رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير يسار الحارثي 1915
کتاب/کتب میں: سنن نسائی
13 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، احمد بن عبدة الضبي ( 469 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل ؓ اپنی کسی ضرورت کے پیش نظر خیبر آئے ، پھر وہ باغ میں الگ الگ ہو گئے ، عبداللہ بن سہل کا قتل ہو گیا ، تو ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ ( ؓ ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن نے اپنے بھائی کے معاملے میں گفتگو کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو ، سب سے بڑا پہلے بات شروع کرے “ ، چنانچہ ان دونوں نے اپنے آدمی کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، آپ نے ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یوں تھا : ” تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں گے “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک ایسا معاملہ جہاں ہم موجود نہ تھے ، اس کے بارے میں کیوں کر قسم کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تو پھر یہودی اپنے پچاس لوگوں کو قسم کھلا کر تمہارے شک کو دور کریں گے “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! وہ تو کافر لوگ ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ان کی دیت ادا کی ۔ سہل ؓ کہتے ہیں : جب میں ان کے « مربد » (باڑھ) میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: سويد بن النعمان الانصاري ( 3707 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الرحمن بن القاسم العتقي ( 4311 ) ، الحارث بن مسكين الاموي ( 1219 ) ، محمد بن سلمة المرادي ( 6996 ) ، حدیث ۔۔۔ سوید بن نعمان ؓ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا (جو خیبر سے قریب ہے) میں پہنچے ، تو آپ ﷺ نے نماز عصر ادا کی ، پھر توشوں کو طلب کیا ، تو صرف ستو لایا گیا ، آپ ﷺ نے حکم دیا ، تو اسے گھولا گیا ، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا ، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) کلی کی ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، الحسين بن عيسى الطائي ( 1343 ) ، حدیث ۔۔۔ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، یعنی : درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا ، سوائے اصحاب عرایا کے ، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود ؓ نکلے ، جب خیبر پہنچے تو کسی مقام پر وہ الگ الگ ہو گئے ، پھر اچانک محیصہ کو عبداللہ بن سہل مقتول ملے ، انہوں نے عبداللہ کو دفن کیا ، پھر وہ ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن ان میں سب سے چھوٹے تھے ، پھر اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے عبدالرحمٰن بولنے لگے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” عمر میں جو بڑا ہے اس کا لحاظ کرو “ تو وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھی گفتگو کرنے لگے ، پھر عبدالرحمٰن نے بھی ان کے ساتھ گفتگو کی ، چنانچہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا تذکرہ کیا ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے ، پھر اپنے ساتھی کے خون کے حقدار بنو گے “ (یا کہا : اپنے قاتل کے) انہوں نے کہا : ہم کیوں کر قسم کھائیں گے جب کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے ، آپ نے فرمایا : ” تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے “ ، انہوں نے کہا : ان کی قسمیں ہم کیوں کر قبول کر سکتے ہیں وہ تو کافر لوگ ہیں ، جب یہ چیز رسول اللہ ﷺ نے دیکھی تو آپ نے ان کی دیت خود سے انہیں دے دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عبد الله بن محمد القرشي ( 5058 ) ، حدیث ۔۔۔ سہیل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے ، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: هانئ بن نيار البلوي ( 8010 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، عمرو بن علي الفلاس ( 6171 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، عبيد الله بن سعيد اليشكري ( 5390 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوبردہ بن نیار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے ذبح کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسی کو ذبح کر دو “ ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الرحمن بن القاسم العتقي ( 4311 ) ، الحارث بن مسكين الاموي ( 1219 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود ؓ خیبر کی طرف نکلے ، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل ؓ کا قتل ہو گیا ، محیصہ ؓ آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے ، عبدالرحمٰن ؓ مقتول کے بھائی ہونے کی وجہ سے بات کرنے لگے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو ، بڑوں کا لحاظ کرو “ ، چنانچہ حویصہ اور محیصہ ؓ نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی یا اپنے قاتل کے خون کے حقدار بنو ؟ “ ۔ مالک کہتے ہیں : یحییٰ نے کہا : بشیر نے یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی ۔ سعید بن طائی نے ان راویوں کے برعکس بیان کیا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشر بن المفضل الرقاشي ( 1868 ) ، عمرو بن علي الفلاس ( 6171 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل ، محیصہ بن مسعود بن زید خیبر ؓ گئے ، ان دنوں صلح چل رہی تھی ، وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے ، پھر محیصہ ؓ عبداللہ بن سہل ؓ کے پاس آئے (دیکھا کہ) وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ رہے تھے ، تو انہیں دفن کیا اور مدینے آئے ، پھر عبدالرحمٰن بن سہل ، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، تو عبدالرحمٰن نے بات کی وہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑے کا لحاظ کرو “ ، چنانچہ وہ خاموش ہو گئے ، پھر ان دونوں نے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ اپنے آدمی (کے خون بہا) یا اپنے قاتل (خون) کے حقدار بنو ؟ “ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کیوں کر قسم کھائیں گے حالانکہ نہ ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہی ہم نے دیکھا ۔ آپ نے فرمایا : ” یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں گے ، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، احمد بن سليمان الرهاوي ( 448 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری شخص نے ان سے بیان کیا کہ ان کے قبیلہ کے کچھ لوگ خیبر کی طرف چلے ، پھر وہ الگ الگ ہو گئے ، تو انہیں اپنا ایک آدمی مرا ہوا ملا ، انہوں نے ان لوگوں سے جن کے پاس مقتول کو پایا ، کہا : ہمارے آدمی کو تم نے قتل کیا ہے ، انہوں نے کہا : نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل کا پتا ہے ، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم خیبر گئے تھے ، وہاں ہم نے اپنا ایک آدمی مقتول پایا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو ، بڑوں کا لحاظ کرو “ ، پھر آپ نے ان سے فرمایا : ” تمہیں قاتل کے خلاف گواہ پیش کرنا ہو گا “ ، وہ بولے : ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” تو وہ قسم کھائیں گے “ ، وہ بولے : ہمیں یہودیوں کی قسمیں منظور نہیں ، پھر رسول اللہ ﷺ کو گراں گزرا کہ ان کا خون بیکار جائے ، تو آپ نے انہیں صدقے کے سو اونٹ کی دیت ادا کی ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) عمرو بن شعیب نے ان (یعنی اوپر مذکور رواۃ) کی مخالفت کی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، محمد بن منصور الخزاعي ( 7289 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل ؓ مقتول پائے گئے ، تو ان کے بھائی اور ان کے چچا حویصہ اور محیصہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن ؓ بات کرنے لگے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو ، بڑوں کا لحاظ کرو “ ، ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے خیبر کے ایک کنویں میں عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ہے ، آپ نے فرمایا : ” تمہارا شک کس پر ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہمارا شک یہودیوں پر ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ یہودیوں نے ہی انہیں قتل کیا ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : جسے ہم نے دیکھا نہیں ، اس پر قسم کیسے کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تو پھر یہودیوں کی پچاس قسمیں کہ انہوں نے عبداللہ بن سہل کو قتل نہیں کیا ہے ، تمہارے شک کو دور کریں گی ؟ “ وہ بولے : ہم ان کی قسموں پر کیسے رضامند ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی ۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی سہل بن ابی حثمہ کا ذکر نہیں کیا ہے) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشر بن المفضل الرقاشي ( 1868 ) ، إسماعيل بن مسعود الجحدري ( 1057 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ خیبر کی طرف چلے ، اس وقت صلح چل رہی تھی ، محیصہ اپنے کام کے لیے جدا ہو گئے ، پھر وہ عبداللہ بن سہل ؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا قتل ہو گیا ہے اور وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے ، انہیں دفن کیا اور مدینے آئے ، عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ ( ؓ ) رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے ، عبدالرحمٰن بن سہل ؓ بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو “ ، وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے ، تو وہ چپ ہو گئے ، پھر انہوں (حویصہ اور محیصہ) نے بات کی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ تم اپنے قاتل (کے خون) ، یا اپنے آدمی کے خون (بہا) کے حقدار بنو “ ، ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم قسم کیوں کر کھائیں گے ، نہ تو ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہم نے انہیں دیکھا ، آپ نے فرمایا : ” تو کیا پچاس یہودیوں کی قسموں سے تمہارا شک دور ہو جائے گا ؟ “ وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  5k
رواۃ الحدیث: اسم مبهم ( 1131 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ صحابہ کرام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تخمینہ (اندازہ) لگا کر کے عاریت والی بیع کی اجازت دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  1k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ( 5280 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود ؓ خیبر کی طرف نکلے پھر اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل انصاری ؓ کا قتل ہو گیا ۔ چنانچہ محیصہ ، مقتول کے بھائی عبدالرحمٰن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بات کرنے لگے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو ، بڑوں کا لحاظ کرو “ ۔ پھر محیصہ اور حویصہ ؓ نے گفتگو کی اور عبداللہ بن سہل ؓ کا معاملہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی ، پھر تم اپنے قاتل کے (خون کے) حقدار بنو گے “ ، وہ بولے : ہم قسم کیوں کر کھائیں ، نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارے شک کو دور کریں گے “ ۔ وہ بولے : ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت ادا کی ۔ بشیر کہتے ہیں : مجھ سے سہل بن ابی حثمہ ؓ نے کہا : دیت میں دی گئی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے ہمارے « مربد » (باڑھ) میں مجھے لات ماری ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k


Search took 0.507 seconds