رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر سوادة الجذامي 1931
کتاب/کتب میں: صحیح مسلم
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، يزيد بن رباح القرشي ( 8414 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عمرو بن سواد القرشي ( 6140 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب فارس اور روم فتح ہو جائیں گے تو تم کیا کہو گے ؟ “ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے کہا : ہم وہی کہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم کیا (یعنی اس کا شکر کریں گے) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اور کچھ نہیں کہتے ، رشک کرو گے پھر حسد کرو گے پھر بگاڑو گے دوستوں سے پھر دشمنی کرو گے دوستوں سے پھر دشمنی کرو گے ۔ “ یا ایسا ہی کچھ فرمایا ” پھر مسکین مہاجرین کے پاس ہو جاؤ گے اور ایک کو دوسروں کا حکم بناؤ گے ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، عبد الرحمن بن جبير المؤذن  ( 4334 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، احمد بن عمرو القرشي ( 477 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، هارون بن معروف المروزي ( 7988 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓ سے روایت ہے ، بنی ہاشم کے چند لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس کے پاس گئے ، سیدنا ابو بکر صدیق ؓ بھی آئے اس وقت اسماء ان کے نکاح میں تھیں ۔ انہوں نے ان کو دیکھا اور برا جانا ان کا آنا ، پھر رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا اور کہا : میں نے تو کوئی بری بات نہیں دیکھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اسماء کو اللہ نے پاک کیا ہے برے فعل سے ۔ “ پھر رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” آج سے کوئی شخص اس عورت کے گھر میں نہ جائے جس کا خاوند غائب ہو (یعنی گھر میں نہ ہو) مگر ایک یا دو آدمی ساتھ لے کر ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: زيد بن خالد الجهني ( 3137 ) ، سفيان بن هانئ الجيشاني ( 3445 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، يونس بن عبد الاعلي الصدفي ( 8613 ) ، احمد بن عمرو القرشي ( 477 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے گری ہوئی چیز رکھ لی وہ گمراہ ہے جب تک اس کے مالک کو دریافت نہ کرے ۔ “ (اس سے معلوم ہوا کہ لقطہ پہنچانا اور بتلانا ضروری ہے) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، عبد الرحمن بن جبير المؤذن  ( 4334 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، يونس بن عبد الاعلي الصدفي ( 8613 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ بن عاص سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی جس میں ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے : « رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّہُ مِنِّي » ”اے رب ! انہوں نے بہکایا (یعنی بتوں نے) بہت لوگوں کو ، سو جو کوئی میری راہ پر چلا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے ۔ “ اور یہ آیت جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے : « إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ » ”اگر تو ان کو عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور جو تو ان کو بخش دے تو تو مالک ہے حکمت والا ۔ “ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا : « اللَّہُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي » ”اے پروردگار میرے ! امت میری ، امت میری ۔ اور رونے لگے“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبرائیل ! تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ اور رب تیرا خوب جانتا ہے لیکن تم جا کر ان سے پوچھو وہ کیوں روتے ہیں ؟ جبرائیل آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے سب حال بیان کیا جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جا کر عرض کیا : حالانکہ وہ خوب جانتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اے جبرئیل ! محمد (ﷺ) کے پاس جا اور کہہ ہم تم کو خوش کر دیں گے تمہاری امت میں اور ناراض نہیں کریں گے“ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k


Search took 0.584 seconds