رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر قيس الناجي 1936
تمام کتب میں:
19 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو رافع القبطي ( 548 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، يزيد بن هارون الواسطي ( 8488 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہے ، وہ بات میرے کان نے سنی ، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا کہ ایک آدمی تھا جس نے ننانوے خون (ناحق) کئے تھے ، پھر اسے توبہ کا خیال آیا ، اس نے روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا ، تو اسے ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا ، وہ اس کے پاس آیا ، اور کہا : میں ننانوے آدمیوں کو (ناحق) قتل کر چکا ہوں ، کیا اب میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : (واہ) ننانوے آدمیوں کے (قتل کے) بعد بھی (توبہ کی امید رکھتا ہے) ؟ اس شخص نے تلوار کھینچی اور اسے بھی قتل کر دیا ، اور سو پورے کر دئیے ، پھر اسے توبہ کا خیال آیا ، اور روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا ، اسے جب ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا تو وہ وہاں گیا ، اور اس سے کہا : میں سو خون (ناحق) کر چکا ہوں ، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس نے جواب دیا : تم پر افسوس ہے ! بھلا تمہیں توبہ سے کون روک سکتا ہے ؟ تم اس ناپاک اور خراب بستی سے (جہاں تم نے اتنے بھاری گناہ کئے) نکل جاؤ ، اور فلاں نیک اور اچھی بستی میں جاؤ ، وہاں اپنے رب کی عبادت کرنا ، وہ جب نیک بستی میں جانے کے ارادے سے نکلا ، تو اسے راستے ہی میں موت آ گئی ، پھر رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں جھگڑنے لگے ، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں ، اس نے ایک پل بھی میری نافرمانی نہیں کی ، تو رحمت کے فرشتوں نے کہا : وہ توبہ کر کے نکلا تھا (لہٰذا وہ رحمت کا مستحق ہوا) ۔ راوی حدیث ہمام کہتے ہیں کہ مجھ سے حمید طویل نے حدیث بیان کی ، وہ بکر بن عبداللہ سے اور وہ ابورافع ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : (جب فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا تو) اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ (ان کے فیصلے کے لیے) بھیجا ، دونوں قسم کے فرشتے اس کے پاس فیصلہ کے لیے آئے ، تو اس نے کہا : دیکھو دونوں بستیوں میں سے وہ کس سے زیادہ قریب ہے ؟ (فا...
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  8k
رواۃ الحدیث: عائشة بنت ابي بكر الصديق ( 4049 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، جابر بن يزيد الجعفي ( 2075 ) ، شريك بن عبد الله القاضي ( 3792 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، علي بن محمد الكوفي ( 5811 ) ، حدیث ۔۔۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا ، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، مسعر بن كدام العامري ( 7433 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، سفيان بن وكيع الرؤاسي ( 3446 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حد قائم کرتے ہوئے چالیس جوتیوں کی سزا دی ، مسعر راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے شراب کی حد میں (آپ نے چالیس جوتیوں کی سزا دی) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوسعید ؓ کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں علی ، عبدالرحمٰن بن ازہر ، ابوہریرہ ، سائب ، ابن عباس اور عقبہ بن حارث ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، سفيان الثوري ( 3436 ) ، عبد الرحمن بن مهدي العنبري ( 4493 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ ن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی ، چنانچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کر دیتے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، عمارة بن ابي حفصة الازدي ( 5864 ) ، محمد بن مروان العجلي ( 7263 ) ، نصر بن علي الازدي ( 7901 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں مہدی ہوں گے ، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے ، ورنہ نو برس رہیں گے ، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی ، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی ، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی ، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا ، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا : اے مہدی ! مجھے کچھ دیں ، وہ جواب دیں گے : لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے) “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، يعقوب بن إبراهيم العبدي ( 8514 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے ، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورۃ السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا ، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا ، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا ، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، عامر الاحول ( 4111 ) ، هشام بن ابي عبد الله الدستوائي ( 8035 ) ، معاذ بن هشام الدستوائي ( 7563 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا ، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، سفيان