رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر عبد الله المزني 1933
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
5 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، غالب بن ابي غيلان الراسبي ( 6350 ) ، خالد بن عبد الرحمن السلمي ( 2660 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، احمد بن محمد المروزي ( 490 ) ، حدیث ۔۔۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم جب دوپہر میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 5  -  Score: 945  -  2k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سعيد بن عبيد الهنائي ( 3368 ) ، كثير بن فائد البصري ( 6568 ) ، الضحاك بن مخلد النبيل ( 1494 ) ، عبد الله بن إسحاق الجوهري ( 4668 ) ، حدیث ۔۔۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ کہتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا ، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں ، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے ، اے آدم کے بیٹے ! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی ۔ اے آدم کے بیٹے ! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا) “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: کلمہ توحید پر ایمان لانا گناہوں کے کفارہ کفارے کا باعث ذریعہ ہے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 800  -  4k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، عاصم الاحول ( 4064 ) ، يحيى بن زكريا الهمداني ( 8264 ) ، احمد بن منيع البغوي ( 494 ) ، حدیث ۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے دیکھ لو “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں محمد بن مسلمہ ، جابر ، ابوحمید اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں : اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں جب وہ اس کی کوئی ایسی چیز نہ دیکھے جس کا دیکھنا حرام ہے ۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، ۴- اور « أحرى أن يؤدم بينكما » کے معنی یہ ہیں کہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 632  -  3k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، الحسن البصري ( 1239 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سليمان بن طرخان التيمي ( 3601 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا ۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ ” آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا “ ، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے ، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عمرو بن امیہ ، سلمان ، ثوبان اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے ۔ ان میں سے ابوبکر ، عمر اور انس ؓ ہیں اور اوزاعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے ، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ (کچھ) سر کا بھی مسح کرے ۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس ، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں ، ۴- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کر لے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہو گا ۔
Terms matched: 5  -  Score: 632  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، نفيع بن رافع المدني ( 7930 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، إسحاق بن منصور الكوسج ( 970 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے اور وہ جنبی تھے ، وہ کہتے ہیں : تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا : تم کہاں تھے ؟ یا : کہاں چلے گئے تھے (راوی کو شک ہے) ۔ میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا ۔ آپ نے فرمایا : مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور ان کے قول « فانخنست » کے معنی « تنحیت عنہ » کے ہیں ” یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا “ ، ۴- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ۔
Terms matched: 5  -  Score: 632  -  3k


Search took 0.618 seconds