رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر عمرو المعافري 1935
کتاب/کتب میں: صحیح بخاری
2 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن يحيى المعافري ( 5151 ) ، الحسن بن عبد العزيز الجروي ( 1273 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے ، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے ، انہوں نے بکر بن عمرو سے ، انہوں نے بکیر سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ ایک شخص (حبان یا علاء بن عرار نامی) نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی « وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا‏ » کہ ” جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں “ الخ ، اس آیت کے بموجب تم (علی اور معاویہ ؓ دونوں سے) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا « فقاتلوا التي تبغيإ » ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے ! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت « ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏ » کی تاویل کروں ۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے « وقاتلوہم حتى لا تكون فتنۃ‏ » کہ ” ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے ۔ “ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا (واہ ، واہ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم ﷺ کے عہد میں کر چکے ، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی ۔ قتل کرتے ، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا ۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا ۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی ؓ اور عثمان ؓ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو ، علی اور عثمان ؓ کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں ۔ عثمان ؓ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو (کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں (جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو) اور علی ؓ تو (سبحان اللہ) نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  7k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، بكر بن عمرو المعافري ( 1935 ) ، حيوة بن شريح التجيبي ( 2596 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، عثمان بن صالح السهمي ( 5524 ) ، حدیث ۔۔۔ اور عثمان بن صالح نے زیادہ بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہیں فلاں شخص عبداللہ بن ربیعہ اور حیوہ بن شریح نے خبر دی ، انہیں بکر بن عمرو معافری نے ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ ایک شخص (حکیم) ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے ابوعبدالرحمٰن ! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم ایک سال حج کرتے ہو اور ایک سال عمرہ اور اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد میں شریک نہیں ہوتے ۔ آپ کو خود معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی طرف کتنی رغبت دلائی ہے ۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میرے بھتیجے ! اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ، پانچ وقت کی نماز پڑھنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، زکٰوۃ دینا اور حج کرنا ۔ “ انہوں نے کہا : اے ابا عبدالرحمٰن ! کتاب اللہ میں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کیا آپ کو وہ معلوم نہیں ہے « وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينہما‏ » کہ ” مسلمانوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جنگ کریں تو ان میں صلح کراؤ ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد « إلى أمر اللہ‏ » تک (اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ان سے جنگ کرو) یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے ۔ ابن عمر ؓ بولے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ہم یہ فرض انجام دے چکے ہیں اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے ، کافروں کا ہجوم تھا تو کافر لوگ مسلمانوں کا دین خراب کرتے تھے ، کہیں مسلمانوں کو مار ڈالتے ، کہیں تکلیف دیتے یہاں تک کہ مسلمان بہت ہو گئے فتنہ جاتا رہا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 356  -  6k


Search took 0.425 seconds