رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بلال رباح الحبشي 1963
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، ابو إدريس الخولاني ( 4046 ) ، ربيعة بن يزيد الإيادي ( 2905 ) ، محمد بن سعيد المصلوب ( 6988 ) ، بكر بن خنيس الكوفي ( 1927 ) ، هاشم بن القاسم الليثي ( 7996 ) ، احمد بن منيع البغوي ( 494 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کیا کرو ، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کا یہی طریقہ ہے ، اور رات کا قیام یعنی تہجد اللہ سے قریب و نزدیک ہونے کا ، گناہوں سے دور ہونے کا اور برائیوں کے مٹنے اور بیماریوں کو جسم سے دور بھگانے کا ایک ذریعہ ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اور ہم اسے بلال ؓ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : محمد قرشی یہ محمد بن سعید شامی ہیں اور یہ ابوقیس کے بیٹے ہیں اور یہ (ابوقیس) محمد بن حسان ہیں ، ان (محمد القرشی) کی روایت کی ہوئی حدیث نہیں لی جاتی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، عمرو بن دينار الجمحي ( 6123 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ۔ جب کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں : آپ نے نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے صرف تکبیر کہی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بلال ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید ، فضل بن عباس ، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں : کعبے میں نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ، اور انہوں نے کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے ، ۵- شافعی کہتے ہیں : کعبہ کے اندر فرض اور نفل کوئی بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ نفل اور فرض کا حکم وضو اور قبلے کے بارے میں ایک ہی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، إسماعيل بن عبد العزيز العبسي ( 1016 ) ، محمد بن عبد الله الزبيرى ( 7100 ) ، احمد بن منيع البغوي ( 494 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب نہ کرو “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابو محذورہ ؓ سے بھی روایت ہے ، ۲- بلال ؓ کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں ۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی ۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے ، ۳- ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے ، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں ، ۴- اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے ؛ بعض کہتے ہیں : تثویب فجر کی اذان میں « الصلاۃ خير من النوم » ” نماز نیند سے بہتر ہے “ کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے ، اسحاق کہتے ہیں : تثویب اس کے علاوہ ہے ، تثویب مکروہ ہے ، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کی ہے ، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان : « قد قامت الصلاۃ ، حي على الصلاۃ ، حي على الفلاح » کہتا ، ۵- اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کیا ہے ، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں : « الصلاۃ خير من النوم » کہے تو یہ کہنا صحیح ہے ، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے ، عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ وہ فجر میں « الصلاۃ خير من النوم » کہتے تھے ، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی ۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے ۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی ، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا : اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو ، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی ، عبداللہ بن عمر ؓ نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کر لیا تھا ناپسند کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  7k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، كعب بن عجرة الانصاري ( 6597 ) ، عبد الرحمن بن ابي ليلى الانصاري ( 4287 ) ، الحكم بن عتيبة الكندي ( 1372 ) ، سليمان بن مهران الاعمش ( 3629 ) ، علي بن مسهر القرشي ( 5816 ) ، هناد بن السري التميمي ( 8098 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k


Search took 0.373 seconds