كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ
ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
0

1- باب الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى:
باب: جو شخص اچھی بات جاری کرے یا بری بات جاری کرے۔
حدیث نمبر: 6805
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً "،‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے خیال کے پاس ہوں (یعنی اس کے گمان اور اٹکل ساتھ نووی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی بخشش سے اور قبول سے اس کے ساتھ ہوں) اور میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں (رحمت اور توفیق اور ہداہت اور حفاظت سے) جب وہ مجھ کو یاد کرتا ہے اگر وہ مجھ کو اپنے جی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر مجمع میں مجھ یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس مجمع میں یاد کرتا ہوں جو اس کے مجمع سے بہتر ہے (یعنی فرشتوں کے مجمع میں) اور جب بندہ ایک بالشت میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ مجھ سے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک «باع» (دونوں ہاتھ کے پھیلاؤ کے برابر) اس سے نزدیک ہو جاتا ہوں اور جب وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 6806
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا.
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔ اس میں ہاتھ اور «باع» کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6807
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ:‏‏‏‏ " إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ أَتَيْتُهُ بِأَسْرَعَ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جل جلالہ و عزشانہ ارشاد فرماتا ہے: جب کوئی بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں جب وہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں ایک «باع» بڑھتا ہوں اور جب وہ ایک «باع» بڑھتا ہے تو میں اور جلدی آتا ہوں اس کی طرف۔
حدیث نمبر: 6808
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ " سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ "، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی راہ میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر گزرے جس کو «جمدان» (بضم جیم وسکون میم) کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو یہ «جمدان» ہے آگے بڑھ گئے «مفرد» ۔ لوگوں نے عرض کیا: «مفرد» کون ہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرد اللہ کی یاد بہت کرتے ہیں اور جو عورتیں اللہ کی یاد بہت کرتی ہیں۔
2- باب فِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا:
باب: اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان اور اس کو یاد کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 6809
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ " لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ مَنْ أَحْصَاهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جل جلالہ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی ان کو یاد کر لے وہ جنت مین جائے گا اور اللہ تعالیٰ طاق ہے دوست رکھتا ہے طاق عدد کو۔
حدیث نمبر: 6810
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔
3- باب الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلاَ يَقُلْ إِنْ شِئْتَ:
باب: یوں دعا کرنا منع ہے کہ اگر تو چاہے تو بخش مجھ کو۔
حدیث نمبر: 6811
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَقُلِ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو قطعی طور سے دعا کرے (یعنی یوں کہے: یا اللہ! بخش دے مجھ کو) اور یوں نہ کہے: اگر تو چاہے بخش دے مجھ کو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں (تو وہ جو کام کرتا ہے اپنی خوشی اور مرضی ہی سے کرتا ہے۔ پس بندے کو یہ شرط لگانے کی کیا ضرورت ہے اس میں ایک طرح کی بےپروائی نکلتی ہے۔غلام کو چاہیے کہ اپنے آقا سے گڑگڑا کر مانگے۔
حدیث نمبر: 6812
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمْ الرَّغْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو یوں نہ کہے: یا اللہ! بخش دے مجھ کو اگر چاہے تو بلکہ مطلب حاصل ہونے کا یقین رکھ کر مانگے اس لیے کہ اللہ کے نزدیک کوئی بات بڑی نہیں جس کو وہ دے۔
حدیث نمبر: 6813
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی تم میں سے یوں نہ کہے: یا اللہ! مجھ کو بخش دے اگر تو چاہے، یا اللہ! مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے بلکہ صاف طور سے بلاشرط مانگے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس پر زور ڈالنے والا نہیں۔
4- باب كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ:
باب: موت کی آرزو کرنا منع ہے کسی تکلیف آنے پر۔
حدیث نمبر: 6814
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، ‏‏‏‏‏‏وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي "،‏‏‏‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے کسی آفت کی وجہ سے جو اس پر آئے اگر ایسی ہی خواہش ہو تو یوں کہے: یااللہ! جلا مجھ کو جب تک جینا میرے لیے بہتر ہو اور مار مجھ کو جب مرنا میرے لیے بہتر ہو۔