علامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ … شخصیت اور گراں قدر خدمات
شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کو ان کے علمی مشاغل نے کبھی اتنی مہلت نہ دی کہ وہ خود اپنی سوانح لکھ پاتے، البتہ ان کے بعض تلامذہ (مثلاً شیخ مجذوب، شیخ علی خشان اور شیخ محمد عید عباسی وغیرہم) نے ’’موجزة عن حیاة الشیخ ناصر الدین‘‘ کے عنوان سے آپ کا ترجمہ لکھا ہے، ان کے علاوہ شیخ محمد بن ابراہیم شیبانی نے ’’حیاة الألباني و آثارہ و ثناء العلماء علیه‘‘ نامی ترجمہ لکھا جو ۹۲۹ صفحات پر محیط ہے اور ۱۴۰۷ھ میں الدار السلفیہ (کویت) سے شائع ہو چکا ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ محدثِ جلیل ؒ کی پیش نظر سوانح حیات (جسے محدثین کی اصطلاح میں ترجمہ کہتے ہیں) کوئی بدعت نہیں ہے بلکہ شیوخِ کبار کے تراجم، ان کے مناقب و آثار کو جمع کرنا سلف و صالحین اور محدثین کی عادت رہی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام ابن جوزی ؒ نے ’’مشیخۃ‘‘ میں، امام ذہبی ؒ نے اپنے ’’تاریخ‘‘ میں (امام احمدؒ کا ترجمہ)، امام ابن کثیرؒ نے ’’البدایة والنهایة‘‘ میں، بزارؒ نے ’’الأعلام العلیة في مناقب شیخ الإسلام ابن تیمیة‘‘میں، ابن ناصر دمشقی ؒ نے ’’الردّ الوافر في الانتصار لشیخ الإسلام‘‘ اور ’’الردّ علی العلاء البخاري في إفراء اته وأضالیله‘‘ میں، ابن قیمؒ نے ( شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کا ترجمہ) اور سیوطی ؒ و سخاوی و غیرہما نے امام نوویؒ وغیرہ کے تراجم مرتب کئے ہیں۔
اس سوانحی خاکہ میں راقم نے کوشش کی ہے کہ محدث ؒ شام کے حالاتِ زندگی کے تمام گوشے قدرے تفصیل سے بیان کئے جائیں تاکہ آپ کی زندگی، آپ کی جدوجہد، آپ کا انہماک، آپ کی جستجو، سنت نبوی سے آپ کی محبت اور اس راہ میں آنے والے مصائب پر آپ کا صبر موجود ہ اور آنے والی نسلوں کے لئے، اسوہ و مثال بلکہ انمول نمونہ اور مشعل راہ بن سکے۔ (مرتب)
شیخ الالبانی ؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، آ پ کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ آپ اپنی دینی خدمات، بے نظیر تالیفات، مقالات، تحقیقات، تخریجات اور دروس کی بنا پر عالم اسلام کے گوشہ گوشہ میں معروف ہیں۔ آپ کو حدیث نبوی، رجال اور اسانید پر مکمل عبور حاصل تھا۔ آپ نے جس انداز پر دین کی بے لوث خدمات انجام دی ہے وہ لائق تحسین ہے۔ ماضی قریب میں علم حدیث کے فنون میں آپ کا کوئی ہمسر اور ثانی نظر نہیں آتا۔ حق گوئی، راست بازی اور بے باکی آپ کا امتیازی وصف تھا۔ حکومت اور اشخاص کی خوشامد اور چاپلوسی سے آپ کو شدید نفرت تھی یہی وجہ ہے کہ حسن اخلاق کے اس عظیم پیکر کو اپنے وطن مالوف اور دوسری جگہوں کو اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل کے لئے خیر باد کہنا پڑا۔ محدث موصوف جہاں بھی جاتے وہاں کے بعض مخصوص ذہنیت اور عقیدے کے حامل افراد آپ سے خوفزدہ ہو جاتے اور سینکڑوں کتابوں کے اس مصنف و محقق کو اپنی راہ کا کانٹا تصور کرتے تھے۔ آپ کے محاضرات و بیانات، خطابات و ملاقات اور کیسٹوں پر سخت پہر ہ بٹھانے کے باوجودبھی آپ اپنے دعوتی مشن میں ہمہ وقت و ہمہ تن مصروف عمل رہے۔ جزاہ اللہ اَحسن الجزاء
اب اس بطل جلیل کی زندگی کے مختلف گوشوں پر ذرا تفصیلی گفتگو ملاحظہ فرمائیں:
مولد، مسکن اور ہجرت
شیخ محمد ناصر الدین ؒ کی ولادت ۱۹۱۴ء میں الالبانیہ کے دارالسلطنت ”اشقودرہ“ میں ہوئی تھی۔ آپ کا گھرانہ غریب ہونے کے باوجود ایک متدین اور علمی گھرانہ تھا۔ آپ کے والد الحاج نوح نجاتی الالبانی ایک حنفی عالم تھے اور دولت عثمانیہ کے دارالسلطنت استانہ (موجودہ استنبول) کو چھوڑ کر اپنے وطن مالوف لوٹ گئے تھے تاکہ وہاں دین کی خدمت کر سکیں اور اپنے دروس و تقاریر سے وہاں کے لوگوں کو دین کی تعلیم دے سکیں۔ جلد ہی وہ وہاں مرجع خلائق بن گئے تھے۔ لیکن جب ملک احمد زوغو نے البانیہ کا اقتدار سنبھالا تو پورے وطن پر بے دین لوگ قابض ہو گئے تھے، رفتہ رفتہ مغربیت کی ترویج ہونے لگی، نتیجتاً البانیہ کی خواتین نے حجاب اتار پھینکا اور مردوں نے بھی یورپی لباس (پتلون وغیرہ) اختیار کر لی۔ جن لوگوں کو اپنا دین عزیز تھا اور وہ اپنی عاقبت کی بدحالی سے خوفزدہ تھے انہوں نے وہاں سے ہجرت کرنا شروع کر دی۔ شیخ ؒ کے والد نے یہ محسوس کیا کہ وہاں کے حالات رفتہ رفتہ اور بھی بدتر ہو جائیں گے اس لئے انہوں نے اپنی اولاد کو اس فتنہ مغربیت و الحاد سے محفوظ رکھنے کی خاطر ملک شام کی طرف ہجرت کی اور دمشق کو اپنا مسکن بنایا۔
تعلیم و تربیت
شیخ محمدناصر الدین ؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم دمشق کے مدرسة الأسعاف الخیریة الابتدائیة میں شروع کی۔ دورانِ تعلیم مدرسہ میں آگ لگ جانے کے باعث آپ سوقِ ساروجہ کے ایک دوسرے مدرسہ میں منتقل ہو گئے تھے۔ چونکہ آپ کے والد دینی اعتبار سے دینی تعلیم کے مروّجہ نظام سے مطمئن نہ تھے لہٰذا انہوں نے شیخ ؒ کی مدرسہ میں تعلیم کی عدمِ تکمیل کا فیصلہ کیا اور خود ان کے لئے ایک تعلیمی پروگرام وضع کیا جو بنیادی طور پر تعلیم قرآن، تجوید، صرف اور فقہ حنفی پر مرکوز تھا۔
شیخ نے بعض علومِ دینیہ اور عربی کی تعلیم اپنے والد کے بعض رفقا (جن کا شمار اس وقت کے شیوخ میں ہوتا تھا) سے بھی حاصل کی۔ ان شیوخ میں سے شیخ سعید برہانی سے آپ نے ’’مراقی الفلاح‘‘ اور علومِ بلاغت کی بعض جدید کتب پڑھی تھیں۔ آپ نے اپنے زمانہ میں حلب کے مشہور مؤرخ علامہ شیخ راغب طباخ ؒ سے ان کی جمیع مرویات کی ”اجازۃ فی الحدیث“ حاصل کی تھی۔ استاذ محمد المبارک شیخ کو علامہ راغب طباخ کے پا س لے کر گئے تھے اور ان سے شیخ ؒ کے علومِ حدیث میں ذوق وشوق اورمہارت کو بیان کیا تھا جس پر علامہ راغب ؒ نے آپ کا امتحان لیا اور انہیں ویسا ہی پایا تھا جیسا کہ استاذ محمد المبارک ؒ نے بیان کیا تھا۔ چنانچہ علامہ راغب ؒ نے تقدیراً و اعترافاً اپنی کتاب ’’الأنوار الجلیة في مختصر الأثبات الحلبیة‘‘ پر اپنی مہر کے ساتھ اپنے مشائخ کی اجازۃ ثبت کرکے اپنی جانب سے بھی انہیں اجازۃ سے سرفراز فرمایا تھا۔
علم حدیث کی طرف آپ کی توجہ اور اس کا اہتمام
شیخ محمد ناصر الدین ؒ بیس سال کی عمر میں مجلّۃ المنار میں شائع ہونے والی بحوث سے متاثر ہو کر علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ یہ مجلہ شیخ محمد رشید رضا کی زیر ادارت شائع ہوتا تھا۔ شیخ محمد مجذوب اپنی کتاب ’’علماء و مفکّرون‘‘ میں شیخ ؒ سے نقل کرتے ہیں
’’… شیخ ؒ سید رشید رضا کو ان لوگوں میں سب سے زیادہ پر اثر شخص سمجھتے ہیں جنہوں نے انہیں حدیث شریف کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا تھا‘‘
سید رشید رضا کے ساتھ شیخ ؒ کے اس علمی تعلق کو بیان کرنے کے بعد شیخ مجذوب آپ سے روایت کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:
’’میں پہلے عربی قصص، مثلاً ظہر و عنترۃ اور الملک سیف وغیرہ کے مطالعہ کا شوقین تھا، پھر پولینڈ کے ترجمہ شدہ قصے مثلاً کارین لوبین وغیرہ میری توجہ کا مرکز بنے۔ پھر میں تاریخی واقعات کے مطالعہ کے طرف مائل ہوا۔ اسی دوران میں نے ایک دن اپنے سامنے مجلہ ”المنار“ کا ایک شمارہ دیکھا۔ اس میں میں نے سید رشید رضا کی قلم سے تحریر شدہ ایک بحث دیکھی جس میں انہوں نے امام غزالی کی کتاب الإحیاء کے اَوصاف، محاسن اور مآخذ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ پہلی مرتبہ ایسی کوئی علمی تنقید میری نظر سے گزری تھی جس نے مجھ میں وہ پورا شمارہ پڑھنے کا جذبہ پیدا کیا۔ پھر میں نے چاہا کہ اس موضوع پر مزید چھان بین کی جائے، چنانچہ حافظ عراقی کی تخریج الاحیاء دیکھی مگر اس کو خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے کے باعث اس کو کرایہ پر لے لیا۔ جب میں اس کتاب کو پڑھا تو اس دقیق تخریج نے مجھے اس بات پر اُبھارا کہ اس کو نقل کر لوں۔ میں نے اس کے لئے کافی جدوجہد کی۔ اس طرح مجھے ان معلومات کو ٹھیک طریقہ پر جمع کرنے کا سلیقہ آ گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کام میں جو جدوجہد میں نے کی، اس نے میری ہمت افزائی کی اور اس راہ میں آگے قدم بڑھانا میرے لئے پسندیدہ اور مرغوب امر بن گیا۔ نصوص کو سمجھنے اور ان کی تخریج کے لئے میں نے لغت، بلاغت اور غریب الحدیث کی بعض مؤلفات سے بھی مدد لی تھی۔ ‘‘
