري ( 4834 ) ، مكي بن إبراهيم الحنظلي ( 7660 ) ، حدیث ۔۔۔ اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا ۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے ، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے ۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم ﷺ غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہو جائے (اس وقت مشکل ہو) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو ۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  5k
رواۃ الحدیث: خولة بنت حكيم السلمية ( 2752 ) ، سعيد بن المسيب القرشي ( 3299 ) ، يعقوب بن عبد الله المخزومي ( 8529 ) ، محمد بن عجلان القرشي ( 7172 ) ، خولة بنت حكيم السلمية ( 2752 ) ، سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يعقوب بن عبد الله المخزومي ( 8529 ) ، الحارث بن يعقوب الانصاري ( 1233 ) ، يزيد بن قيس الازدي ( 8366 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ خولہ بنت حکیم سلمیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے : « أعوذ بكلمات اللہ التامات من شر ما خلق » ” میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے “ ، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ (یعنی : مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے) ۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے ، البتہ ان کی روایت میں « عن سعيد بن المسيب عن خولۃ » ہے ، ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، عبيد الله بن الاسود الخولاني ( 5370 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن صالح المصري ( 452 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا ہم کو عمرو بن حارث نے خبر دی ، ان سے بکیر بن اشج نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا اور (راوی حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبیداللہ خولانی بھی روایت حدیث میں شریک ہیں ، جو کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ میمونہ ؓ کی پرورش میں تھے ۔ ان دونوں سے زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا کہ ان سے ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں (جاندار کی) تصویر ہو ۔ “ بسر نے بیان کیا کہ پھر زید بن خالد ؓ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے ۔ گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا ، کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ زید ؓ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں (جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے ۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ! زید ؓ نے یہ بھی بیان کیا تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 443  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ زید بن خالد ؓ ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو “ ۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں : پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب (پروردہ) عبیداللہ خولانی سے کہا : کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی (پھر یہ کیا ہوا ؟ ) تو عبیداللہ نے کہا : کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا ” سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: زينب بنت عبد الله الثقفية ( 3170 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، محمد بن عجلان القرشي ( 7172 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، عبيد الله بن سعيد اليشكري ( 5390 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، محمد بن عجلان القرشي ( 7172 ) ، جرير بن عبد الحميد الضبي ( 2122 ) ، إسحاق بن راهويه المروزي ( 927 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم (عورتوں) میں سے کوئی جب عشاء کو آئے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: الحارث بن الصمة الانصاري ( 4685 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا ، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا کہتے سنا ہے ؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو وہ چالیس (دن ، مہینہ یا سال) تک کھڑا رہنے کو بہتر اس بات سے جانتا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، يحيى بن ابي كثير الطائي ( 8208 ) ، الحسين بن ذكوان المعلم ( 1327 ) ، عبد الوارث بن سعيد العنبري ( 5270 ) ، عبد الله بن عمر التميمي ( 4978 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ہم سے حسین نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے بسر بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے زید بن خالد ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: مجاہدین کی مدد کرنا بھی جہاد کا حصہ ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: عبيد الله بن الاسود الخولاني ( 5370 ) ، ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے ، جو صحابی تھے رسول اللہ ﷺ کے ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس کے اندر تصویر ہو ۔ “ بسر نے کہا : زید بیمار ہوئے ہم ان کی بیمار پرسی کو گئے ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا ، جس پر تصویریں تھی ۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا جو ام المومنین میمونہ ؓ کا ربیب تھا خود زید ہی نے ہم سے تصویر کی حدیث بیان کی تھی (اور اب پردہ لٹکایا ہے تصویر کا) عبیداللہ نے کہا : تم نے ان سے نہیں سنا ، انہوں نے یہ بھی کہا تھا : مگر جو نقش ہو کپڑے میں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، سعيد بن المسيب القرشي ( 3299 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، سليم بن جبير الدوسي ( 3543 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، سلمان الاغر ( 3482 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن ابي موسى المصري ( 479 ) ، عمرو بن سواد القرشي ( 6140 ) ، هارون بن سعيد السعدي ( 7979 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب گرم دن ہو تو ٹھنڈے وقت نماز ادا کرو اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے ۔ “ عمرو نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ابویونس نے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” نماز کو ٹھنڈا کر اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے ۔ “ عمرو نے کہا : ” مجھ سے ابن شہاب نے ، انہوں نے ابن مسیّب سے اور ابوسلمہ سے روایت کی کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے روایت کی رسول اللہ ﷺ سے اسی روایت کے مانند ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  4k
رواۃ الحدیث: سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عياش بن عباس القتباني ( 6275 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے عثمان بن عفان ؓ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا ، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا “ ، میں نے عرض کیا : آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” آدم کے بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جانا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں « رجلا » (ایک آدمی) کا اضافہ کیا ہے ، ۳- سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت سے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ۴- اس باب میں ابوہریرہ ، خباب بن ارت ، ابوبکرہ ، ابن مسعود ، ابوواقد ، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، عبيد بن حنين الطائي ( 5328 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، فليح بن سليمان الاسلمي ( 6437 ) ، محمد بن سنان الباهلي ( 7009 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ، کہا ہم سے ابونضر سالم بن ابی امیہ نے عبید بن حنین کے واسطہ سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا (کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے) بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت ۔ یہ سن کر ابوبکر ؓ رونے لگے ، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اللہ نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے ۔ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ ﷺ ہی تھے اور ابوبکر ؓ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا ۔ ابوبکر آپ روئیے مت ۔ اپنی صحبت اور اپنی دولت کے ذریعہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے آپ ہی ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن (جانی دوستی تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتی) اس کے بدلہ میں اسلام کی برادری اور دوستی کافی ہے ۔ مسجد میں ابوبکر ؓ کی طرف کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: مسجد میں کھڑکی اور گزرگاہ بنانا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، عبيد بن حنين الطائي ( 5328 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، فليح بن سليمان الاسلمي ( 6437 ) ، سعيد بن منصور الخراساني ( 3401 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا ۔ جیسا کہ حدیث مالک میں ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  2k
رواۃ الحدیث: الحارث بن الصمة الانصاري ( 4685 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن يوسف الكلاعي ( 5175 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن ابی امیہ سے خبر دی ۔ انہوں نے بسر بن سعید سے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری ؓ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم ﷺ سے کیا سنا ہے ۔ ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا ۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: نمازی کے سامنے سے نکلنے والے کا گناہ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، فليح بن سليمان الاسلمي ( 6437 ) ، عبد الملك بن عمرو القيسي ( 5231 ) ، عبد الله بن محمد الجعفي ( 5060 ) ، حدیث ۔۔۔ مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا ، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر ؓ رونے لگے ۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ نبی کریم ﷺ تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا ، لیکن بات یہ تھی کہ خود آپ ﷺ ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور (واقعتاً) ابوبکر ؓ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے ۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے (جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے) سب بند کر دیئے جائیں ۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، عبد الله بن سعيد الفزاري ( 4834 ) ، محمد بن جعفر الهذلي ( 6904 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پتوں وغیرہ کا یا بوریئے کا ایک حجرہ بنایا اور نکلے رسول اللہ ﷺ اور اس میں نماز پڑھنے لگے ، پھر آپ ﷺ کے پیچھے بہت لوگ اقتدا کرنے لگے ، پھر آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے ۔ پھر ایک رات سب لوگ آئے اور آپ ﷺ نے دیر کی اور ان کی طرف نہ نکلے اور لوگوں نے آپ ﷺ کی طرف آوازیں بلند کیں اور دروازہ پر کنکریاں ماریں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کی طرف غصہ سے نکلے اور ان سے فرمایا : ” تمہاری یہ حالت ایسی ہی رہتی تو گمان ہو گیا تھا کہ یہ نماز بھی تم پر فرض نہ ہو جائے ۔ تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو ، اس لئے کہ سوائے فرض کے آدمی کی بہتر نماز وہی ہے جو گھر میں ہو “ (کہ ریا سے دور رہے) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 372  -  3k
رواۃ الحدیث: زينب بنت عبد الله الثقفية ( 3170 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عبيد الله بن ابي جعفر المصري ( 5362 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ زینب ثقفیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم (عورتوں) میں سے جو کوئی مسجد کو جائے تو وہ خوشبو کے نزدیک بھی نہ جائے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، عيسى بن حماد التجيبي ( 6305 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو “ ، بسر کہتے ہیں : پھر زید بیمار پڑ گئے تو ہم نے ان کی عیادت کی ، اچانک دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے جس میں تصویر ہے ، میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا : کیا زید نے ہمیں تصویر کے بارے میں پہلے روز حدیث نہیں سنائی تھی ؟ کہا : عبیداللہ نے کہا : کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : کپڑے کے نقش کے سوا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: الحارث بن الصمة الانصاري ( 4685 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی ؓ نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ” اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے ، تو اس کو نمازی کے سامنے گزرنے سے چالیس (دن یا مہینے یا سال تک) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا “ ۔ ابونضر کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، زيد بن اسلم القرشي ( 3122 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عطاء بن یسار اور بسر بن سعید اور عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے ، ان تینوں نے ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا ۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) سورج ڈوبنے سے پہلے پا لی ، اس نے عصر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن قيس الاشعري ( 5021 ) ، ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن عمرو القرشي ( 477 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، ہم ابی بن کعب ؓ کی مجلس میں بیٹھے تھے اتنے میں ابوموسیٰ اشعری ؓ آئے غصہ میں اور کھڑے ہو کر کہنے لگے میں تم کو قسم دیتا ہوں اللہ کی تم میں سے کسی نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے ، آپ ﷺ فرماتے تھے : ” تین بار اجازت مانگنا ہے پھر اگر اجازت ملے تو بہتر ورنہ لوٹ جا ۔ “ سیدنا ابی ؓ نے کہا : تم کیوں پوچھتے ہو اس کو ؟ انہوں نے کہا : میں نے کل سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے گھر پر تین بار اجازت مانگی مجھ کو اجازت نہ ملی میں لوٹ آیا ۔ آج پھر میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا : کل میں آپ کے پاس آیا تھا اور تین بار سلام کیا تھا پھر میں لوٹ گیا ۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا : میں نے سنا تھا اس وقت ہم کام میں تھے تم نے پھر اجازت کیوں نہیں مانگی یہاں تک کہ تم کو اجازت ملتی ؟ میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جس طرح فرمایا ہے اس طرح میں نے اجا‎‎‌زت مانگی ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں دکھ دوں گا تیرے پیٹ اور پیٹھ کو ، نہیں تو تو گواہ لا اس حدیث پر ۔ سیدنا ابی بن کعب ؓ نے کہا : تو اللہ کی قسم ! تمہارے ساتھ وہ جائے جو ہم سب میں کمسن ہو ۔ اٹھ اے ابوسعید ! پھر میں اٹھا اور سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، يحيى بن ابي كثير الطائي ( 8208 ) ، الحسين بن ذكوان المعلم ( 1327 ) ، عبد الوارث بن سعيد العنبري ( 5270 ) ، عبد الله بن عمر التميمي ( 4978 ) ، حدیث ۔۔۔ زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: خولة بنت حكيم السلمية ( 2752 ) ، سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يعقوب بن عبد الله المخزومي ( 8529 ) ، الحارث بن يعقوب الانصاري ( 1233 ) ، يزيد بن قيس الازدي ( 8366 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، محمد بن رمح التجيبي ( 6968 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدہ خولہ بنت حکیم سلیمہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے : ”جو شخص کسی منزل میں اترے پھر کہے : « أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ » پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلموں کی ، برائی سے اس کے جو اللہ نے پیدا کیا ، تو اس کو کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ کوچ کرے اس منزل سے ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
Result Pages: 1 2 3 4 Next >>


Search took 0.603 seconds