English Show/Hide
کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
كتاب بدء الوحى
کتاب: وحی کے بیان میں
The Book of Revelation

1- بَابُ كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی۔
(1) Chapter. How the Divine Revelation started to be revealed to Allah’s Messenger ﷺ.
Tashkeel Show/Hide
وقول الله جل ذكره : {إنا اوحينا إليك كما اوحينا إلى نوح والنبيين من بعده} :وَقَوْلُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : {إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ} :
‏‏‏‏ اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان کہ ہم نے بلاشبہ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کی طرف وحی کا نزول اسی طرح کیا ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے تمام نبیوں کی طرف کیا تھا۔
   تحرير: الشیخ محمد حسین میمن حفظ الله، فوائد و مسائل: تحت قبل الحديث صحيح بخاري 1   
اعتراض:
کئی معترضین اس مسئلہ کو بھی تختہ مشق بنانے کی جستجو کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ اگر اتنے ہی عاملین حدیث تھے تو انہوں نے صحیح بخاری کا آغاز سنت کے خلاف کیوں کیا؟ نہ اس کے آغاز میں انہوں نے لکھنے سے قبل حمد لکھی اور نہ ہی صلوۃ پر کوئی توجہ دی حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فرمان موجود ہے۔ «كل كلام لايبدأ فيه بحمد الله فهو اجزم» [سنن ابي داؤد كتاب الادب رقم الحديث 4840] ہر گفتگو جس کی ابتدا اللہ کی حمد سے نہ شروع ہو تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔
لہذا امام بخاری رحمہ اللہ نے اتنی عظیم کتاب لکھی مگر اس کی مسنون طریقہ سے ابتدا نہ کی۔
الجواب:
اس اعتراض کا جواب کئی طریقوں سے دیا جا سکتا ہے سب سے پہلی بات تو یہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اچھے کام کی ابتدا حمد سے کرنے کا حکم صادر فرمایا تو ابتداء زبان کے لفظوں سے ہو گا نہ کہ اسے لکھا جائے، لکھنا کسی بھی طریقے سے حمد کی شرائط میں داخل نہیں ہے کیوں کہ حمد کی جو تعریف مشہور ہے وہ یہ ہے کہ «هوالثناء باللسان» یعنی زبان سے تعریف ادا کرنا اور ایسی کوئی شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں جس میں اس امر پر دلالت ہو کہ لکھنا بھی شرائط میں سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب معاہدے کیے تو ان معاہدوں میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ ہی لکھنے پر اکتفا فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری میں منقول ہے [صحيح البخاري: كتاب الشروط فى الجهاد و المصالحته۔ رقم 4581] ۔

قرآن مجید نے بھی اس مسئلہ کو واضح فرمایا جب سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو خط لکھا تو اس خط کے ابتدا میں بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہی لکھا۔ [النمل 30/27]
ان دلائل و براہین سے معلوم ہوتا ہے کہ حمد کرنے کا تعلق زبان کے ساتھ ہے اور جب خط یا کسی خاص تحریر کو لکھا جائے گا تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا لکھنا ہی مسنون ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ امام عالی مقام امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے ابتدا میں بسم اللہ۔۔۔۔۔ ہی کو لکھا پھر باب کو قائم فرمایا اور اگر غور کیا جائے تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں حمد موجود ہے۔ اللہ جو اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے الرحمٰن اور الرحیم جو اس کی صفات خاصہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی حمد کی دلیل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابتداء بھی حمد سے کی اور انتہا بھی حمد سے ہی کی بخاری شریف کی آخری حدیث: «سبحان الله وبحمد سبحان الله العظيم» [صحيح بخاري كتاب التوحيد رقم 7124]
بھی حمد ہی پر دال ہے، چنانچہ ابتداء بھی حمد سے اور انتہا بھی حمد سے ہی ہوئی۔

اور جہاں تک تعلق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ پڑھنے کا تو امام بخاری رحمہ اللہ نے جو باب قائم فرمایا۔
«باب كيف كان بدء الوحي الي رسول الله صلى الله عليه وسلم»
تو اس میں بھی صلی اللہ علیہ وسلم کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا لہٰذا درود بھی پڑھنا یہاں ثابت ہو گیا۔ ویسے تو صحیح بخاری و مسلم کی صحت کو مشکوک بنانے کے لیے ہر منکر حدیث ان ہی کتب پر پہلے اپنا ہاتھ صاف کرتا ہے پھر اس کے بعد دیگر کتب احادیث کی طرف التفات کرتا ہے۔ مگر الحمداللہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے اہل علم کو کھڑا فرمایا، جنہوں نے دفاع حدیث کے عظیم کام کو سر انجام دیا۔ ان بزرگوں میں:
◈ علامہ حافظ زین الدین عراقی (المتوفی806ھ) نے صحیحین کی متکلم فیہ روایات کا علمی جواب تحریر کیا «الاحاديث المخرجة فى الصحيحين التى تكلم فيها بضعف و انقطاع» کے عنوان سے لکھی جس کے بارے میں خود موصوف نے یہ فرمایا: «ففيه فوائد مهمات» [التبصرة و التذكرة ج1 ص71]

