تفسير ابن كثير

سورة الإسراء
سورہ الإسراء کی فضیلت

صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «سورہ الإسراء»، «سورہ کہف» اور «سورہ مریم» سب سے پہلے، سب سے بہتر اور بڑی فضیلت والی ہیں۔ (صحیح بخاری:4708)

مسند احمد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے کبھی اس طرح پے درپے لگاتار رکھتے چلے جاتے کہ ہم اپنے دل میں کہتے شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پورا مہینہ روزوں میں ہی گزار دینگے اور کبھی کبھی بالکل ہی نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم سمجھ لیتے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ ہر رات سورہ الإسراءاور سورہ زمر پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد:68/6:صحیح)


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴿1﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے۔ (1)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 1 ،

سرگزشت معراج کا تسلسل ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی عزت و عظمت اور اپنی پاکیزگی و قدرت بیان فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس جیسی قدرت کسی میں نہیں۔ وہی عبادت کے لائق اور صرف وہی ساری مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رات کے ایک حصے میں مکہ مکرمہ کی مسجد سے بیت المقدس کی مسجد تک لے گیا۔ جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے سے انبیاء کرام علیہم السلام کا مرکز رہا۔ اسی لیے تمام انبیاء علیہم السلام وہیں آپ کے پاس جمع کئے گئے اور آپ نے وہیں ان سب کی امامت کی۔ جو اس امر کی دلیل ہے کہ امام اعظم اور رئیس مقدم آپ ہی ہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیہم اجمعین۔
اس مسجد کے اردگرد ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ پھل، پھول، کھیت باغات وغیرہ سے۔ یہ اس لیے کہ ہمارا ارادہ اپنے اس محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زبردست نشانیاں دکھانے کا تھا۔ جو آپ نے اس رات ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں، مومنوں، کافروں، یقین رکھنے والوں اور انکار کرنے والوں سب کی باتیں سننے والا ہے اور سب کو دیکھ رہا ہے۔ ہر ایک کو وہی دے گا، جس کا وہ مستحق ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معراج کی بابت بہت سی حدیثیں ہیں جو اب بیان ہو رہی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معراج والی رات جب کہ کعبۃ اللہ شریف سے آپ کو بلوایا گیا، آپ کے پاس تین فرشتے آئے، اس سے پہلے کہ آپ کی طرف وحی کی جائے۔ اس وقت آپ بیت اللہ شریف میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک جو سب سے آگے تھا اس نے پوچھا کہ یہ ان سب میں سے کون ہیں؟ درمیان والے نے جواب دیا کہ یہ ان سب میں بہترین ہیں۔ تو سب سے اخیر والے نے کہا۔ پھر ان کو لے چلو۔ بس اس رات تو اتنا ہی ہوا۔ پھر آب نے انہیں نہ دیکھا۔
دوسری رات پھر یہ تینوں آئے۔ اس وقت بھی آپ سو رہے تھے۔ لیکن آپ کا سونا اس طرح کا تھا کہ آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگ رہا ہوتا۔ تمام انبیاء کی نیند اسی طرح کی ہوتی ہے۔ اس رات انہوں نے آپ سے کوئی بات نہ کی۔ آپ کو اٹھا کر چاہِ زمزم کے پاس لٹا دیا اور آپ کا سینہ گردن تک خود جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے چاک کیا۔ اور سینے اور پیٹ کی تمام چیزیں نکال کر اپنے ہاتھ سے دھوئیں۔ جب خوب پاک صاف کر چکے تو آپ کے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک بڑا پیالہ تھا جو حکمت وایمان سے پر تھا۔ اس سے آپ کے سینے کو اور گلے کی رگوں کو پر کر دیا گیا۔ پھر سینے کو سی دیا گیا۔
پھر آپ کو آسمان دنیا کی طرف لے چڑھے۔ وہاں کے دروازوں میں سے ایک دروازے کو کھٹکھٹایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا میرے ساتھ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا۔ کیا آپ کو بلوایا گیا ہے جواب دیا کہ ہاں، سب بہت خوش ہوئے اور مرحبا کہتے ہوئے آپ کو لے گئے۔
