كِتَاب الْعِلْمِ
علم کا بیان
0

1- باب النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ وَالنَّهْيِ عَنْ الاِخْتِلاَفِ فِي الْقُرْآنِ:
باب: قرآن میں جو متشابہ آیتیں ہیں ان میں کھوج کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 6775
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:‏‏‏‏ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی: «هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ، وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ، وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُو الأَلْبَابِ» پروردگار وہ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اس میں بعض آیتیں مضبوط ہیں (محکم) وہ تو جڑ ہیں کتاب کی اور بعض متشابہ (گول گول یا چھپے مطلب کی)، پھر جن لوگوں کے دل میں گمراہی ہے وہ کھوج کرتے ہیں متشابہ آیتوں کا فساد چاہتے ہیں اور اس کا مطلب چاہتے ہیں حالانکہ اس کا مطلب کوئی نہیں جانتا اللہ کے سوا اور جو پکے علم والے ہیں وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے اس پر سب آیتیں ہمارے پروردگار کے پاس سے آئی ہیں اور نصیحت وہی سنتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو کھوج کرتے ہیں متشابہ آیتوں کا ان سے بچو وہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بتلایا۔
حدیث نمبر: 6776
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ:‏‏‏‏ هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں سویرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ نے دو شخصوں کی آواز سنی جو ایک آیت میں جھگڑ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپ کے چہرے پر غصہ معلوم ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ تباہ ہوئے اللہ کی کتاب میں جھگڑا کرنے سے۔ (جو نفسانیت اور فساد کی نیت سے ہو یا لوگوں کو بہکانے کے لیے لیکن مطلب کی تحقیق کے لیے اور دین کے احکام نکالنے کے لیے درست ہے۔ نووی رحمہ اللہ)۔
حدیث نمبر: 6777
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا ".
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو قرآن کو جب تک تمہارے دل زبان زبان سے موافقت کریں اور جب تمہارے دل اور زبان میں اختلاف پڑے تو اٹھ کھڑے ہو۔
حدیث نمبر: 6778
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 6779
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
ابوعمران نے کہا سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا اور ہم بچے تھے کوفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی جو اوپر گزرا۔
2- باب فِي الأَلَدِّ الْخَصِمِ:
باب: بڑا جھگڑالو کون؟
حدیث نمبر: 6780
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک، سب مردوں میں برا، وہ مرد ہے جو بڑا لڑاکا جھگڑالو ہو۔
3- باب اتِّبَاعِ سُنَنِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى:
باب: یہود و نصاریٰ کے طریقوں پر چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 6781
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏آلْيَهُودَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّصَارَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَنْ ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ تم چلو گے اگلی امتوں کی راہوں پر (یعنی گناہوں میں اور دین کی مخالفت میں نہ یہ کہ کفر کرو گے) بالشت برابر بالشت کے اور ہاتھ برابر ہاتھ کے یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسیں تم بھی ان کے ساتھ گھسو گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کون ہیں؟
حدیث نمبر: 6782
اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6783
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نحوه.
ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
4- باب هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ:
باب: تشدد کرنے والوں کے ہلاک ہونے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6784
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَيَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَهَا ثَلَاثًا ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہ ہوئے بال کی کھال نکالنے والے۔ (یعنی بے فائدہ موشگافی کرنے والے حد سے زیادہ بڑھنے والے تعصب کرنے والے) تین بار یہ فرمایا۔