مُقَدِّمَةٌ
مقدمہ
0

1- بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں میں اللہ جل جلالہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَعَلَى جَمِيعِ الأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ.
شروع کرتا ہوں میں اللہ جل جلالہ کے نام سے جو مہربان ہے رحم والا۔ سب تعریف لائق ہے اسی پروردگار کو جو پالتا ہے سارے جہان کو اور بہتر انجام انہی لوگوں کا ہے جو پرہیزگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اتارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تمام پیغمبروں کے ختم کرنے والے ہیں (یعنی نبوت کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات بابرکت پر ختم کر دیا ہے۔ اب دنیا میں آپ کے بعد کوئی پیغمبر نئی شریعت لے کر نہیں آئے گا) اور تمام نبیوں اور پیغمبروں پر (جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے ہیں جیسے آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام)۔
أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ بِتَوْفِيقِ خَالِقِكَ ذَكَرْتَ أَنَّكَ هَمَمْتَ بِالْفَحْصِ عَنْ تَعَرُّفِ جُمْلَةِ الأَخْبَارِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُنَنِ الدِّينِ وَأَحْكَامِهِ وَمَا كَانَ مِنْهَا فِي الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ وَالتَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ صُنُوفِ الأَشْيَاءِ بِالأَسَانِيدِ الَّتِي بِهَا نُقِلَتْ وَتَدَاوَلَهَا أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَا بَيْنَهُمْ فَأَرَدْتَ- أَرْشَدَكَ اللَّهُ- أَنْ تُوَقَّفَ عَلَى جُمْلَتِهَا مُؤَلَّفَةً مُحْصَاةً وَسَأَلْتَنِي أَنْ أُلَخِّصَهَا لَكَ فِي التَّأْلِيفِ بِلاَ تَكْرَارٍ يَكْثُرُ فَإِنَّ ذَلِكَ- زَعَمْتَ- مِمَّا يَشْغَلُكَ عَمَّا لَهُ قَصَدْتَ مِنَ التَّفَهُّمِ فِيهَا وَالاِسْتِنْبَاطِ مِنْهَا. وَلِلَّذِي سَأَلْتَ- أَكْرَمَكَ اللَّهُ- حِينَ رَجَعْتُ إِلَى تَدَبُّرِهِ وَمَا تَؤُولُ بِهِ الْحَالُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَاقِبَةٌ مَحْمُودَةٌ وَمَنْفَعَةٌ مَوْجُودَةٌ وَظَنَنْتُ- حِينَ سَأَلْتَنِي تَجَشُّمَ ذَلِكَ- أَنْ لَوْ عُزِمَ لِي عَلَيْهِ وَقُضِيَ لِي تَمَامُهُ كَانَ أَوَّلُ مَنْ يُصِيبُهُ نَفْعُ ذَلِكَ إِيَّايَ خَاصَّةً قَبْلَ غَيْرِي مِنَ النَّاسِ لأَسْبَابٍ كَثِيرَةٍ يَطُولُ بِذِكْرِهَا الْوَصْفُ إِلاَّ أَنَّ جُمْلَةَ ذَلِكَ أَنَّ ضَبْطَ الْقَلِيلِ مِنْ هَذَا الشَّانِ وَإِتْقَانَهُ أَيْسَرُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ مُعَالَجَةِ الْكَثِيرِ مِنْهُ. ولاسيما عِنْدَ مَنْ لاَ تَمْيِيزَ عِنْدَهُ مِنَ الْعَوَامِّ إِلاَّ بِأَنْ يُوَقِّفَهُ عَلَى التَّمْيِيزِ غَيْرُهُ. فَإِذَا كَانَ الأَمْرُ فِي هَذَا كَمَا وَصَفْنَا فَالْقَصْدُ مِنْهُ إِلَى الصَّحِيحِ الْقَلِيلِ أَوْلَى بِهِمْ مِنَ ازْدِيَادِ السَّقِيمِ وَإِنَّمَا يُرْجَى بَعْضُ الْمَنْفَعَةِ فِي الاِسْتِكْثَارِ مِنْ هَذَا الشَّانِ وَجَمْعِ الْمُكَرَّرَاتِ مِنْهُ لِخَاصَّةٍ مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ رُزِقَ فِيهِ بَعْضَ التَّيَقُّظِ وَالْمَعْرِفَةِ بِأَسْبَابِهِ وَعِلَلِهِ فَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَهْجُمُ بِمَا أُوتِيَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى الْفَائِدَةِ فِي الاِسْتِكْثَارِ مِنْ جَمْعِهِ. فَأَمَّا عَوَامُّ النَّاسِ الَّذِينَ هُمْ بِخِلاَفِ مَعَانِي الْخَاصِّ مِنْ أَهْلِ التَّيَقُّظِ وَالْمَعْرِفَةِ فَلاَ مَعْنَى لَهُمْ فِي طَلَبِ الْكَثِيرِ وَقَدْ عَجَزُوا عَنْ مَعْرِفَةِ الْقَلِيلِ.
