رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بسر سعيد الحضرمي 1848
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
9 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: خولة بنت حكيم السلمية ( 2752 ) ، سعيد بن المسيب القرشي ( 3299 ) ، يعقوب بن عبد الله المخزومي ( 8529 ) ، محمد بن عجلان القرشي ( 7172 ) ، خولة بنت حكيم السلمية ( 2752 ) ، سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، يعقوب بن عبد الله المخزومي ( 8529 ) ، الحارث بن يعقوب الانصاري ( 1233 ) ، يزيد بن قيس الازدي ( 8366 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ خولہ بنت حکیم سلمیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے : « أعوذ بكلمات اللہ التامات من شر ما خلق » ” میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے “ ، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ (یعنی : مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے) ۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے ، البتہ ان کی روایت میں « عن سعيد بن المسيب عن خولۃ » ہے ، ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  4k
رواۃ الحدیث: سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عياش بن عباس القتباني ( 6275 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے عثمان بن عفان ؓ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا ، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا “ ، میں نے عرض کیا : آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” آدم کے بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جانا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں « رجلا » (ایک آدمی) کا اضافہ کیا ہے ، ۳- سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت سے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ۴- اس باب میں ابوہریرہ ، خباب بن ارت ، ابوبکرہ ، ابن مسعود ، ابوواقد ، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  4k
رواۃ الحدیث: الحارث بن الصمة الانصاري ( 4685 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، معن بن عيسى القزاز ( 7643 ) ، إسحاق بن موسى الانصاري ( 971 ) ، حدیث ۔۔۔ بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے ؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اگر مصلی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کیا (گناہ) ہے تو اس کے لیے مصلی کے آگے سے گزرنے سے چالیس … تک کھڑا رہنا بہتر ہو گا ۔ ابونضر سالم کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے چالیس دن کہا ، یا چالیس مہینے کہا یا چالیس سال ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوجہیم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابوہریرہ ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کا سو سال کھڑے رہنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سامنے سے گزرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو “ ، ۴- اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے ، ان لوگوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے کو مکروہ جانا ہے ، لیکن ان کی یہ رائے نہیں کہ آدمی کی نماز کو باطل کر دے گا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  4k
رواۃ الحدیث: سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، إبراهيم بن ابي النضر ( 821 ) ، موسى بن عقبة القرشي ( 7756 ) ، زيد بن ثابت الانصاري ( 3131 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، عبد الله بن سعيد الفزاري ( 4834 ) ، محمد بن جعفر الهذلي ( 6904 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو ، سوائے فرض کے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- زید بن ثابت ؓ کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب ، جابر بن عبداللہ ، ابوسعید ، ابوہریرہ ، ابن عمر ، عائشہ ، عبداللہ بن سعد ، اور زید بن خالد جہنی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے ، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سليمان بن يسار الهلالي ( 3634 ) ، الحارث بن ابي ذباب الدوسي ( 1199 ) ، عاصم بن عبد العزيز الاشجعي ( 4068 ) ، إسحاق بن موسى الانصاري ( 971 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس فصل کی سینچائی بارش یا نہر کے پانی سے کی گئی ہو ، اس میں زکاۃ دسواں حصہ ہے ، اور جس کی سینچائی ڈول سے کھینچ کر کی گئی ہو تو اس میں زکاۃ دسویں حصے کا آدھا یعنی بیسواں حصہ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں انس بن مالک ، ابن عمر اور جابر سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- یہ حدیث بکیر بن عبداللہ بن اشج ، سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے بھی روایت کی گئی ہے ، اور ان سب نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے ، گویا یہ زیادہ صحیح ہے ، ۳- اور اس باب میں ابن عمر کی حدیث بھی صحیح ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ، ۴- اور اسی پر بیشتر فقہاء کا عمل ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، زيد بن اسلم القرشي ( 3122 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، معن بن عيسى القزاز ( 7643 ) ، إسحاق بن موسى الانصاري ( 971 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی ، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- ہمارے اصحاب ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ، یہ حدیث ان کے نزدیک صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً ایسے شخص کے لیے جو نماز سے سو گیا اور سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت بیدار ہوا ہو یا اسے بھول گیا ہو اور وہ سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت اسے نماز یاد آئی ہو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، يحيى بن ابي كثير الطائي ( 8208 ) ، حرب بن شداد اليشكري ( 2335 ) ، عبد الرحمن بن مهدي العنبري ( 4493 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، يحيى بن ابي كثير الطائي ( 8208 ) ، إبراهيم بن عبد الملك البصري ( 854 ) ، يحيى بن درست القرشي ( 8259 ) ، حدیث ۔۔۔ زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے اہل و عیال میں اس کی جانشینی کی (اس کے اہل و عیال کی خبرگیری کی) حقیقت میں اس نے جہاد کیا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، یہ دوسری سند سے بھی آئی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، بسر بن سعيد الحضرمي ( 1848 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، الضحاك بن عثمان الحزامي ( 1490 ) ، عبد الكبير بن عبد المجيد البصري ( 4605 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” سال بھر اس کی پہچان کراؤ ، اگر کوئی پہچان بتا دے تو اسے دے دو ، ورنہ اس کے ڈاٹ اور سربند کو پہچان لو ، پھر اسے کھا جاؤ ۔ پھر جب اس کا مالک آئے تو اسے ادا کر دو “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- زید بن خالد کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے ، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں : اس باب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے ، ۳- یہ ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے ، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہ لوگ لقطہٰ سے فائدہ اٹھانے کو جائز سمجھتے ہیں ، جب ایک سال تک اس کا اعلان ہو جائے اور کوئی پہچاننے والا نہ ملے ۔ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ۵- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ ایک سال تک لقطہٰ کا اعلان کرے اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اسے صدقہ کر دے ۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے ۔ اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے ، ۶- لقطہٰ اٹھانے والا جب مالدار ہو تو یہ لوگ لقطہٰ سے فائدہ اٹھانے کو اس کے لیے جائز نہیں سمجھتے ہیں ، ۷- شافعی کہتے ہیں : وہ اس سے فائدہ اٹھائے اگرچہ وہ مالدار ہو ، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ابی بن کعب کو ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس کا اعلان کریں پھر اس سے فائدہ اٹھائیں ، اور ابی بن کعب صحابہ میں خوشحال لوگوں میں تھے اور بہت مالدار تھے ، پھر بھی نبی اکرم ﷺ نے انہیں پہچان کرانے کا حکم دیا اور جب کوئی پہچاننے والا نہیں ملا تو آپ ﷺ نے انہیں کھا جانے کا حکم دیا ۔ (دوسری بات یہ کہ) اگر لقطہٰ صرف انہیں لوگوں کے لیے جائز ہوتا جن کے لیے صدقہ جائز ہے تو علی ؓ کے لیے جائز نہ ہوتا ، اس لیے کہ علی ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک دینار ملا ، انہوں نے (سال بھر تک) اس کی پہچان کروائی لیکن کوئی نہیں ملا جو اسے پہچانتا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں کھا جانے کا حکم دیا حالانکہ ان کے لیے صدقہ جائز نہیں تھا ، ۸- بعض ...
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  9k


Search took 0.405 seconds