رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر عمرو المعافري 1935
تمام کتب میں:
6 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، مسلم بن يسار الطنبذي ( 7489 ) ، عمرو بن ابي نعمة المعافري  ( 6071 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، يحيى بن ايوب الغافقي ( 8213 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، سليمان بن داود المهري ( 3586 ) ، ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، مسلم بن يسار الطنبذي ( 7489 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، سعيد بن مقلاص الخزاعي ( 3400 ) ، عبد الله بن يزيد العدوي ( 5157 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے فتوی دیا “ اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا ۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا “ ۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 604  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن يحيى المعافري ( 5151 ) ، الحسن بن عبد العزيز الجروي ( 1273 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے ، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے ، انہوں نے بکر بن عمرو سے ، انہوں نے بکیر سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ ایک شخص (حبان یا علاء بن عرار نامی) نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی « وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا‏ » کہ ” جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں “ الخ ، اس آیت کے بموجب تم (علی اور معاویہ ؓ دونوں سے) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا « فقاتلوا التي تبغيإ » ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے ! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت « ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏ » کی تاویل کروں ۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے « وقاتلوہم حتى لا تكون فتنۃ‏ » کہ ” ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے ۔ “ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا (واہ ، واہ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم ﷺ کے عہد میں کر چکے ، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی ۔ قتل کرتے ، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا ۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا ۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی ؓ اور عثمان ؓ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو ، علی اور عثمان ؓ کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں ۔ عثمان ؓ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو (کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں (جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو) اور علی ؓ تو (سبحان اللہ) نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  7k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عثمان بن صالح السهمي ( 5524 ) ، حدیث ۔۔۔ اور عثمان بن صالح نے زیادہ بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہیں فلاں شخص عبداللہ بن ربیعہ اور حیوہ بن شریح نے خبر دی ، انہیں بکر بن عمرو معافری نے ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ ایک شخص (حکیم) ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے ابوعبدالرحمٰن ! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم ایک سال حج کرتے ہو اور ایک سال عمرہ اور اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد میں شریک نہیں ہوتے ۔ آپ کو خود معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی طرف کتنی رغبت دلائی ہے ۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میرے بھتیجے ! اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ، پانچ وقت کی نماز پڑھنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، زکٰوۃ دینا اور حج کرنا ۔ “ انہوں نے کہا : اے ابا عبدالرحمٰن ! کتاب اللہ میں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کیا آپ کو وہ معلوم نہیں ہے « وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينہما‏ » کہ ” مسلمانوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جنگ کریں تو ان میں صلح کراؤ ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد « إلى أمر اللہ‏ » تک (اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ان سے جنگ کرو) یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے ۔ ابن عمر ؓ بولے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ہم یہ فرض انجام دے چکے ہیں اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے ، کافروں کا ہجوم تھا تو کافر لوگ مسلمانوں کا دین خراب کرتے تھے ، کہیں مسلمانوں کو مار ڈالتے ، کہیں تکلیف دیتے یہاں تک کہ مسلمان بہت ہو گئے فتنہ جاتا رہا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 356  -  6k
رواۃ الحدیث: عقبة بن عامر الجهني ( 5672 ) ، مشرح بن هاعان المعافري ( 7505 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن يزيد العدوي ( 5157 ) ، سلمة بن شبيب المسمعي ( 3505 ) ، حدیث ۔۔۔ عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو ذر الغفاري ( 2187 ) ، عبد الرحمن بن حجيرة الخولاني ( 4340 ) ، الحارث بن يزيد الحضرمي ( 1228 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، يزيد بن قيس الازدي ( 8366 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، شعيب بن الليث الفهمي ( 3805 ) ، عبد الملك بن شعيب الفهمي ( 5219 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوذر ؓ سے روایت ہے ۔ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ مجھے خدمت نہیں دیتے ۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے مونڈھے پر مارا اور فرمایا : ”اے ابوذر ! تو ناتواں ہے اور یہ امانت ہے (یعنی بندوں کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق سب حاکم کو ادا کرنے ہوتے ہیں) اور قیامت کے دن خدمت سے سوائے رسوائی اور شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں مگر جو اس کے حق ادا کرے اور راستی سے کام لے ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: عمر بن الخطاب العدوي ( 5913 ) ، عبد الله بن عبد الملك الجيشاني ( 5036 ) ، عبد الله بن هبيرة السباي ( 5135 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، علي بن سعيد الكندي ( 5773 ) ، حدیث ۔۔۔ عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ” اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k


Search took 0.885 seconds