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے مخاطب کو فرماتے ہوئے بعد حمد اور صلوٰۃ کے، اللہ تجھ پر ۱؎ رحم کرے تو نے اپنے پروردگار کی توفیق سے ذکر کیا تھا کہ تیرا قصہ یہ ہے کہ تلاش کرے ان سب حدیثوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہیں دین کے طریقوں اور حکموں میں (‏‏‏‏یعنی مسائل کی حدیثیں جو فقہ سے متعلق ہیں) اور ان حدیثوں کو جو ثواب اور عقاب اور خوشخبری اور ڈرانے کے لیے ہیں (‏‏‏‏یعنی فضائل اور اخلاق کی حدیثیں) اور ان کے سوا اور باتوں کی سندوں کے ساتھ جن کی رو سے وہ حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور جن کو علمائے حدیث نے جاری رکھا ہے اپنے میں (‏‏‏‏یعنی مشہور و معروف سندیں) تو تیرا مطلب یہ تھا اللہ تجھ کو ہدایت کرے کہ تو ان سب حدیثوں سے واقف ہو جائے اس طرح سے کہ وہ سب حدیثیں ایک جگہ جمع ہوں اور تو نے یہ سوال کیا تھا کہ میں ان سب حدیثوں کو اختصار کے ساتھ تیرے لئے جمع کروں اور اس میں تکرار نہ ہو کیونکہ اگر تکرار ہو گی (‏‏‏‏اور طول ہو گا) تو تیرا مقصد جو حدیثوں کو سمجھنا اور ان میں غور کرنا ہے اور ان سے مسائل نکالنا ہے وہ جاتا رہے گا اور تو نے جس بات کا سوال کیا اللہ تجھ کو عزت دے جب میں نے اس میں غور کیا اور اس کے انجام کو دیکھا تو اللہ چاہے اس کا انجام اچھا ہو گا اور بالفعل بھی اس میں فائدہ سے (‏‏‏‏یعنی حال اور مآل دونوں کے فائدے کی بات ہے) اور میں نے یہ خیال کیا جب تو نے مجھے اس بات کی تکلیف دی کہ اگر یہ کام مجھ سے ہو جائے تو سب سے پہلے دوسروں کو تو خیر مجھے خود ہی فائدہ ہو گا کئی اسباب کی وجہ سے جن کا بیان کرنا طول ہے مگر خلاصہ یہ ہے کہ اس طول سے تھوڑی حدیثوں کو یاد رکھنا مضبوطی اور صحت کے ساتھ آسان ہے آدمی پر بہت سی حدیثوں کو روایت کرنے سے (‏‏‏‏بغیر ضبط اور اتقان کے کیونکہ اس میں ایک طرح کا خلجان پیدا ہوتا ہے) خاص کر عوام کو بڑا فائدہ ہو گا جن کو تمیز نہیں ہوتی کھوٹی کھری حدیث کی بغیر دوسرے کے بتلائے ہوئے اور جب حال ایسا ہوا جیسا ہم نے اوپر بیان کیا تو تھوڑی صحیح حدیثوں کا بیان کرنا ان کے لیے بہتر ہے بہت ضعیف حدیثوں سے اور بہت سی حدیثیں بیان کرنا اور مکررات کو جمع کرنا خاص خاص شخصوں کو فائدہ دیتا ہے جن کو علم حدیث میں کچھ واقفیت ہے اور حدیث کے اسباب اور علتوں کو وہ پہچانتے ہیں ایسا شخص البتہ بوجہ اپنی واقفیت اور معرفت کے بہت حدیثوں کے جمع کرنے سے فائدہ اٹھائے گا لیکن عام لوگ جو برخلاف ہیں خاص لوگوں کے جو صاحب واقفیت و معرفت ہیں ان کو کچھ حاصل نہیں بہت حدیثوں کے طلب کرنے میں جب کہ تھوڑی حدیثوں کے پہچاننے سے عاجز ہیں (‏‏‏‏یعنی جس قدر کم حدیثیں انہوں نے دیکھی ہیں ان ہی کے پہچاننے کی اور صحیح کو ضعیف سے تمیز کرنے کی استعداد ان میں نہیں تو بہت حدیثوں سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ثُمَّ إِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مُبْتَدِئُونَ فِي