شیخ رحمہ اللہ اپنے متعلق خود بیان کرتے ہیں کہ
’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے مگر ان میں سے دو نعمتیں میرے نزدیک بہت اہم ہیں۔ پہلی، ملک شام کی طرف میرے والد کی ہجرت کیونکہ اگر ہم البانیہ ہی میں رہتے تو عربی نہ سیکھتے جبکہ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیکھنے و سمجھنے کے لئے عربی زبان کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ اور دوسری نعمت: میرے والد کا مجھے گھڑیوں کی مرمت کرنے کا ہنر سکھانا ہے…… اوائل شباب میں میں نے یہ ہنر سیکھا تھا لیکن ساتھ ہی ہر دن میں علم حدیث کو بھی سیکھنے کے لئے وقت نکالتا تھا۔ منگل اور جمعہ کے سوا میں ہر دن تین گھنٹے گھڑیوں کی مرمت کرتا اور اس کے ذریعہ اپنے اور اہل و عیال کے لئے ضروریاتِ زندگی کماتا تھا۔ باقی وقت میں سے ہر دن چھ سے آٹھ گھنٹے طلب علم، تالیف، کتب حدیث، بالخصوص المکتبۃ الظاھریۃ میں موجود مخطوطات کے مطالعہ میں گزارتا تھا۔ جب ظہر، مغرب اور عشاء وغیرہ کی نماز کا وقت ہوتا تو مکتبہ ہی میں موجود مسلمان کے ساتھ نماز پڑھ لیتا تھا۔‘‘
محدث رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ :
’’حدیث پر میرا پہلا کام کتاب المغني عن حمل الأسفار فى الأسفار فى تخريج ما فى الإحياء من الأخبار ازحافظ عراقی کا نقل کرنا اور اس پر تعلیقات لکھنا تھا۔ اس کے لئے میں نے ایک پروگرام وضع کیا تھا، مثلاً الإحياء میں ایک حدیث یوں لکھی ہوئی تھی:
إن العبد لينشر له من الثناء ما بين المشرق والمغرب وما يزن عند الله جناح بعوضة حافظ عراقی ؒ نے اس پر تعقباً لکھا ہے :
وقد نقلته منه ولكني لم أجده هٰكذا، وفي الصحيحين من حديث أبى هريرة: إنه ليأتي الرجل السمين العظيم يوم القيمة لا يزن عند الله جناح بعوضة
میں نے یہ کیا کہ ’’صحیحین کی اس حدیث کو مکمل کیا اور اضافہ کو اصل کتاب سے نقل کیا۔ اس دن سے حدیث میرے مطالعہ کا عنوان بن گئی۔ جو چیزیں میرے لئے غور و فکر کا مرکز ہوتیں انہیں میں قوسین کے مابین لکھ لیا کرتا تھا۔ جب میں پہلی جلد کا نصف حصہ مکمل کر چکا تو ایک مرتبہ میں نے محسوس کیا کہ احادیث کے اپنے اس عمل کے دوران مجھے بہت سے ایسے الفاظ سے سابقہ پڑا ہے جن کے متعلق مجھے تفقہ حاصل نہ تھا۔ بعض اَوقات تو پوری حدیث کا معنی و مراد ہی میرے لئے واضح نہ ہوتی تھی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں ان تمام الفاظ کی شرح بھی حاشیہ پر درج کر لوں تاکہ وہ میرے لئے مذکرہ (یاد داشت)بن جائے اور فہم حدیث میں معاون ہو۔ چنانچہ از سر نو میں نے کتاب شروع کی اور جس مغلق کلمہ پر میرا گزر ہوتا، اس کو میں غریب الحدیث لابن اثیر اور قاموس کی مدد سے حل کرتا اور حاشیہ پر اس کا معنی لکھ لیتا تھا یہاں تک کہ میرے لئے یہ معاملہ آسان ہو گیا اور اس طرح متن سے زیادہ تعلیق کی ضخامت ہو گئی۔ اس طرح یہ کتاب مکمل ہوئی۔ یہ وہ چیز تھی جس نے مجھے سب سے زیادہ نفع پہنچایا۔‘‘
علم حدیث میں شیخ رحمہ اللہ کی یہ جدوجہد ان کے لئے خیر کبیر کے راستے کھولنے کا سبب بنی اور اس فن میں ان کا اقبال بڑھا۔ سنت کے مطالعہ میں ان کے انہماک اور شدید شغف کو دیکھ کر ان کے والد خوفزدہ ہوتے اور ان سے کہا کرتے تھے: علم الحديث صنعة المفاليس ”علم حدیث تو مفلس لوگوں کا فن ہے“ مگر انہوں نے پرواہ نہ کی۔
چونکہ شیخ رحمہ اللہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہتے تھے جو ماشاء اللہ ایک بڑا خاندان تھا لہٰذا اکثر جن کتابوں کی انہیں ضرورت ہوتی تھی اور وہ ان کے والد کے ذاتی کتب خانہ میں موجود نہ ہوتی تھیں (جو کہ بیشتر مسلک حنفی کی کتب پر ہی مشتمل تھا) شیخ انہیں خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے، لہٰذا آپ انہیں مکتبہ ظاہریہ میں تلاش کرتے تھے۔ المکتبۃ الظاھریۃ آپ کے لئے ایک نعمت کبریٰ سے کسی طرح کم نہ تھا کیونکہ جن کتابوں کو آپ خرید نہ پاتے تھے ان میں سے اکثر مکتبہ میں مل جاتی تھیں اور آپ کی ضرورت پوری کرتی تھیں۔ کبھی کبھی بعض تجارتی کتب خانے بھی آپ کی اس طرح مدد کر دیتے تھے کہ آپ کو مطلوبہ کتب بطورِ استعارہ، غیر محدود مدت تک بلا اجرت دے دیتے تھے۔ جب ان کتب کا کوئی خریدار دوکان پر آتا تو وہ شیخ سے کتاب واپس منگوا لیتے۔ ان مالکانِ کتب خانہ میں دمشق کے سید سلیم القصیباتی او ران کے فرزند عزت نیز المکتبۃ العربیۃ الھاشمیۃ کے اصحاب احمد، حمدی اور توفیق کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں، فجز اهم الله
کچھ عرصہ کے بعد شیخ رحمہ اللہ المکتبۃ الظاھریۃ میں بارہ بارہ گھنٹے رہنے لگے۔ اس دوران سوائے اوقاتِ نماز کے آپ کا تمام تر وقت کتب حدیث کے مطالعہ، تحقیق اور تعلیق میں گزرتا تھا۔ اکثر اوقات آپ تھوڑا بہت کھانا مکتبہ ہی میں تناول فرمایا کرتے تھے۔ آپ کا یہ انہماک دیکھ کر المکتبۃ الظاھریۃ کی انتظامیہ نے آپ کے لئے ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا۔ جس میں آپ کی اَبحاث کے لئے ضروری اُمہاتِ مصادر کو فراہم کر دیا گیا تھا۔ ملازمین مکتبہ سے قبل آپ صبح سویرے ہی اپنے اس مخصوص کمرہ میں آ جاتے تھے اور بیشتر اوقات عشاء کی نماز پڑھ کر ہی وہاں سے گھر جایا کرتے تھے۔ بہت سے ملاقاتی مطالعہ اور تالیف میں آپ کے انہماک کے پیش نظر مکتبہ ہی میں آپ سے ملنے جایا کرتے تھے۔ آپ طبیعتاً خوشامدی یا پرمجاملت کلمات سے پرہیز کرتے تھے اور اسے ضیاعِ وقت کا سبب سمجھتے تھے۔ جب کوئی شخص آپ سے کوئی سوال پوچھتا تو آپ کتاب پر سے نظر ہٹائے بغیر ہی اس کا مختصر سا جواب دے دیا کرتے تھے۔ استاذ محمدالصباغ کے بقول :
’’آپ کی آنکھ بیک وقت کتاب اور سائل دونوں پر ہوا کرتی تھی‘‘
دعوۃ فی سبیل اللہ کی ابتدا
آپ نے اپنی دعوت الی اللہ کے ابتداء مسلک حنفی پر علمی تنقید سے شروع کی۔ آپ کے والد بہت سے مسلکی مسائل میں آپ کے مخالف ہوتے تو آپ ان پر یہی واضح کرتے کہ جب کسی مسلمان پر کسی بارے میں کوئی حدیث ثابت ہو جائے تو اس کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کو ترک کرے اور یہ کہ یہی منہج امام ابوحنیفہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہم اللہ کا بھی تھا۔ (ملاحظہ ہو صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم )
استاذ مجذوب، شیخ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ:
’’میں نے اپنی دعوت کی ابتدا متعارفین، دوستوں اور ان کے دوستوں کے ساتھ میل ملاقات سے کی۔ پہلے ہم لوگ ایک جگہ جمع ہوتے تھے، پھر ایک دوسرے معاون کے گھر اس اجتماع کو منتقل کر دیا گیا۔ پھر اس سے بھی بڑی ایک دوسری جگہ منتخب کی گئی۔ پھر اس مقصد کے لئے ایک منزل کرایہ پر لی گئی تاکہ بکثرت لوگ اس میں شریک ہو سکیں، پھر یہ جگہ بھی تنگ پڑنے لگی…‘‘
