رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بيان بشر الاحمسي 1980
کتاب/کتب میں: صحیح بخاری
14 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عمار بن ياسر العنسي ( 5860 ) ، همام بن الحارث النخعي ( 8094 ) ، وبرة بن عبد الرحمن المسلي ( 8145 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، إسماعيل بن مجالد الهمداني ( 1052 ) ، احمد بن ابي الطيب البغدادي ( 401 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے احمد بن ابی طیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی مجالد نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے کہا ، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے ہمام نے بیان کیا کہ میں نے عمار ؓ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھا ہے جب آپ ﷺ کے ساتھ (اسلام لانے والوں میں صرف) پانچ غلام ، دو عورتوں اور ابوبکر ؓ کے سوا اور کوئی نہ تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، زهير بن معاوية الجعفي ( 3044 ) ، مالك بن إسماعيل النهدي ( 6661 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس ؓ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ایک خاتون (زینب بنت جحش ؓ ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  2k
رواۃ الحدیث: عدي بن حاتم الطائي ( 5575 ) ، عامر الشعبي ( 4099 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، محمد بن الفضيل الضبي ( 7237 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے عدی بن حاتم ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے سکھائے ہوئے کتوں کو شکار کے لیے چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیتے ہو تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ خواہ وہ شکار کو مار ہی ڈالیں ۔ البتہ اگر کتا شکار میں سے خود بھی کھا لے تو اس میں یہ اندیشہ ہے کہ اس نے یہ شکار خود اپنے لیے پکڑا تھا اور اگر دوسرے کتے بھی تمہارے کتوں کے سوا شکار میں شریک ہو جائیں تو نہ کھاؤ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: عدي بن حاتم الطائي ( 5575 ) ، عامر الشعبي ( 4099 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، محمد بن الفضيل الضبي ( 7237 ) ، محمد بن سلام البيكندي ( 6995 ) ، حدیث ۔۔۔ مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد ابن فضل نے خبر دی ، ان سے بیان بن بشر نے ، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے عدی بن حاتم ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم اس قوم میں سکونت رکھتے ہیں جو ان کتوں سے شکار کرتی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اگر وہ کتا تمہارے لیے شکار لایا ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو لیکن اگر کتے نے خود بھی کھا لیا ہو تو وہ شکار نہ کھاؤ کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس نے وہ شکار خود اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر اس کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی شکار میں شریک ہو جائے تو پھر شکار نہ کھاؤ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: جرير بن عبد الله البجلي ( 2123 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، خالد بن عبد الله الطحان ( 2663 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا ، ان سے قیس نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے ! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا ۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا ۔ یہ سب اچھے سوار تھے ، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا ۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: مرداس بن مالك الاسلمي ( 7391 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، الوضاح بن عبد الله اليشكري ( 8153 ) ، يحيى بن حماد الشيباني ( 8253 ) ، حدیث ۔۔۔ مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے مرداس اسلمی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہو گی ۔ “ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا « حفالۃ » اور « حثالۃ‏.‏ » دونوں کے ایک معنی ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: خباب بن الارت التميمي ( 2698 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، إسماعيل بن ابي خالد البجلي ( 989 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، الحميدي عبد الله بن الزبير ( 4698 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے بیان بن بشر اور اسماعیل بن ابوخالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم نے قیس بن ابوحازم سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے خباب بن ارت سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کعبہ کے سائے تلے چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔ ہم لوگ مشرکین سے انتہائی تکالیف اٹھا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کیوں نہیں فرماتے ؟ اس پر آپ ﷺ سیدھے بیٹھ گئے ۔ چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا اور فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ لوہے کے کنگھوں کو ان کے گوشت اور پٹھوں سے گزار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا گیا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا ، کسی کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور یہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا ، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن تمام و کمال تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک (تنہا) جائے گا اور (راستے) میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف تک نہ ہو گا ۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ ” سوائے بھیڑیئے کے کہ اس سے اپنی بکریوں کے معاملہ میں اسے ڈر ہو گا ۔ “
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  5k
