رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بسر سعيد الحضرمي 1848
کتاب/کتب میں: صحیح بخاری
13 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يزيد بن خصيفة الكندي ( 8454 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، عبد الله بن قيس الاشعري ( 5021 ) ، ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يزيد بن خصيفة الكندي ( 8454 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، علي بن المديني ( 5792 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا ان سے بسر بن سعید اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ ابوموسیٰ ؓ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر ؓ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا ، اس لیے واپس چلا آیا (عمر ؓ کو معلوم ہوا) تو انہوں نے دریافت کیا کہ (اندر آنے میں) کیا بات مانع تھی ؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جانا چاہئے ۔ عمر ؓ نے کہا : واللہ ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہو گا ۔ (ابوموسیٰ ؓ نے مجلس والوں سے پوچھا) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث سنی ہو ؟ ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! تمہارے ساتھ (اس کی گواہی دینے کے سوا) جماعت میں سب سے کم عمر شخص کے کوئی اور نہیں کھڑا ہو گا ۔ ابوسعید نے کہا اور میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا میں ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گیا اور عمر ؓ سے کہا کہ واقعی نبی کریم ﷺ نے ایسا فرمایا ہے ۔ اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ مجھ کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، کہا میں نے ابوسعید ؓ سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 708  -  6k
رواۃ الحدیث: ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عبيد الله بن الاسود الخولاني ( 5370 ) ، ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد ؓ نے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں ۔ “ بسر نے بیان کیا کہ (اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد) پھر زید ؓ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے ۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے ۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ ؓ کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد ؓ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی ۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا ، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے (بشرطیکہ غیر ذی روح کی ہو) ۔ اور عبداللہ بن وہب نے کہا ، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں ، ان سے بکیر نے بیان کیا ، ان سے بسر نے بیان کیا ، ان سے زید نے بیان کیا ، ان سے ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 703  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، موسى بن عقبة القرشي ( 7756 ) ، وهيب بن خالد الباهلي ( 8186 ) ، عفان بن مسلم الباهلي ( 5653 ) ، زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، موسى بن عقبة القرشي ( 7756 ) ، وهيب بن خالد الباهلي ( 8186 ) ، عبد الاعلى بن حماد الباهلي ( 4205 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ابوالنضر سالم سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے زید بن ثابت ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا ۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی ۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی ۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے ، لیکن لوگو ! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو ۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا ، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے ، وہ زید بن ثابت سے ، وہ نبی کریم ﷺ سے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 651  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، عبد الله بن سعيد الفزاري ( 4834 ) ، محمد بن الحسين السمناني ( 6903 ) ، محمد بن زياد الزيادي ( 6975 ) ، عبد الله بن سعيد الفزاري ( 4834 ) ، مكي بن إبراهيم الحنظلي ( 7660 ) ، حدیث ۔۔۔ اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا ۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے ، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے ۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم ﷺ غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہو جائے (اس وقت مشکل ہو) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو ۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو طلحة الانصاري ( 3142 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، عبيد الله بن الاسود الخولاني ( 5370 ) ، زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن صالح المصري ( 452 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا ہم کو عمرو بن حارث نے خبر دی ، ان سے بکیر بن اشج نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا اور (راوی حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبیداللہ خولانی بھی روایت حدیث میں شریک ہیں ، جو کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ میمونہ ؓ کی پرورش میں تھے ۔ ان دونوں سے زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا کہ ان سے ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں (جاندار کی) تصویر ہو ۔ “ بسر نے بیان کیا کہ پھر زید بن خالد ؓ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے ۔ گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا ، کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ زید ؓ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں (جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے ۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ! زید ؓ نے یہ بھی بیان کیا تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 443  -  5k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، يحيى بن ابي كثير الطائي ( 8208 ) ، الحسين بن ذكوان المعلم ( 1327 ) ، عبد الوارث بن سعيد العنبري ( 5270 ) ، عبد الله بن عمر التميمي ( 4978 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ہم سے حسین نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے بسر بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے زید بن خالد ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: مجاہدین کی مدد کرنا بھی جہاد کا حصہ ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، فليح بن سليمان الاسلمي ( 6437 ) ، عبد الملك بن عمرو القيسي ( 5231 ) ، عبد الله بن محمد الجعفي ( 5060 ) ، حدیث ۔۔۔ مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا ، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر ؓ رونے لگے ۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ نبی کریم ﷺ تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا ، لیکن بات یہ تھی کہ خود آپ ﷺ ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور (واقعتاً) ابوبکر ؓ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے ۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے (جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے) سب بند کر دیئے جائیں ۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، عبيد بن حنين الطائي ( 5328 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، فليح بن سليمان الاسلمي ( 6437 ) ، محمد بن سنان الباهلي ( 7009 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ، کہا ہم سے ابونضر سالم بن ابی امیہ نے عبید بن حنین کے واسطہ سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا (کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے) بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت ۔ یہ سن کر ابوبکر ؓ رونے لگے ، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اللہ نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے ۔ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ ﷺ ہی تھے اور ابوبکر ؓ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا ۔ ابوبکر آپ روئیے مت ۔ اپنی صحبت اور اپنی دولت کے ذریعہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے آپ ہی ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن (جانی دوستی تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتی) اس کے بدلہ میں اسلام کی برادری اور دوستی کافی ہے ۔ مسجد میں ابوبکر ؓ کی طرف کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: مسجد میں کھڑکی اور گزرگاہ بنانا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  5k
رواۃ الحدیث: الحارث بن الصمة الانصاري ( 4685 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن يوسف الكلاعي ( 5175 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن ابی امیہ سے خبر دی ۔ انہوں نے بسر بن سعید سے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری ؓ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم ﷺ سے کیا سنا ہے ۔ ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا ۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: نمازی کے سامنے سے نکلنے والے کا گناہ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، عبد الله بن ابي بكر الانصاري ( 4632 ) ، عبد العزيز بن المطلب القرشي ( 4564 ) ، ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، ابو بكر بن عمرو الانصاري ( 133 ) ، عمرو بن العاص القرشي ( 6086 ) ، عبد الرحمن بن ثابت المصري ( 4328 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، محمد بن إبراهيم القرشي ( 6796 ) ، يزيد بن الهاد الليثي ( 8452 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن يزيد العدوي ( 5157 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا ، انہوں نے مجھ سے یزید بن عبداللہ بن الہاد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے ، ان سے بسر بن سعید نے ، ان سے عمرو بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے ، ان سے عمرو بن العاص ؓ نے انہوں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے (اجتہاد کا) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ۔ اور عبدالعزیز بن المطلب نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ ؓ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے اسی طرح بیان فرمایا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  5k
رواۃ الحدیث: عبادة بن الصامت الانصاري ( 4153 ) ، جنادة بن ابي امية الازدي ( 2182 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، إسماعيل بن ابي اويس الاصبحي ( 1040 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے بسر بن سعید نے ، ان سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا کہ ہم عبادہ بن صامت ؓ کی خدمت میں پہنچے وہ مریض تھے اور ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ۔ کوئی حدیث بیان کیجئے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے لیلۃالعقبہ میں سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، زيد بن اسلم القرشي ( 3122 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عطاء بن یسار اور بسر بن سعید اور عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے ، ان تینوں نے ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا ۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) سورج ڈوبنے سے پہلے پا لی ، اس نے عصر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، موسى بن عقبة القرشي ( 7756 ) ، وهيب بن خالد الباهلي ( 8186 ) ، عفان بن مسلم الباهلي ( 5653 ) ، إسحاق بن منصور الكوسج ( 970 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ ابن عقبہ نے بیان کیا ، کہا میں نے ابوالنضر سے سنا ، انہوں نے بسر بن سعید سے بیان کیا ، ان سے زید بن ثابت ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم ﷺ کی آواز نہیں آئی ۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ سو گئے ہیں ۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنگارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں ، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں ، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے ۔ پس اے لوگو ! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  4k


Search took 0.518 seconds