◈ علامہ الفقیہ محمد بن الحسن الحجوی الثعالبی الفاسی (المتوفی 1376ھ) نے «الدفاع عن الصحيحين دفاع الاسلام» کے نام سے کتاب تحریر فرمائی ہے جس میں آپ نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی مسلم کے لیے بخاری و مسلم کی روایت پر طعن کرنا درست نہیں ہے

◈ علامہ عراقی کے صاحبزادے حافظ ولی الدین ابوزرعتہ احمد بن عبدالرحیم (المتوفی 826ھ) نے بھی «البيان والتوضيح لمن خرج له فى الصحيح و قدمس بضرب من التجريح» کے نام سے ایک مستقل رسالہ تحریر فرمایا۔

◈ اسی طرح حافظ ابوالحسین رشید الدین یحییٰ بن یحییٰ القرشی العطار (المتوفی662ھ) نے «غررالفوائد المجموعة فى بيان ماوقع فى صحيح مسلم من الاحاديث المقطوعة» کے نام سے رسالہ لکھا۔

◈ حافظ ابن حجر (المتوفی852ھ) نے فتح باری کے مقدمہ میں جو کہ مکمل جلد پر مبنی ہے بنام «هدي الساري» میں بھی صحیحیں کے دفاع پر کئی صفحات پر لکھا ہے اور امام دارقطنی کے بھی کئی اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں۔

◈ اسی طرح سے امام نووی رحمہ اللہ نے بھی شرح مسلم میں کئی صحیح مسلم کی احادیث کا دفاع کیا ہے۔

◈ اسی طرح سے علامہ محمد بن اسماعیل ابن خلفون رحمہ اللہ نے بھی «رفع التماري فى من تكم فيه من رجال البخاري» کے نام سے ایک مستقل رسالہ تحریر فرمایا ہے۔

◈ الامام القصیمی نے بھی ایک مستقل رسالہ «حل المشكلات احاديث النبوية» کے نام سے تحریر فرمایا ہے۔

◈ اسی موضوع پر علامہ ابوالولید باجی کی «التعديل و التجريح لمن خرج عنه البخاري فى الصحيح» بھی اہل علم میں معروف ہے۔

◈ علامہ ابراہیم ابن السبط رحمہ اللہ (المتوفی 884ھ) نے «التوضيح للاوهام الواقعه فى الصحيح» کے نام سے تحریر فرمایا۔

◈ علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن بن عمر البلقینی رحمہ اللہ (المتوفی 828ھ) نے «الافهام بمادقع فى البخاري من الابهام» کے نام سے کتاب لکھی۔

◈ علامہ القاضی محمد بن احمد علوی الاسماعیلی نے «توضيح طرق الرشاد لحسم مادة الالحاد» صحیحین کے دفاع پر رسالہ لکھا۔

◈ شیخ ربیع بن ھادی حفظہ اللہ نے امام دار قطنی کے اعتراضات کے جوابات بنام «الاستدراك والتتبع» لکھا۔

◈ مولانا ابوالقاسم بنارسی رحمہ اللہ نے ڈاکٹر عمر کریم کے رسالوں کا مختلف انداز میں جواب دیئے بنام «حل مشكلات البخاري» «الكوثر الجاري فى جواب الجرع على البخاري» کے نام سے دیا۔

◈ الشیخ حافظ ثناءاللہ الذٰھدی حفظہ اللہ نے بھی اس موضوع پر ایک رسالہ تحریر کیا بنام «احاديث الصحيحين» الشیخ شمس الحق محدث ڈیانوی رحمہ اللہ نے بھی امام دار قطنی کے اعتراضات کے جوابات «الاستددراك» پر حاشیہ لکھا ہے۔

