رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر قيس الناجي 1936
کتاب/کتب میں: صحیح مسلم
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، هشام بن ابي عبد الله الدستوائي ( 8035 ) ، معاذ بن هشام الدستوائي ( 7563 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم سے پہلے ایک شخص تھا جس نے ننانوے خون کیے تھے ، اس نے دریافت کیا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ایک راہب کو بتایا (راہب نصاریٰ کے پادری) وہ بولا : میں نے ننانوے خون کیے ہیں میری توبہ قبول ہو گی یا نہیں ۔ راہب نے کہا : تیری توبہ قبول نہ ہو گی اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور سو خون پورے کر لیے ، پھر اس نے لوگوں سے پوچھا : سب سے زیادہ زمین میں کون عالم ہے ؟ لوگوں نے ایک عالم کا بتایا وہ اس کے پاس گیا اور بولا : میں نے سو خون کیے ہیں میری توبہ ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ وہ بولا : ہاں ہو سکتی ہے اور توبہ کرنے سے کون سی چیز مانع ہے تو فلاں ملک میں جا وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے ملک میں مت جا وہ برا ملک ہے ، پھر وہ آدمی چلا اس ملک کو جب آدھی دور پہنچا تو اس کو موت آئی اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ توبہ کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا ۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کوئی نیکی نہیں کی آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت بن کر آیا اور انہوں نے اس کو مقرر کیا اس جھگڑا میں فیصلہ کرنے کے لیے ۔ اس نے کہا : دونوں ملکوں تک ناپو اور جس ملک کے قریب ہو وہ وہیں کا ہے ۔ ناپا تو وہ اس ملک کے قریب تھا جہاں کا ارادہ رکھتا تھا ، آخر رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے ۔ “ قتادہ نے کہا : حسن نے کہا : ہم سے بیان کیا لوگوں نے کہ جب وہ مرنے لگا تو اپنے سینہ کے بل بڑھا (تاکہ اس ملک سے نزدیک ہو جائے)
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، معاذ بن معاذ العنبري ( 7561 ) ، عبيد الله بن معاذ العنبري ( 5435 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو مارا ، پھر پوچھنے لگا : میری توبہ صحیح ہو سکتی ہے ؟ اور ایک راہب کے پاس آیا اس سے پوچھا : وہ بولا : تیری توبہ صحیح نہیں ۔ اس نے راہب کو بھی مار ڈالا ۔ پھر لگا پوچھنے : اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف چلا جہاں نیک لوگ رہتے تھے راستہ میں اس کو موت آئی تو اپنا سینہ آگے بڑھایا اور مر گیا ، پھر جھگڑا کیا اس میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں نے لیکن وہ اچھے گاؤں کی طرف نزدیک نکلا تو انہی لوگوں میں کیا گیا ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، الوضاح بن عبد الله اليشكري ( 8153 ) ، شيبان بن ابي شيبة الحبطي ( 3840 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی پہلی دو رکتوں میں ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر قرأت کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا یوں کہا اس کا آدھا ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کا آدھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، يحيى بن يحيى النيسابوري ( 8350 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر (کی نماز) میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ کرتے تھے تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنی دیر قیام کرتے تھے جتنی دیر میں « الم تَنْزِيلُ السَّجْدَۃِ » پڑھی جائے اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کا آدھا اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پچھلی دو رکعتوں کے برابر اور عصر کی پچھلی رکعتوں میں اس کا آدھا اور ابوبکر ایک راوی نے اپنی روایت میں سورۃ « الم تَنْزِيلُ » سجدہ کا ذکر نہیں کیا بلکہ تیس آیتوں کے برابر کہا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k


Search took 0.391 seconds