رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير يسار الحارثي 1915
تمام کتب میں:
52 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، سليمان بن حرب الواشحي ( 3579 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، وہ ابن زید ہیں ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے انصار کے غلام بشیر بن یسار نے ، ان سے رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر سے آئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ عبداللہ بن سہل وہیں قتل کر دیئے گئے ۔ پھر عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے مقتول ساتھی (عبداللہ ؓ ) کے مقدمہ میں گفتگو کی ۔ پہلے عبدالرحمٰن نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بڑے کی بڑائی کرو ۔ (ابن سعید نے اس کا مقصد یہ) بیان کیا کہ جو بڑا ہے وہ گفتگو کرے ، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے 50 آدمی قسم کھا لیں کہ عبداللہ کو یہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا (پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں ؟) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کر تم سے چھٹکارا پا لیں گے ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسم کا کیا بھروسہ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی ۔ سہل ؓ نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے (جو نبی کریم ﷺ نے انہیں دیت میں دئیے تھے) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ تھان میں گھس گئی ، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی ۔ اور لیث نے کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے بشیر نے اور ان سے سہل نے ، یحییٰ نے یہاں بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشیر نے « مع رافع بن خديج » کے الفاظ...
Terms matched: 4  -  Score: 708  -  8k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، يحيى بن يحيى النيسابوري ( 8350 ) ، حدیث ۔۔۔ وہی جو اوپر گزرا ۔ اس میں یہ ہے کہ سہل نے یہ کہا : مجھ کو ایک اونٹنی نے ان اونٹنیوں میں سے لات ماری باڑے میں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 552  -  2k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، عقبة بن عبيد الطائي ( 5677 ) ، انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن موسى السيناني ( 1560 ) ، معاذ بن اسد الغنوي ( 7543 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا بشیر بن یسار انصاری سے ، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے کہ جب وہ (بصرہ سے) مدینہ آئے ، تو آپ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک اور ہمارے اس دور میں آپ نے کیا فرق پایا ۔ فرمایا کہ اور تو کوئی بات نہیں صرف لوگ صفیں برابر نہیں کرتے ۔ اور عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انس ؓ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے ۔ پھر یہی حدیث بیان کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  3k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، ابن إسحاق القرشي ( 6811 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، زكريا بن ابي زكريا البلخي ( 3023 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی ، ان سے رافع بن خدیج ؓ اور سہل بن ابی حثمہ ؓ نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ ﷺ نے اجازت دے دی تھی ۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی ۔ (یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا ۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی ۔)
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  4k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، يزيد بن هارون الواسطي ( 8488 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے ، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہو گئے ، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ، کسی نے ان کو قتل کر دیا تھا ، آپ نے انہیں دفنا دیا ، پھر وہ (یعنی راوی حدیث) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے ، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے (اس معاملہ میں آپ سے) گفتگو کرنا چاہتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” بڑے کا لحاظ کرو ، لہٰذا وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی ، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہو گئے ، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا ، آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے (کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہو جاؤ (یا کہا) قاتل کے خون کے مستحق ہو جاؤ ؟ “ ان لوگوں نے عرض کیا : ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے ؟ آپ نے فرمایا : ” تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے “ ، ان لوگوں نے کہا : ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کر لیں ؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت خود ادا کر دی ۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- قسامہ کے سلسلہ میں بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، ۳- مدینہ کے بعض فقہاء قسامہ کی بنا پر قصاص درست سمجھتے ہیں ، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں : قسامہ کی بنا پر قصاص واجب نہیں ، صرف دیت واجب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  7k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان ؓ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تھے ۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا ۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی ۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا ۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم ﷺ نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن بلال القرشي ( 3574 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار نے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ سے روایت کیا جو ان کے گھر میں رہتے تھے ان میں سے ایک سہل بن ابی حثمہ ؓ تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے اور فرمایا : ” یہی سود ہے ، یہی مزابنہ ہے ۔ “ مگر آپ ﷺ نے اجازت دی عریہ کو بیع میں ایک درخت یا دو درخت کی کھجور کوئی گھر والا (اپنے بال بچوں کے کھانے کے لیے) خریدے اور اس کے بدلے اندازے سے خشک کھجور دے تر کھجور کھانے کو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن بلال القرشي ( 3574 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ بشر بن یسار سے روایت ہے ، عبداللہ بن سہل بن زید انصاری اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری ؓ جو بنی حارثہ میں سے تھے خیبر کو گئے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور ان دنوں وہاں امن و امان تھا اور یہودی وہاں رہتے تھے ، پھر وہ دونوں جدا ہوئے اپنے کاموں کو تو عبداللہ بن سہل ؓ مارے گئے اور ایک حوض میں ان کی نعش ملی ۔ محیصہ ؓ نے اس کو دفن کیا ، پھر مدینہ میں آیا اور عبدالرحمٰن بن سہل مقتول کا بھائی اور محیصہ اور حویصہ ؓ (چچا زاد بھائی) ان تینوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ ؓ کا حال بیان کیا اور جہاں وہ مارا گیا تھا تو بشیر نے روایت کی ان لوگوں سے جن کو نبی ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے اس نے پایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ان سے تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے قاتل کو لیتے ہو ۔ “ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے نہیں دیکھا نہ ہم وہاں موجود تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو یہود اپنے تئیں صاف کر لیں گے تمہارے الزام سے پچاس قسمیں کھا کر ۔ “ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم کیونکر قبول کریں گے قسمیں کافروں کی ۔ آخر بشیر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ کی دیت اپنے پاس سے دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، يحيى بن زكريا الهمداني ( 8264 ) ، اسد بن موسى الاموي ( 541 ) ، الربيع بن سليمان المرادي ( 1410 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا : ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، احمد بن عبدة الضبي ( 469 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل ؓ اپنی کسی ضرورت کے پیش نظر خیبر آئے ، پھر وہ باغ میں الگ الگ ہو گئے ، عبداللہ بن سہل کا قتل ہو گیا ، تو ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ ( ؓ ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن نے اپنے بھائی کے معاملے میں گفتگو کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو ، سب سے بڑا پہلے بات شروع کرے “ ، چنانچہ ان دونوں نے اپنے آدمی کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، آپ نے ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یوں تھا : ” تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں گے “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک ایسا معاملہ جہاں ہم موجود نہ تھے ، اس کے بارے میں کیوں کر قسم کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تو پھر یہودی اپنے پچاس لوگوں کو قسم کھلا کر تمہارے شک کو دور کریں گے “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! وہ تو کافر لوگ ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ان کی دیت ادا کی ۔ سہل ؓ کہتے ہیں : جب میں ان کے « مربد » (باڑھ) میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے ، یحییٰ نے کہا : شاید بشیر نے رافع بن خدیج کا بھی نام لیا کہ ان دونوں نے کہا : سیدنا عبداللہ بن سہل بن زید ؓ اور سیدنا محیصہ بن مسعود بن زید ؓ دونوں نکلے جب خیبر میں پہنچے تو الگ الگ ہو گئے ۔ پھر سیدنا محیصہ ؓ نے دیکھا کہ عبداللہ بن سہل ؓ کو کسی نے مار کر ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے دفن کیا عبداللہ کو پھر آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل ۔ عبدالرحمٰن سے سب سے چھوٹے تھے انہوں نے چاہا بات کرنا اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو سن میں بڑا ہے اس کی بڑائی کر ۔ “ (یعنی اس کو بات کرنے دے حالانکہ عبدالرحمٰن مقتول کے حقیقی بھائی تھے اور محیصہ اور حویصہ چچا کے بیٹے تھے پر یہاں دعویٰ سے غرض نہ تھی صرف واقعات سننے تھے ۔) عبدالرحمٰن چپ ہو رہا اور حویصہ اور محیصہ نے باتیں کیں ، عبدالرحمٰن بھی ان کے ساتھ بولا ، پھر بیان کیا رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے مارے جانے کے مقام کو آپ ﷺ نے فرمایا ان تینوں سے ”تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے مورث کا خون حاصل کرتے ہو ۔ “ (یعنی قصاص یا دیت اور وارث تو صرف عبدالرحمٰن ؓ تھے لیکن آپ ﷺ نے تینوں کی طرف خطاب کیا اور غرض یہی تھی کہ عبدالرحمٰن ؓ قسم کھائیں) تینوں نے کہا : ہم کیونکر قسم کھائیں ؟ خون کے وقت ہم نہ تھے آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اس الزام سے بری ہو جائیں گے ۔ “ انہوں نے کہا : ہم کافروں کی قسمیں کیونکر قبول کریں گے ؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ حال دیکھا تو دیت دی ۔ (اپنے پاس سے) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، الحسن بن محمد الزعفراني ( 1296 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: هانئ بن نيار البلوي ( 8010 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، عمرو بن علي الفلاس ( 6171 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، عبيد الله بن سعيد اليشكري ( 5390 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوبردہ بن نیار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے ذبح کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسی کو ذبح کر دو “ ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، الحسن بن محمد الزعفراني ( 1296 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے ، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے ، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا : تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے ، وہ کہنے لگے : ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہمارے پاس گواہ نہیں ہے ، اس پر آپ نے فرمایا : ” پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے “ وہ کہنے لگے : ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے ، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی ، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، علي بن مسهر القرشي ( 5816 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ سوید بن نعمان انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے ، جب مقام صہباء میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ ﷺ نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا ، پیا ، پھر آپ ﷺ نے پانی منگایا ، اور کلی کی ، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، محمد بن عبيد الغبري ( 7150 ) ، عبيد الله بن عمر الجشمي ( 5422 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے ، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی ، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو “ (اور انہیں گفتگو کا موقع دو) یا یوں فرمایا : ” بڑے کو پہلے بولنے دو “ چنانچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے “ ان لوگوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے “ وہ بولے : اللہ کے رسول ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار ؟ ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی ، سہل کہتے ہیں : ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا ، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی ، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے : ” کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون ، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو ؟ “ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے ، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے ، تو انہوں نے ابتداء « تبرئكم يہود بخمسين يمينا يحلفون » سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  7k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عثمان بن ابي شيبة العبسي ( 5551 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (درخت پر پھلے) کھجور کو (سوکھے) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو « تمر » (سوکھی کھجور) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عبد الله بن محمد القرشي ( 5058 ) ، حدیث ۔۔۔ سہیل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے ، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود ؓ نکلے ، جب خیبر پہنچے تو کسی مقام پر وہ الگ الگ ہو گئے ، پھر اچانک محیصہ کو عبداللہ بن سہل مقتول ملے ، انہوں نے عبداللہ کو دفن کیا ، پھر وہ ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن ان میں سب سے چھوٹے تھے ، پھر اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے عبدالرحمٰن بولنے لگے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” عمر میں جو بڑا ہے اس کا لحاظ کرو “ تو وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھی گفتگو کرنے لگے ، پھر عبدالرحمٰن نے بھی ان کے ساتھ گفتگو کی ، چنانچہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا تذکرہ کیا ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے ، پھر اپنے ساتھی کے خون کے حقدار بنو گے “ (یا کہا : اپنے قاتل کے) انہوں نے کہا : ہم کیوں کر قسم کھائیں گے جب کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے ، آپ نے فرمایا : ” تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے “ ، انہوں نے کہا : ان کی قسمیں ہم کیوں کر قبول کر سکتے ہیں وہ تو کافر لوگ ہیں ، جب یہ چیز رسول اللہ ﷺ نے دیکھی تو آپ نے ان کی دیت خود سے انہیں دے دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، الحسين بن عيسى الطائي ( 1343 ) ، حدیث ۔۔۔ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، یعنی : درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا ، سوائے اصحاب عرایا کے ، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ رافع بن خدیج اور سہیل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ سے یعنی درخت پر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے مگر عرایا والوں کو اس کی اجازت دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، علي بن المديني ( 5792 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، ان سے سوید بن نعمان نے ، کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے ۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا ۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ، پھر ہم نے کھانا کھایا اور نبی کریم ﷺ کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ، ہم نے بھی کلی کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشر بن المفضل الرقاشي ( 1868 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ ؓ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ خیبر گئے ۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، سليمان بن حرب الواشحي ( 3579 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے بشیر بن یسار نے ، انہیں سوید بن نعمان ؓ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مقام صہبا میں تھے ۔ وہ خیبر سے ایک منزل پر ہے ۔ نماز کا وقت قریب تھا تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ۔ آخر نبی کریم ﷺ نے اس کو پھانک لیا اور ہم نے بھی پھانکا پھر آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے (اس نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
Result Pages: 1 2 3 Next >>


Search took 0.655 seconds