◈ مولانا ارشاد الحق اثری حفظ اللہ نے بھی بخاری و مسلم کے دفاع پر حبیب الرحمن صدیق کاندھلوی کی کتاب مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت کا جواب لکھا۔ ان کے علاوہ بھی کئی اہل علم ہیں جنہوں نے بھرپور انداز سے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصاً صحیحین کی احادیث کے دفاع کا فریضہ انجام دیا۔ «جزاهم الله خيراً»
حدیث نمبر: 1
Tashkeel Show/Hide
حدثنا الحميدي عبد الله بن الزبير ، قال : حدثنا سفيان ، قال : حدثنا يحيى بن سعيد الانصاري ، قال : اخبرني محمد بن إبراهيم التيمي ، انه سمع علقمة بن وقاص الليثي ، يقول : سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : " إنما الاعمال بالنيات ، وإنما لكل امرئ ما نوى ، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها او إلى امراة ينكحها ، فهجرته إلى ما هاجر إليه " .حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
´ہم کو حمیدی نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ حدیث محمد بن ابراہیم تیمی سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس حدیث کو علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، ان کا بیان ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا` آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

Narrated 'Umar bin Al-Khattab: I heard Allah's Apostle saying, "The reward of deeds depends upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 1, Number 1
   تحرير: مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل: تحت الحديث صحيح بخاري 1   
تشریح: حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جامع صحیح کے افتتاح کے لیے یا تو صرف «بسم الله الرحمن الرحيم» ہی کو کافی سمجھا کہ اس میں بھی اللہ کی حمد کامل طور پر موجود ہے یا آپ نے حمد کا تلفظ زبان سے ادا فرما لیا کہ اس کے لیے لکھنا ہی ضروری نہیں۔ یا پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہو کہ تحریرات نبوی کی ابتدا صرف «بسم الله الرحمن الرحيم» ہی سے ہوا کرتی تھی جیسا کہ کتب تواریخ وسیر سے ظاہر ہے۔ حضرت الامام قدس سرہ نے پہلے وحی کا ذکر مناسب سمجھا اس لیے کہ قرآن وسنت کی اولین بنیاد وحی ہے۔ اسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت موقوف ہے۔

وحی کی تعریف علامہ قسطلانی شارح بخاری کے لفظوں میں یہ ہے «والوحي الاعلام فى خفاءوفي اصطلاح الشرع اعلام الله تعالىٰ انبياءه الشي امابكتاب او برسالة ملك او منام اوالهام» [ارشاد الساری 48/1] یعنی وحی لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ مخفی طور پر کوئی چیز علم میں آ جائے اور شرعاً وحی یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے نبیوں رسولوں کو براہِ راست کسی مخفی چیز پر آگاہ فرما دے۔ اس کی بھی مختلف صورتیں ہیں، یا تو ان پر کوئی کتاب نازل فرمائے یا کسی فرشتے کو بھیج کر اس کے ذریعہ سے خبر دے یا خواب میں آگاہ فرما دے، یادل میں ڈال دے۔ وحی محمدی کی صداقت کے لیے حضرت امام نے آیت کریمہ «انآاوحينآ اليك كما اوحينا الي نوح» [النساء: 163] درج فرما کر بہت سے لطیف اشارات فرمائے ہیں، جن کی تفصیل طوالت کا باعث ہے۔ مختصر یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ عالیہ حضرت آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ وجملہ انبیاء ورسل علیہم السلام سے مربوط ہے اور اس سلسلے کی آخری کڑی حضرت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہیں۔ اس طرح آپ کی تصدیق جملہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی تصدیق ہے اور آپ کی تکذیب جملہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی تکذیب ہے۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ومناسبة الآية للترجمة واضح من جهة ان صفة الوحي الٰي نبينا صلى الله عليه وسلم توافق صفة الوحي الٰي من تقدمه من النبيين» [ فتح الباری9/1] یعنی باب بدء الوحی کے انعقاد اور آیت «انااوحينا اليك» الآیۃ میں مناسبت اس طور پر واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول قطعی طور پر اسی طرح ہے جس طرح آپ سے قبل تمام نبیوں رسولوں پر وحی کا نزول ہوتا رہا ہے۔