تَخْرِيجِ مَا سَأَلْتَ وَتَأْلِيفِهِ عَلَى شَرِيطَةٍ سَوْفَ أَذْكُرُهَا لَكَ وَهُوَ إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى جُمْلَةِ مَا أُسْنِدَ مِنَ الأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَقْسِمُهَا عَلَى ثَلاَثَةِ أَقْسَامٍ وَثَلاَثِ طَبَقَاتٍ مِنَ النَّاسِ عَلَى غَيْرِ تَكْرَارٍ. إِلاَّ أَنْ يَأْتِيَ مَوْضِعٌ لاَ يُسْتَغْنَى فِيهِ عَنْ تَرْدَادِ حَدِيثٍ فِيهِ زِيَادَةُ مَعْنًى أَوْ إِسْنَادٌ يَقَعُ إِلَى جَنْبِ إِسْنَادٍ لِعِلَّةٍ تَكُونُ هُنَاكَ لأَنَّ الْمَعْنَى الزَّائِدَ فِي الْحَدِيثِ الْمُحْتَاجَ إِلَيْهِ يَقُومُ مَقَامَ حَدِيثٍ تَامٍّ فلابد مِنْ إِعَادَةِ الْحَدِيثِ الَّذِي فِيهِ مَا وَصَفْنَا مِنَ الزِّيَادَةِ أَوْ أَنْ يُفَصَّلَ ذَلِكَ الْمَعْنَى مِنْ جُمْلَةِ الْحَدِيثِ عَلَى اخْتِصَارِهِ إِذَا أَمْكَنَ. وَلَكِنْ تَفْصِيلُهُ رُبَّمَا عَسُرَ مِنْ جُمْلَتِهِ فَإِعَادَتُهُ بِهَيْئَتِهِ إِذَا ضَاقَ ذَلِكَ أَسْلَمُ فَأَمَّا مَا وَجَدْنَا بُدًّا مِنْ إِعَادَتِهِ بِجُمْلَتِهِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ مِنَّا إِلَيْهِ فَلاَ نَتَوَلَّى فِعْلَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. فَأَمَّا الْقِسْمُ الأَوَّلُ فَإِنَّا نَتَوَخَّى أَنْ نُقَدِّمَ الأَخْبَارَ الَّتِي هِيَ أَسْلَمُ مِنَ الْعُيُوبِ مِنْ غَيْرِهَا وَأَنْقَى مِنْ أَنْ يَكُونَ نَاقِلُوهَا أَهْلَ اسْتِقَامَةٍ فِي الْحَدِيثِ وَإِتْقَانٍ لِمَا نَقَلُوا لَمْ يُوجَدْ فِي رِوَايَتِهِمِ اخْتِلاَفٌ شَدِيدٌ وَلاَ تَخْلِيطٌ فَاحِشٌ كَمَا قَدْ عُثِرَ فِيهِ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ وَبَانَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِهِمْ فَإِذَا نَحْنُ تَقَصَّيْنَا أَخْبَارَ هَذَا الصِّنْفِ مِنَ النَّاسِ أَتْبَعْنَاهَا أَخْبَارًا يَقَعُ فِي أَسَانِيدِهَا بَعْضُ مَنْ لَيْسَ بِالْمَوْصُوفِ بِالْحِفْظِ وَالإِتْقَانِ كَالصِّنْفِ الْمُقَدَّمِ قَبْلَهُمْ عَلَى أَنَّهُمْ وَإِنْ كَانُوا فِيمَا وَصَفْنَا دُونَهُمْ فَإِنَّ اسْمَ السِّتْرِ وَالصِّدْقِ وَتَعَاطِي الْعِلْمِ يَشْمَلُهُمْ كَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَلَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ
ان سب حدیثوں کی طرف قصد کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً (‏‏‏‏یعنی متصلاً) ایک راوی نے دوسرے سے سنا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک روایت کی گئی ہیں (‏‏‏‏سب حدیثوں سے مراد اکثر حدیثیں ہیں اس لیے کہ سب مسند حدیثیں اس کتاب میں نہیں ہیں) پھر ان کو تقسیم کرتے ہیں تین قسموں پر اور راویوں کے تین طبقوں پر (‏‏‏‏پہلا طبقہ تو حافظ اور ثقہ لوگوں کی روایتوں کا، دوسرا متوسطین کا، تیسرا ضعفاء اور متروکین کا مگر مصنف نے اس کتاب میں پہلی قسم کے بعد دوسری قسم کی حدیثوں کو بیان کیا ہے، مگر تیسری قسم کو مطلق ذکر نہیں کیا اور حاکم اور بیہقی نے کہا کہ اس کتاب میں سب سے پہلی قسم کی حدیثیں ہیں اور دوسری قسم کی حدیثیں بیان کرنے سے پہلے مسلم رحمہ اللہ وفات پا گئے) بغیر تکرار کے مگر جب کوئی ایسا مقام ہو جہاں دوبارہ حدیث کا لانا ضروری ہو۔ اس وجہ سے کہ اس میں کوئی دوسری بات زیادہ ہو یا کوئی ایسی اسناد ہو جو دوسری اسناد کے پہلو میں واقع ہو کسی علت کی وجہ سے تو وہاں تکرار کرتے ہیں (‏‏‏‏یعنی دوبارہ اس حدیث کو نقل کرتے ہیں) اس لیے کہ جب کوئی بات زیادہ ہوئی حدیث میں جس کی احتیاج ہے تو وہ مثل ایک پوری حدیث کے ہے۔ پھر ضروری ہے اس سب حدیث کا ذکر کرنا جس میں وہ بات زیادہ ہے یا ہم اس زیادتی کو جدا کر لیں گے پوری حدیث سے اختصار کے ساتھ اگر ممکن ہوا یعنی ایک حدیث میں ایک جملہ زیادہ ہے جس سے کوئی بات کام کی نکلتی ہے اور وہ جملہ جدا ہو سکتا ہے تو صرف اس جملہ کو دوسری اسناد سے بیان کر کے نقل کر دیں گے اور ساری حدیث دوبارہ نہ لائیں گے۔ مگر ایسا جب کریں گے کہ اس جملہ کا علیحدہ ہونا حدیث سے ممکن ہو (‏‏‏‏نووی رحملہ اللہ علیہ نے کہا کہ اس مسئلہ میں علمائے حدیث کا اختلاف ہے یعنی حدیث کا ایک ٹکڑا علیحدہ روایت کرنے میں بعضوں کے نزدیک مطلقاً منع ہے کیونکہ روایت بالمعنیٰ ان کے نزدیک جائز نہیں بلکہ حدیث کو لفظ بلفظ نقل کرنا چاہیئے اور بعض کے نزدیک اگرچہ روایت بالمعنیٰ جائز ہے مگر حدیث کا ایک ٹکڑا علیحدہ روایت کرنا اسی صورت میں درست ہے جب پہلے پوری حدیث کو روایت کر لیں اور بعض کے نزدیک مطلقاً جائز ہے اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا کہ مسلم رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور صحیح یہ ہے کہ علماء اور اہل معرفت کی یہ بات درست ہے بشرطیکہ معنی میں خلل واقع نہ ہو۔) لیکن جب جدا کرنا اس جملہ کا دشوار ہو تو پوری حدیث اپنی خاص وضع سے بیان کرنا بہتر ہے اور جس حدیث کی ہم کو دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہ ہو (‏‏‏‏یعنی اس میں کوئی ایسی بات زیادہ نہ ہو جس کی احتیاج ہے) تو ہم اس کو دوبارہ بیان نہ کریں گے اگر اللہ چاہے پہلی قسم کی حدیثوں میں ان حدیثوں کو پہلے بیان کرتے ہیں جو عیبوں سے پاک اور صاف ہیں اس وجہ سے کہ ان کے روایت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو صاحب استقامت اور اتقان (‏‏‏‏یعنی مضبوط اور صاف ہیں اپنی روایات میں۔ نہ ان کی روایت میں سخت اختلاف ہے اور نہ خلط ملط ہے اس لیے کہ جو راوی اور ثقہ لوگوں سے بہت اختلاف کیا کرے یا روایتوں میں بہت خلط ملط کرے وہ قابل اعتبار نہیں رہتا) جیسے بعض محدثین کی کیفیت معلوم ہو گئی اور ان کی حدیث میں یہ بات کھل گئی ہے۔ پھر جب ہم بیان کر چکتے اس قسم کے راویوں کی حدیثیں (‏‏‏‏یعنی جو موصوف ہیں ساتھ کمال حفظ اور ضبط اور اتقان کے) تو اس کے بعد وہ حدیثیں لاتے ہیں جن کی اسناد میں وہ لوگ ہیں جن میں اتنا حفظ اور اتقان نہیں جیسا پہلی قسم کے راویوں میں تھا اور یہ لوگ اگرچہ پہلے قسم کے راویوں سے درجہ میں کم ہیں مگر ان کا عیب ڈھکا ہوا ہے اور سچائی اور حدیث کی روایت میں وہ بھی شامل ہیں (‏‏‏‏یعنی دوسرے درجے کے راوی بھی سچے اور ٹھیک ہیں اور جو کچھ ان میں عیب تھا وہ چھپایا گیا ہے۔ اہل حدیث نے ان کو متہم نہیں کیا ہے کذب سے، نہ ان سے روایت ترک کی ہے) جیسے عطاء بن السائب اور یزید بن ابی زیاد اور لیث بن ابی سلیم۔
وَأَضْرَابِهِمْ مِنْ حُمَّالِ الآثَارِ وَنُقَّالِ الأَخْبَارِ. فَهُمْ وَإِنْ كَانُوا بِمَا وَصَفْنَا مِنَ الْعِلْمِ وَالسِّتْرِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مَعْرُوفِينَ فَغَيْرُهُمْ مِنْ أَقْرَانِهِمْ مِمَّنْ عِنْدَهُمْ مَا ذَكَرْنَا مِنَ الإِتْقَانِ وَالاِسْتِقَامَةِ فِي الرِّوَايَةِ يَفْضُلُونَهُمْ فِي الْحَالِ وَالْمَرْتَبَةِ لأَنَّ هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ دَرَجَةٌ رَفِيعَةٌ وَخَصْلَةٌ سَنِيَّةٌ
اور ان کی مانند لوگ، حدیث کی روایت کرنے اور خبر کے نقل کرنے والے اگرچہ یہ لوگ مشہور ہیں علم میں اور مستور ہیں۔ اہل حدیث کے نزدیک لیکن ان کے ہم عصر دوسرے لوگ جن کے پاس اتقان اور استقامت ہے روایت میں ان سے بڑھ کر ہیں حال اور مرتبے میں اس واسطے کہ اس علم کے نزدیک یہ ایک درجہ ہے بلند اور ایک خصلت ہے عمدہ (‏‏‏‏یعنی ضبط اور اتقان)۔
أَلاَ تَرَى أَنَّكَ إِذَا وَازَنْتَ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَةَ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ عَطَاءً وَيَزِيدَ وَلَيْثًا بِمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ وَسُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ فِي إِتْقَانِ الْحَدِيثِ وَالاِسْتِقَامَةِ فِيهِ وَجَدْتَهُمْ مُبَايِنِينَ لَهُمْ لاَ يُدَانُونَهُمْ لاَ شَكَّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ فِي ذَلِكَ لِلَّذِي اسْتَفَاضَ عِنْدَهُمْ مِنْ صِحَّةِ حِفْظِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِتْقَانِهِمْ لِحَدِيثِهِمْ وَأَنَّهُمْ لَمْ يَعْرِفُوا مِثْلَ ذَلِكَ مِنْ عَطَاءٍ وَيَزِيدَ وَلَيْثٍ
کیا تو نہیں دیکھتا اگر تو نے ان تینوں کو جن کا ہم نے نام لیا یعنی عطاء اور یزید اور لیث کو منصور بن معتمر اور سلیمان اعمش اور اسمٰعیل بن ابی خالد کے ساتھ (‏‏‏‏جو ان تینوں کے ہم عصر ہیں) حدیث کے اتقان اور استقامت میں تو ان کو بالکل جدا پائے گا ہرگز ان کے قریب نہ ہوں گے۔ اس بات میں کچھ شک نہیں اہل حدیث کے نزدیک اس لیے کہ ان کو ثابت ہو گیا ہے حفظ منصور اور اعمش اور اسماعیل کا اور ان کا ضبط اور اتقان حدیث میں۔ جو نہیں ثابت ہوا عطاء اور یزید اور لیث میں۔
