رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير المهاجر الغنوي 1898
تمام کتب میں:
9 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، علي بن محمد الكوفي ( 5811 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا ، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا ، اور دن کو پیاسا رکھا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، حاتم بن إسماعيل الحارثي ( 2209 ) ، خالد بن خداش المهلبي ( 2636 ) ، الحسن بن إسحاق الليثي ( 1247 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مومن کا (ناحق) قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کے ہلاک ہونے سے کہیں زیادہ بڑی بات ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، حاتم بن إسماعيل الحارثي ( 2209 ) ، خالد بن خداش المهلبي ( 2636 ) ، الحسن بن إسحاق الليثي ( 1247 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے “ ، اس شخص نے اس سے کہا : اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو ، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہو گا ، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی ، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا ، آپ سے بیان کیا ، آپ نے اس سے زور سے فرمایا : ” سنو ! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا ، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب ! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، عبد الله بن نمير الهمداني ( 5128 ) ، محمد بن نمير الهمداني ( 7136 ) ، عبد الله بن نمير الهمداني ( 5128 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا بریدہ ؓ سے روایت ہے ، ماعز بن مالک اسلمی ؓ آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہنے لگے : یا رسول ! میں نے ظلم کیا اپنی جان پر اور زنا کیا ۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ کو پاک کریں ۔ آپ ﷺ نے ان کو پھیر دیا جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا آپ ﷺ نے ان کو پھیر دیا بعد اس کے ان کی قوم کے پاس کسی کو بھیجا اور دریافت کرایا ، ان کی عقل میں کچھ فتور ہے اور تم نے کوئی بات دیکھی ۔ “ انہوں نے کہا : ہم تو کچھ فتور نہیں جانتے اور ان کی عقل اچھی ہے جہاں تک ہم سمجھتے ہیں ، پھر تیسری بار ماعز ؓ آئے ، آپ ﷺ نے ان کی قوم کے پاس پھر بھیجا اور یہی دریافت کرایا انہوں نے کہا : ان کو کوئی بیماری نہیں ، نہ ان کی عقل میں کچھ فتور ہے ۔ جب چوتھی بار وہ آئے اور انہوں نے یہی کہا : میں نے زنا کیا ہے مجھ کو پاک کیجئے ۔ حالانکہ توبہ سے بھی پاکی ہو سکتی تھی مگر ماعز ؓ کو یہ شک ہوا کہ شاید توبہ قبول نہ ہو تو آپ ﷺ نے ایک گڑھا ان کے لیے کھدوایا پھر حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۔ اس کے بعد غامد کی عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا مجھ کو پاک کیجئے ۔ آپ ﷺ نے اس کو پھیر دیا ، جب دوسرا دن ہوا اس نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کیوں لوٹاتے ہیں شاید آپ ایسے پھرانا چاہتے ہیں جیسے ماعز کو پھرایا تھا قسم اللہ کی ! میں تو حاملہ ہوں تو اب زنا میں کیا شک ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھا اگر تو نہیں لوٹتی (اور توبہ کر کے پاک ہونا نہیں چاہتی بلکہ دنیا کی سزا ہی چاہتی ہے) تو جا جننے کے بعد آنا ۔ “ جب وہ جنی تو بچہ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر لائی آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسی کو تو نے جنا جا اس کو دودھ پلا ، جب اس کا دودھ چھٹے تو آ ۔ “ (شافعی اور احمد اور اسحٰق رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے کہ عورت کو رجم نہ کریں گے جننے کے بعد بھی جب تک دودھ کا بندوبست نہ ہو ، ورنہ دودھ چھٹنے تک انتظار کریں گے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جنتے ہی رجم کریں گے) جب اس کا دودھ چھٹا تو وہ بچے کو لے کر آئی اس کے ہات...
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  10k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، خلاد بن يحيى السلمي ( 2725 ) ، محمد بن إسماعيل البخاري ( 6817 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ امید (و آرزو) ہے اور یہ اجل (موت) ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، خلاد بن يحيى السلمي ( 2725 ) ، جعفر بن مسافر التنيسي ( 2165 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ” تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی “ یعنی ترک ، پھر فرمایا : ” تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دو گے ، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ عرب سے ملا دو گے ، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا ، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے ، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے ، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کر دیا جائے گا « أو کماقال » (جیسا آپ ﷺ نے فرمایا) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، محمد بن عبد الله الزبيرى ( 7100 ) ، احمد بن إسحاق الاهوازي ( 411 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ اور ماعز بن مالک ؓ دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے ، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے ، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے (اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، عيسى بن يونس السبيعي ( 6343 ) ، إبراهيم بن موسى التميمي ( 890 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا : میں نے زنا کر لیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” واپس جاؤ “ ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی ، دوسرے دن وہ پھر آئی ، اور کہنے لگی : شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں ، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ “ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی ، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا “ چنانچہ وہ چلی گئی ، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی ، اور کہا : اسے میں جن چکی ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو “ دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی ، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا ، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے ، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے ، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے ، تو وہ رجم کر دی گئی ۔ خالد ؓ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے ، ان سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” خالد ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی “ ، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k
رواۃ الحدیث: الحسن البصري ( 1239 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، سويد بن نصر المروزي ( 3719 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے پوچھا : شیرہ (رس) کس قدر پکایا جائے ۔ انہوں نے کہا : اس وقت تک پکاؤ کہ اس کا دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k


Search took 0.498 seconds