الثوري ( 3436 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امہات المؤمنین ( ؓ ن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی ، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، الحجاج بن ارطاة النخعي ( 2288 ) ، سليمان بن حيان الجعفري ( 3580 ) ، عبد الله بن سعيد الكندي ( 4836 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی (اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی : « بسم اللہ وباللہ وعلى ملۃ رسول اللہ » ، پڑھتے اور کبھی « بسم اللہ وباللہ وعلى سنۃ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم » ” اللہ کے نام سے ، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں “ پڑھتے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے ، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اور اسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ، ۳- نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاً مروی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، معاذ بن معاذ العنبري ( 7561 ) ، عبيد الله بن معاذ العنبري ( 5435 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو مارا ، پھر پوچھنے لگا : میری توبہ صحیح ہو سکتی ہے ؟ اور ایک راہب کے پاس آیا اس سے پوچھا : وہ بولا : تیری توبہ صحیح نہیں ۔ اس نے راہب کو بھی مار ڈالا ۔ پھر لگا پوچھنے : اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف چلا جہاں نیک لوگ رہتے تھے راستہ میں اس کو موت آئی تو اپنا سینہ آگے بڑھایا اور مر گیا ، پھر جھگڑا کیا اس میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں نے لیکن وہ اچھے گاؤں کی طرف نزدیک نکلا تو انہی لوگوں میں کیا گیا ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، الوضاح بن عبد الله اليشكري ( 8153 ) ، شيبان بن ابي شيبة الحبطي ( 3840 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی پہلی دو رکتوں میں ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر قرأت کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا یوں کہا اس کا آدھا ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کا آدھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، يحيى بن يحيى النيسابوري ( 8350 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر (کی نماز) میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ کرتے تھے تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنی دیر قیام کرتے تھے جتنی دیر میں « الم تَنْزِيلُ السَّجْدَۃِ » پڑھی جائے اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کا آدھا اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پچھلی دو رکعتوں کے برابر اور عصر کی پچھلی رکعتوں میں اس کا آدھا اور ابوبکر ایک راوی نے اپنی روایت میں سورۃ « الم تَنْزِيلُ » سجدہ کا ذکر نہیں کیا بلکہ تیس آیتوں کے برابر کہا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، هشام بن ابي عبد الله الدستوائي ( 8035 ) ، معاذ بن هشام الدستوائي ( 7563 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم سے پہلے ایک شخص تھا جس نے ننانوے خون کیے تھے ، اس نے دریافت کیا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ایک راہب کو بتایا (راہب نصاریٰ کے پادری) وہ بولا : میں نے ننانوے خون کیے ہیں میری توبہ قبول ہو گی یا نہیں ۔ راہب نے کہا : تیری توبہ قبول نہ ہو گی اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور سو خون پورے کر لیے ، پھر اس نے لوگوں سے پوچھا : سب سے زیادہ زمین میں کون عالم ہے ؟ لوگوں نے ایک عالم کا بتایا وہ اس کے پاس گیا اور بولا : میں نے سو خون کیے ہیں میری توبہ ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ وہ بولا : ہاں ہو سکتی ہے اور توبہ کرنے سے کون سی چیز مانع ہے تو فلاں ملک میں جا وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے ملک میں مت جا وہ برا ملک ہے ، پھر وہ آدمی چلا اس ملک کو جب آدھی دور پہنچا تو اس کو موت آئی اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ توبہ کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا ۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کوئی نیکی نہیں کی آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت بن کر آیا اور انہوں نے اس کو مقرر کیا اس جھگڑا میں فیصلہ کرنے کے لیے ۔ اس نے کہا : دونوں ملکوں تک ناپو اور جس ملک کے قریب ہو وہ وہیں کا ہے ۔ ناپا تو وہ اس ملک کے قریب تھا جہاں کا ارادہ رکھتا تھا ، آخر رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے ۔ “ قتادہ نے کہا : حسن نے کہا : ہم سے بیان کیا لوگوں نے کہ جب وہ مرنے لگا تو اپنے سینہ کے بل بڑھا (تاکہ اس ملک سے نزدیک ہو جائے)