ذکر وحی کے بعد حضرت الامام نے الحدیث «انما الاعمال بالنيات» ‏‏‏‏ کونقل فرمایا، اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ یہ ظاہر کرنا بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خزانہ وحی سے جو کچھ بھی دولت نصیب ہوئی یہ سب آپ کی اس پاک نیت کا ثمرہ ہے جو آپ کو ابتداء عمر ہی سے حاصل تھی۔ آپ کا بچپن، جوانی، الغرض قبل نبوت کا سارا عرصہ نہایت پاکیزگی کے ساتھ گزرا۔ آخر میں آپ نے دنیا سے قطعی علیحدگی اختیار فرماکر غار حرا میں خلوت فرمائی۔ آخر آپ کی پاک نیت کا ثمرہ آپ کو حاصل ہوا اور خلعت رسالت سے آپ کو نوازا گیا۔ روایت حدیث کے سلسلہ عالیہ میں حضرت الامام قدس سرہ نے امام حمیدی رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی سند کا افتتاح فرمایا۔ حضرت امام حمیدی رحمہ اللہ علم وفضل، حسب و نسب ہر لحاظ سے اس کے اہل تھے اس لیے کہ ان کی علمی وعملی جلالت شان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ میں سے ہیں، حسب ونسب کے لحاظ سے قریشی ہیں۔ ان کا سلسلہ نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت خدیجۃ الکبریٰ ر ضی اللہ عنہاسے جا ملتا ہے ان کی کنیت ابوبکر، نام عبداللہ بن زبیر بن عیسیٰ ہے، ان کے اجداد میں کوئی بزرگ حمیدبن اسامہ نامی گزرے ہیں، ان کی نسبت سے یہ حمیدی مشہورہوئے۔ اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حمیدی سے جو کہ مکی ہیں، لا کر یہ اشارہ فرما رہے ہیں کہ وحی کی ابتدا مکہ سے ہوئی تھی۔

حدیث «‏‏‏‏انماالاعمال بالنيات» کی بابت علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وهذاالحديث احد الاحاديث التى عليها مدار الاسلام و قال الشافعي واحمد انه يدخل فيه ثلث العلم» [ ارشاد الساري 56,57/1] یعنی یہ حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جن پر اسلام کا دارومدار ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور احمد رحمہ اللہ جیسے اکابر امت نے صرف اس ایک حدیث کو علم دین کا تہائی یا نصف حصہ قرار دیا ہے۔ اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور بھی تقریباً بیس اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا ہے۔ بعض علماءنے اسے حدیث متواتر بھی قرار دیا ہے۔ اس کے راویوں میں سعد بن ابی وقاص، علی بن ابی طالب، ابوسعیدخدری، عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ، جابر بن عبداللہ، معاویہ بن ابی سفیان، عبادۃ بن صامت عتبہ بن عبدالسلمی، ہلال بن سوید، عقبہ بن عامر، ابوذر عقبہ بن المنذر عقبہ بن مسلم اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی نقل کئے گئے ہیں۔ (قسطلانی رحمہ اللہ)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی جامع صحیح کو اس حدیث سے اس لیے شروع فرمایا کہ ہر نیک کام کی تکمیل کے لیے خلوص نیت ضروری ہے۔ احادیث نبوی کا جمع کرنا، ان کا لکھنا، ان کا پڑھنا، یہ بھی ایک نیک ترین عمل ہے، پس اس فن شریف کے حاصل کرنے والوں کے لیے آداب شرعیہ میں سے یہ ضروری ہے کہ اس علم شریف کو خالص دل کے ساتھ محض رضائے الٰہی و معلومات سنن رسالت پناہی کے لیے حاصل کریں، کوئی غرض فاسد ہرگز درمیان میں نہ ہو۔ ورنہ یہ نیک عمل بھی اجر و ثواب کے لحاظ سے ان کے لیے مفید عمل نہ ہو سکے گا۔ جیسا کہ اس حدیث کے شان و رود سے ظاہر ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت ام قیس نامی کو نکاح کا پیغام دیا تھا، اس نے جواب میں خبر دی کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ آ جائیں تو شادی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ وہ شخص اسی غرض سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچا اور اس کی شادی ہو گئی۔ دوسرے صحابہ کرام اس کو مہاجر ام قیس کہا کرتے تھے۔ اسی واقعہ سے متاثر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔

حضرت امام قسطلانی فرماتے ہیں۔ «واخرجه المولف فى الايمان والعتق والهجرة والنكاح والايمان والنذور وترك الحيل ومسلم والترمذي والنسائي وابن ماجة واحمد والدارقطني وابن حبان والبيهقي» یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اپنی جامع صحیح میں اس حدیث کو یہاں کے علاوہ کتاب الایمان میں بھی لائے ہیں اور وہاں آپ نے یہ باب منعقد فرمایا ہے «باب ماجاءان الاعمال بالنية والحسبة ولكل امرءما نوي» یہاں آپ نے اس حدیث سے استدلال فرمایا ہے کہ وضو، زکوۃ، حج روزہ جملہ اعمال خیر کا اجر اسی صورت میں حاصل ہو گا کہ خلوص نیت سے بغرض طلب ثواب ان کو کیا جائے۔ یہاں آپ نے استشہاد مزید کے لیے قرآنی آیت کریمہ «‏‏‏‏قل كل يعمل على شاكلته» کو نقل کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ «شاكلته» سے نیت ہی مراد ہے۔ مثلاً کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر بہ نیت ثواب خرچ کرتا ہے تو یقینا اسے ثواب حاصل ہو گا۔ تیسرے امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو کتاب العتق میں لائے ہیں۔ چوتھے باب الہجرۃ میں پانچویں کتاب النکاح میں چھٹے نذورکے بیان میں۔ ساتویں کتاب الحیل میں۔ ہر جگہ اس حدیث کی نقل سے غرض یہ ہے کہ صحت اعمال و ثواب اعمال سب نیت ہی پر موقوف ہیں اور حدیث ہذا کا مفہوم بطور عموم ہر دو صورتوں کو شامل ہے۔ اس حدیث کے ذیل میں فقہاء شوافع صرف صحت اعمال کی تخصیص کرتے ہیں اور فقہاء احناف صرف ثواب اعمال کی۔ حضرت مولاناانور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ان ہر دو کی تغلیط فرماتے ہوئے امام المحدثین بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہی کے موقف کی تائید کی ہے کہ یہ حدیث ہر دو صورتوں کو شامل ہے۔ [دیکھو انوارالباری 16,17/1]

نیت سے دل کا ارادہ مراد ہے۔ جو ہر فعل اختیاری سے پہلے دل میں پیدا ہوتا ہے، نماز، روزہ، وغیرہ کے لیے زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا غلط ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر اکابر امت نے تصریح کی ہے کہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنے کا ثبوت نہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے نہ صحابہ رضی اللہ عنہ وتابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے، لہٰذا زبان سے نیت کے الفاظ کا ادا کرنا محض ایجاد بندہ ہے جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

آج کل ایک جماعت منکرین حدیث کی بھی پیدا ہو گئی ہے جو اپنی ہفوات کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی بھی استعمال کیا کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت حدیث کے خلاف تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جامع صحیح کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے شروع فرمایا ہے۔ جس سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ منکرین حدیث کا حضرت عمررضی اللہ عنہ پر یہ الزام بالکل غلط ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ خود احادیث نبوی کو روایت فرمایا کرتے تھے۔ ہاں صحت کے لیے آپ کی طرف سے احتیاط ضرور مدنظر تھا۔ اور یہ ہر عالم، امام، محدث کے سامنے ہونا ہی چاہئیے۔ منکرین حدیث کو معلوم ہونا چاہئیے کہ سیدنا حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں احادیث نبوی کی نشر و اشاعت کا غیرمعمولی اہتمام فرمایا تھا اور دنیائے اسلام کے گوشہ گوشہ میں ایسے جلیل القدر صحابہ کو اس غرض کے لیے روانہ فرمایا تھا، جن کی پختگی سیرت اور بلندی کردار کے علاوہ ان کی جلالت علمی تمام صحابہ میں مسلم تھی۔ جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ازالۃ الخفاءمیں تحریر فرماتے ہیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہے:

