کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
 
کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
مُقَدِّمَةٌ
مقدمہ

1- باب وُجُوبِ الرِّوَايَةِ عَنِ الثِّقَاتِ، وَتَرْكِ الْكَذَّابِينَ
باب: ہمیشہ ثقہ اور معتبر لوگوں سے روایت کرنا چاہیے اور جن کا جھوٹ ثابت ہو ان سے روایت نہیں کرنی چاہیے۔
Tashkeel Show/Hide
واعلم- وفقك الله تعالى- ان الواجب على كل احد عرف التمييز بين صحيح الروايات وسقيمها وثقات الناقلين لها من المتهمين ان لا يروي منها إلا ما عرف صحة مخارجه. والستارة في ناقليه. وان يتقي منها ما كان منها عن اهل التهم والمعاندين من اهل البدعوَاعْلَمْ- وَفَّقَكَ اللَّهُ تَعَالَى- أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ عَرَفَ التَّمْيِيزَ بَيْنَ صَحِيحِ الرِّوَايَاتِ وَسَقِيمِهَا وَثِقَاتِ النَّاقِلِينَ لَهَا مِنَ الْمُتَّهَمِينَ أَنْ لاَ يَرْوِيَ مِنْهَا إِلاَّ مَا عَرَفَ صِحَّةَ مَخَارِجِهِ. وَالسِّتَارَةَ فِي نَاقِلِيهِ. وَأَنْ يَتَّقِيَ مِنْهَا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ أَهْلِ التُّهَمِ وَالْمُعَانِدِينَ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ
‏‏‏‏ جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (‏‏‏‏معتبر) اور متہم (‏‏‏‏جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔
Tashkeel Show/Hide
والدليل على ان الذي قلنا من هذا هو اللازم دون ما خالفه قول الله جل ذكره: {يا ايها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين}وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الَّذِي قُلْنَا مِنْ هَذَا هُوَ اللاَّزِمُ دُونَ مَا خَالَفَهُ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}
‏‏‏‏ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر۔
Tashkeel Show/Hide
وقال جل ثناؤه: {ممن ترضون من الشهداء} وقال عز وجل: {واشهدوا ذوي عدل منكم} فدل بما ذكرنا من هذه الآي ان خبر الفاسق ساقط غير مقبول وان شهادة غير العدل مردودة والخبر وإن فارق معناه معنى الشهادة في بعض الوجوه فقد يجتمعان في اعظم معانيهما إذ كان خبر الفاسق غير مقبول عند اهل العلم كما ان شهادته مردودة عند جميعهموَقَالَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الْشُّهَدَاءِ} وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} فَدَلَّ بِمَا ذَكَرْنَا مِنْ هَذِهِ الآيِ أَنَّ خَبَرَ الْفَاسِقِ سَاقِطٌ غَيْرُ مَقْبُولٍ وَأَنَّ شَهَادَةَ غَيْرِ الْعَدْلِ مَرْدُودَةٌ وَالْخَبَرُ وَإِنْ فَارَقَ مَعْنَاهُ مَعْنَى الشَّهَادَةِ فِي بَعْضِ الْوُجُوهِ فَقَدْ يَجْتَمِعَانِ فِي أَعْظَمِ مَعَانِيهِمَا إِذْ كَانَ خَبَرُ الْفَاسِقِ غَيْرَ مَقْبُولٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَمَا أَنَّ شَهَادَتَهُ مَرْدُودَةٌ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ
‏‏‏‏ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور
Tashkeel Show/Hide
ودلت السنة على نفي رواية المنكر من الاخبار كنحو دلالة القرآن على نفي خبر الفاسق. وهو الاثر المشهور عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين».وَدَلَّتِ السُّنَّةُ عَلَى نَفْيِ رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الأَخْبَارِ كَنَحْوِ دَلاَلَةِ الْقُرْآنِ عَلَى نَفْيِ خَبَرِ الْفَاسِقِ. وَهُوَ الأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ».
‏‏‏‏ اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔
حدیث نمبر: 1
Tashkeel Show/Hide
عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من حدث عنى ، بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين " حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، عن شعبة ، عن الحكم ، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى ، عن سمرة بن جندب . ح وحدثنا ابو بكر بن ابى شيبة ايضا ، حدثنا وكيع ، عن شعبة وسفيان ، عن حبيب ، عن ميمون بن ابي شبيب ، عن المغيرة بن شعبة ، قالا : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك .عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ عَنِّى ، بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ " حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ .
‏‏‏‏ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
   تحرير: حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل: تحت الحديث صحيح مسلم 1   
فقہ الحدیث:
➊ جھوٹ بولنا مطلقاً حرام ہے لیکن اللہ اور رسول پر جھوٹ بولنا تو کبیرہ گناہ، حرام بلکہ بعض علماء کے نزدیک کفر ہے۔
➋ بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس شدید وعید اور دلائل کے باوجود اللہ اور رسول پر جھوٹ بولتے ہیں، موضوع اور بے اصل روایات لکھتے اور بیان کرتے ہیں۔ کیا انہیں اللہ کی پکڑ کا کوئی ڈر نہیں ہے؟!
➌ جھوٹ بولنے والے راویوں کے ساتھ وہ شخص بھی برابر کا شریک ہے جو جھوٹی روایات کو لوگوں کے سامنے بغیر تنبیہ کے بیان کرتا رہتا ہے۔
◄ اگر حدیث مذکور میں کاذبین سے مراد تثنیہ (دو) لیا جائے تو پھر دو شخص اس حدیث کے مخاطب ہیں: وہ جس نے جھوٹی حدیث بنائی ہے، اور وہ شخص جو یہ جھوٹی حدیث لوگوں کے سامنے بغیر تنبیہ کے بیان کرتا ہے۔
➍ اس شدید وعید سے اشارتاً یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث وحی اور حجت ہے، جس کی حفاظت کے لیے یہ بتا دیا گیا ہے کہ جھوٹی حدیث بیان کرنے والا شخص جھوٹا ہے اور یہ شخص جہنم میں جائے گا جیسا کہ دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
➎ علماء پر یہ ضروری ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت اس کی تحقیق کر لیں، بلکہ علم اسماء الرجال اور اصول حدیث کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