رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشر عمر الزهراني 1885
کتاب/کتب میں: سنن ابي داود
10 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: علي بن ابي طالب الهاشمي ( 5722 ) ، العباس بن عبد المطلب الهاشمي ( 4180 ) ، سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، الزبير بن العوام الاسدي ( 1427 ) ، عبد الرحمن بن عوف الزهري ( 4461 ) ، عثمان بن عفان ( 5543 ) ، عمر بن الخطاب العدوي ( 5913 ) ، مالك بن اوس النصري ( 6660 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، محمد بن يحيى الذهلي ( 7323 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے مجھے دن چڑھے بلوا بھیجا ، چنانچہ میں آیا تو انہیں ایک تخت پر جس پر کوئی چیز بچھی ہوئی نہیں تھی بیٹھا ہوا پایا ، جب میں ان کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے : مالک ! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے ہیں اور میں نے انہیں کچھ دینے کے لیے حکم دیا ہے تو تم ان میں تقسیم کر دو ، میں نے کہا : اگر اس کام کے لیے آپ کسی اور کو کہتے (تو اچھا رہتا) عمر ؓ نے کہا : نہیں تم (جو میں دے رہا ہوں) لے لو (اور ان میں تقسیم کر دو) اسی دوران یرفاء آ گیا ، اس نے کہا : امیر المؤمنین ! عثمان بن عفان ، عبدالرحمٰن بن عوف ، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص ؓ آئے ہوئے ہیں اور ملنے کی اجازت چاہتے ہیں ، کیا انہیں بلا لوں ؟ عمر ؓ نے کہا : ہاں (بلا لو) اس نے انہیں اجازت دی ، وہ لوگ اندر آ گئے ، جب وہ اندر آ گئے ، تو یرفا پھر آیا ، اور آ کر کہنے لگا : امیر المؤمنین ! ابن عباس اور علی ؓ آنا چاہتے ہیں؛ اگر حکم ہو تو آنے دوں ؟ کہا : ہاں (آنے دو) اس نے انہیں بھی اجازت دے دی ، چنانچہ وہ بھی اندر آ گئے ، عباس ؓ نے کہا : امیر المؤمنین ! میرے اور ان کے (یعنی علی ؓ کے) درمیان (معاملے کا) فیصلہ کر دیجئیے ، (تاکہ جھگڑا ختم ہو) اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا : ہاں امیر المؤمنین ! ان دونوں کا فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچائیے ۔ مالک بن اوس کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ ان دونوں ہی نے ان لوگوں (عثمان ، عبدالرحمٰن ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص ؓ ) کو اپنے سے پہلے اسی مقصد سے بھیجا تھا (کہ وہ لوگ اس قضیہ کا فیصلہ کرانے میں مدد دیں) ۔ عمر ؓ نے کہا : اللہ ان پر رحم کرے ! تم دونوں صبر و سکون سے بیٹھو (میں ابھی فیصلہ کئے دیتا ہوں) پھر ان موجود صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا : میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھ...
Terms matched: 4  -  Score: 635  -  19k
رواۃ الحدیث: جابر بن عبد الله الانصاري ( 2069 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، محمد بن يحيى الذهلي ( 7323 ) ، حدیث ۔۔۔ جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے ، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہو گی ، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہو گئی ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، إسحاق بن عبد الله الانصاري ( 952 ) ، عكرمة بن عمار العجلي ( 5702 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، الحسن بن يحيى الازدي ( 1311 ) ، حدیث ۔۔۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا ، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ، مذموم حالت میں “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، عطية بن سعد العوفي ( 5647 ) ، سعد الطائي ( 3226 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، محمد بن خازم الاعمى ( 6936 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، زيد بن اخزم الطائي ( 3119 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا : ” اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، زيد بن اخزم الطائي ( 3119 ) ، ابو العالية الرياحي ( 2949 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، ابان بن يزيد العطار ( 18 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، زيد بن اخزم الطائي ( 3119 ) ، ابان بن يزيد العطار ( 18 ) ، مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ( 7455 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی ، تو اس نے اس پر لعنت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” اس پر لعنت نہ کرو ، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے ، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، سعيد بن ابي سعيد المقبري ( 3280 ) ، عثمان بن محمد الثقفي ( 5552 ) ، عبد الله بن جعفر الزهري ( 4763 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، نصر بن علي الازدي ( 7901 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبادة بن الصامت الانصاري ( 4153 ) ، شراحيل بن آده الصنعاني ( 3770 ) ، مسلم بن يسار البصري ( 7490 ) ، صالح بن ابي مريم الضبعي ( 3857 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو ، ڈلی ہو یا سکہ ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا ، سود لیا ، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں ، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: جبر بن عتيك الانصاري ( 2070 ) ، عبد الرحمن بن جابر الانصاري ( 4332 ) ، صخر بن إسحاق الغفاري ( 3909 ) ، ثابت بن قيس الغفاري ( 2025 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، العباس بن عبد العظيم العنبري ( 4176 ) ، حدیث ۔۔۔ جابر بن عتیک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے ، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں ، اسے لینے دو ، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہو گا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہو گا ، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو ، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہو گی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، كيسان المقبري ( 6624 ) ، سعيد بن ابي سعيد المقبري ( 3280 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن محمد القضاعي ( 5064 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے “ ۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، يحيى بن حكيم المقوم ( 8251 ) ، حدیث ۔۔۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے ، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے ، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے ، پھر نماز کے لیے نکل جاتے ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: فجر کی دو سنتیں ہلکی پڑھنا ۔ جمعہ کے دن فجر میں کون سی سورتیں پڑھی جائیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k


Search took 0.484 seconds