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ( 7455 ) ، محمد بن كثير العبدي ( 7248 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کو قبر میں رکھتے تو : « بسم اللہ وعلى سنۃ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم » کہتے تھے ، یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، العلاء بن بشير المزني ( 1517 ) ، المعلى بن زياد القردوسي ( 7627 ) ، جعفر بن سليمان الضبعي ( 2151 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا ، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے ، جب آپ ﷺ کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا ، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا : ” تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ “ ہم نے عرض کیا : ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں “ ۔ پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں ، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا ، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا ۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں : تو میرے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو نہیں پہچانا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے فقرائے مہاجرین کی جماعت ! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے ، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے ، اور یہ پانچ سو برس ہو گا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، محمد بن جعفر الهذلي ( 6904 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں ، لہٰذا ہم نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ” میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے ، (اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے “ ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کیا : ان گنتیوں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : سال) آپ ﷺ نے فرمایا : ” پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا : مہدی ! مجھے دیجئیے ، مجھے دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” وہ اس آدمی کے کپڑے میں (دینار و درہم) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، عامر الاحول ( 4111 ) ، ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، معاذ بن هشام الدستوائي ( 7563 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا ، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہو گا “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض لوگ کہتے ہیں : جنت میں جماع تو ہو گا مگر بچہ نہیں پیدا ہو گا ۔ طاؤس ، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے ، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں : جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہو جائے گا ، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا ، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابورزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہو گا ، ۵- ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے ، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، محمد بن إبراهيم السلمي ( 6795 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا ان سے شعبہ نے ان سے قتادہ نے ان سے ابوصدیق ناجی بکر بن قیس نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے خون ناحق کئے تھے پھر وہ نادم ہو کر) مسئلہ پوچھنے نکلا ۔ وہ ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کیا اس گناہ سے توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے ؟ درویش نے جواب دیا کہ نہیں ۔ یہ سن کر اس نے اس درویش کو بھی قتل کر دیا (اور سو خون پورے کر دئیے) پھر وہ (دوسروں سے) پوچھنے لگا ۔ آخر اس کو ایک درویش نے بتایا کہ فلاں بستی میں چلا جا) (وہ آدھے راستے بھی نہیں پہنچا تھا کہ) اس کی موت واقع ہو گئی ۔ مرتے مرتے اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا ۔ آخر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں باہم جھگڑا ہوا ۔ (کہ کون اسے لے جائے) لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نصرہ نامی بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا) حکم دیا کہ اس کی نعش سے قریب ہو جائے اور دوسری بستی کو (جہاں سے وہ نکلا تھا) حکم دیا کہ اس کی نعش سے دور ہو جا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ اب دونوں کا فاصلہ دیکھو اور (جب ناپا تو) اس بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا) ایک بالشت نعش سے نزدیک پایا اس لیے وہ بخش دیا گیا ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: سو افراد کے قاتل شخص کی مغفرت ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  5k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، عبد الله بن محمد القضاعي ( 5064 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں تیس آیات کے بقدر یعنی سورۃ الم تنزیل السجدہ کے بقدر قیام فرماتے ہیں ، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں اس کے آدھے کا اندازہ لگایا ، اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم نے اندازہ کیا تو ان میں آپ کی قرآت ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر ہوتی اور آخری دونوں رکعتوں میں ہم نے اس کے آدھے کا اندازہ لگایا ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں کتنا لمبا قیام کیا جائے ۔ ظہر کی آخری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں سے آدھا قیام کرنا ۔ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں کتنا لمبا قیام کیا جائے ۔ عصر کی آخری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں سے آدھا قیام کرنا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k


Search took 0.449 seconds