كتاب الرضاع
کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
كتاب الرضاع
کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
10- باب ما جاء في حق الزوج على المراة
باب: عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل، سراقہ بن مالک بن جعشم، عائشہ، ابن عباس، عبداللہ بن ابی اوفی، طلق بن علی، ام سلمہ، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ۱۵۱۰۴) (صحیح) (اس سند سے حدیث حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)

وضاحت: ۱؎: اس سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (1853)
حدیث نمبر: 1160
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي فی الکبری) (تحفة الأشراف: ۵۰۲۶) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: یعنی روٹی پکا رہی ہو۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (3257 / التحقيق الثانى) ، الصحيحة (1202)
حدیث نمبر: 1161
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ، دَخَلَتِ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/النکاح ۴ (۱۸۵۴)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۹۴) (ضعیف) (مساور اور ان کی والدہ دونوں مجہول ہیں)

قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1854) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (407) ، ضعيف الجامع الصغير (2227) //