اس طرح شیخ رحمہ اللہ نے مشائخ اور مساجد کے ائمہ کے ساتھ علمی مباحثہ کا سلسلہ شروع کیا۔ بعض اوقات متعصّب مسلکی علماء، مشائخ صوفیہ اور خرافاتی بدعتی لوگوں سے شدید معارضہ درپیش ہوتا تھا، لیکن ان کے پاس سوائے شور و غوغا کرنے اور شیخ رحمہ اللہ کو ”گمراہ وہابی“ کا طعنہ دینے کے کوئی ٹھوس دلیل نہ ہوتی تھی۔ دمشق کے نامور علماء میں سے علامہ بہجت البیطار، شیخ عبدالفتاح الامام، شیخ حامد التقی اور شیخ توفیق البرزہ وغیرہم رحمہم اللہ نے شیخ ناصر الدین رحمہ اللہ کی ہمت افزائی کی اور ثابت قدم رہنے کی تلقین بھی کی۔ شیخ رحمہ اللہ لوگوں کے بے جا الزامات اور مخالفین کی پرواہ نہ کرتے ہوئے منہج حق پر ڈٹے رہے اور اپنے نفس کو صبر و تحمل کے ساتھ سورہ لقمان کی آیت نمبر۱۷ ﴿وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ﴾ ... سورة لقمان میں مذکور وصیت سے مطمئن اور آمادہ برعمل کرتے رہے۔ دمشق کے بہت سے مشائخ کے ساتھ توحید، مسلکی تعصب اور بدعات کے موضوعات پر آپ کے بے شمار علمی مباحثی ہوئے۔ اسی سلسلہ میں آپ نے بعض شہروں مثلاً حلب، اللاذقیہ، ادلب، سلمیہ، حمص، حماۃ اور الرقہ وغیرہ کا دورہ بھی کیا اور وہاں بھی علمی مناقشات کئے۔ حاسدین کا معاملہ اس حد تک پہنچا کہ انہوں نے حکام کے پاس شیخ کے خلاف جھوٹی گواہیاں دیں جس کے باعث آں رحمہ اللہ کو دوبار اسیر زنداں بننا پڑا۔ ایک بار آپ نے ایک ماہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور دوسری بار غالباً ۱۹۶۷ء میں تقریباً چھ ماہ سنت یوسفی ادا کرتے رہے مگر راہِ حق سے اس جبل عزیمت کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے… نتیجتاً آپ کی دعوت الی الکتاب والسنہ ملک شام کی حدود سے نکل کر اُردن او ر لبنان بھی جا پہنچی۔
ان دعوتی اَسفار کے علاوہ شیخ رحمہ اللہ ہر ماہ حلب کا سفر بھی کیا کرتے تھے تاکہ وہاں کے مکتبۃ الأوقاف الاسلامیۃ کے مخطوطات سے مستفید ہو سکیں۔ اس مکتبہ میں آپ طویل گھڑیاں گزار ا کرتے تھے۔ ’’الزوائد للبوصیری‘‘ آپ نے اسی مکتبہ کے مخطوطات سے نقل کی تھی۔
مجالس علمیہ کا اہتمام
شیخ رحمہ اللہ نے ایک ہفتہ وار مجلس علمی کا پروگرام وضع کیا تھا۔ ان مجالس میں طالبانِ علم اور مختلف جامعات کے اساتذہ شرکت کرتے تھے اور وہاں پڑھی جانے والی علمی کتب کے دروس سے مستفید ہوتے تھے۔ یہ کتب الروضۃ الندیۃ نواب صدیق حسن خاں، منہاج الاسلام فی الحکم محمد اسد، اصول الفقہ عبد الوہاب خلاف، مصطلح التاریخ اَسد رستم، فقہ السنۃ سید سابق، الحلال والحرام یوسف قرضاوی، الترغیب والترہیب حافظ منذری، فتح المجید شرح کتاب التوحید عبد الرحمن بن حسن آلِ شیخ، الباعث الحثیث شرح اختصار علوم الحدیث احمد شاکر، ریاض الصالحیننووی، الإلمام فی احادیث الأحکام ابن دقیق العید اور الأدب المفرد امام بخاری وغیرہ تھیں۔
شیخ رحمہ اللہ خواتین کو بھی صحیح احادیث اور ان پر اپنی تعلیقات کے منتخب حصص کا درس دیا کرتے تھے۔ شیخ کے شاگرد استاذ محمد عید عباسی اپنی کتاب ’’بدعۃ التعصّب المذھبی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’شیخ رحمہ اللہ ان دروس کے علاوہ دمشق میں اپنے تلامذہ کو مندرجہ ذیل فقہی کتب کا درس بھی دیا کرتے تھے:
کتاب اقتضاء الصراط المستقیم ازشیخ الاسلام ابن تیمیہ، فقہ السنۃ ازسید سابق، منھاج السنۃ فی الحکم از محمد اسد اور الروضۃ الندیۃ فی شرح الدرر البہیۃ ازعلامہ محمد صدیق حسن خاں بھوپالی
مزید فرماتے ہیں کہ
’’ ہمارے شیخ ہر علمی بحث کی محققانہ شرح بیان فرماتے اور کسی بھی مسئلہ کو خواہ چھوٹا ہو یا بڑا بلا وضاحت نہ چھوڑتے تھے… الخ‘‘
مدینہ یونیورسٹی میں شیخ کی تقرری اور وہاں کے تعلیمی نظام پر آپ کے اثرات
استاذ عید عباسی اور علی خشان، شیخ رحمہ اللہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس جہد ِمتواصل کے نتیجہ میں حدیث، فقہ اور عقائد وغیرہ کے موضوعات پر شیخ رحمہ اللہ کی بیشتر نفع بخش مؤلفات معرضِ وجود میں آئیں جو اہل علم و فضل کے نزدیک شیخ سے محبت کا باعث بنیں۔ ان مؤلفات میں فہم صحیح، حدیث، اس کے علوم، اس کے رجال وغیرہ کی درایت ِفائقہ اور صائب علمی منہج وغیرہ سب کچھ موجود تھا۔ ان کتب میں ہر چیز کے لئے صرف کتاب و سنت کو ہی حکم اور میزان و معیار بنایا گیا تھا۔ ان کے علاوہ سلف صالح کے فہم اور ان کے طریقہ ٔ تفقہ وا ستنباطِ احکام سے ہدایت و رہنمائی بھی حاصل کی گئی تھی…
جب مدینہ منورہ میں الجامعۃ الاسلامیۃ (مدینہ یونیورسٹی) کی تاسیس ہوئی تو چانسلر مدینہ یونیورسٹی اور مفتی ٔ عام برائے سعودی عرب شیخ علامہ محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے حدیث، علوم الحدیث اور فقہ الحدیث کو جامعہ میں پڑھانے کے لئے شیخ موصوف کو ہی منتخب کیا۔ یہاں آپ تین سال (یعنی ۱۳۸۱ھ ؍ ء سے ۱۳۸۳ھ کے اختتام تک) استاذِ حدیث رہے۔ اس دوران جامعہ میں آپ جہدو اخلاص کی مثال بنے رہے حتیٰ کہ دروس کے دوران ہونے والے وقفہ میں آپ طلباء کے ساتھ ریت پر بٹھ جایا کرتے اور وہاں بھی علمی مباحث کا سلسلہ شروع کردیتے تھے۔ جبکہ اس وقفہ کے دوران دوسرے اساتذہ اپنے اپنے کمروں میں جا کر چائے اور ناشتہ وغیرہ میں مصروف ہو جاتے تھے۔ جب بعض اساتذہ اور طلباء ان کے پاس ریت پر سے گزرتے تو یہ پکار اٹھتے تھے: ’’ھذا ھوا الدرس الحقیقي ولیس الذي خرجت منه أوالذي سنعود إلیه‘‘ (حقیقی درس تو یہ ہے،نہ کہ وہ جس سے ابھی ہم نکلے ہیں یا اس کی طرف لوٹیں گے) آپ کے اس اخلاص اور آپ کے ساتھ طلباء کے غیر معمولی تعلق خاطر، محبت اور جامعہ کے اندر و باہر آپ کی شفقت کہ جس سے آپ کے معاصر اساتذہ محروم تھے، نے بعض لوگوں کے دلوں میں حسد کا بیج بو دیا… چنانچہ اساتذہ میں سے بعض حاسدین نے جامعہ کے مسئولین کو ان کے خلاف ابھارنا شروع کیا، پھر انہی حاسدین نے افتراء ات، بہتان اور جھوٹی شہادتوں کا سہارا لیا، یہاںتک کہ جامعہ کی انتظامیہ نے ان کی خدمات کے اختتام کا فیصلہ کیا اور آپ ایک سچے مؤمن کی طرح اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔ البتہ جب شیخ رحمہ اللہ اپنے متعلق افتراء ات اور تہمتوں کو سنتے تھے تو یہی کہتے تھے: ’’حسبنا اللہ و نعم الوکیل‘‘
آپ کے متعلق شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کے یہ کلمات قابل ذکر ہیں: ’’حینما کنت تقوم بواجب الدعوة لا فرق عندك، و ذلك لمعرفته بقوة إیمانه بالله العظیم وعلمه الواسع و صبره علی البلاء…الخ‘‘
’’جب آپ فریضہ دعوت کی ادائیگی میں مشغول ہوتے تو کسی میں فرق روا نہ رکھتے۔ یہ اللہ پر آپ کی ایمانی قوت، وسیع تر علم اور مشقتوں پر خصوصی صبر کا کرشمہ تھا‘‘
شیخ رحمہ اللہ نے الجامعۃ الاسلامیۃ (مدینہ منورہ یونیورسٹی) میں علم حدیث کی تعلیم کا ایک منہج ؍ طرزِ تعلیم وضع کیا تھا جس میں علم الاسناد کو خاص اہمیت دی گئی تھی۔ شیخ تیسرے سال کے طلباء کے لئے صحیح مسلم سے ایک حدیث منتخب فرماتے اور دوسرے سال کے آخر میں طلباء کے لئے سنن ابی داود سے ایک حدیث مع سند بورڈ پر لکھ دیتے تھے اور پھر کتب ِرجال، مثلاً الخلاصۃ اور التقریب وغیرہ لا کر ان احادیث کی تخریج اور نقد ِرجال کے طریقہ وغیرہ کی عملی پریکٹس کرواتے تھے۔ پس یہ کہا جاسکتا ہے کہ فقط الجامعۃ الاسلامیۃ ہی میں نہیں بلکہ عالم عرب کی تمام اسلامی یونیورسٹیوں میں علم الاسناد کی تعلیم کی روایت پہلی بار شیخ ہی نے شروع کی تھی۔ جامعہ سے آپ کے رخصت ہوجانے کے بعد ڈاکٹرمحمد امین مصریؒ (چیئرمین شعبۂ حدیث) نے اس علمی روایت کو جامعہ میں جاری رکھا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ آپ کی جاری کردہ یہ سنت عالم اسلامی کی تمام جامعات میں رائج ہوگئی۔
الجامعۃ السلفیۃ (بنارس) میں آمد کی پیشکش سے شیخ کی معذرت
الجامعۃ الاسلامیۃ سے سبکدوشی کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس کے سرپرست مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ (صاحب مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح) نے شیخ رحمہ اللہ کو بنارس میں بحیثیت ِاستاذِ حدیث تشریف لانے کی دعوت دی جسے شیخ رحمہ اللہ نے بوجوہ قبول نہ کیا اور معذرت کر لی
جب شیخ رحمہ اللہ الجامعۃ الاسلامیۃ سے فارغ ہو کر دمشق واپس پہنچے تو آپ نے گھڑیوں کی مرمت کرنے والی اپنی دوکان اپنے بھائی منیر ؒاور ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند عبداللطیف کو دیدی تھی اور اپنے آپ کو مکمل طور پر فارغ کرکے المکتبۃ الظاھریۃ میں قیمتی تالیفات اور نفع بخش مؤلفات کے لئے وقف کردیا تھا۔
