كِتَاب الْأَشْرِبَةِ
مشروبات کا بیان
0

1- باب تَحْرِيمِ الْخَمْرِ وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ:
باب: خمر کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5127
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ " أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ:‏‏‏‏ وَمِنَ السَّنَامِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مجھے ایک اونٹنی ملی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لوٹ میں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی مجھے اور دی، میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھایا اور میرا ارادہ یہ تھا کہ ان پر اذخر (ایک گھاس ہے خوشبودار) لاد کر لاؤں اور بیچوں اور میرے ساتھ ایک سنار بھی تھا بنی قینقاع (یہود کا ایک قبیلہ تھا) میں سے اور مجھے مدد ملی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کے لیے (یعنی ان کے ساتھ جو میں نے نکاح کیا تھا تو ولیمہ نہیں کیا تھا، پس میرا قصد یہ تھا کہ اذخر لا کر بیچ کر پیسہ کماؤں اور ولیمہ کروں) اور اسی گھر میں (جس کے دروازے پر میں اونٹنیاں بٹھا گیا تھا) حمزہ بن عبدالمطلب (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء رضی اللہ عنہ) شراب پی رہے تھے (اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی) ان کے پاس ایک لونڈی تھی، جو گا رہی تھی، آخر اس نے یہ گایا «‏‏‏‏أَلاَ يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ ...» ‏‏‏‏ یہ سن کر حمزہ اپنی تلوار لے کر ان پر دوڑے اور ان کی کوہان کاٹ لی۔ اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں پھر ان کا کلیجہ لے لیا۔ ابن جریج نے کہا: میں نے ابن شہاب سے کہا: اور کوہان بھی لیا یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کوہان تو کاٹ ہی لیے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو یہ حال دیکھا (اپنے اونٹوں کا) مجھے برا لگا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن حارثہ تھے، میں نے سب قصہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ حمزہ کے پاس پہنچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ پر غصہ ہوئے حمزہ نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور کہا تم ہو کیا میرے باپ دادوں کے غلام ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے یہاں تک کہ وہاں سے نکل گئے (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا کہ حمزہ نشے میں ہے ٹھہرنا ٹھیک نہیں)۔
حدیث نمبر: 5128
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِيعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 5129
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ:‏‏‏‏ " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ فَعَلَ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا:‏‏‏‏ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا لَكَ؟، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَهُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ حَمْزَةُ:‏‏‏‏ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ " .
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بدر کی لوٹ میں سے ایک اونٹنی ملی اور اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے ایک اونٹنی مجھے دی، پھر جب میں نے چاہا کہ شادی کروں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے جو صاحبزادی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، تو میں نے وعدہ کیا کہ ایک سنار سے بنی قینقاع کے ہمراہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں ولیمہ کروں اپنی شادی کا، تو میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان اکٹھا کر رہا تھا پالان، رکابیں، رسیاں اور وہ دونوں بیٹھیں تھیں ایک انصاری کی کوٹھڑی کے بازو۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکھٹا کرتا تھا اکھٹا کر چکا تھا، تو کیا دیکھتا ہوں دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں، مجھے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں (یعنی میں رونے لگا اور یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدنا فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی اس خیال سے تھا) میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے، اور وہ اس گھر میں ہیں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جو شراب پی رہے ہیں ان کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا اور ان کے ساتھیوں نے، تو گانے میں کہا: اے حمزہ! اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو لے، اسی وقت حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لیے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر (کلیجہ) نکال لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سن کر میں چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا جو میرے منہ پر رنج تھا اور فرمایا: کیا ہوا تجھ کو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قسم اللہ کی آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ستم کیا ان کے کوہان کاٹ ڈالے، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں ہیں چند شرابیوں کے ساتھ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کو اوڑھا، پھر چلے پاپیادہ میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اجازت مانگی اندر آنے کی۔ لوگوں نے اجازت دی، دیکھا تو وہ شراب پیے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں سرخ تھیں۔ (نشے سے) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا، پھر کہا: تم ہو کیا میرے باپ دادوں کے غلام ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔
حدیث نمبر: 5130
زہری رحمہ اللہ علیہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 5131
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اخْرُجْ فَانْظُرْ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ:‏‏‏‏ اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا أَوَ قَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ "، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس دن شراب حرام ہوئی تو میں لوگوں کا ساقی تھا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں اور ان کا شراب نہیں تھا مگر گدر اور کھجور یا خشک کھجور کا، اچانک سنا ایک شخص کو پکارتے ہوئے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نکل کر دیکھ، میں نکلا تو وہ پکار رہا تھا خبردار ہو جاؤ! شراب حرام ہو گئی ہے۔ پھر تمام مدینہ کے راستوں میں یہ منادی ہو گئی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اٹھ جا اور بہا دے شراب کو (جو باقی ہے) میں نے بہا دی تب بعض نے کہا فلاں اور فلاں تباہ ہو گئے ان کے پیٹوں میں شراب ہے (یعنی وہ پی چکے تھے حرمت سے پہلے) اس پر یہ آیت اتری۔ «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» (۵-المائدہ:۹۳)۔
حدیث نمبر: 5132
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ يَا أَنَسُ:‏‏‏‏ أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ ".