وَفِي مِثْلِ مَجْرَى هَؤُلاَءِ إِذَا وَازَنْتَ بَيْنَ الأَقْرَانِ كَابْنِ عَوْنٍ وَأَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ مَعَ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ وَأَشْعَثَ الْحُمْرَانِيِّ وَهُمَا صَاحِبَا الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ كَمَا أَنَّ ابْنَ عَوْنٍ وَأَيُّوبَ صَاحِبَاهُمَا إِلاَّ أَنَّ الْبَوْنَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ هَذَيْنِ بَعِيدٌ فِي كَمَالِ الْفَضْلِ وَصِحَّةِ النَّقْلِ وَإِنْ كَانَ عَوْفٌ وَأَشْعَثُ غَيْرَ مَدْفُوعَيْنِ عَنْ صِدْقٍ وَأَمَانَةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَلَكِنَّ الْحَالَ مَا وَصَفْنَا مِنَ الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَإِنَّمَا مَثَّلْنَا هَؤُلاَءِ فِي التَّسْمِيَةِ لِيَكُونَ تَمْثِيلُهُمْ سِمَةً يَصْدُرُ عَنْ فَهْمِهَا مَنْ غَبِيَ عَلَيْهِ طَرِيقُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْتِيبِ أَهْلِهِ فِيهِ فَلاَ يُقَصَّرُ بِالرَّجُلِ الْعَالِي الْقَدْرِ عَنْ دَرَجَتِهِ وَلاَ يُرْفَعُ مُتَّضِعُ الْقَدْرِ فِي الْعِلْمِ فَوْقَ مَنْزِلَتِهِ وَيُعْطَى كُلُّ ذِي حَقٍّ فِيهِ حَقَّهُ وَيُنَزَّلُ مَنْزِلَتَهُ. وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنَزِّلَ النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ. مَعَ مَا نَطَقَ بِهِ الْقُرْآنُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ‏‏‏‏
اور ایسی ہی کیفیت ہے جب تو موازنہ کرے (‏‏‏‏یعنی تولے ایک کو دوسرے کے ساتھ) ہم عصروں کو جیسے ابن عون اور ایوب سختیانی کو عوف بن ابی جمیلہ اور اشعث حمرانی کے ساتھ یہ دونوں مصاحب تھے ابن سیرین اور حسن بصری کے (‏‏‏‏جو مشہور تابعین میں سے ہیں) جیسے ابن عون اور ایوب ان کا مصاحب تھے اور ان دونوں میں بڑا فرق ہے (‏‏‏‏یعنی ابن عون اور ایوب کا درجہ بہت بڑھ کر ہے) کمال فضل اور صحت روایت میں اگرچہ عوف اور اشعت بھی سچے اور امانت دار ہیں (‏‏‏‏امام احمد نے کہا: عوف، ثقہ ہیں صالح الحدیث اور یحییٰ بن معین نے بھی کہا کہ وہ ثقہ ہیں۔ اسی طرح اشعث حمرانی کو دارقطنی نے کہا کہ وہ ثقہ ہے اہل علم کے نزدیک) مگر اصل حال وہ ہے درجے کا اہل علم کے نزدیک جو ہم نے بیان کیا اور ہم نے مثال کے طور پر بیان کیا ان کا نام لے کر تاکہ ان کی مثال ایک نشانی ہو اور فراغت پائے اس کو سمجھ کر وہ شخص جس پر چھپا ہوا ہے راستہ علم والوں کا، اہل علم کی ترتیب میں تو کم نہ کیا جائے بلند درجے والا شخص اپنے درجے سے اور بلند نہ کیا جائے کم درجے والا اپنے درجے پر اور ہر ایک کو اس کا حق دیا جائے اور اپنا درجہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم کیا ہر ایک آدمی کو اس کے مرتبے پر رکھنے کا۔ اور قرآن سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہر علم والے سے بڑھ کر دوسرا علم والا ہے (‏‏‏‏تو حدیث اور قرآن دونوں سے اہل علم کے تفاوت و درجات کا ثبوت ہوا۔)