شیخ کی شام سے عمان پھر واپس شام پھر بیروت پھر امارت اور پھر عمان کی طرف ہجرتیں
ابتلاء اللہ تعالیٰ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے جو اللہ تعالیٰ ہر مؤمن بندہ پر جاری فرماتا ہے حتیٰ کہ اس سنت ِالٰہی کے تحت رسول صلوات اللہ و سلامہ علیہم بھی مختلف النوع ابتلاء ات سے دو چار کئے گئے۔ متعدد بار یہ سنت شیخ رحمہ اللہ پر بھی جاری ہوئی۔ اپنی ہجرتوں کے متعلق عزیمت کے یہ پیکر خود فرماتے ہیں:
’’پہلی بار میں نے اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ ماہ رمضان ۱۴۰۰ھ میں دمشق سے عمان کی طرف ہجرت کی اور وہاں اس امید پر مکان بنوانا شروع کیا کہ باقی زندگی یہیں گزاروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و انعام سے میرے لئے یہ مرحلہ آسان فرما دیا۔ تعمیر کے سلسلہ میں بہت زیادہ بھاگ دوڑ اور بیماری کے بعد مکان کی طرف سے مجھے قدرے سکون میسر ہوا۔ لیکن میرا ذاتی کتب خانہ دمشق ہی میں چھوٹ گیا تھا۔ عمان لے جانے میں درپیش دشواریوں کے باعث اس کتب خانہ کی منتقلی ممکن نہ ہوئی تھی، لیکن ہر دن مجھے بارش سے اس کے خراب ہوجانے کا خدشہ لاحق رہتا تھا۔ بہرحال جب اردن کے بعض بھائیوں نے محسوس کیا کہ میں گھر میں فارغ بیٹھا ہوں تو ان لوگوں نے مجھ سے دروس کا مطالبہ شروع کردیا۔ ان لوگوں نے ماضی میں عمان کی طرف ہجرت سے قبل میرے دروس سنے تھے کیونکہ میں ہر ماہ یا ہر دوسرے ماہ وہاں جاتا اور ایک دو درس دیا کرتا تھا… میں نے ان بھائیوں سے وعدہ کر لیا کہ ہر جمعرات کو نمازِ مغرب کے بعد انہی میں سے ایک شخص کے گھر جو کہ میرے گھر سے قریب تھا،میں درس دیا کروں گا۔ میں نے پہلے دو درس ریاض الصالحین للنوویؒ سے اپنی تحقیق و تشریح کے ساتھ دیئے، پھر حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے جو کہ بہت زیادہ تھے۔ سوالات کی کثرت ان کی شدیدعلمی رغبت اور معرفت ِسنت کی تشنگی کے مظہر تھے۔ لیکن ابھی تیسرے درس کے لئے تیاری کر ہی رہا تھا کہ بروز بدھ ۱۹ ؍شوال ۱۴۰۱ھ کو دوپہر کے وقت مجھے اطلاع دی گئی کہ آپ کا مکان یہاں باقی نہیں رہا ہے۔ پس میرے لئے دمشق واپس جانے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہ گیا تھا۔ میں غم و اندوہ کے عالم میں اللہ عزوجل سے دعاء کرتا تھا کہ مجھ سے شر اور دشمنوں کے کینہ کو دور فرما۔ دو راتیں اسی کرب و بے چینی میں گزریں۔ آخر کار تیسری رات میں نے استخارہ اور مشورہ کے بعد بیروت جانے کا فیصلہ کر لیا، حالانکہ وہاں کے حالات بہت پرخطر اور پرفتن تھے۔ میں بیروت رات کے آخری پہر میں پہنچا، اپنے ایک پرانے بھائی کے گھر کا قصد کیا۔ ا س نے بھی نہایت لطف و کرم اور ادب کے ساتھ میرا استقبال کیا اور مجھے اپنے گھر معزز و مکرم مہمان رکھا۔ بیروت میں کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ میں بیروت سے الامارات کی طرف ہجرت کے لئے مجبور ہوگیا جہاں أہل السنۃ والجماعۃ سے وابستہ بعض محبین نے میرا استقبال کیا۔ الامارات میں قیام کے دوران میں نے کویت اور قطر وغیرہ خلیجی ممالک میں دروس دیئے اور پھر وہاں سے بھی عمان کی طرف مہاجر ہوا‘‘
شیخ کی زیارات
شیخ رحمہما اللہ نے سپین (اندلس) کی تنظیم ’’الاتحاد العالمي للطلبة المسلمین‘‘ کی دعوت پر ایک محاضرہ میں شرکت کی اور ’’الحدیث حجة بنفسه في العقائد والأحکام‘‘ (حدیث ِنبوی بذاتہ عقائد واحکام میں حجت ہے )کے عنوان پر ایک وقیع خطاب پیش کیا جو بعد میں المکتبةالسلفیة، کویت سے شائع ہوچکا ہے۔
2۔ إدارة العامة للإفتاء والدعوة والإرشاد، الریاض نے مصر، مغرب ( مراکش) اور انگلینڈ میں عقیدئہ توحید اور المنہج الاسلامی الحق کی طرف دعوت کے لئے آپ کو منتخب کیا تھا۔
3۔ شیخ رحمہ اللہ نے دولۃ القطر کا سفر کیا اور وہاں مشائخ اور علماء سے ملاقاتیں کیں جن میں شیخ یوسف قرضاوی، شیخ محمد غزالی، شیخ المحمود اور شیخ ابن حجر بن آل بوطامی وغیرہم قابل ذکر ہیں۔ آپ نے وہاں ’’منزلة السنة في الإسلام‘‘ کے عنوان پر خطاب بھی فرمایا جو بعد میں طبع ہوا۔
4۔ متعدد اسلامی علمی کانفرنسوں میں آپ کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ بعض کانفرنسوں اور اجتماعات میں آپ نے شرکت کی لیکن علمی مشاغل کی کثرت کے باعث اکثر سے آپ نے معذرت کر لی تھی
5۔ شیخ رحمہ اللہ نے مختلف یورپی ممالک کا سفر بھی کیا اور وہاں کی مسلم اقلیتوں نیز مسلم طلبہ سے خطاب کیا اور ان میں اپنے مفید علمی دروس سے مستفید کیا تھا۔
6۔ ۱۴۰۲ھ میں آں رحمہ اللہ نے کویت کا سفر کیا اور وہاں متعدد دروس و محاضرات سے سامعین کو فیض یاب کیا۔ وہاں آپ کے دروس کی ریکارڈ کی گئی کیسٹوں کی تعداد تقریباً تیس ہے۔
7۔ اسی طرح آپ نے متعدد بار الإمارات العربیۃ المتحدۃ کی زیارت بھی کی اور وہاں بہت سے اجتماعات سے خطاب کیا۔ آپ کے یہ خطابات ریکارڈ ہیں اور کیسٹ کے مراکز میں دستیاب ہیں۔ آپ کی امارات کی آخری زیارت غالباً ۱۴۰۵ھ میں ہوئی تھی۔
اہل علم سے تعلقات
شیخ البانی رحمہ اللہکا طلبہ ٔعلم سے ملاقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ ان کے مابین ملاقات عموماً علمی مفید مباحث پر مشتمل ہوتی تھی۔ ان میں شیخ حامد رحمہ اللہ (رئیس جماعۃ أنصار السنۃ المحمدیۃ بمصر) علامہ احمد شاکر مصریؒ (معروف محقق)، شیخ عبدالرزاق حمزۃؒ (صاحب ِتصانیف ِکثیرہ)، علامہ مجاہد الجوال تقی الدین ہلالی السلفی (مشہور بناصر السنہ و قامع البدعہ) قابل ذکر ہیں۔
ان کے علاوہ مفتی ٔاعظم عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ (رئیس إدارة البحوث العلمیة والإفتاء والدعوة والإرشاد،الریاض) کے ساتھ شیخ رحمہ اللہ کی مفید علمی مجلسیں اور علمی مراسلتمشہور ہیں۔ اسی طرح صاحب ِطرز ادیب،تیزرو قلمکار اور المکتبۃ السلفیۃکے مالک سید محب الدین خطیب ؒسے شیخ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’آداب الزفاف عن آداب الزفاف في التاریخ الإسلامي‘‘ شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
دیارِ ہند کے معروف محقق شیخ عبدالصمد شرف ُالدین کے ساتھ بھی شیخ رحمہ اللہ کی ملاقات اور علمی مراسلت قائم تھی، چنانچہ ایک مرتبہ شیخ عبدالصمد نے لکھا تھا کہ :
’’دار الافتاء،الریاض سے شیخ عبید اللہ رحمانی ؒ شیخ الجامعۃ الاسلامیۃ ( الجامعۃ السلفیۃ بنارس) کے پاس ایک غریب حدیث کے لفظ کے بارے میں کہ جو معنوی اعتبار سے عجیب ہے، یہ استفسار پہنچا ہے، جوعلماء وہاں موجود تھے انہوں نے باتفاق طے کیا ہے کہ اس سلسلہ میں عصر حاضر کے احادیث ِنبویہ کے سب سے بڑے عالم یعنی شیخ البانی العالم الربانی کی طرف رجوع کیا جائے‘‘
ان کے علاوہ شیخ رحمہ اللہ کی ملاقات جن بعض دوسرے معروف علماء سے ہوئی ان میں سے چند یہ ہیں: ’’صبحی صالح، ترکی کے شیخ محمد طیب اوکیج بوسنوی، ڈاکٹراحمد العسال، شیخڈاکٹر ربیع بن ہادی المدخلی، مدینہ منورہ کے شیخ حماد الانصاری، کویت کی وزارۃ الاوقاف ولجنۃ الفتویٰ کے رکن اور صاحب تصانیف (مثلاً زبدۃ التفسیر وغیرہ) شیخ محمد سلیمان اشقر، معروف داعی اور صاحب ِرسائل علمیہ شیخ عبدالرحمن عبدالخالق اور کلیۃ الشریعۃ،کویت یونیورسٹی کے پروفیسرعمر سلیمان الاشقر وغیرہ۔
مشہور فقیہ یوسف قرضاوی اور شیخ رحمہ اللہ کے مابین بھی ثمر آور مفیدعلمی مجالس ہوئیں۔ قرضاوی احادیث کی تصحیح کے لئے شیخ رحمہ اللہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ کویت میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں قرضاوی نے اس بات کا خود اظہار کیا تھا۔
بیشتر ممالک، بالخصوص ہندوستان و پاکستان، کے بہت سے علماء اپنے خطوط میں شیخ رحمہ اللہ کے تئیں اپنی محبت اور ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جن میں استاذِ محترم شیخ عبید اللہ رحمانی مباکپوری ؒ اور طنجہ (مراکش) کے مشہور اہلحدیث عالم شیخ محمد الزمزمی کے اسمائِ گرامی قابل ذکر ہیں۔ واضح رہے کہ شیخ زمزمی سے آپ کی ملاقات طنجہ میں ان کے مکان پر ہوئی تھی۔