فاروق اعظم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت کے ساتھ کوفہ بھیجا۔ اور معقل بن یسار وعبداللہ بن مغفل وعمران بن حصین کو بصرہ میں مقرر فرمایا اور عبادہ بن صامت اور ابودرداءکو شام روانہ فرمایا اور ساتھ ہی وہاں کے عمال کو لکھا کہ ان حضرات کو ترویج احادیث کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ حضرات جو حدیث بیان کریں ان سے ہرگز تجاوز نہ کیا جائے۔ معاویہ بن ابی سفیان جو اس وقت شام کے گورنر تھے ان کو خصوصیت کے ساتھ اس پر توجہ دلائی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ 7 نبوی میں ایمان لائے اور آپ کے مسلمان ہونے پر کعبہ شریف میں مسلمانوں نے نماز باجماعت ادا کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ باطل کے مقابلہ پر حق سر بلند ہوا۔ اسی وجہ سے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاروق کا لقب عطا فرمایا۔ آپ بڑے نیک، عادل اور صائب الرائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تعریف میں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے۔ 13 نبوی میں آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت اسلامیہ کو سنبھالا اور آپ کے دور میں فتوحات اسلامی کا سیلاب دوردور تک پہنچ گیا تھا۔ آپ ایسے مفکر اور ماہر سیاست تھے کہ آپ کا دور اسلامی حکومت کا زریں دور کہا جاتا ہے۔ مغیرہ بن شعبہ کے ایک پارسی غلام فیروز نامی نے آپ کے دربار میں اپنے آقا کی ایک غلط شکایت پیش کی تھی۔ چنانچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس پر توجہ نہ دی۔ مگر وہ پارسی غلام ایسا برافروختہ ہوا کہ صبح کی نماز میں خنجر چھپا کر لے گیا اور نماز کی حالت میں آپ پر اس ظالم نے حملہ کر دیا۔ اس کے تین دن بعد یکم محرم 24 ھ کو آپ نے جام شہادت نوش فرمایا اور نبی اکرم ا اور اپنے مخلص رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں قیامت تک کے لیے سو گئے۔ «انا لله وانااليه راجعون۔ اللهم اغفرلهم اجمعين۔ آمين۔» ‏‏‏‏
   تحرير: حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل: تحت الحديث صحيح بخاري 1   
تخریج الحدیث:
«صحيح بخاري [1، 54، 2529، 3898، 5070، 6689، 6953] صحيح مسلم 1907، سنن نسائي 3825، التعليقات السلفيه واللفظ له الا عنده لدنيا بدل الى دنيا وجاء فى بعض نسخ النسائي: الى دنيا۔»
فقہ الحدیث:
➊ یہ حدیث «يحيٰي بن سعيد الانصاري عن محمد بن ابراهيم التيمي عن علقمه بن وقاص الليثي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه» کی سند کے ساتھ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں موجود ہے نیز صحیح غریب، خبر واحد ہے۔
➋ اس صحیح حدیث اور دیگر دلائل سے یہ ثابت ہے کہ حدیث مقبول کے لئے متواتر یا مشہور ہونا ضروری نہیں بلکہ خبر واحد صحیح بھی حجت ہے۔
➌ عمل کی مقبولیت کا دارومدار نیت پر ہے، لہٰذا وضو، غسل، نماز، روزہ، حج اور تمام عبادات کے لئے نیت کا ہونا ضروری ہے اور اسی پر فقہاء کا اجماع ہے۔ [ديكهئے الايضاح عن معاني الصحاح لابن هبيرة ج1 ص56]
سوائے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک وضو اور غسل جنابت میں نیت واجب نہیں (بلکہ) سنت ہے۔ [ ديكهئے الهدايه مع الداريه ج 1 ص 20]
➍ عربی لغت (زبان) میں دلی ارادے، عزم اور قصد کو نیت کہتے ہیں۔ [ديكهئے القاموس الوحيد ص1730]
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نیت دل کے ارادے اور قصد کو کہتے ہیں، قصد و ارادہ کا مقام دل ہے زبان نہیں۔ [الفتاوي الكبري ج1 ص1، وهذا مفهوم العبارة بالاردية]
نماز کی نیت زبان سے کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ میں کسی سے ثابت نہیں ہے، لہذا اس زبانی عمل سے اجتناب کرنا چاہئے۔
➎ کسی عمل کے عنداللہ مقبول ہونے کی تین شرطیں ہیں:
① عامل کا عقیدہ کتاب و سنت اور فہم سلف صالحین کے مطابق ہو۔
② عمل اور طریقہ کار عین کتاب و سنت کے مطابق ہو۔
③ اس عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لئے سرانجام دیا جائے۔
➏ رسالہ الحدیث حضرو، کی ابتدا میں اس حدیث اور فقہ الحدیث کا مقصد یہ ہے کہ الحدیث کے اجراء سے ہمارا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور بخشش ہے (اشاعتہ الحدیث ہے، دفاع حدیث ہے) کوئی دنیاوی فائدہ پیش نظر نہیں ہے۔
➐ بعض علماء اس حدیث کو دین اسلام کا ثلث [1/3] قرار دیتے ہیں کیونکہ تمام اعمال کا تعلق: ① دل ② زبان ③ اور جوارح ہاتھ پاؤں وغیرہ سے ہے۔
