كِتَاب التَّفْسِيرِ
قران مجيد كي تفسير كا بيان
0

1ق- بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 7523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا، ‏‏‏‏‏‏وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا: گیا تھا تم بیت المقدس کے دروازہ میں رکوع کرتے ہوئے جاؤ اور کہو «حِطَّةٌ» یعنی بخشش گناہوں کی، ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے۔ لیکن بنی اسرائیل نے حکم کے خلاف کیا دروازہ میں گھسے سرین کے بل گھسٹتے ہوۓ اور «ِحِطَّةٌ» کے بدلے کہنے لگے «حَبَّةٌ فِى شَعَرَةٍ» یعنی دانہ بالی میں۔ (ایک روایت میں ہے «حِطَّةٌ فِى شَعَرَةٍ» کہنے لگے)۔
حدیث نمبر: 7524
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الْآخَرَانِ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ جل جلالہ نے پے در پے وحی بھیجی اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وفات سے پہلے یہاں تک کہ وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن بہت وحی آئی۔
حدیث نمبر: 7525
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا لِعُمَرَ " إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، ‏‏‏‏‏‏أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي سورة المائدة آية 3 ".
طارق بن شہاب سے روایت ہے، یہود نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ایک آیت پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم لوگوں میں اترتی تو ہم اس دن کو عید کر لیتے (خوشی سے) وہ آیت یہ ہے «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى» سورۂ مائدہ میں یعنی آج میں نے تمہارا دین پورا کیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کی اور اسلام کا دین تمہارے لیے پسند کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں یہ آیت جہاں اتری اور کس دن اتری اور جس وقت اتری اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے۔ یہ آیت عرفات میں اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے ہوئے تھے عرفات میں (تو عرفہ کا روز عید ہے مسلمانوں کی، دوسری روایت میں ہے کہ اس دن جمعہ تھا، جمعہ بھی عید ہے)۔
حدیث نمبر: 7526
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ " لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ : فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ، ‏‏‏‏‏‏نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ".
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ یہ آیات مزدلفہ کی رات کو اتریں یعنی نویں تاریخ شام کو گویا دسویں شب کا وقت آ گیا (کیونکہ مزدلفہ کی رات دسویں رات ہے) اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے عرفات میں۔
حدیث نمبر: 7527
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَيُّ آيَةٍ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ".
طارق بن شہاب سے روایت ہے، ایک یہودی شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین ایک آیت ہے تمہاری کتاب میں جس کو تم پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن کو عید کر لیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون سی آیت؟ وہ یہودی بولا: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي» (۵-المائدہ: ۳) آخر تک۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں اس دن کو جس دن یہ آیت اتری اور اس جگہ کو جہاں اتری۔ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عرفات میں اتری جمعہ کے دن (اور وہ دن عید ہے مسلمانوں کی)۔
حدیث نمبر: 7528
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ حَرْمَلَةُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّهُ فِيهَا:‏‏‏‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ، ‏‏‏‏‏‏قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، ‏‏‏‏‏‏فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ "،‏‏‏‏
عروہ بن الزبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا: (سورۂ نساء کے شروع میں) «وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» (۴-النساء: ۳) اخیر تک۔ یعنی اگر تم ڈرو کہ انصاف نہ کر سکو گے یتیم لڑکیوں میں تو نکاح کرو ان عورتوں سے جو پسند آ‏‏ئیں تم کو دو دو، تین تین، چار چار۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں: مراد اس آیت سے اے میرے بھانجے! یہ ہے کہ یتیم لڑکی اپنے ولی کی گود میں ہو (یعنی پرورش میں جیسے چچا کی لڑکی بھتیجے کے پاس ہو) اور شریک ہو اس کے مال میں (مثلاً چچا کے مال میں) پھر اس ولی کو اس کا حسن اور جمال پسند آئے، وہ اس سے نکاح کرنا چاہے لیکن اس کے مہر میں انصاف نہ کرے اور اتنا مہر نہ دے جو اور لوگ دینے کو مستعد ہوں تو منع کیا اللہ نے ایسی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے مگر اس صورت میں جب انصاف کریں اور پورا مہر دینے پر راضی ہوں اور حکم کیا ان کو نکاح کر لیں اور عورتوں سے جو پسند آئے ان کو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے یہ آیت اترنے کے بعد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لڑکیوں کے باب میں پوچھا: تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ» (۴-النساء: ۱۲۷) آخر تک (اسی سورۂ نساء میں) یعنی پوچھتے ہیں تجھ سے عورتوں کے باب میں تو کہہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے ان کے باب میں جن کا تم مقرر مہر نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنا نہیں چاہتے ہو۔ تو کتاب پڑھے جانے سے مراد پہلی آیت ہے اور یہ آیت اس یتیم لڑکی کے باب میں ہے جو حسن اور مال میں کم ہو تو منع ہوا ان کو اس یتیم لڑکی سے نکاح کرنا جس کے مال اور جمال میں رغبت کریں مگر اس صورت میں کہ جب انصاف کریں۔
حدیث نمبر: 7529
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِي آخِرِهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 7530
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى» اگر تم ڈرو یتیم لڑکیوں کے باب میں انصاف کرنے سے، یہ آیت اس شخص کے باب میں اتری جس کے پاس ایک یتیم لڑکی ہو وہی اس کا ولی اور وارث ہو اور اس کا مال بھی ہو اور کوئی اس کی طرف سے جھگڑنے والا سوائے اس کی ذات کے نہ ہو پھر وہ مال کے خیال سے اس سے نکاح نہ کرے (کہ مہر دینا پڑے گا) اور اس کو تکلیف دے اور بری طرح اس سے صحبت رکھے تو فرمایا: اگر ڈرو یتیم لڑکیوں میں انصاف کرنے سے تو نکاح کر لو اور عورتوں سے جو پسند آ‏‏ئیں تم کو۔ مطلب یہ ہے کہ جو عورتیں حلال کیں میں نے تمہارے لیے اور چھوڑ دو اس لڑکی کو جس کو تم تکلیف دیتے ہو (وہ اپنا نکاح کسی اور سے کر لے گی اس کا مال دے دو)۔
حدیث نمبر: 7531
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَعْضِلُهَا فَلَا يَتَزَوَّجُهَا وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ فِى يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِى لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ» جو تم پر پڑھا جاتا ہے اللہ کی کتاب میں۔ یہ آیت اتری اس یتیم لڑکی کے باب میں جو کسی شخص کے پاس ہو اور اس کے مال میں شریک ہو (ترکہ کی رو سے) پھر وہ نفرت کرے اس سے نکاح کرنے سے اور دوسرے سے بھی اس کا نکاح پسند نہ کرے اس خیال سے کہ وہ مال میں حصہ لے گی۔ آخر اس لڑکی کو یونہی چھوڑ رکھے، نہ آپ نکاح کرے اور نہ کسی اور سے کرنے دے۔
حدیث نمبر: 7532
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، «يَسْتَفْتُونَكَ فِى النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» آخر تک یہ آیت اس یتیم لڑکی کے باب میں ہے جو ایک شخص کے پاس ہو اور شریک ہو اس کے مال میں یہاں تک کہ کھجور کے درختوں میں بھی۔ پھر وہ اس سے نکاح کرنا نہ چاہے اور نہ یہ چاہے کہ اس کا نکاح دوسرے سے کر دے کہ وہ اس کے مال میں شریک ہو پھر اس کو یونہی ڈال رکھے۔