ان کے علاوہ بہت سے طلبہ ٔ علم مختلف اسلامی علوم میں ایم۔ اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے اپنی دراسات اور اختصاصات کی بحوث کے سلسلہ میں ملاقاتیں کیا کرتے۔ آپ کی مجالس میں حاضر ہوتے، آپ سے مراسلت کرتے اورآپ سے سن کر مستفید ہوتے۔مثال کے طور پر ڈاکٹر امین مصریؒ،ڈاکٹر احمد العسال (چیئرمین قسم الثقافۃ والدراسات الاسلامیۃ، جامعۃ الریاض) ڈاکٹر محمود الطحان (مدینہ یونیورسٹی میں حدیث کے سابق پروفیسر،اِن دنوںکلیہ الشریعہ،کویت یونیورسٹی ) وغیرہ
ان مشاہیر کے علاوہ بہت سے دانش جو یاں نے شیخ رحمہ اللہ سے مفید انٹرویو لئے ہیں جو یا تو کیسٹوں کی صورت میں محفوظ ہیں یا مختلف عربی رسائل و جرائد کی زینت بن چکے ہیں۔ ان میں سے بعض انٹرویو کے اردو تراجم ہفت روزہ ’ترجمان‘ دہلی وغیرہ میں بھی راقم کی نظر سے گزرے ہیں۔
مختلف کمیٹیوں کی رکنیت
شیخ رحمہ اللہ مختلف مجالس اور کمیٹیوں کے روح رواں تھے جن کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے:
(1) کتب السنۃ کی نشرو اشاعت اور تحقیق کے لئے مصر وشام کی مشترکہ کمیٹی لجنۃ الحدیث کے رکن رکین تھے۔
(2) الجامعۃ الاسلامیۃ (مدینہ منورہ) کی یونیورسٹی سطح پر مختلف کمیٹیوں کے رکنتھے۔
(3) سعودی عرب کے وزیر المعارف شیخ حسن بن عبداللہ آل الشیخ نے ۱۳۸۸ھ میں جامعۃ مکۃ المکرمۃ میں قسم الدراسات العلیا للحدیث کے اِشراف( سرپرستی) کے لئے آپ کو دعوت دی تھی۔
(4) سعودی عرب کے فرمانروا ملک خالد بن عبدالعزیز ؒنے الجامعة الإسلامیة في المدینة المنورة کی سپریم کونسل کے لئے آپ کو بطورِ عضو منتخب کیا تھا، آپ ۱۳۹۵ھ تا ۱۳۹۸ھ اس مجلس کے رکن رہے۔
شیخ کا علمی مقام و مرتبہ
شیخ رحمہ اللہ کثیر دقیق علمی کتب ورسائل کے مو ٔلف ہونے کے علاوہ علم حدیث کے بارے میں مختلف بلاد کے علماء،اساتذہ اور طلبہ ٔ علم کے لئے مرجع کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ راقم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے کہ مختلف جامعات کے ماہرڈاکٹر حضراتآپ کے سامنے فقہ اور حدیث سے متعلق مسائل پیش کرتے، آپ انہیں صفحات نمبر تک کی نشاندہی کرتے ہوئے مراجع و مصادر کے حوالہ سے اطمینان بخش جواب دیتے تھے۔ بعض اوقات آپ ایسی نادر کتابوں کا حوالہ بھی دیتے تھے کہ جن کا نام تک حاضرین میں سے کسی نے نہ سنا ہوتا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ کے متعلق بعض معاصر علماء کی آراء
اگرچہ شیخ ؒ کی شخصیت کسی شخص کے تزکیہ ( ) کی محتاج نہیں ہے لیکن پھر بھی بعض معروف اہل علم حضرات کے ثنائیہ کلمات پیش خدمت ہیں:
علامہ سید محب الدین خطیب ؒ فرماتے ہیں:
من دعاة السنة الذین وقفوا حیاتهم علی العمل لإحیائها وهو أخونا بالغیب الشیخ أبوعبد الرحمن محمد ناصر الدین نوح نجاتی الألباني
’’سنت شریفہ کے ان عظیم داعیوں میں سے جنہوں نے سنت کے احیاء کے لئے اپنی زندگیوں کووقف کردیا،ایک ہمارے قابل فخر مسلمان بھائی شیخ محمد ناصر الدین نوح نجاتی البانی ہیں‘‘
چند ماہ پیشتر وفات پانے والے مفتی اعظم سعودیہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ کا قول ہے:
ما رأیت تحت أدیم السماء عالماً بالحدیث في العصر الحدیث مثل العلامة محمد ناصر الدین الألباني
’’آسمان کے سائباں کے نیچے میں نے اس زمانے میں شیخ محمد ناصر الدین البانی سے زیادہ حدیث ِنبوی (علی صاحبہا الصلوات والتسلیم) کا عالم نہیں دیکھا‘‘
ڈاکٹر عمر سلیمان الاشقر اپنی کتاب تاریخ الفقہ الإسلامی (صفحہ ۱۲۷) میں آپ کو محدث العصر محمد ناصر الدین الألبانی کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔
شیخ حسن البناء ؒنے شیخ رحمہ اللہ کو خط لکھا اور اس میں انہیں اپنے سلیم علمی منہج پر ڈٹے رہنے کی تاکید کی، ان کی ہمت افزائی فرمائی اور شیخ سید سابق کے مقالات پر آپ کی بعض تعلیقات اپنے مجلہ ’’الإخوان المسلمون‘‘ میں شائع کیں۔
ڈاکٹر امین مصری ؒ (مدرّس مادة الحدیث، الجامعةالسوریة و رئیس قسم الدراسات العلیا للحدیث في الجامعة الإسلامیة سابقاً) شیخ رحمہ اللہ کے متعلق ہمیشہ کہا کرتے تھے: ’’إن الشیخ الألبانی أحق منی بھذا المنصب وأجدر‘‘ (کہ شیخ البانی مجھ سے زیادہ ان علمی مناصب کے حق دا راور لائق ہیں) اور اپنے آپ کو شیخ کے تلامذہ میں شمار کرتے تھے۔ اس بات کی شہادت ڈاکٹر صبحی صالح ؒ(اُستاذ الحدیث والعلوم العربیۃ بجامعۃ الدمشق سابقاً والجامعۃ اللبنانیۃ) وغیرہ نے دی ہے۔
استاذ محمد الغزالی اپنی کتاب ’’فقہ السیرۃ‘‘ میں لکھتے ہیں :
سرنی أن تخرج ھذہ الطبعة (الرابعة) الجدیدة بعد أن رجعھا الأستاذ المحدث العلامة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی… وللرجل من رسوخ قدمه فی السنة ما یعطیه ھذا الحق… الخ
’’میرے لئے مقام مسرت ہے کہ اِس کتاب کے چوتھے ایڈیشن کو محدث علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی کی نظر ثانی کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔ علوم سنت میں رسوخ ؍مہارت کی بنا پر آپ سے ہی اس کا حق ادا کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔‘‘
کتاب ’’صید الخاطر‘‘ از امام ابن جوزی ؒ کے محقق استاذ علی و استاذ ناجی طنطاوی لکھتے ہیں:
وقد علق علیھا الأستاذ الشیخ ناصر الدین الألبانی (وھو المرجع الیوم فی روایة الحدیث فی البلاد الشامیة)… الخ‘‘
’’اس کتاب پر شیخ ناصر الدین البانی نے تعلیق لکھی ہے اور آپ فی زمانہ ممالک شام میں علم حدیث میں مرجع خلائق کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘
علامہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی فرماتے ہیں:
وقد قام العلامة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی بفصل صحیح الجامع الصغیر و زیادته (الفتح الکبیر) عن ضعیفه و صدر کل منهما في عدة أجزاء فخدم لذلک الکتاب وطالبی الحدیث أیما خدمة (ثقافة الداعیة ص ۷۹،۸۰)
’’علامہ شیخ البانی نے جامع الصغیر او راس پر زیادت یعنی فتح الکبیر کی صحیح احادیث کو ضعیف احادیث سے جدا کیا ہے، او رآپ کا یہ علمی کام متعدد جلدوں میں شائع ہوچکا ہے۔ اس طرح آپ نے اس کتاب او رطلبہ حدیث کی کس قدر عظیم خدمت سر انجام دی ہے۔ ‘‘
آپ امام ابن جوزیؒ کی کتاب الموضوعاتکو اس فن کی ابتداء اور سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ کو اس کی انتہاقرار دیتے تھے۔
استاذ احمد مظہر العظمۃ رحمہ اللہ (صدر جمعیة التمدن الإسلامي بدمشق) شیخ ؒ کے علم سے حد درجہ متاثر تھے اور ان کے مقالات کو مخالفین کی پرواہ کئے بغیر شائع کیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر یوسف سباعی ؒ(مدیر اعلیٰ مجلہ المسلمون) شیخ رحمہ اللہ سے درخواست کیا کرتے تھے کہ وہ ان کے مجلہ کے لئے کچھ لکھیں۔ چنانچہ شیخ رحمہ اللہ کی متعدد تحریریں اس مجلہ کی زینت بنی ہیں۔
ڈاکٹر مصطفی اعظمی نے شیخ زہیر الشاویش (مدیر المکتب الإسلامی، بیروت) کے واسطہ سے شیخ رحمہ اللہ سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کی کتاب صحیح ابن خزیمۃ کی تحقیق پر نظر ثانی فرما دیں، ا س پر تعلیقات و تخریجات درج فرمائیں اور اس میں جہاں کہیں جو اضافہ یا تبدیل مناسب سمجھیں کردیں، چنانچہ حواشی میں شیخ رحمہ اللہ کے درج کردہ نوٹ جابجا موجود ہیں اور اس کا تذکرہ ڈاکٹر اعظمی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں بھی کیا ہے۔
سعودی عرب کے معروف عالم شیخ محمد صالح العثیمین حفظہ اللہ شیخ البانی ؒکے متعلق لکھتے ہیں:
أکتب عن فضیلة محدث الشام الشیخ الفاضل: محمد بن ناصر الدین الألبانی فالذي عرفته عن الشیخ من خلال اجتماعی به وهو قلیل أنه حریص جداً علی العمل بالسنة و محاربة البدعة سواء کانت فی العقیدة أم فی العمل، أما من خلال قراء تی لمؤلفاته فقد عرفت عنه ذلک وأنه ذوعلم جمّ فی الحدیث روایة و درایة و أن اللہ تعالیٰ قد نفع فیما کتبه کثیراً من الناس من حیث العلم ومن حیث المنھاج والاتجاه إلی علم الحدیث وهذہ ثمرة کبیرة للمسلمین وللہ الحمد… وعلی کل حال فالرجل طویل الباع واسع الاطلاع قوي الاقناع وکل أحد یؤخذ من قوله و یترك سوی قول اللہ و رسوله… و نسأل اللہ تعالیٰ أن یکثر من أمثاله في الأمة الإ سلامیة… الخ (مکتوب، مورخہ ۲۲؍۸؍۱۴۰۵ھ)
’’ محدثِ شام شیخ الفاضل علامہ ناصر الدین البانی کے بارے میں اپنی چند ملاقاتوں میں جو جان سکا ہوں کہ آپ سنت کی خدمت کرنے اوربدعت سے جنگ کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں، چاہے وہ بدعت عقائد میں ہو یا افعال میں۔ آپ کی تالیفات کے مطالعے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ روایت او ردرایت ِحدیث کے بارے میں آپ کا علم بہت وسیع ہے او رآپ کی تحریروں سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگو ں کو بطورِ علم بھی فائدہ دیا ہے اور من حیث المنہاج کے بھی لوگوں کو علم حدیث کی طرف متوجہ کرنے میں۔ الحمد للہ مسلمانوں کے لئے اس کام میں عظیم فائدہ ہے۔ بہر حال موصوف دور تک نظر رکھنے والے،وسیع علم کے حامل اورقوی تاثیر رکھنے والے ہیں، ہر ایک کا قول اختیار کیا اور چھوڑا جاسکتا ہے سوائے اللہ او راس کے رسول کے قول کے۔ ہماری اللہ سے دعا کہ اللہ تعالیٰ آپ جیسے علماء امت کو بکثرت عطا فرمادے …آمین!‘‘
شیخ زیدبن عبدالعزیز الفیاض (استاذ بکلیة أصول الدین في جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامیة بالریاض) فرماتے ہیں:
إن الشیخ محمد ناصر الدین الإلبانی من الأعلام البارزین فی ھذا العصر وقد عنی بالحدیث وطرقه و رجاله و درجته من الصحة أوعدمھا وھذا عمل جلیل من خیرما أنفقت فیه الساعات و بذلت فیه المجھودات و ھو کغیرہ من العلماء الذین یصیبون و یخطئون ولکن انصرافه إلی ھذا العلم العظیم مما ینبغی أن یعرف له به الفضل وأن یشکر علی اھتمامه به… الخ
’’شخ محمد ناصر الدین البانی کا اس زمانے کی نامور علمی شخصیتوں میں شمار ہوتاہے۔ آپ نے متن حدیث، اس کے طرق،رواۃ اور اس کی فنی حیثیت پر خصوصی کام کیا ہے۔ یہ بہت عظیم کام ہے اور اس لائق کہ اس میں اوقات صرف کئے جائیں اور محنتیں کھپائی جائیں۔ آپ بھی دیگر علماء کی طرح صحیح علمی رائے اپنانے کے ساتھ بہت سے امور میں غلطی کھا جاتے ہیں۔ لیکن اس مبارک علم میں آپ کی عظیم خدمات اس لائق ہیں کہ آپ کے فضل وکرم کا اعتراف کیا جائے اور ا س علم پر توجہ دینے پر آپ کا شکر گزار ہوا جائے۔‘‘ (مکتوب، مؤرخہ ۳۰؍۷؍۱۴۰۵ھ)
المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کے سابق مفتی عام علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کا ایک قول اوپر نقل کیا جاچکا ہے۔ آں رحمہ اللہ اپنے ایک مکتوب میں شیخ ؒکے متعلق مزید فرماتے ہیں:
أن الشیخ المذکور معروف لدینا بحسن العقیدة والسیرة و مواصلة الدعوة إلی اللہ سبحانه مع مایبذ له من الجھود المشکورة فی العنایة بالحدیث الشریف و بیان الحدیث الصحیح من الضعیف من الموضوع وما کتبه فی ذلک من الکتابات الواسعة کله عمل مشکور و نافع للمسلمین…الخ
’’شیخ البانی ہمارے ہاں حسن سیرت اوردرست عقیدہ کے حامل کے طو رپر معروف ہیں۔ آپ نے ساری زندگی اس دعوت کی ترویج میں صرف کی کہ حدیث شریف کا خاص اہتمام کیا جائے اور ضعیف وموضوع احادیث کو صحیح احادیث سے ممتازکردیا جائے۔اس مشن میں آپ نے بہت سی عظیم کتابیں لکھیں،آپ کی تمام دینی کاوشیں لائق شکر وامتنان اورامت مسلمہ کے لئے نفع بخش ہیں۔‘‘
شیخ رحمہ اللہ کے متعلق راقم کی شخصی رائے
شیخ رحمہ اللہ کی زندگی تقویٰ و پاکدامنی سے عبارت تھی۔ آپ کے سینہ میں قوم و ملت کا درد موجزن تھا۔ دینی حمیت و غیرت اور اسلامی جذبات سے آپ کا دل معمور رہتا تھا۔ آپ راہِ حق کے جانباز، مجاہد اور بقیۃ السلف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بعض معاندین کے سوا مقبولیت ِعامہ کی دولت سے نوازا تھا۔ عصر حاضر میں آپ امت ِمسلمہ کی روح رواں تھے۔ تنہا اپنی ذات میں ایک امت او رمکمل انجمن کے مثل تھے۔ آپ کی ذات سے بزمِ اسلام کے چراغ روشن تھے، آپ عہد ِحاضر کے سب سے نمایاں اور ممتاز داعی الی اللہ، ا س صدی کے مجدد، مفتی، واعظ، محدث، مفسر، فقیہ، قرۃ عیونِ الموحدین اور مسلک ِسلف کے حامی و ناصر تھے۔ آپ کی فقاہت پر فقیہانِ عصر سر دھنتے تھے۔ آپ ذہانت و فطانت کے ایک بحر ناپید کنار تھے۔ فقاہت،ہدایت وارشاد کے ایک بلند اخلاق امام اور دین کے عمائدین میں نمایاں تھے۔ آپ کی علمی مجالس کا وقار اس قدر بلند و ارفع ہوتا تھا کہ عالم اسلام کی سربر آوردہ ہستیاں بھی ان سے فیض یاب ہوا کرتی تھیں۔ آپ نے عالم اسلام کو علم و بصیرت، معرفت و حکمت اور اَخلاق و آداب کا جو انمول تحفہ دیا ہے، گزشتہ کئی صدیوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
شیخ رحمہ اللہ اُلفت و محبت، تعظیم و تکریم، زہدو تقویٰ، لطف و کرم، تواضع و انکساری، حلم و بردباری، صبر و شکر، خشیت ِالٰہی، احسان و اکرام، علم و ادب، ضبط و تحمل، حب ِرسول، سادگی اور حسن اَخلاق جیسے اَوصاف و محاسن کے پیکر تھے۔ ان اعلیٰ صفات کے حامل ہونے کے ساتھ آں رحمہ اللہ علم و فضل کا گنج گراں بہا بھی تھے۔ دینی علوم و فنون میں آپ کو تبحر اور دسترسِ تامہ حاصل تھی۔ آپ کے وسعت ِمطالعہ، تبحر علمی اور تحقیق مباحث کا چرچا عالم اسلام کی تقریباً ہر وقیع مجلس میں ہوا کرتا تھا۔ آپ کتاب و سنت کے سچے شیدائی، متبع اور ترجمان تھے، خلافِ سنت آپ کو کوئی بات گوارہ نہ تھی۔ آپ کی رحلتسے دنیائے علم میں پیدا ہونے والا خلا جلد پر ہوتا نظر نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ جلد اس کی کوئی مؤثر سبیل پیدا فرما دے، آمین! فانہ ولی والقادر علیہ
بلاشبہ تاریخ اسلام اس بطل جلیل اور علم و بصیرت کے بلند منارہ کی خدمات و احسانات کے تلے ہمیشہ مستفید ہوتی رہیں گی غرض ان کی بے لوث خدمات اور قربانیوں سے تاریخ اسلام کے اَوراقِ زریں تاقیامت روشن رہیں گے۔
شیخ رحمہ اللہ کو شاہ فیصل ایوارڈ کااعزاز
المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کی موقر تنظیم مؤسسۃ الملک فیصل الخیریۃ کے زیر اہتمام ہر سال عالم عرب اور بیرونی دنیا کے اَفاضل کو دیئے جانے والے انعام کے لئے سالِ رواں (۱۹۹۹ء بمطابق ۱۴۱۹ھ) میں محدثِ شام، فقیہ بے مثل، بقیۃ السلف، یگانہ ٔ روز گار، مفسر دوراں، علامہ ٔ زماں اور عبقری ٔ وقت شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کو ’’تحقیقاتِ اسلامی و خدماتِ حدیث ‘‘ کے لئے عالمی شاہ فیصل ایوارڈ کے اعزاز کے لئے نامزد کیا گیا۔ شیخ رحمہ اللہ نے اس اعزاز کو وصول کرنے کے لئے اپنے ایک شاگرد شیخ محمد بن ابراہیم شقرۃ کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا۔ یہ حقیقت ہے کہ مؤسسۃ الملک فیصل الخیریۃ نے شیخ رحمہ اللہ کی دینی خدمات و کمالِ علم و فضل کا اعتراف کرتے ہوئے سالِ رواں کا شاہ فیصل ایوارڈ آپ کو عنایت کیاہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شیخ رحمہ اللہ کی شخصیت اس اعزاز سے بہت بالا و اَرفع ہے۔ یہ ایوارڈ آپ کی خدمات کے مقابلہ میں ایک ادنیٰ اعتراف سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ آپ سے قبل جن لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا رہا ہے، ان کی دینی خدمات اس محدثِ نبیل کی خدمات کے مقابلہ میں بہت ہیچ نظر آتی ہیں۔ چنانچہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس ایوارڈ سے شیخ رحمہ اللہ کی شخصیت اور علمی وجاہت میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا، البتہ اس ایوارڈ کا اعزاز و اعتماد دو چند ضرور ہوا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ مولوی حبیب الرحمن اعظمی حنفی کا غیر محسنانہ رویہ