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا فضیخ کا (فضیخ وہ شراب ہے جو گدر کھجور سے بنتا ہے اسے توڑ کر پانی میں ڈال دیتے ہیں اور رہنے دیتے ہیں یہاں تک کہ جھاگ مارے) انہوں نے کہا: فضیخ کے سوا اور کوئی خمر نہ تھا ہمارا۔ اور میں کھڑا ہوا یہی فضیخ ابوطلحہ اور ابوایوب اور انصار کے کئی آدمیوں کو پلا رہا تھا اپنے گھر میں، اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا کہ کچھ خبر پہنچی۔ ہم نے کہا: نہیں۔ وہ بولا: شراب حرام ہو گئی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس! بہا دے ان مٹکوں کو پھر کبھی انہوں نے شراب نہیں پی، نہ اس کا حال پوچھا اس خبر کے بعد۔
حدیث نمبر: 5133
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ " إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ:‏‏‏‏ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي،‏‏‏‏ رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ أَيْضًا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اپنے قبیلہ کے چچاؤں کو کھڑا ہوا فضیخ پلا رہا تھا اور میں عمر میں سب سے چھوٹا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا: شراب حرام ہو گئی۔ انہوں کہا: بہا دے شراب کو اے انس۔ میں نے بہا دیا۔ سلیمان تیمی نے کہا: میں نے انس سے پوچھا وہ شراب کس چیز کا تھا؟ انہوں نے کہا: گدر اور پکی کھجور کا۔ ابوبکر بن انس نے کہا: ان دونوں خمران کا یہی تھا۔ سلیمان نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا اس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یہی کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 5134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ:‏‏‏‏ كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
معتمر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہو کر اپنے قبیلے والوں کو (شراب) پلا رہا تھا (پھر آگے) ابن علیہ کی حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ اس حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر بن انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس دن ان کی یہی شراب تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی اس وقت وہاں موجود تھے، انہوں نے کوئی نکیر نہیں کی۔ ابن عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: مجھ سے معتمر نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ کچھ لوگ جو میرے ساتھ تھے انہوں نے خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں: اس دن کی شراب یہی تھی۔
حدیث نمبر: 5135
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا دُجَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:‏‏‏‏ " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں ابوطلحہ اور ابودجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم اور انصار کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا، اتنے میں ایک شخص اندر آیا اور کہنے لگا ایک نئی خبر ہے شراب حرام ہو گئی۔ پھر ہم نے اس دن شراب کو بہا دیا اور وہ شراب گدر اور خشک کھجور کا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خمر جب حرام ہوا تو اکثر خمر ان کا ہہی تھا «خليط» یعنی گدر اور خشک کھجور ملا کر۔
حدیث نمبر: 5136
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا دُجَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاء مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابوطلحہ، سیدنا ابودجانہ اور سہیل بن بیضا کو اس مشکیزے میں سے شراب پلا رہا تھا جس میں کچی اور خشک کھجوروں کی بنی ہوئی شراب تھی آگے حدیث سعید کی حدیث کی طرح ہے۔