 فَعَلَى نَحْوِ مَا ذَكَرْنَا مِنَ الْوُجُوهِ نُؤَلِّفُ مَا سَأَلْتَ مِنَ الأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ قَوْمٍ هُمْ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مُتَّهَمُونَ أَوْ عِنْدَ الأَكْثَرِ مِنْهُمْ فَلَسْنَا نَتَشَاغَلُ بِتَخْرِيجِ حَدِيثِهِمْ كَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِسْوَرٍ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيِّ وَعَمْرِو بْنِ خَالِدٍ وَعَبْدِ الْقُدُّوسِ الشَّامِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبِ
تو جیسے اوپر ہم نے بیان کیا انہی طریقوں پر ہم جمع کرتے ہیں حدیثوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جن کا تو نے سوال کیا۔ اب جو حدیثیں ایسے لوگوں سے مروی ہیں جن پر سب اہلحدیث نے کذب کی نسبت کی یا اکثر اہل حدیث نے تو ان کو ہم روایت نہیں کرتے جیسے عبداللہ بن مسور ابی جعفر مدائنی اور عمرو بن خالد اور عبدالقدوس شامی (‏‏‏‏جو روایت کرتا ہے عکرمہ اور عطاء سے، عمرو بن علی فلاس نے کہا کہ اتفاق کیا اہل علم نے اس کی حدیث کے ترک پر) اور محمد بن سعید مصلوب۔
وَغِيَاثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي دَاوُدَ النَّخَعِيِّ وَأَشْبَاهِهِمْ مِمَّنِ اتُّهِمَ بِوَضْعِ الأَحَادِيثِ وَتَوْلِيدِ الأَخْبَارِ. وَكَذَلِكَ مَنِ الْغَالِبُ عَلَى حَدِيثِهِ الْمُنْكَرُ أَوِ الْغَلَطُ أَمْسَكْنَا أَيْضًا عَنْ حَدِيثِهِمْ. وَعَلاَمَةُ الْمُنْكَرِ فِي حَدِيثِ الْمُحَدِّثِ إِذَا مَا عُرِضَتْ رِوَايَتُهُ لِلْحَدِيثِ عَلَى رِوَايَةِ غَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِفْظِ وَالرِّضَا خَالَفَتْ رِوَايَتُهُ رِوَايَتَهُمْ أَوْ لَمْ تَكَدْ تُوَافِقُهَا فَإِذَا كَانَ الأَغْلَبُ مِنْ حَدِيثِهِ كَذَلِكَ كَانَ مَهْجُورَ الْحَدِيثِ غَيْرَ مَقْبُولِهِ وَلاَ مُسْتَعْمَلِهِ.
اور غیاث بن ابراہیم اور سلیمان بن عمرو اور ابوداؤد نخعی اور ان کے مانند اور لوگ جن سے حدیث بنانے کی خبریں تراشنے کی نسبت کی گئی ہے۔ (‏‏‏‏یعنی یہ سب لوگ وضاع اور کذاب اور متروک الحدیث تھے تو ایسے لوگوں کی روایتیں میں نے بالکل نہیں لکھیں اور اسی طرح ہم نے ان لوگوں کی روایت بھی نہیں لکھی جن کی حدیث اکثر منکر (‏‏‏‏یعنی ثقہ کے خلاف) یا غلط ہوتی ہے اور منکر کی نشانی محدث کی حدیث میں یہ ہے کہ جب اس کی روایت کا مقابلہ کیا جائے دوسرے لوگوں کی روایت سے جو اچھے اور حافظے والے ہیں تو اس کی روایت ان کی روایت کے خلاف پڑے بالکل یا کچھ موافق ہو اور اکثر خلاف۔ جب کسی راوی کی اکثر اس قسم کی روایتیں ہوں تو وہ مہجور الحدیث ہے یعنی اس کی روایت مقبول و متعمل نہ ہو گی۔
فَمِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَالْجَرَّاحُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَبُو الْعَطُوفِ وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ وَمَنْ نَحَا نَحْوَهُمْ فِي رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْحَدِيثِ. 
