كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
50- باب فضل كثرة الخطا إلى المساجد:
باب: مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ، أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى، فَأَبْعَدُهُمْ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا، ثُمَّ يَنَامُ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا گھر مسجد سے زیادہ دور ہے۔ اس کا ثواب بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور جو نماز کا منتظر ہے کہ امام کے ساتھ پڑھے گا اس کا ثواب بھی اس شخص سے زیادہ ہے کہ پڑھ لی اور سو رہا۔ اور ابوکریب کی روایت میں یہ لفظ «حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِى جَمَاعَةٍ» اور مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ، لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَوْ قُلْتُ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ، وَفِي الرَّمْضَاءِ؟ قَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي، إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ ".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص تھا کہ اس کے مکان سے زیادہ کسی کا مکان مسجد سے دور نہ تھا اور کبھی کوئی جماعت اس کی نہ جاتی تو اس سے کہا گیا یا میں نے کہا: تم اگر ایک گدھا خرید لو کہ اس پر سوار ہو کر آیا کرو اندھیری اور دھوپ میں تو اچھا ہو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بازو میں ہو، اس لئے میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے قدم مسجد کی طرف لکھے جائیں اور میرا لوٹنا بھی جب میں گھر کو لوٹوں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان سب کا ثواب تمہارے لئے اکھٹا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1515
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ. ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْنَا لَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ، قَالَ: أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا، حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ: أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الأَجْرَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ ".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انصار میں سے ایک شخص تھے کہ ان کا گھر مدینہ کے سب گھروں میں مسجد سے دور تھا اور ان کی کوئی جماعت جانے نہ پاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو ہم لوگوں کو ان پر ترس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ کاش تم ایک گدھا خرید لو کہ تمہیں گرمی سے اور راہ کے کیڑے مکوڑوں سے بچائے۔ انہوں نے کہا: سنو! قسم ہے اللہ کی کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے متصل ہو۔ اور مجھ پر اس کی یہ بات بہت بار اور گراں گزری اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ کہا جو مجھ سے کہا تھا اور ذکر کیا کہ میں اپنے قدموں کا اجر چاہتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم کو اجر ہے جس کے تم امیدوار ہو۔
حدیث نمبر: 1517
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح، وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔
حدیث نمبر: 1518
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا، فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً ".
ابوالزبیر نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم نے چاہا کہ بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آ رہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو روکا اور فرمایا: تمہارے لئے ہر قدم پر ایک درجہ ہے۔
حدیث نمبر: 1519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ، أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا بَنِي سَلِمَةَ، " دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کچھ جگہیں مسجد کے گرد خالی ہوئی ہیں تو بنو سلمہ کے قبیلہ والوں نے چاہا کہ مسجد کے پاس اٹھ آئیں اور یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری خبر ہم کو پہنچی ہے کہ تم چاہتے ہو کہ مسجد کے قریب آ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں اے اللہ کے رسول! ہم نے چاہا تو ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ! تم اپنے ہی گھروں میں رہو تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔ (یعنی تاکہ ان کا ثواب ملے)۔
حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ، أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ "، فَقَالُوا: مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہا کہ بنو سلمہ نے چاہا کہ مسجد کے قریب آ جائیں اور کچھ قطعے خالی تھے تو یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ! اپنے ہی گھروں میں رہو تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم اس فرمانے سے ایسے خوش ہوئے کہ وہاں سے اٹھ آنے سے اتنی خوشی نہ ہوتی۔