رواۃ الحدیث: عمرو بن العاص القرشي ( 6086 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، عنبسة بن عبد الواحد القرشي ( 6252 ) ، عمرو بن العاص القرشي ( 6086 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، إسماعيل بن ابي خالد البجلي ( 989 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، محمد بن جعفر الهذلي ( 6904 ) ، عمرو بن العباس الباهلي ( 6087 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن العاص ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ فلاں کی اولاد (یعنی ابوسفیان بن حکم بن عاص یا ابولہب کی اولاد) یہ عمرو بن عباس نے کہا کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں اس وہم پر سفید جگہ خالی تھی (یعنی تحریر نہ تھی) میرے عزیز نہیں ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ ہے) میرا ولی تو اللہ ہے اور میرے عزیز تو ولی ہیں جو مسلمانوں میں نیک اور پرہیزگار ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ بھی نہ ہو) ۔ عنبسہ بن عبدالواحد نے بیان بن بشر سے ، انہوں نے قیس سے ، انہوں نے عمرو بن العاص سے اتنا بڑھایا ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ، آپ نے فرمایا البتہ ان سے میرا رشتہ ناطہٰ ہے اگر وہ تر رکھیں گے تو میں بھی تر رکھوں گا یعنی وہ ناطہٰ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  5k
رواۃ الحدیث: جرير بن عبد الله البجلي ( 2123 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، زائدة بن قدامة الثقفي ( 2980 ) ، الحسين بن علي الجعفي ( 1339 ) ، عبدة بن عبد الله الخزاعي ( 5290 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عبدۃ بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا ان سے زائد نے ، ان سے بیان بن بشر نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ چودھویں رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو قیامت کے دن اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو ۔ اس کے دیکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی ۔ کھلم کھلا دیکھو گے ، بےتکلف ، بےمشقت ، بےزحمت ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، سعيد بن جبير الاسدي ( 3307 ) ، وبرة بن عبد الرحمن المسلي ( 8145 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، خالد بن عبد الله الطحان ( 2663 ) ، إسحاق بن شاهين الواسطي ( 948 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا ، ان سے بیان ابن بصیر نے ، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے ۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا : اے ابوعبدالرحمٰن ! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے ۔ ابن عمر ؓ نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں روئے ۔ محمد ﷺ فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے ، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے ۔ کیا نبی کریم ﷺ کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی ؟
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، سعيد بن جبير الاسدي ( 3307 ) ، وبرة بن عبد الرحمن المسلي ( 8145 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، زهير بن معاوية الجعفي ( 3044 ) ، احمد بن يونس التميمي ( 465 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے بیان نے بیان کیا ، ان سے وبرہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا ، کہا کہ ابن عمر ؓ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ (مسلمانوں کے باہمی) فتنہ اور جنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ابن عمر ؓ نے ان سے پوچھا تمہیں معلوم بھی ہے ” فتنہ “ کیا چیز ہے ۔ محمد ﷺ مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا ۔ نبی کریم ﷺ کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: مشرکوں سے مسلمانوں کا فتنہ میں پڑ جانا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k
رواۃ الحدیث: جرير بن عبد الله البجلي ( 2123 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، خالد بن عبد الله الطحان ( 2663 ) ، إسحاق بن شاهين الواسطي ( 948 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا کہا ، ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے بیان نے کہ میں نے قیس سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ ﷺ نے مجھے (گھر کے اندر آنے سے) نہیں روکا (جب بھی میں نے اجازت چاہی) اور جب بھی آپ ﷺ مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو بكر الصديق ( 4945 ) ، قيس بن ابي حازم البجلي ( 6508 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، الوضاح بن عبد الله اليشكري ( 8153 ) ، محمد بن الفضل السدوسي ( 6855 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ابوبکر ؓ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا ۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے ۔ ابوبکر ؓ نے ان سے فرمایا : اجی بات کرو اس طرح حج کرنا تو جاہلیت کی رسم ہے ، چنانچہ اس نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں ؟ ابوبکر ؓ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ قریش سے ، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے ؟ ابوبکر ؓ نے اس پر فرمایا تم بہت پوچھنے والی عورت ہو ، میں ابوبکر ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطا فرمایا ہے اس پر ہم (مسلمان) کب تک قائم رہ سکیں گے ؟ آپ نے فرمایا اس پر تمہارا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک تمہارے امام حاکم سیدھے رہیں گے ۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں ؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں ۔ ابوبکر ؓ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: عمار بن ياسر العنسي ( 5860 ) ، همام بن الحارث النخعي ( 8094 ) ، وبرة بن عبد الرحمن المسلي ( 8145 ) ، بيان بن بشر الاحمسي ( 1980 ) ، إسماعيل بن مجالد الهمداني ( 1052 ) ، يحيى بن معين ( 8341 ) ، عبد الله بن حماد الآملي ( 4778 ) ، حدیث ۔۔۔ مجھ سے عبداللہ بن حماد آملی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن مجالد نے بیان کیا ، ان سے بیان نے ، ان سے وبرہ نے ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ عمار بن یاسر ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب نبی کریم ﷺ کے ساتھ پانچ غلام ، دو عورتوں اور ابوبکر صدیق ؓ کے سوا اور کوئی (مسلمان) نہیں تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k


Search took 0.418 seconds