اس قسم کے راویوں میں سے عبداللہ بن محرر اور یحییٰ بن ابی انیسہ اور جراح بن منہال ابوالعطوف اور عباد بن کثیر اور حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ اور عمر بن صہبان اور ان کے مثل اور لوگ ہیں جو منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔
فَلَسْنَا نُعَرِّجُ عَلَى حَدِيثِهِمْ وَلاَ نَتَشَاغَلُ بِهِ لأَنَّ حُكْمَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالَّذِي نَعْرِفُ مِنْ مَذْهَبِهِمْ فِي قَبُولِ مَا يَتَفَرَّدُ بِهِ الْمُحَدِّثُ مِنَ الْحَدِيثِ أَنْ يَكُونَ قَدْ شَارَكَ الثِّقَاتِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْحِفْظِ فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا وَأَمْعَنَ فِي ذَلِكَ عَلَى الْمُوَافَقَةِ لَهُمْ فَإِذَا وُجِدَ كَذَلِكَ ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا لَيْسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ قُبِلَتْ زِيَادَتُهُ فَأَمَّا مَنْ تَرَاهُ يَعْمِدُ لِمِثْلِ الزُّهْرِيِّ فِي جَلاَلَتِهِ وَكَثْرَةِ أَصْحَابِهِ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ لِحَدِيثِهِ وَحَدِيثِ غَيْرِهِ أَوْ لِمِثْلِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَحَدِيثُهُمَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مَبْسُوطٌ مُشْتَرَكٌ قَدْ نَقَلَ أَصْحَابُهُمَا عَنْهُمَا حَدِيثَهُمَا عَلَى الاِتِّفَاقِ مِنْهُمْ فِي أَكْثَرِهِ فَيَرْوِي عَنْهُمَا أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا الْعَدَدَ مِنَ الْحَدِيثِ مِمَّا لاَ يَعْرِفُهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِمَا وَلَيْسَ مِمَّنْ قَدْ شَارَكَهُمْ فِي الصَّحِيحِ مِمَّا عِنْدَهُمْ فَغَيْرُ جَائِزٍ قَبُولُ حَدِيثِ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ النَّاسِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. قَدْ شَرَحْنَا مِنْ مَذْهَبِ الْحَدِيثِ وَأَهْلِهِ بَعْضَ مَا يَتَوَجَّهُ بِهِ مَنْ أَرَادَ سَبِيلَ الْقَوْمِ وَوُفِّقَ لَهَا وَسَنَزِيدُ- إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى- شَرْحًا وَإِيضَاحًا فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابِ عِنْدَ ذِكْرِ الأَخْبَارِ الْمُعَلَّلَةِ إِذَا أَتَيْنَا عَلَيْهَا فِي الأَمَاكِنِ الَّتِي يَلِيقُ بِهَا الشَّرْحُ وَالإِيضَاحُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
تو ہم ان لوگوں کی حدیثیں نہیں لاتے، نہ ان میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اہل علم نے جو حکم کیا ہے اور جو ان کا مذہب معلوم ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ جس روایت کو ایک ہی محدث نے روایت کیا ہو وہ قبول کی جائے گی اس شرط سے کہ وہ محدث شریک ہو اور ثقہ اور حافظہ لوگوں کا ان کی بعض روایتوں میں یا بالکل موافق ہو ان کا، پھر جب یہ حال ہو اس کا اور کسی روایت میں کچھ عبارت زیادہ کرے جو اس کے ساتھیوں کی روایت میں نہ ہو تو وہ قبول کی جائے گی لیکن اگر تو کسی کو دیکھے جو زہری جیسے بزرگ شخص سے روایت کرنے کا قصد کرے جس کے شاگرد بہت ہیں اور وہ حافظ ہیں اور مضبوطی سے بیان کرتے ہیں اس کی اور اوروں کی حدیثوں کو یا ہشام بن عروہ سے روایت کا قصد کرے اور ان دونوں کی یعنی ہشام اور زہری کی حدیثیں اہل علم کے نزدیک پھیلی ہوئی ہیں اور مشترک ہیں اور ان دونوں کے شاگرد ان کی حدیثوں کو اتفاق کے ساتھ اکثر بیان کرتے ہیں پھر وہ شخص ان دونوں سے چند ایسی حدیثیں نقل کرے جو کسی شاگرد کو ان دونوں کے شاگردوں میں سے معلوم نہ ہوں اور وہ شخص اور صحیح روایتوں میں ان شاگردوں کا شریک نہ ہو تو اس قسم کی روایتیں ایسے لوگوں کی ہرگز مقبول نہ ہوں گی (‏‏‏‏بلکہ وہ منکر مردود ہوں گی) اور ہم نے بیان کیا مذہب حدیث اور اہل حدیث کا اس قدر جو مقصود ہے اس شخص کا جو چلنا چاہے اہل حدیث کی راہ پر اور اس کو توفیق دی جائے چلنے کی اس پر اور اللہ چاہے تو ہم اس کو شرح اور وضاحت سے بیان کریں گے۔ اس کتاب کے کئی مقاموں میں جہاں وہ حدیثیں آئیں گی جن میں کچھ علتیں ہیں، ان مقاموں میں جہاں شرح کرنا اور واضح بیان کرنا مناسب ہو گا۔