كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
27- باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة:
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے بیچ کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے پھر قرأت کرتے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان چپ ہو جاتے ہیں تو کیا پڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِى مِنْ خَطَايَاىَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِى مِنْ خَطَايَاىَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ» یعنی یا اللہ! دور کر دے مجھے میرے گناہوں سے جیسے دور کیا تو نے مشرق کو مغرب سے، یا اللہ! صاف کر دے مجھے میری خطاؤں سے، جیسا صاف ہوا ہے سفید کپڑا میل سے، یا اللہ! دھو دے میرے گناہوں کو برف سے اور پانی اور اولوں سے۔
حدیث نمبر: 1355
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ،وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
اس سند سے بھی مذکور روایت آئی ہے۔
حدیث نمبر: 1356
قَالَ مُسْلِم: وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ وَغَيْرِهِمَا، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَمْ يَسْكُتْ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے الحمد سے قرأت شروع کرتے اور چپ نہ رہتے (یعنی دعائے استفتاح نہ پڑھتے)۔
حدیث نمبر: 1357
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا، مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ، فَقُلْتُهَا. فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور نماز کی صف میں مل گیا اور اس کا سانس چڑھ گیا تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» یعنی سب تعریف اللہ کے لئے ہے بہت تعریف اور پاک اور برکت والی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہنے والا کون تھا جس نے یہ کلمات کہے؟ سو قوم کے سب لوگ چپ ہو رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے کہے یہ کلمات کیوں کہ اس نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ تو ایک شخص نے عرض کی کہ میں آیا اور میرا سانس چڑھ گیا تو میں نے ان کلمات کو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ ایک پر ایک گر رہے تھے کہ کون ان میں سے اس کو اوپر لے جائے (یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس)۔
حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ "، قَالَ رَجُلٌ مِنِ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ، مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے کہ ایک شخص نے حاضرین میں سے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً» یعنی اللہ بڑا ہے، سب بڑائی اس کے واسطے ہے اور بہت تعریف ہے اس کی اور پاک ہے اللہ پاکی بولنا ہے صبح اور شام، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کلمے کہے؟ تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کی میں نے کہا یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب آیا جب اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا جب سے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنی میں نے ان کلمات کو کبھی نہیں چھوڑا۔