رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشر عمر الزهراني 1885
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
5 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو بكر الصديق ( 4945 ) ، العباس بن عبد المطلب الهاشمي ( 4180 ) ، علي بن ابي طالب الهاشمي ( 5722 ) ، سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، عبد الرحمن بن عوف الزهري ( 4461 ) ، الزبير بن العوام الاسدي ( 1427 ) ، عثمان بن عفان ( 5543 ) ، عمر بن الخطاب العدوي ( 5913 ) ، مالك بن اوس النصري ( 6660 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا ، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص ؓ بھی پہنچے ، پھر علی اور عباس ؓ جھگڑتے ہوئے آئے ، عمر ؓ نے ان سے کہا : میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے ، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ” ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا ، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ! عمر ؓ نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ، ابوبکر ؓ نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں ، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر ؓ کے پاس آئے ، ابوبکر ؓ نے کہا : بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا ، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے “ ، (عمر ؓ نے کہا) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے ، نیک ، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں تفصیل ہے ، یہ حدیث مالک بن اوس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 547  -  5k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، ابو العالية الرياحي ( 2949 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، ابان بن يزيد العطار ( 18 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، زيد بن اخزم الطائي ( 3119 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی نے ہوا پر لعنت بھیجی تو آپ نے فرمایا : ” ہوا پر لعنت نہ بھیجو اس لیے کہ وہ تو (اللہ کے) حکم کی پابند ہے ، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجی جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- بشر بن عمر کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، عطاء بن ابي رباح القرشي ( 5625 ) ، عطاء بن ابي مسلم الخراساني ( 5627 ) ، شعيب بن رزيق المقدسي ( 3809 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، نصر بن علي الازدي ( 7901 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : ” دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی : ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شعیب بن رزیق ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں عثمان اور ابوریحانہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، كيسان المقبري ( 6624 ) ، سعيد بن ابي سعيد المقبري ( 3280 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کوئی عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: علي بن ابي طالب الهاشمي ( 5722 ) ، عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، الحصين بن جندب المذحجي ( 2393 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، علي بن ابي طالب الهاشمي ( 5722 ) ، الحصين بن جندب المذحجي ( 2393 ) ، عطاء بن السائب الثقفي ( 5629 ) ، علي بن ابي طالب الهاشمي ( 5722 ) ، الحسن البصري ( 1239 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، بشر بن عمر الزهراني ( 1885 ) ، محمد بن يحيى بن ابي حزم ( 7315 ) ، حدیث ۔۔۔ علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں (یعنی قابل مواخذہ نہیں ہیں) : سونے والا جب تک کہ نیند سے بیدار نہ ہو جائے ، بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے ، اور دیوانہ جب تک کہ سمجھ بوجھ والا نہ ہو جائے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس سند سے علی ؓ کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی علی ؓ سے مروی ہے ، وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، ۳- بعض راویوں نے « وعن الغلام حتى يحتلم » کہا ہے ، یعنی بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے مرفوع القلم ہے ، ۴ - علی ؓ کے زمانے میں حسن بصری موجود تھے ، حسن نے ان کا زمانہ پایا ہے ، لیکن علی ؓ سے ان کے سماع کا ہمیں علم نہیں ہے ، ۵- یہ حدیث : عطاء بن سائب سے بھی مروی ہے انہوں نے یہ حدیث بطریق : « أبي ظبيان عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى اللہ عليہ وسلم » اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، اور اعمش نے بطریق : « أبي ظبيان عن ابن عباس عن علي » موقوفاً روایت کیا ہے ، انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ، ۶- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے ، ۷- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k


Search took 0.409 seconds