الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
The Book of Adhan (Sufa-tus-Salat)
156. بَابُ يَسْتَقْبِلُ الإِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ:
156. باب: امام جب سلام پھیر چکے تو لوگوں کی طرف منہ کرے۔
(156) Chapter. The Imam should face the followers after finishing the prayer with Taslim.
حدیث نمبر: 847
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبد الله بن منير، سمع يزيد، قال: اخبرنا حميد، عن انس، قال: اخر رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة ذات ليلة إلى شطر الليل، ثم خرج علينا فلما صلى اقبل علينا بوجهه، فقال:" إن الناس قد صلوا ورقدوا، وإنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة".(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ".
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہیں حمید ذیلی نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات (عشاء کی) نماز میں دیر فرمائی تقریباً آدھی رات تک۔ پھر آخر حجرہ سے باہر تشریف لائے اور نماز کے بعد ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے لیکن تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے گویا کہ نماز میں رہے (یعنی تم کو نماز کا ثواب ملتا رہا)۔

Narrated Anas bin Malik: Once the Prophet delayed the `Isha' prayer until midnight and then came to us. Having prayed he faced us and said, "The people had prayed and slept but you were in the prayer as long as you were waiting for it."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 12, Number 808


   صحيح البخاري572أنس بن مالكإنكم في صلاة ما انتظرتموها
   صحيح البخاري661أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة منذ انتظرتموها
   صحيح البخاري600أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة
   صحيح البخاري847أنس بن مالكلن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة
   صحيح البخاري5869أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها
   صحيح مسلم1449أنس بن مالكنظرنا رسول الله ليلة حتى كان قريب من نصف الليل ثم جاء فصلى
   صحيح مسلم1448أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة أنظر إلى وبيص خاتمه من فضة ورفع إصبعه اليسرى بالخنصر
   سنن النسائى الصغرى540أنس بن مالكلن تزالوا في صلاة ما انتظرتموها
   سنن ابن ماجه692أنس بن مالكلن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 540  
´عشاء کے اخیر وقت کا بیان۔`
حمید کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ نے آدھی رات کے قریب تک عشاء مؤخر کی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا: جب تک تم لوگ نماز کا انتظار کرتے رہے برابر نماز میں رہے۔‏‏‏‏ انس کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 540]
540 ۔ اردو حاشیہ:
لوگ نماز پڑھ کر سوگئے۔ جب کہ تم عشاء کی نماز کی وجہ سے نیند اور آرام کو مؤخر کرتے ہو اور صرف نماز کے انتظار میں جاگتے ہو، لہٰذا مغرب سے عشاء کی نماز تک کا وقت ثواب کے لحاظ سے نماز کی طرح ہے۔ اگر نماز سے نماز عشاء مراد ہے تو لوگوں سے مراد مدینہ منورہ کی دوسری مساجد کے لوگ ہوں گے جہاں نماز عشاء جلدی پڑھ لی جاتی تھی۔ اس صورت میں یہ مسجد نبوی کے نمازیوں کی فضیلت ہے۔
انگوٹھی کی چمک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ یہ انگوٹھی آپ نے مہرلگانے کے لیے بنوائی تھی۔ معلوم ہوا کہ مرد انگوٹھی پہن سکتا ہے لیکن شرط ہے کہ چاندی کی ہو، نہ کہ سونے کی۔ واللہ اعلم۔
➌انگوٹھی کے نگینے پر نام وغیرہ کندہ کروایا جا سکتا ہے۔
➍وعظ و نصیحت کرتے وقت امام کا مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا مسنون عمل ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 540   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث692  
´نماز عشاء کا وقت۔`
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 692]
اردو حاشہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل عشاء کی نماز جلدی پڑھنے کا ہے یعنی اتنی زیادہ تاخیر نہیں فرماتے تھے۔
کبھی کبھی یہ عمل افضلیت کے اظہار کے لیے اختیار فرماتے تھے۔

(2)
نواب وحید االزمان خان نے عملاً جلدی پڑھنے اور قولاً تاخیر کی فضیلت بیان کرنے کی حدیثوں میں تطبیق دیتے ہوئے کہا کہ اگر سب مقتدی جاگنے پر راضی ہوں اور تاخیر میں ان کو تکلیف نہ ہو تو تاخیر کرنا افضل ہے ورنہ اول وقت میں پڑھ لینا افضل ہے۔
والله اعلم
(3)
نماز کے بعد وعظ و نصیحت کی جاسکتی ہے۔

(4)
نماز کا انتظار بہت فضیلت والا عمل ہے۔

(5)
انگوٹھی پہننا جائز ہے تاہم مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتا ہے سونے کا استعمال مرد کے لیے جائز نہیں۔ (سنن ابن ماجه، اللباس، باب لبس الحریر والذھب للنساء، حدیث: 3595)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 692   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 847  
847. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ایک دفعہ نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیا، پھر ہمارے پاس نماز پڑھانے کے لیے آئے۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہ انور سے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم برابر نماز میں رہے کیونکہ تم نماز کا انتطار کرتے رہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:847]
حدیث حاشیہ:
ان جملہ مرویات سے ظاہر ہوا کہ سلام پھیرنے کے بعد امام مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے، پھر تسبیح تہلیل کرے یا لوگوں کو مسئلہ مسائل بتلائے یا پھر اٹھ کر چلاجائے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 847   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:847  
847. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ایک دفعہ نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیا، پھر ہمارے پاس نماز پڑھانے کے لیے آئے۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہ انور سے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم برابر نماز میں رہے کیونکہ تم نماز کا انتطار کرتے رہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:847]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں بھی امام کا مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا اور انہیں وعظ کرنا مذکور ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصود بھی یہی ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد امام کو چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب نمازی، نماز باجماعت کے انتظار میں ہوتا ہے تو اس کے انتظار کرنے پر اسے نماز ہی کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت ہے، چنانچہ امام بخاری ؒ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
(من جلس في المسجد ينتظر الصلاة۔
۔
۔
)

جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار کے لیے بیٹھتا ہے۔
۔
(صحیح البخاري، الأذان، باب: 36)
پھر حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں ہو اسے نماز ہی کا ثواب دیا جاتا ہے، گویا وہ نماز میں ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 659)
لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد میں صرف نماز کے انتظار کے لیے بیٹھے، اسے کوئی ذاتی غرض و مقصود نہ ہو کیونکہ حدیث میں ہے کہ مذکورہ اعزاز کا حقدار صرف وہ شخص ہے جسے اپنے گھر سے صرف نماز روکے ہوئے ہو۔
اگر دل میں محبت اور اخلاص ہے تو مسجد سے باہر جاتے وقت اگر اپنے دل اور توجہ کو مسجد سے وابستہ کر دیتا ہے تو قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ نصیب ہو گا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 660 وصحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2380(1031)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 847   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.