🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب من حق الجلوس على الطريق رد السلام:
باب: راہ میں بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ سلام کا جواب دے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2161 ترقیم شاملہ: -- 5647
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ؟ " فَقُلْنَا: إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ، قَالَ: " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجالس سے اجتناب کرو۔ ہم نے کہا: ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: اگر نہیں (رہ سکتے) تو ان (جگہوں) کے حق ادا کرو (جو یہ ہیں): آنکھ نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5647]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم گھروں کے سامنے کے صحن میں بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر ٹھہر گئے اور فرمایا: تم، راستوں پر مجالس کیوں قائم کرتے ہو؟ راستوں کی مجالس سے پرہیز کرو۔ سو ہم نے عرض کیا، ہم کسی برے ارادے سے نہیں بیٹھتے، ہم باہمی مذاکرہ اور گفتگو کے لیے بیٹھے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم راستوں پر بیٹھنے سے بچ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرو، نظر نیچی رکھو، سلام کا جواب دو اور اچھی گفتگو کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2161
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو طلحة الأنصاري، أبو طلحةصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الأنصاري
Newعبد الله بن زيد الأنصاري ← أبو طلحة الأنصاري
صحابي صغير
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل
Newعثمان بن حكيم الأوسي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← عثمان بن حكيم الأوسي
ثقة
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5647 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5647
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
افنة:
فناء کی جمع ہے،
آنگن،
گھروں کے سامنے کی جگہ۔
(2)
صعدات:
صعيد کی جمع ہے،
راستوں کو کہتے ہیں،
جس طرح طريق کی جمع طرقات ہے۔
فوائد ومسائل:
راستوں پر بیٹھنے سے اجتناب اور پرہیز کرنے کا حکم آپ نے اس لیے دیا تھا کہ یہ فتنہ و فساد کا باعث بن سکتا ہے،
راستہ سے اجنبی عورتیں گزرتی ہیں،
انسان ان کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر،
ان کو دیکھنے میں مگن ہو جاتا ہے،
یا ان کے بارے میں سوچ و بچار کا شکار بن جاتا ہے،
ان کے بارے میں کسی غلط فہمی اور بدگمانی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور شہوت انگیز خیالات کا اسیر ہو جاتا ہے،
گزرنے والوں کو بعض دفعہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے،
اور ان کی چغلی و غیبت کرتا ہے،
گزرنے والوں کے لیے راستہ تنگ ہو سکتا ہے،
عورتیں گزرنے سے شرم محسوس کر سکتی ہیں،
حالانکہ انہیں اپنے کام کاج کے لیے نکلنا ہوتا ہے،
اگر کسی دوسرے کے دروازہ پر بیٹھیں گے تو ان کو آنے جانے میں دقت ہو گی،
راستہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو سکتی ہے اور گھر بیٹھنے کی صورت میں ان تمام باتوں سے انسان محفوظ رہتا ہے،
کیونکہ جہاں مجلس قائم ہوتی ہے،
وہاں چغلی اور غیبت کا دور چلتا ہے،
محض ہنسنے اور ہنسانے کے لیے فضول اور غلط حرکتیں یا باتیں کی جاتی ہیں،
گزرنے والوں پر آوازے کسے جاتے ہیں،
مجلس گرم کرنے کے لیے جھوٹ بولنے سے بھی احتراز نہیں کیا جاتا۔
راستہ پر بیٹھنے کے حقوق کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5647]

Sahih Muslim Hadith 5647 in Urdu