رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير يسار الحارثي 1915
کتاب/کتب میں: صحیح بخاری
15 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، سليمان بن حرب الواشحي ( 3579 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، وہ ابن زید ہیں ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے انصار کے غلام بشیر بن یسار نے ، ان سے رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر سے آئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ عبداللہ بن سہل وہیں قتل کر دیئے گئے ۔ پھر عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے مقتول ساتھی (عبداللہ ؓ ) کے مقدمہ میں گفتگو کی ۔ پہلے عبدالرحمٰن نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بڑے کی بڑائی کرو ۔ (ابن سعید نے اس کا مقصد یہ) بیان کیا کہ جو بڑا ہے وہ گفتگو کرے ، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے 50 آدمی قسم کھا لیں کہ عبداللہ کو یہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا (پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں ؟) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کر تم سے چھٹکارا پا لیں گے ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسم کا کیا بھروسہ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی ۔ سہل ؓ نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے (جو نبی کریم ﷺ نے انہیں دیت میں دئیے تھے) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ تھان میں گھس گئی ، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی ۔ اور لیث نے کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے بشیر نے اور ان سے سہل نے ، یحییٰ نے یہاں بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشیر نے « مع رافع بن خديج » کے الفاظ...
Terms matched: 4  -  Score: 708  -  8k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، ابن إسحاق القرشي ( 6811 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، زكريا بن ابي زكريا البلخي ( 3023 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی ، ان سے رافع بن خدیج ؓ اور سہل بن ابی حثمہ ؓ نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ ﷺ نے اجازت دے دی تھی ۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی ۔ (یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا ۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی ۔)
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  4k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، عقبة بن عبيد الطائي ( 5677 ) ، انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن موسى السيناني ( 1560 ) ، معاذ بن اسد الغنوي ( 7543 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا بشیر بن یسار انصاری سے ، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے کہ جب وہ (بصرہ سے) مدینہ آئے ، تو آپ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک اور ہمارے اس دور میں آپ نے کیا فرق پایا ۔ فرمایا کہ اور تو کوئی بات نہیں صرف لوگ صفیں برابر نہیں کرتے ۔ اور عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انس ؓ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے ۔ پھر یہی حدیث بیان کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  3k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان ؓ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تھے ۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا ۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی ۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا ۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم ﷺ نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، علي بن المديني ( 5792 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، ان سے سوید بن نعمان نے ، کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے ۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا ۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ، پھر ہم نے کھانا کھایا اور نبی کریم ﷺ کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ، ہم نے بھی کلی کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا ، ان سے بشیر بن یسار نے ، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا ۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے ، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے ؟ پھر یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشر بن المفضل الرقاشي ( 1868 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ ؓ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ خیبر گئے ۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن بلال القرشي ( 3574 ) ، خالد بن مخلد القطواني ( 2680 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھے یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، انہیں بشیر بن یسار نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھے سوید بن نعمان ؓ نے بتلایا انہوں نے کہا کہ ہم خیبر والے سال رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جب صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ نے کھانے منگوائے ۔ مگر (کھانے میں) صرف ستو ہی لایا گیا ۔ سو ہم نے (اسی کو) کھایا اور پیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ تو آپ ﷺ نے کلی کی ، پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور (نیا) وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، علي بن المديني ( 5792 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ عریہ کی آپ ﷺ نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں ۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی ، لیکن نبی کریم ﷺ نے عریہ کی اجازت دے دی تھی ۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے ، کھجور ہی کے بدلے میں ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا ، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا ؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں ۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے ۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر ؓ مدینہ والے ہیں ۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، سليمان بن حرب الواشحي ( 3579 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے بشیر بن یسار نے ، انہیں سوید بن نعمان ؓ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مقام صہبا میں تھے ۔ وہ خیبر سے ایک منزل پر ہے ۔ نماز کا وقت قریب تھا تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ۔ آخر نبی کریم ﷺ نے اس کو پھانک لیا اور ہم نے بھی پھانکا پھر آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے (اس نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ( 5280 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی اور انہیں سوید بن نعمان نے خبر دی کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ گئے تھے ۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم ﷺ نے کھانا منگوایا ۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا ۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے کلی کی ۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشر بن المفضل الرقاشي ( 1868 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ خیبر گئے ۔ ان دنوں (خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی) صلح تھی ۔ پھر دونوں حضرات (خیبر پہنچ کر اپنے اپنے کام کے لیے) جدا ہو گئے ۔ اس کے بعد محیصہ ؓ عبداللہ بن سہل ؓ کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ خون میں لوٹ رہے ہیں ۔ کسی نے ان کو قتل کر ڈالا ، خیر محیصہ ؓ نے عبداللہ ؓ کو دفن کر دیا ۔ پھر مدینہ آئے ، اس کے بعد عبدالرحمٰن بن سہل (عبداللہ ؓ کے بھائی) اور مسعود کے دونوں صاحبزادے محیصہ اور حویصہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، گفتگو عبدالرحمٰن ؓ نے شروع کی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ، کہ جو تم لوگوں میں عمر میں بڑے ہوں وہ بات کریں ۔ عبدالرحمٰن سب سے کم عمر تھے ، وہ چپ ہو گئے ۔ اور محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی ۔ آپ نے دریافت کیا ، کیا تم لوگ اس پر قسم کھا سکتے ہو ، کہ جس شخص کو تم قاتل کہہ رہے ہو اس پر تمہارا حق ثابت ہو سکے ۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ایک ایسے معاملے میں کس طرح قسم کھا سکتے ہیں جس کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر کیا یہود تمہارے دعوے سے اپنی برات اپنی طرف سے پچاس قسمیں کھا کر کے کر دیں ؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ کفار کی قسموں کا ہم کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے خود اپنے پاس سے ان کو دیت ادا کر دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  6k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن يوسف الكلاعي ( 5175 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی ، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان ؓ نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صہبا کی طرف ، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے ۔ آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی ، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا ۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور ہم نے (بھی) کھایا ۔ پھر مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ آپ ﷺ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: بکری کا گوشت اور ستو کھا کر وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k
رواۃ الحدیث: شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، معاذ بن معاذ العنبري ( 7561 ) ، سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، محمد بن إبراهيم السلمي ( 6795 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان ؓ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کے سامنے ستو لایا گیا ۔ جسے ان حضرات نے پیا ۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: غزوہ خیبر میں ستو کھا کر گذارا کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، علي بن المديني ( 5792 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا ، انہوں نے بشیر بن یسار سے سنا ، کہا کہ ہم سے سوید بن نعمان ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف (سنہ 7 ھ میں) نکلے جب ہم مقام صہباء پر پہنچے ۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ صہباء خیبر سے دوپہر کی راہ پر ہے تو اس وقت نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ، پھر ہم نے اسی کو سوکھا پھانک لیا ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی ، ہم نے بھی کلی کی ۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا (مغرب کے لیے کیونکہ پہلے سے باوضو تھے) ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے اس حدیث میں یوں سنا کہ آپ نے نہ ستو کھاتے وقت وضو کیا نہ کھانے سے فارغ ہو کر ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k


Search took 0.435 seconds