رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر قيس الناجي 1936
کتاب/کتب میں: سنن ابي داود
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، زيد بن الحواري العمي ( 3127 ) ، سفيان الثوري ( 3436 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امہات المؤمنین ( ؓ ن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی ، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، العلاء بن بشير المزني ( 1517 ) ، المعلى بن زياد القردوسي ( 7627 ) ، جعفر بن سليمان الضبعي ( 2151 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا ، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے ، جب آپ ﷺ کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا ، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا : ” تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ “ ہم نے عرض کیا : ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں “ ۔ پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں ، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا ، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا ۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں : تو میرے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو نہیں پہچانا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے فقرائے مہاجرین کی جماعت ! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے ، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے ، اور یہ پانچ سو برس ہو گا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ( 7455 ) ، محمد بن كثير العبدي ( 7248 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کو قبر میں رکھتے تو : « بسم اللہ وعلى سنۃ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم » کہتے تھے ، یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، الوليد بن مسلم العنبري ( 1808 ) ، منصور بن زاذان الواسطي ( 7676 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، عبد الله بن محمد القضاعي ( 5064 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں تیس آیات کے بقدر یعنی سورۃ الم تنزیل السجدہ کے بقدر قیام فرماتے ہیں ، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں اس کے آدھے کا اندازہ لگایا ، اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم نے اندازہ کیا تو ان میں آپ کی قرآت ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر ہوتی اور آخری دونوں رکعتوں میں ہم نے اس کے آدھے کا اندازہ لگایا ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں کتنا لمبا قیام کیا جائے ۔ ظہر کی آخری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں سے آدھا قیام کرنا ۔ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں کتنا لمبا قیام کیا جائے ۔ عصر کی آخری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں سے آدھا قیام کرنا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k


Search took 0.393 seconds