کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
كتاب السلم
کتاب: بیع سلم کے بیان میں
THE BOOK OF AS-SALAM.
7- باب السلم إلى اجل معلوم:
باب: بیع سلم میں میعاد معین ہونی چاہئے۔
(7) CHAPTER. As-Salam for a fixed specified period.
وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَالْأَسْوَدُ، وَالْحَسَنُ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا بَأْسَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، مَا لَمْ يَكُ ذَلِكَ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور اسود اور امام حسن بصری نے یہی کہا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر غلہ کا نرخ اور اس کی صفت بیان کر دی جائے تو میعاد معین کر کے اس میں بیع سلم کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اگر یہ غلہ کسی خاص کھیت کا نہ ہو، جو ابھی پکا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ: " أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ "، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَقَالَ: فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ پھلوں میں بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے لیے کیا کرو۔ اور عبداللہ بن ولید نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ پیمانے اور وزن کی تعیین کے ساتھ (بیع سلم ہونی چاہئیے)۔

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet came to Medina and the people used to pay in advance the prices of fruits to be delivered within two to three years. The Prophet said (to them), "Buy fruits by paying their prices in advance on condition that the fruits are to be delivered to you according to a fixed specified measure within a fixed specified period." Ibn Najih said, " ... by specified measure and specified weight."
USC-MSA web (English) Reference: Book 35 , Number 455
حدیث نمبر: 2254-2255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ؟ فَقَالَا: كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ، فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، قَالَ: قُلْتُ: أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ؟ قَالَا: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں سلیمان شیبانی نے، انہیں محمد بن ابی مجالد نے، کہا کہ مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان دونوں حضرات سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غنیمت کا مال پاتے، پھر شام کے انباط (ایک کاشتکار قوم) ہمارے یہاں آتے تو ہم ان سے گیہوں، جَو اور منقی کی بیع سلم ایک مدت مقرر کر کے کر لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ ان کے پاس اس وقت یہ چیزیں موجود بھی ہوتی تھیں یا نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم اس کے متعلق ان سے کچھ پوچھتے ہی نہیں تھے۔

Narrated Muhammad bin Abi Al-Mujalid: Abu Burda and `Abdullah bin Shaddad sent me to `Abdur Rahman bin Abza and `Abdullah bin Abi `Aufa to ask them about the Salaf (Salam). They said, "We used to get war booty while we were with Allah's Apostle and when the peasants of Sham came to us we used to pay them in advance for wheat, barley, and oil to be delivered within a fixed period." I asked them, "Did the peasants own standing crops or not?" They replied, "We never asked them about it."
USC-MSA web (English) Reference: Book 35 , Number 456