مصنف عبدالرزاق، مسند الامام الحمیدی، سنن سعید بن منصور اور مسند اسحق بن راہویہ وغیرہ کے محقق شیخ حبیب الرحمن اعظمی حنفی جب ۱۳۹۸ھ میں دمشق کے سفر پر گئے تو انہوں نے محدث رحمہ اللہ کے گھر پر ہی بطورِ مہمان قیام کیا۔ آپ نے مولوی حبیب کی بے حد عزت کی۔ المکتبۃ الظاھریۃ کے مخطوطات کی زیارت کرائی، متعدد علماء سے ملاقات کرانے کی غرض سے ان کے ساتھ ساتھ گئے لیکن مولوی حبیب نے ہندوستان واپس جانے پر محدث رحمہ اللہ کی تردید میں ’’الألبانی شذوذہ و أخطاؤہ‘‘ نامی کتاب لکھی جو چار جلدوں میں مکتبۃ دارالعروبۃ للنشر والتوزیع (کویت) سے ۱۴۰۴ھ میں طبع ہو چکی ہے۔ جب شیخ رحمہ اللہ کو ا س کتاب کی بابت بتایا گیا تو آپ نے اس کا جواب دینے پر صبر کرنے کو ترجیح دی اور فقط اس قدر کہا کہ ’’جب شیخ اعظمی میرے گھر پر مقیم تھے تو میں نے کئی بار ان سے مختلف اختلافی اور مسلکی مسائل پر گفتگو کرنا چاہی تھی مگر وہ کسی بات کا کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ میں نے ان کی خاموشی کو ان کی کم گوئی اور پیرانہ سالی کے باعث سفر کی تکان پر محمول کرتے ہوئے اپنا ارادہ ترک کر دیا تھا‘‘ لیکن شیخ رحمہ اللہ کے ایک شاگرد شیخ سلیم الہلالی نے شیخ اعظمی کے ردود کا بہت مفصل جائزہ لیا ہے اور ان کے اعتراضات کا بہت شافی جواب لکھا ہے جو حسن اتفاق سے شیخ اعظمی کی زندگی ہی میں طبع بھی ہو چکا ہے۔ فجزاہ اللہ أحسن الجزاء
خود راقم نے شیخ اعظمی کی مذکورہ بالا کتاب اور شیخ سلیم الہلالی کا جواب حرف بحرف پڑھا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ شیخ اعظمی نے مذکورہ کتاب لکھ کر یقینا مجموعی طور پر محدثِ نبیل رحمہ اللہ پر ظلم کیا ہے، فإنا للہ وإنا إلیه راجعون
شیخ رحمہ اللہ کی تصنیفی خدمات
شیخ رحمہ اللہ ایک برق رفتار مؤلف تھے، چنانچہ آپ کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ مؤلفات کی تعداد ایک سو بیس سے متجاوز ہے، ہم ذیل میں آپ کی تصنیفی خدمات کو چار اقسام میں تقسیم کرکے مختصراً ذکر کریں گے:
(الف) علمی تحقیقات
1۔ الکلم الطیب لإبن تیمیة
2۔ تحقیق مشکاة المصابیح للتبریزي
3۔ تصحیح حدیث إفطار الصائم قبل سفرہ بعد الفجر
4۔ ریاض الصالحین للنّووي
5۔ صحیح الکلم الطیب لابن تیمیة
6۔ فضل الصلاة علی النبیﷺ لإسمعیل بن إسحٰق
7۔ کتاب اقتضاء العلم والعمل للخطیب البغدادي
8۔ کتاب العلم للحافظ أبی خیثمة
9۔ لفتة الکبد في تربیة الولد لابن الجوزي
10۔ مختصر صحیح مسلم للمنذري
11۔ مساجلة علمیة بین الإمامین الجلیلین العز بن عبدالسلام و ابن الصلاح

(ب) التخریجات
12۔ المرأة المسلمة للشیخ حسن البناء
13۔ الآیات البینات في عدم سماع الأموات عند الحنیفة السادات لمحمود الآلوسي
14۔ تخریج الإیمان لابن أبی شیبة
15۔ تخریج الإیمان لأبي عبید القاسم بن سلام
16۔ تخریج فضائل الشام للربعي
17۔ تخریج کتاب الردّ علی جهمیة للدارمي
18۔ تخریج کتاب المصطلحات الأربعة في القرآن
19۔ تخریج کتاب إصلاح المساجد من البدع والعوائد لجمال الدین القاسمی
20۔ تخریج کلمة الإخلاص وتحقیق معناھا لابن رجب الحنبلي
21۔ تخریج أحادیث مشکلة الفقرو کیف عالجھا الإسلام للقرضاوي
22۔ حجاب المرأة المسلمة ولباسھا في الصلاة لشیخ الإسلام ابن تیمیة
23۔ حقیقة الصیام لابن تیمیة
24۔ شرح العقیدة الطحاویة لأبي جعفر الطحاوي
25۔ صحیح الجامع الصغیر و زیادته(الفتح الکبیر) للسیوطي
26۔ ضعیف الجامع الصغیر و زیادته (الفتح الکبیر) للسیوطي
27۔ غایة المرام في تخریج أحادیث الحلال والحرام للقرضاوي
28۔ کتاب السنة و معه ظلال الجنة في تخریج السنة لأبي عاصم الضحاك
29۔ ما دلّ علیه القرآن مما یعضد الھیئة الجدیدة القویة البرھان لمحمود الآلوسي
30۔ إرواء الغلیل في تخریج أحادیث منار السبیل لابن ضویان

(ج) اختصار ؍ مراجعۃ ؍ تعلیق
31۔ التعلیق علی کتاب الباعث الحیثث شرح اختصار علوم الحدیث لابن کثیر بتحقیق أحمد شاکر
32۔ التعلیقات علی صفة الفتوی والمفتي والمستفتي لابن شبیب بن حمدان
33۔ صحیح ابن خزیمة بتحقیق د؍مصطفی الأعظمي
34۔ مختصر الشمائل المحمدیة للترمذي
35۔ مختصر شرح العقیدة الطحاویة
36۔ مختصر کتاب العلوّ للعلي العظیم للحافظ الذهبي
37۔ مدارك النظر في السیاسة بین التطبیقات الشرعیة والانفعالات الحماسیة لعبد الملك الجزائري

(د) تالیفات
38۔ التعقیب علی کتاب الجواب للمودودي
39۔ التعلیق الممجد علی التعلیق علی موطأ الإمام محمد للکنوي
40۔ التعلیق علی کتاب سبل السلام شرح بلوغ المرام
41۔ التعلیق علی کتاب مسائل جعفر بن عثمان بن أبي شیبة
42۔ التعلیقات الجیاد علی زاد المعاد
43۔ التعلیقات الرضیة علی الروضة الندیة
44۔ التوسل، أحکامه وأنواعه
45۔ الثمر المستطاب في فقه السنة والکتاب
46۔ الجمع بین میزان الاعتدال للذھبي و لسان المیزان لابن حجر
47۔ الحدیث حجة بنفسه في العقائد والأحکام
48۔ الحوض المورود في زوائد منتقی ابن الجارود
49۔ الذب الأحمد عن مسند الإمام أحمد
50۔ الرد علی رسالةالشیخ التویجري في بحوث من صفة الصلاة
51۔ الرد علی کتاب المراجعات لعبد الحسین شرف الدین
52۔ الردّ علی رسالة التعقب الحثیث
53۔ الردّ علی رسالة أرشد السلفي
54۔ الروض النضیر في ترتیب و تخریج معجم الطبراني الصغیر
55۔ السفر الموجب للقصر
56۔ اللحیة في نظر الدین
57۔ المحو والإثبات
58۔ المسیح الدجال و نزول عیسی علیه الصلاة والسلام
59۔ المنتخب من مخطوطات الحدیث
60۔ الأحادیث الضعیفة والموضوعة التي ضعّفھا أوأشار إلی ضعفھا ابن تیمیة في مجموع الفتاوی
61۔ مقدمة الأحادیث الضعیفة والموضوعة في أمھات الکتب الفقھیة
62۔ الأحادیث المختارة
63۔ الأمثال النبویة
64۔ بغیة الحازم في فهارس مستدرك الحاکم
65۔ تاریخ دمشق لأبی زرعة روایة أبي المیمون
66۔ تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد
67۔ تحقیق کتاب حول أسباب الاختلاف للحمیدي
68۔ تحقیق کتاب دیوان أسماء الضعفاء والمتروکین للذھبي
69۔ تحقیق کتاب مساویٔ الأخلاق للخرائطي
70۔ تحقیق کتاب أصول السنة واعتقاد الدین
71۔ تسدید الإصابة إلی من زعم نصرة الخلفاء الراشدین والصحابة
72۔ تسهیل الانتفاع بکتاب ثقات ابن حبان
73۔ تعلیق و تحقیق کتاب زھر الریاض في ردّ ماشنعه القاضي عیاض علی من أوجب الصلاة علی البشیر النذیر في التشهد الأخیر
74۔ تلخیص صفة صلاة النبيﷺ
75۔ تلخیص کتاب تحفة المودود في أحکام المولود
76۔ تلخیص أحکام الجنائز
77۔ تمام المنة في التعلیق علی کتاب فقه السنة للسید سابق
78۔ حجاب المرأة المسلمة في الکتاب والسنة
79۔ خطبة الحاجة
80۔ دفاع عن الحدیث النبوي والسیرة
81۔ سلسلة الأحادیث الصحیحة و شيء من فقهها
82۔ سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة وأثرھا السیی ء في الأمة
83۔ صحیح ابن ماجہ
84۔ صحیح الترغیب والترھیب
85۔ صحیح الأدب المفرد
86۔ صحیح الإسراء والمعراج
87۔ صحیح سنن أبي داود
88۔ صفة الصلاة الکبیر
89۔ صفة صلاة النبيﷺ لصلاة الکسوف
90۔ صفة صلاة النبيﷺ من التکبیر إلی التسلیم کأنك تراھا
91۔ صلاة الاستسقاء
92۔ صلاة العید ین في المصلی ھي السنة
93۔ ضعیف ابن ماجہ
94۔ ضعیف الترغیب والترھیب
95۔ ضعیف سنن أبي داود
96۔ فهرس المخطوطات الحدیثیةفي مکتبة الأوقاف بحلب
97۔ فهرس کتاب الکواکب الدراري
98۔ فهرس مخطوطات دارالکتب الظاھریة
99۔ فهرس مسند الإمام أحمد بن حنبل في مقدمة المسند
100۔ فهرس أحادیث کتاب التاریخ الکبیر
101۔ فهرس أحادیث کتاب الشریعة للآجري
102۔ فهرس أسماء الصحابة الذین أسندوا الأحادیث في معجم الطبراني الأوسط
103۔ قاموس البدع
104۔ قیام رمضان و بحث عن الاعتکاف
105۔ کشف النقاب عما في کلمات أبي غدة من الأباطیل والافتراء ات
