رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر سوادة الجذامي 1931
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
1 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمرو السهمي ( 4980 ) ، بكر بن سوادة الجذامي ( 1931 ) ، عبد الرحمن بن رافع التنوخي ( 4359 ) ، عبد الرحمن بن زياد الإفريقي ( 4364 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، احمد بن محمد المروزي ( 490 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے « حدث » لاحق ہو جائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں ، اس کی سند میں اضطراب ہے ، ۲- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں ، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے « حدث » لاحق ہو جائے تو پھر اس کی نماز پوری ہو گئی ، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب « حدث » تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہو جائے تو نماز دہرائے ۔ شافعی کا یہی قول ہے ، ۵- اور احمد کہتے ہیں : جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہو جائے گی ، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : « وتحليلہا التسليم » یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں ، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جا سکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہو گی ، ایک بار نبی اکرم ﷺ دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا ، ۶- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : جب تشہد کر لے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہو گئی ، انہوں نے ابن مسعود ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم ﷺ نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا : جب تم اس سے فارغ ہو گئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کر لیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  6k


Search took 0.463 seconds