رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بلال رباح الحبشي 1963
تمام کتب میں:
32 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن لحي الهوزني ( 5032 ) ، ممطور الاسود الحبشي ( 7663 ) ، زيد بن سلام الحبشي ( 3141 ) ، معاوية بن سلام الحبشي ( 7580 ) ، الربيع بن نافع الحلبي ( 1418 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول بلال ؓ سے حلب میں ملاقات کی ، اور کہا : بلال ! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ کا خرچ کیسے چلتا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ نہ ہوتا ، بعثت سے لے کر موت تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ اس کو ننگا دیکھتے تو مجھے حکم کرتے ، میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا ، اسے پہننے کے لیے دے دیتا اور اسے کھانا کھلاتا ، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا : بلال ! میرے پاس وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں ، مجھ سے لے لیا کریں ، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی (اس سے لینے لگا) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آ پہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا : اے حبشی ! میں نے کہا :   « يا لباہ » حاضر ہوں ، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت سست کہنے لگا اور بولا : تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں ؟ میں نے کہا : قریب ہے ، اس نے کہا : مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا ، مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے ، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے (میں بھی وہاں گیا) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی ، میں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہو جائے اور نہ ہی میرے پاس ہے (اگر ادا نہ کیا) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا ، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہو چکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ ال...
Terms matched: 4  -  Score: 690  -  15k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبيد الله بن زيادة البكري ( 5386 ) ، عبد الله بن العلاء الربعي ( 4711 ) ، عبد القدوس بن الحجاج الخولاني ( 4602 ) ، احمد بن حنبل الشيباني ( 488 ) ، حدیث ۔۔۔ عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال ؓ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں ، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا ، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں ، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی ، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے ، لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے ، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی ، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا “ ، بلال نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو کافی صبح کر دی ، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : ” جتنی دیر میں نے کی ، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 489  -  4k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، ابو سلمة الحمصي ( 212 ) ، عبد العزيز بن ابي رواد المكي ( 4555 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، عمرو بن عبد الله الاودى ( 6153 ) ، علي بن محمد الكوفي ( 5811 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال بن رباح ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا : ” بلال ! لوگوں کو خاموش کرو “ ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا ، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا ، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا ، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، اسامة بن زيد الكلبي ( 532 ) ، عطاء بن يسار الهلالي ( 5640 ) ، زيد بن اسلم القرشي ( 3122 ) ، داود بن قيس القرشي ( 2799 ) ، عبد الله بن نافع المخزومي ( 5123 ) ، سليمان بن داود المهري ( 3586 ) ، دحيم القرشي ( 4293 ) ، حدیث ۔۔۔ اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور بلال ؓ اسواف میں داخل ہوئے ، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، پھر نکلے ، اسامہ ؓ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال ؓ سے دریافت کیا : آپ ﷺ نے کیا کیا ؟ بلال ؓ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا ، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر نماز ادا کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، الفضيل بن الحسين الجحدري ( 6421 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، الفضيل بن الحسين الجحدري ( 6421 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، سليمان بن داود العتكي ( 3583 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ آئے فتح مکہ کے دن اور کعبہ کے میدان میں اترے اور عثمان بن طلحہ ؓ کے پاس کہلا بھیجا اور وہ کنجی لائے اور دروازہ کھولا اور آپ ﷺ اور بلال اور اسامہ اور عثمان بن سیدنا طلحہ ؓ اندر گئے اور دروازے کو حکم دیا کہ بند کر دو اور تھوڑی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا پھر میں سب لوگوں سے پہلے آپ ﷺ سے ملا کعبہ کے باہر اور سیدنا بلال ؓ آپ ﷺ کے پیچھے تھے سو بلال ؓ سے میں نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے کہا : کہاں ؟ انہوں نے کہا کہ دو کھمبوں کے بیچ میں اپنے منہ کے سامنے ، اور میں بھول گیا کہ پوچھوں کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 443  -  4k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، إسماعيل بن عبد العزيز العبسي ( 1016 ) ، محمد بن عبد الله الزبيرى ( 7100 ) ، احمد بن منيع البغوي ( 494 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب نہ کرو “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابو محذورہ ؓ سے بھی روایت ہے ، ۲- بلال ؓ کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں ۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی ۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے ، ۳- ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے ، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں ، ۴- اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے ؛ بعض کہتے ہیں : تثویب فجر کی اذان میں « الصلاۃ خير من النوم » ” نماز نیند سے بہتر ہے “ کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے ، اسحاق کہتے ہیں : تثویب اس کے علاوہ ہے ، تثویب مکروہ ہے ، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کی ہے ، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان : « قد قامت الصلاۃ ، حي على الصلاۃ ، حي على الفلاح » کہتا ، ۵- اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کیا ہے ، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں : « الصلاۃ خير من النوم » کہے تو یہ کہنا صحیح ہے ، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے ، عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ وہ فجر میں « الصلاۃ خير من النوم » کہتے تھے ، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی ۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے ۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی ، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا : اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو ، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی ، عبداللہ بن عمر ؓ نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کر لیا تھا ناپسند کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  7k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، ابو إدريس الخولاني ( 4046 ) ، ربيعة بن يزيد الإيادي ( 2905 ) ، محمد بن سعيد المصلوب ( 6988 ) ، بكر بن خنيس الكوفي ( 1927 ) ، هاشم بن القاسم الليثي ( 7996 ) ، احمد بن منيع البغوي ( 494 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کیا کرو ، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کا یہی طریقہ ہے ، اور رات کا قیام یعنی تہجد اللہ سے قریب و نزدیک ہونے کا ، گناہوں سے دور ہونے کا اور برائیوں کے مٹنے اور بیماریوں کو جسم سے دور بھگانے کا ایک ذریعہ ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اور ہم اسے بلال ؓ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : محمد قرشی یہ محمد بن سعید شامی ہیں اور یہ ابوقیس کے بیٹے ہیں اور یہ (ابوقیس) محمد بن حسان ہیں ، ان (محمد القرشی) کی روایت کی ہوئی حدیث نہیں لی جاتی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، سعيد بن المسيب القرشي ( 3299 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، معمر بن ابي عمرو الازدي ( 7633 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، عمرو بن رافع البجلي ( 6126 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے ، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں ، تو بلال ؓ نے دو بار « الصلاۃ خير من النوم ، الصلاۃ خير من النوم »  کہا ” نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے “ تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے ، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، ابو عبد الرحمن ( 9253 ) ، ابو عبد الله التيمي ( 259 ) ، عبد الله بن حفص القرشي ( 4776 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، معاذ بن معاذ العنبري ( 7561 ) ، عبيد الله بن معاذ العنبري ( 5435 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، بلال نے کہا : آپ ﷺ قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے تشریف لے جاتے ، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا ، آپ ﷺ وضو کرتے اور اپنے عمامہ (پگڑی) اور دونوں موق (جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے) پر مسح کرتے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، عمرو بن دينار الجمحي ( 6123 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ۔ جب کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں : آپ نے نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے صرف تکبیر کہی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بلال ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید ، فضل بن عباس ، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں : کعبے میں نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ، اور انہوں نے کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے ، ۵- شافعی کہتے ہیں : کعبہ کے اندر فرض اور نفل کوئی بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ نفل اور فرض کا حکم وضو اور قبلے کے بارے میں ایک ہی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، شداد مولى عياض الجزري ( 3762 ) ، جعفر بن برقان الكلابي ( 2143 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، زهير بن حرب الحرشي ( 3036 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے “ ، اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال ؓ کو نہیں پایا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، إسماعيل بن ابي اويس الاصبحي ( 1040 ) ، بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، عبد الله بن يوسف الكلاعي ( 5175 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی نافع سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید ، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ پھر عثمان ؓ نے کعبہ کا دروازہ بند کر دیا ۔ اور آپ ﷺ اس میں ٹھہرے رہے ۔ جب آپ ﷺ باہر نکلے تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے اندر کیا کیا ؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ستون کو تو بائیں طرف چھوڑا اور ایک کو دائیں طرف اور تین کو پیچھے اور اس زمانہ میں خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے ۔ پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی ادریس نے کہا ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے امام مالک نے یہ حدیث یوں بیان کی کہ آپ ﷺ نے اپنے دائیں طرف دو ستون چھوڑے تھے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  4k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، عبد الله بن عون المزني ( 4997 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، يعقوب بن إبراهيم العبدي ( 8514 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ اور بلال ؓ بھی تھے ۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا ، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے ، پھر باہر آئے ، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال ؓ تھے ۔ میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے کہا : دونوں ستونوں کے درمیان ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، مالك بن انس الاصبحي ( 6659 ) ، يحيى بن يحيى النيسابوري ( 8350 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ اور اسامہ اور بلال اور عثمان بن طلحہ ؓ داخل ہوئے کعبہ میں اور دروازہ بند کر لیا اور آپ ﷺ ٹھہرے ، پھر سیدنا ابن عمر ؓ نے بلال سے پوچھا جب نکلے کہ کیا کیا رسول اللہ ﷺ نے ؟ تو انہوں نے کہا کہ تین ستون اپنے بائیں کیے اور ایک داہنے اور تین پیچھے اور کعبہ کے اندر ان دنوں چھ کھمبے تھے پھر نماز پڑھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، مجاهد بن جبر القرشي ( 6715 ) ، سيف بن ابي سليمان المخزومي ( 3735 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، احمد بن سليمان الرهاوي ( 448 ) ، حدیث ۔۔۔ مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ (دیکھئیے) رسول اللہ ﷺ (ابھی ابھی) کعبہ کے اندر گئے ہیں ۔ (ابن عمر ؓ کہتے ہیں) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نکل چکے ہیں ، اور بلال ؓ دروازے پر کھڑے ہیں ۔ میں نے پوچھا : بلال ! کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، میں نے پوچھا : کہاں ؟ انہوں نے کہا : ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں ۔ پھر آپ وہاں سے نکلے ، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  3k
رواۃ الحدیث: عثمان بن طلحة القرشي  ( 5525 ) ، بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، سالم بن عبد الله العدوي ( 3194 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، يونس بن يزيد الايلي ( 8621 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، حرملة بن يحيى التجيبي ( 2346 ) ، حدیث ۔۔۔ سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کو کہ کعبہ میں گئے اور اسامہ اور بلال اور عثمان ؓ بھی اور کوئی ان کے ساتھ نہ گیا پھر دروازہ بند کر دیا ۔ سیدنا عبداللہ ؓ نے کہا کہ خبر دی مجھے بلال ؓ نے یا عثمان ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی کعبہ کے اندر دو یمانی ستونوں کے بیچ میں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، عبيد الله بن عمر العدوي ( 5421 ) ، عبدة بن سليمان الكوفي ( 5288 ) ، محمد بن نمير الهمداني ( 7136 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، زهير بن حرب الحرشي ( 3036 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں گئے اور اسامہ اور بلال اور عثمان ؓ کے ساتھ تھے اور لوگوں نے آپ ﷺ کے جانے کے بعد دروازہ بند کر لیا بڑی دیر تک ۔ پھر دروازہ کھولا تو سب سے پہلے میں اندر گیا اور میں بلال ؓ سے ملا اور کہا کہ کہاں نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے ؟ انہوں نے کہا : دو ستونوں کے بیچ میں میں جو آگے ہیں اور میں بھول گیا ان سے یہ نہ پوچھا کہ کتنی نماز پڑھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، مجاهد بن جبر القرشي ( 6715 ) ، سيف بن ابي سليمان المخزومي ( 3735 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا سیف ابن ابی سلیمان سے ، انہوں نے کہا میں نے مجاہد سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ابن عمر ؓ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ، اے لو یہ رسول اللہ ﷺ آن پہنچے اور آپ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے ۔ ابن عمر ؓ نے کہا کہ میں جب آیا تو نبی کریم ﷺ کعبہ سے نکل چکے تھے ، میں نے دیکھا کہ بلال دونوں دروازوں کے سامنے کھڑے ہیں ۔ میں نے بلال سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ! دو رکعت ان دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں ، جو کعبہ میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف واقع ہیں ۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا فرمائی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 391  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، إسماعيل بن ابي خالد البجلي ( 989 ) ، محمد بن عبيد الطنافسي ( 7148 ) ، محمد بن نمير الهمداني ( 7136 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبید نے کہا ، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، اور ان سے قیس نے کہ بلال ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا : اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 381  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، الاسود بن يزيد النخعي ( 1146 ) ، إبراهيم النخعي ( 902 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، زهير بن معاوية الجعفي ( 3044 ) ، الحسن بن اعين الحراني ( 1295 ) ، محمد بن معدان الحراني ( 7282 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ اذان کا آخری کلمہ « اللہ أكبر اللہ أكبر ، لا إلہ إلا اللہ » ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: عثمان بن طلحة القرشي  ( 5525 ) ، اسامة بن زيد الكلبي ( 532 ) ، بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، عبد الله بن عون المزني ( 4997 ) ، خالد بن الحارث الهجيمي ( 2625 ) ، محمد بن عبد الاعلى القيسي ( 7050 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم ﷺ ، بلال اور اسامہ بن زید ؓ اندر داخل ہو چکے تھے ، اور (ان کے اندر جاتے ہی) عثمان بن طلحہ ؓ نے دروازہ بند دیا ۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے ، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم ﷺ نکلے (اور آپ کے نکلتے ہی) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا ، تو میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے ؟ لوگوں نے بتایا ، یہاں ، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں ؟ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، البراء بن عازب الانصاري ( 1157 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، حفص بن غياث النخعي ( 2448 ) ، زائدة بن قدامة الثقفي ( 2980 ) ، طلق بن غنام النخعي ( 4031 ) ، الحسين بن عبد الرحمن الجرجرائي ( 1331 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، هناد بن السري التميمي ( 8098 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پگڑی اور چمڑے کے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، كعب بن عجرة الانصاري ( 6597 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، علي بن مسهر القرشي ( 5816 ) ، هناد بن السري التميمي ( 8098 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، كعب بن عجرة الانصاري ( 6597 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، عيسى بن يونس السبيعي ( 6343 ) ، إسحاق بن راهويه المروزي ( 927 ) ، محمد بن خازم الاعمى ( 6936 ) ، محمد بن العلاء الهمداني ( 6852 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا بلال ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے مسح کیا موزوں پر اور عمامہ پر ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
Result Pages: 1 2 Next >>


Search took 0.450 seconds