106۔ ماصح من سیرة رسول اللہﷺ
107۔ مختصر تعلیق الشیخ محمد کنعان
108۔ مختصر صحیح البخاري
109۔ مختصر صحیح مسلم
110۔ معجم الحدیث النبوي
111۔ مناسك الحج و العمرة في الکتاب والسنة و آثار السلف
112۔ مناظرة کتابیة مسجلة مع طائفة من أتباع الطائفة القادیانیة
113۔ منزلة السنة في الإسلام
114۔ نصب المجانیق في نسف قصة الغرانیق
115۔ نقد نصوص حدیثیة في الثقافة العامة
116۔ وجوب الأخذ بحدیث الأحاد في العقیدة
117۔ وصف الرحلة الأولی إلی الحجاز والریاض مرشداً للجیش السعودي
118۔ وضع الأصار في ترتیب أحادیث مشکل الآثار
119۔ آداب الزفاف في السنة المطهرة
120۔ أحادیث البیوع وآثارہ
121۔ أحکام الجنائز
122۔ أحکام الرکاز
123۔ إزالة الشکوك عن حدیث البروك وغیرہ

مختلف زبانوں میں شیخ رحمہ اللہ کی بعض مؤلفات کے تراجم
یوں تو شیخ رحمہ اللہ کی متعدد مؤلفات کے تراجم اردو، انگریزی، ترکی، تامل، تلگو، بنگالی، سندھی، پشتو، تگالو، سنہالی، ملیالم اور فرانسیسی وغیرہ زبانوں میں طبع ہو چکے ہیں مگر جو تراجم خود راقم نے دیکھے ہیں وہ صفة صلاة النبي، کتاب الجنائز، سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة، حجیت ِحدیث کے اردو تراجم، مناسک الحج و العمرہ کا انگریزی ترجمہ اور صفۃ صلاۃ النبی کا ترکی ترجمہ ہے۔ حجیت ِحدیث کا اردو ترجمہ مولانا عبدالوہاب حجازی او ربدرُ الزماں نیپالی کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو جامعہ سلفیہ بنارس سے طبع ہوا ہے جبکہ صفۃ صلاۃ النبیؐ کا ترکی ترجمہ ڈاکٹر یونس وہبی یا غوز (مدرّس الفقه بجامعة الدوغ، الکلیةالشریعة) کی مساعی کا نتیجہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے بعض سنتوں کو زندہ کیا، اور ان کے لئے باقاعدہ علمی خدمات او رکتابچے تحریر فرمائے۔ بعض مسائل کی طرف توجہ دلانے میں آپ کو انفرادی حیثیت حاصل تھی…آپ بعض مسائل میں دیگر علماء امت سے ایک منفرد موقف رکھتے تھے، بعض امور میں آپ کی مخصوص آراء تھیں… اسی طرح بعض لوگوں نے شیخ رحمہ اللہ کے مخصوص ذوقِ حدیث او رمقبولیت سے چڑ کھاتے ہوئے آپ پر بہتان طرازی کی، آپ کی علمی شخصیت کے بارے میں شبہات قائم کئے۔ان تمام شبہات و افتراء ات کا شیخ محمدبن ابراہیم شیبانی نے خوب تفصیلی جائزہ لیا ہے اور شیخ ؒکے دفاع کا حق اد اکر دیا ہے۔
مذکورہ بالا امور کی نشاندہی کتاب حیاۃ الألبانی (ص۴۹۸ تا ۵۳۸ جلد دوم) میں بڑی وضاحت سے کی گئی ہے، تفصیلات کے خواہشمند اس کتاب سے رجوع کریں۔
شیخ رحمہ اللہ کے اوصاف ِحمیدہ میں سے ایک امتیازی وصف
شیخ رحمہ اللہ کے اوصاف ِحمیدہ کا شماراگرچہ ممکن نہیں ہے لیکن جو وصف آپ کو دوسروں سے بالکل نمایاں کرتا تھا، یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ علمی مباحثہ کے دوران انصاف اور حق واضح ہو جانے پر بلا تردّد اپنی رائے سے رجوع کر لیتے تھے۔ حق کو قبول کرنے میں آپ قطعاً شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بیشتر کتب،لیکچرزا ور دورس میں اس مبارک اورنیک عادت کا اظہارکیا ہے۔مختصر الشمائل محمدیۃ، صفۃ صلاۃ النبیﷺ، شرح العقیدۃ الطحاویۃ، مشکاۃ المصابیح، صحیح و ضعیف الجامع الصغیر و زیادتہ اور سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ وغیرہ کتب کے مقدمات آپ کے رجوع الی الحق پر شاہد ہیں۔متعدد بار راقم کو بھی ذاتی طور پر آپ کی اس خصلت ِحمیدہ کا اعتراف کرنا پڑا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ کے مشہور تلامذہ
شیخ رحمہ اللہ کے شاگردبے شمار ہیں لیکن جنہیں بلاواسطہ شرفِ تلمذ حاصل ہے وہ بہت کم ہیں، جنہیں مباشرۃ تلمذ حاصل نہیں ہے، ان کی تعداد بہت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شیخ کی کتب یا آپ کے محاضرات اور دروس کی ریکارڈ شدہ کیسٹوں کے توسط سے استفادہ کیاہے۔ ذیل میں آپ کے ان شاگردوںکا تذکرہ پیش خدمت ہے جنہیں آپ سے باقاعدہ اور مباشرۃً اکتسابِ علم کا شرف حاصل ہوا ہے:
(1) شیخ حمدی عبدالمجید السلفی جو معروف محقق اور صاحب ِتحقیقات ومؤلفات وتخریجاتِ علمیہ کثیرہ ہیں۔ ۳۷ سے زیادہ کتب آپ کی مساعی جمیلہ کا ثمرہ ہیں۔
(2) شیخ عبدالرحمن عبدالخالق جو معروف مؤلف ہیں۔ متنوع علوم مثلاً دعوت وارشاد، اقتصادِ اسلامی، نظام شورائیت، نظامِ حکم، سیاست اور تربیت ِاسلامیہ پر آپ کی ۲۴ سے زیادہ مؤلفات ہیں۔
(3) ڈاکٹرعمر سلیمان الاشقر جو ۱۸ سے زیادہ کتابوں کے مؤلف اور شریعت فیکلٹی، کویت یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
(4) شیخ خیر الدین وائلی جو ۹ سے زیادہ وقیع کتابوں کے مؤلف ہیں۔
(5) شیخ محمد عید عباسی جو آپ کے نمایاں تلامذہ اور خادموں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ متنوع علوم میں متعدد مباحث کے مرتب ہیں۔
(6) شیخ محمد ابراہیم شقرۃ جو شیخ رحمہ اللہ کے قریب تر تلامذہ میں شمار کئے جاتے ہیں،مسجد اَقصیٰ کے سرپرست اور مسجد صلاحُ الدین (عمان، اُردن) کے خطیب ہیں۔ ۶ سے زیادہ نافع مؤلفات آپ کی کاوشوں کا ثمرہ ہیں۔
(7) شیخ عبدالرحمن عبدالصمد جوحلب و حماۃ وغیرہ شہروں میں شیخ کی خدمت میں سالہا سال رہے، جامع الوفرۃ (کویت) کے امام و خطیب ہیں اور صاحب ِمؤلفات وبحوثِ کثیرہ ہیں۔
(8) شیخ محمد بن جمیل زینو جو شیخ کی خدمت میں حلب، حماۃ اور الرقۃ وغیرہ مناطق میں طویل عرصہ رہے، ایک عرصہ سے مدرسہ دارالحدیث الخیریۃ (مکۃ المکرمۃ) میں استاذ ہیں اور تقریباً ۱۰ سے زیادہ کتابوں کے مؤلف ہیں۔
(9) شیخ مقبل بن ہادی الوداعی جنہوں نے الجامعۃ الاسلامیۃ میں شیخ سے تیسرے سال میں قواعد مصطلح الحدیث و علم الاسناد پڑھا پھر شیخ کی خدمت میں رہے، آپ ۰اسے زیادہ مفید مؤلفات کے مؤلف ہیں۔
(10) شیخ زہیر الشاویش جو المکتب الاسلامی کے مالک اور متعدد کتب کے محقق اور مخرج ہیں۔ ۱۹ سے زیادہ کتب آپ کی مساعی کا نتیجہ ہیں۔
(11) شیخ مصطفی الزربول جو وزارۃ الأوقاف الکویتیہ کی طرف سے امام مقرر ہیں۔
(12) شیخ علی خشان جو شیخ رحمہ اللہ کے شام میں خادم اور اَقرب تلامذہ میں شمار کئے جاتے ہیں، صاحب مؤلفات ہیں۔
(13) شیخ عبدالرحمن البانی
(14) شیخ خلیل عراقی الحیانی
شیخ رحمہ اللہ کی اولاد
اللہ تعالیٰ نے شیخ رحمہ اللہ کو تین بیویوں سے تیرہ بچے اور بچیاں عطا کی ہیں، چوتھی بیوی سے کسی اولاد کا علم نہیں ہے۔ پہلی بیوی سے عبدالرحمن، عبداللطیف، عبدالرزاق، دوسری بیوی سے عبدالمصور، عبدالاعلی، محمد، عبد المھیمن، انیسہ، آسیہ، سلامہ، حسانہ، سکینہ، اور تیسری بیوی سے ہبۃ اللّہ۔
شیخ رحمہ اللہ کی علالت اور وفات
شیخ رحمہ اللہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل بیمار تھے، علاج کی غرض سے ہسپتال میں داخل بھی رہے لیکن آخر کار ۳؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اُردن میں فکر و بصیرت کا یہ روشن ستارہ، امت اسلامیہ کا یہ بطل جلیل، مقتدر عالم، باوقار مبلغ، دوراندیش مفتی، علم و فن کا امام، تصنیف و تالیف کے میدانوں کا شہسوار اور دعوت و تبلیغ کی محفلوں کی یہ شمع فروزاں بھی گل ہوگئی فإنا لله وانا اليه راجعون
آپ کی وفات سے عالم اسلام بلاشبہ ایک متبحر عالم، محدث ِعصر اور جلیل ُالقدر مفسر سے محروم ہوگیا ہے۔ آپ کے ارتحال کی خبر پاکر دنیا کے اطراف و اکناف میں علومِ حدیث کے شائقین کے چہرے سوگوار ہوگئے۔ مشاہیر نے آپ کی وفات کو پوری اُمت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تمام عالم اسلام آپ کی جدائی پرماتم کناں ہے تو غلط نہ ہوگا کہ ؎
ہزاروں سال نرگس اپنے بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اللہ ربّ العزت آپ کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے، آپ کو کشادہ جنت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین!
تحریر : غازی عزیر، محدث میگزین شمارہ:231، نومبر 1999، شعبان 1420