چونکہ نیت کا تعلق دل سے ہے، لہٰذا یہ اسلام کا ثلث (ایک تہائی) ہے۔
➑ یہ حدیث ان بدعتیوں (مثلامرجیہ وغیرہ) کا رد ہے جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ایمان دلی اعتقاد کے بغیر صرف زبانی قول کا نام ہے۔
عینی نے کہا: «‏‏‏‏فيه رد على المرجئة في قولهم الايمان اقرار باللسان دون الاعتقاد بالقلب» اس میں مرجیہ کے اس قول پر رد ہے کہ ایمان زبانی اقرار ہے، دل کا اعتقاد نہیں ہے۔ [عمدة القاري34/1]
➒ صحیح بخاری میں «انما الاعمال بالنيات۔ الخ» ‏‏‏‏ والی پہلی روایت میں «فمن كانت هجرته الي الله ورسوله فهجرته الى الله و رسوله۔» کے الفاظ موجود نہیں ہیں [ح1] جبکہ دوسری روایت [ح54 و صحیح مسلم] میں موجود ہیں، اس سے دو مسئلے ثابت ہوئے:
اول: ایک روایت میں ذکر ہو اور دوسری میں عدم ذکر ہو تو عدم ذکر، نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔
دوم: ثقہ راوی کی زیادت، جب ثقہ راویوں یا اوثق کے ہر لحاظ سے خلاف نہ ہو تو یہ زیادت معتبر و مقبول ہوتی ہے۔
➓ بعض علماء نے امام بخاری کے طرز عمل سے استنباط کیا ہے کہ انہوں نے کتاب بدء الوحی کے شروع میں «انماالاعمال بالنيات» والی حدیث ذکر کر کے دو مسئلے ثابت کئے ہیں:
اول: حدیث بھی وحی ہے۔
دوم: امام الحمیدی المکی سے روایت میں یہ اشارہ ہے کہ دین اسلام اور نزول وحی کی ابتدا مکے سے ہوئی، اسی طرح صحیح بخاری کی آخری حدیث ابوہریرہ المدنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں یہ اشارہ ہے کہ دین اسلام مدینے میں مکمل ہو گیا۔
   تحرير: الشیخ محمد حسین میمن حفظ الله، فوائد و مسائل: تحت الحديث صحيح بخاري 1   
باب اور حدیث میں مناسبت:
➊ امام بخاری رحمہ اللہ نے عملوں کے دارومدار نیت پر ہے اس حدیث کو کتاب الوحی میں اس لیے ذکر فرمایا کہ بخاری شریف پڑھنے والا اپنی نیت کو درست کر لے کیونکہ احادیث مبارکہ بھی وحی ہوا کرتی ہیں، لہٰذا طالب حق بخاری کی تلاوت سے قبل اپنی نیت کو خالص کر لے تاکہ علم نبوت اس کے قلب پر جا کے اثر ہو اور زندگی میں اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء ہو۔
➋ حدیث مشتمل ہے ہجرت پر کیونکہ ہجرت صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ہی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہجرت کی اور آپ کے ہجرت کرنا بلا کسی تردد و شک کے وحی کی اقتدا میں تھا، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی نیت کو خالص کر کے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کرتا ہے تو یقیناً وہ شخص اپنی نیت کو خالص کرنے کی وجہ سے وحی کی پیروی کرتا ہے۔
◈ علامہ محمود حسن رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
شروع اصول میں ہم عرض کر چکے ہیں بسا اوقات ترجمتہ الباب کا مدلول مطابق مؤلف کو مطلوب نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کسی خاص غرض کی طرف اشارہ ہوتا ہے اسی کو احادیث باب سے ثابت کرنا منظور ہوتا ہے۔ یہاں یہی صورت ہے، اول تو ملاحظہ فرمائیے کہ مؤلف نے کتاب کو باب وحی سے شروع کیوں فرمایا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ دیگر کتب احادیث کے موافق ابواب فضائل قرآن کو اپنے موقع پر بیان کیا ہے اور متعدد ابواب نزول وحی کے متعلق وہاں مذکور ہیں۔ یہاں صرف ایک باب کے مقدم لانے میں کیا غرض ہے؟ اس لیے سب سے پہلے حتی کہ ایمان اور علم سے بھی اول وحی کا ذکر مناسب ہوا۔ چنانچہ شراح محققین صاف یہی ارشاد فرماتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہو گیا کہ مؤلف رحمہ اللہ کی غرض اس موقع میں یہ ہے کہ وحی پر چونکہ جملہ امور اسلامیہ کا مدار ہے اور یہی ایک ایسی دلیل ہے کہ جس میں کسی طرف سے خطاء و غلطی کا ادنیٰ احتمال نہیں ہو سکتا۔ (پس یہیں سے ترجمة الباب اور احادیث میں مناسبت ہو گی)۔ [الابواب والتراجم للمحمود حسن۔ ص16-17]
➌ کتاب الوحی میں «انما الاعمال بالنيات» کی حدیث کو درج کرنے کی غرض یہ ہے کہ تمام اعمال، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ کا علم یہ سب کچھ وحی کے ذریعے دیا گیا ہے۔ چنانچہ مذکورہ حدیث کا تعلق باب کے ساتھ یہی ہے کہ اسلام میں ہر رکن کا تعلق وحی کے ساتھ لازم و ملزوم ہے کیونکہ وحی ہی کے ذریعے تمام اعمالوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ لہٰذا یہیں سے باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت ہے۔

فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ پہلی وحی تھی جس میں قرآن کی پہلی سورت «﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾» نازل ہوئی آیت مبارک کے پس منظر میں جو بھی واقعہ پیش آیا قرآن کی اس سورت کے ساتھ ساتھ وہ واقعہ بھی محفوظ ہے، امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ جس طرح قرآن مجید اللہ تعالی کی وحی ہے بعین ہی اسی طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان آپ کی احادیث بھی اللہ تعالی کی وحی ہیں۔

حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
«كان جبريل عليه السلام ينزل بالقرآن والسنة»
جبريل عليه السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن و حدیث دونوں لے کر اترتے تھے۔ [ذم الکلام ج2 ص149]
اور عیسی و روح کی روایت میں اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح قرآن سکھایا جاتا اسی طرح سے حدیث بھی۔ [ذم الکلام ج2ص149]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مسئلے کو واضح فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے:
خبردار مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور بھی چیز دی گئی ہے (یعنی احادیث رسول)۔ [سنن ابي داؤد رقم الحديث 4604]
واضح ہوا کہ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث بھی وحی ہیں اور ان دونوں کا تعلق بہت گہرا ہے۔

الشیخ موسی جار اللہ رحمہ اللہ جو مصنف ہیں «الوشيعة فى النقد على عقائد الشيعه» کے آپ ایک روسی عالم دین ہیں آپ نے سنت کے دفاع پر اور اس کی وحی ہونے کے بارے میں ایک عمدہ اور لطیف وضاحت فرماتے ہیں آپ لکھتے ہیں:
«السنه أصل اول من بين اصول الأدلة الاربعة فى شرع الاسلام فى اثبات الاحكام، لم يثبت حكم فى الاسلام اول ثبوته الا بالسنه وآيات الكتاب الكريم كانت تنزل بعد مؤيدة مثبتة لفعل النبى صلى الله عليه وسلم و اقراره و افعاله» [كتاب السنة لموسيٰ جار الله ص32]
اثبات احکام کے لحاظ سے ادلہ اربعہ میں سنت کا درجہ اول ہے اسلام کے تمام احکامات اولاً سنت میں ثابت ہوئے اس کے بعد قرآن عزیز نے ان کی تائید فرمائی اور یہ تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرار، افعال سب کو حاصل ہوئی

شیخ اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:
ایمان ارکان دین، فرائص ابتدا سنت سے ثابت ہوئے اس کے بعد قرآن مجید نے اس کی تائید فرمائی۔ سورۃ مائدہ 6 ہجری میں نازل ہوئی اور اس میں وضو کا ذکر کیا گیا ہے نماز اس سے بہت پہلے مکہ معظمہ میں فرض ہوئی معلوم ہے کہ سالہا سال تک نماز بے وضو تو ادا نہیں ہوتی رہی، ظاہر ہے کہ وضو کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سنت کے طور پر بتا دیا گیا تھا 6ھ میں قرآن حکیم نے اس حکم کی تائید فرما دی۔ معزوریاں انسان کے لوازم سے ہیں، عرب کی سرزمین میں پانی کی قلت معمولات میں سے ہے، بیماریاں بھی کسی قائدے کی پابند نہیں معلوم ہے کہ ان حالات میں تیمم کے سوا چارہ نہیں لیکن تیمم کا حکم سورۃ مائدہ کی آیت نمبر [6] میں مرقوم ہے جو سن 6ھ کے بعد اتری اصل تیمم سنت سے ثابت ہوا قرآن نے اس کی تائید فرمائی۔۔۔۔

موسی جار اللہ رحمہ اللہ کے ان اقتباسات سے کئی ایک فوائد حاصل ہوئے جس میں سب سے مفید نکتہ یہ ہے کہ اگر سنت وحی نہ ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وضو اور تیمم کا طریقہ کس اعتبار سے سکھاتے جب کہ قرآن کئی سالوں بعد اس فعل کی تائید کرتا ہے لہٰذا وحی کی دو قسمیں واضح ہوئیں ایک وحی جلی (Express Revelation) قرآن مجید اور دوسری وحی، وحی خفی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم (Tacit Revelation) جو کہ دونوں قطعی اور منزل من اللہ ہیں۔

نوٹ: احادیث کے بارے میں شکوک و شبہات کے مستحکم جوابات کے لئے راقم کی کتاب اسلام کے مجرم کون؟ کا مطالعہ مفید رہے گا۔