رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر سوادة الجذامي 1931
تمام کتب میں:
23 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: رملة بنت ابي سفيان الاموية ( 2955 ) ، ابو سفيان بن سعيد الثقفي ( 210 ) ، ابو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ( 4903 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، إسحاق بن بكر القرشي ( 937 ) ، الربيع بن سليمان الازدي ( 1409 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ نے ان سے کہا (جب انہوں نے ستو پیا) بھانجے ! وضو کر لو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ” آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، إبراهيم بن عبد الله الكناني ( 851 ) ، عمر بن عبد العزيز الاموي ( 5974 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، إسحاق بن بكر القرشي ( 937 ) ، الربيع بن سليمان الازدي ( 1409 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں ، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، يزيد بن رباح القرشي ( 8414 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عمرو بن سواد القرشي ( 6140 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے ، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے “ (تم کیا کہو گے) ؟ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے عرض کیا : ہم وہی کہیں گے (اور کریں گے) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے ؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے ، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے ، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے ، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے “ یا ایسا ہی کچھ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : ” اس کے بعد مسکین مہاجرین کے پاس جاؤ گے ، پھر ان کا بوجھ ان ہی پر رکھو گے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ام ايمن حاضنة النبي ( 1837 ) ، حنش الصنعاني ( 2566 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، يعقوب بن كاسب المدني ( 8521 ) ، حدیث ۔۔۔ ام ایمن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا ، اور نبی اکرم ﷺ کے لیے اس کی روٹی بنائی ، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں ، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” اسے (چھان کر نکالی گئی بھوسی) اس میں ڈال دو ، پھر اسے گوندھو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابن الفراسي ( 1100 ) ، مسلم بن مخشي المدلجي ( 7483 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، يحيى بن بكير القرشي ( 8297 ) ، سهل بن ابي سهل الرازي ( 3666 ) ، حدیث ۔۔۔ ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا ، میرے پاس ایک مشک تھی ، جس میں میں پانی رکھتا تھا ، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کر لیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس کا پانی پاک ہے ، اور پاک کرنے والا ہے ، اور اس کا مردار حلال ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، عبد الله بن نافع المخزومي ( 5123 ) ، مسلم بن عمرو الحذاء ( 7478 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی ، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا ، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی ، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی ، ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا ، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا : ” تم نے سنت کے موافق عمل کیا ، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی “ ، اور دوسرے سے فرمایا : ” رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، ابو النجيب العامري ( 4039 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، داود بن منصور النسائي ( 2804 ) ، علي بن محمد المصيصي ( 5812 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ بحرین (احساء) سے ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا ، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی اور ریشم کا جبہ ، اس نے وہ دونوں اتار کر پھینک دیے اور پھر سلام کیا ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا ، اب اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں تو سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں اور آپ نے مجھ سے رخ پھیر لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ تھا “ ، وہ بولا : تب تو اس میں سے بہت سارے انگارے لے کر آیا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تم جو کچھ بھی لے کر آئے ہو وہ ہمارے لیے اس حرہ کے پتھروں سے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے ، البتہ وہ دنیا کی زندگی کی متاع ہے “ ، وہ بولا : تو پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” لوہے کا یا چاندی کا یا پیتل کا ایک چھلا بنا لو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، ابو النجيب العامري ( 4039 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن عمرو القرشي ( 477 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نجران سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا ، آپ نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا : ” تم میرے پاس اپنے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ لے کر آئے ہو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابن الفراسي ( 1100 ) ، مسلم بن مخشي المدلجي ( 7483 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ فراسی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں مانگوں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، اور اگر تمہیں مانگنا ضروری ہو تو نیکو کاروں سے مانگو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: جابر بن عبد الله الانصاري ( 2069 ) ، علي بن رباح اللخمي ( 5767 ) ، زياد بن نافع التجيبي ( 3107 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، حدیث ۔۔۔ اور بکر بن سوادہ نے بیان کیا ‘ ان سے زیاد بن نافع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوموسیٰ نے اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ محارب اور بنی ثعلبہ میں اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی تھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، ابو النجيب العامري ( 4039 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن صالح المصري ( 452 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ان میں سب سے زیادہ سخت لہسن ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ اس مسجد (مسجد نبوی) میں اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، يزيد بن رباح القرشي ( 8414 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عمرو بن سواد القرشي ( 6140 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب فارس اور روم فتح ہو جائیں گے تو تم کیا کہو گے ؟ “ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے کہا : ہم وہی کہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم کیا (یعنی اس کا شکر کریں گے) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اور کچھ نہیں کہتے ، رشک کرو گے پھر حسد کرو گے پھر بگاڑو گے دوستوں سے پھر دشمنی کرو گے دوستوں سے پھر دشمنی کرو گے ۔ “ یا ایسا ہی کچھ فرمایا ” پھر مسکین مہاجرین کے پاس ہو جاؤ گے اور ایک کو دوسروں کا حکم بناؤ گے ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، عبد الرحمن بن جبير المؤذن  ( 4334 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن عمرو القرشي ( 477 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، هارون بن معروف المروزي ( 7988 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓ سے روایت ہے ، بنی ہاشم کے چند لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس کے پاس گئے ، سیدنا ابو بکر صدیق ؓ بھی آئے اس وقت اسماء ان کے نکاح میں تھیں ۔ انہوں نے ان کو دیکھا اور برا جانا ان کا آنا ، پھر رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا اور کہا : میں نے تو کوئی بری بات نہیں دیکھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اسماء کو اللہ نے پاک کیا ہے برے فعل سے ۔ “ پھر رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” آج سے کوئی شخص اس عورت کے گھر میں نہ جائے جس کا خاوند غائب ہو (یعنی گھر میں نہ ہو) مگر ایک یا دو آدمی ساتھ لے کر ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، سفيان بن هانئ الجيشاني ( 3445 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، يونس بن عبد الاعلي الصدفي ( 8613 ) ، احمد بن عمرو القرشي ( 477 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے گری ہوئی چیز رکھ لی وہ گمراہ ہے جب تک اس کے مالک کو دریافت نہ کرے ۔ “ (اس سے معلوم ہوا کہ لقطہ پہنچانا اور بتلانا ضروری ہے) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، عبد الرحمن بن جبير المؤذن  ( 4334 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، يونس بن عبد الاعلي الصدفي ( 8613 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ بن عاص سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی جس میں ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے : « رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّہُ مِنِّي » ”اے رب ! انہوں نے بہکایا (یعنی بتوں نے) بہت لوگوں کو ، سو جو کوئی میری راہ پر چلا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے ۔ “ اور یہ آیت جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے : « إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ » ”اگر تو ان کو عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور جو تو ان کو بخش دے تو تو مالک ہے حکمت والا ۔ “ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا : « اللَّہُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي » ”اے پروردگار میرے ! امت میری ، امت میری ۔ اور رونے لگے“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبرائیل ! تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ اور رب تیرا خوب جانتا ہے لیکن تم جا کر ان سے پوچھو وہ کیوں روتے ہیں ؟ جبرائیل آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے سب حال بیان کیا جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جا کر عرض کیا : حالانکہ وہ خوب جانتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اے جبرئیل ! محمد (ﷺ) کے پاس جا اور کہہ ہم تم کو خوش کر دیں گے تمہاری امت میں اور ناراض نہیں کریں گے“ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، ابو عبيد الله المصري ( 256 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عبد الله بن لهيعة الحضرمي ( 5033 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول ﷺ (سفر میں تھے) ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، عبد الله بن نافع المخزومي ( 5123 ) ، محمد بن إسحاق المسيبي ( 6809 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آ گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا ، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی ، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا ، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا ، پھر دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی : ” تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہو گئی “ ، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا : ” تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن نافع کے علاوہ دوسرے لوگ اس حدیث کو لیث سے ، وہ عمیر بن ابی ناجیہ سے ، وہ بکر بن سوادہ سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً) روایت کرتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں ابو سعید خدری ؓ کا ذکر محفوظ نہیں ہے ، یہ مرسل ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: ابن الفراسي ( 1100 ) ، مسلم بن مخشي المدلجي ( 7483 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ! اللہ کے رسول ! کیا میں سوال کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: السائب بن خلاد الانصاري ( 1446 ) ، صالح بن خيوان السباي ( 3868 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن صالح المصري ( 452 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سہلہ سائب بن خلاد ؓ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ ﷺ یہ دیکھ رہے تھے ، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے “ ، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے ، اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں ، (میں نے منع کیا ہے) “ ، صحابی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ” تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: سهل بن سعد الساعدي ( 3672 ) ، وفاء بن شريح الصدفي ( 8156 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عبد الله بن لهيعة الحضرمي ( 5033 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن صالح المصري ( 452 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” الحمداللہ ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ ، سفید ، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں ، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں ، جو اسے اسی طرح درست کریں گے ، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے ، اس کا بدلہ (ثواب) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عبد الرحمن بن رافع التنوخي ( 4359 ) ، عبد الرحمن بن زياد الإفريقي ( 4364 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، احمد بن محمد المروزي ( 490 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے « حدث » لاحق ہو جائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں ، اس کی سند میں اضطراب ہے ، ۲- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں ، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے « حدث » لاحق ہو جائے تو پھر اس کی نماز پوری ہو گئی ، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب « حدث » تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہو جائے تو نماز دہرائے ۔ شافعی کا یہی قول ہے ، ۵- اور احمد کہتے ہیں : جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہو جائے گی ، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : « وتحليلہا التسليم » یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں ، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جا سکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہو گی ، ایک بار نبی اکرم ﷺ دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا ، ۶- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : جب تشہد کر لے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہو گئی ، انہوں نے ابن مسعود ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم ﷺ نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا : جب تم اس سے فارغ ہو گئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کر لیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  6k
رواۃ الحدیث: عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عميرة بن ابي ناجية الرعيني ( 6241 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، سويد بن نصر المروزي ( 3719 ) ، حدیث ۔۔۔ عطا بن یسار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے .... ، پھر یہی حدیث بیان کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عبد الرحمن بن رافع التنوخي ( 4359 ) ، عبد الرحمن بن زياد الإفريقي ( 4364 ) ، زهير بن معاوية الجعفي ( 3044 ) ، احمد بن يونس التميمي ( 465 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب امام نماز پوری کر لے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے ، پھر بات کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی ، سب کی نماز پوری ہو گئی “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k


Search took 0.529 seconds