آسمانی فرشتے بھی کچھ نہیں جانتے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تک کہ انہیں معلوم نہ کرایا جائے۔ آپ نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے تعارف کرایا کہ یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے۔ آپ نے سلام کیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، مرحبا کہا اور فرمایا آپ میرے بہت ہی اچھے بیٹے ہیں۔ وہاں دو نہریں جاری دیکھ کر آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ نہریں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ نیل اور فرات کا عنصر۔ پھر آپ کو آسمان میں لے چلے۔ آپ نے ایک اور نہر دیکھی، جس پر لؤلؤ اور موتیوں کے بالاخانے تھے، جس کی مٹی خالص مشک تھے۔ پوچھا یہ کون سی نہر ہے؟ جواب ملا کہ یہ نہر کوثر ہے۔ جسے آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے خاص طور پر مقرر کر رکھی ہے۔
پھر آپ کو تیسرے آسمان پر لے گئے۔ وہاں کے فرشتوں سے بھی وہی سوال جواب وغیرہ ہوئے، جو آسمان اول پر اور دوسرے آسمان پر ہوئے تھے۔ پھر آپ کو چوتھے آسمان پر چڑھایا گیا۔ ان فرشتوں نے بھی اسی طرح پوچھا اور جواب پایا وغیرہ۔ پھر پانچویں آسمان پر چڑھائے گئے۔ وہاں بھی وہی کہا سنا گیا، پھر چھٹے پر پھر ساتویں آسمان پر گئے، وہاں بھی بات چیت ہوئی۔ ہر آسمان پر وہاں کے نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جن میں سے مجھے یہ یاد ہیں کہ دوسرے آسمان میں ادریس علیہ السلام، چوتھے آسمان میں ہارون علیہ السلام، پانچویں والے کا نام مجھے یاد نہیں، چھٹے میں ابراہیم علیہ السلام اور ساتویں میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام۔
جب آپ یہاں سے بھی اونچے چلے تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے اللہ میرا خیال تھا کہ مجھ سے بلند تو کسی کو نہ کرے گا اب آپ اس بلندی پر پہنچے جس کا علم اللہ ہی کو ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ آپ سے بہت نزدیک ہوا۔ بقدر دو کمان کے بلکہ اس سے کم فاصلے پر۔ پھر اللہ کی طرف سے آپ کی جانب وحی کی گئی۔ جس میں آپ کی امت پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ جب آپ وہاں سے اترے تو موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روکا اور پوچھا کیا حکم ملا؟ فرمایا دن رات میں پچاس نمازوں کا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کی امت کی طاقت سے باہر ہے۔ آپ واپس جائیں اور کمی کی طلب کیجئے۔
آپ نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ گویا آپ ان سے مشورہ لے رہے ہیں۔ ان کا بھی اشارہ پایا کہ اگر آپ کی مرضی ہو تو کیا حرج ہے؟ آپ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف گئے اور اپنی جگہ ٹھہر کر دعا کی کہ اے اللہ ہمیں تخفیف عطا ہو۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ پھر آپ واپس لوٹے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو پھر روکا اور یہ سن کر فرمایا۔ جاؤ اور کم کراؤ۔ آپ پھر گئے، پھر کم ہوئیں، یہاں تک کہ آخر میں پانچ رہ گئیں۔
موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی فرمایا کہ دیکھو میں بنی اسرائیل میں اپنی عمر گزار کر آیا ہوں۔ انہیں اس سے بھی کم حکم تھا لیکن پھر بھی وہ بے طاقت ثابت ہوئے اور اسے چھوڑ بیٹھے۔ آپ کی امت تو ان سے بھی ضعیف ہے، جسم کے اعتبار سے بھی اور دل، بدن، آنکھ کان کے اعتبار سے بھی۔ آپ پھر جائیے اور اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی طلب کیجئے۔ آپ نے پھر حسب عادت جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ کو پھر اوپر لے گئے، آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے اللہ میری امت کے جسم، دل، کان آنکھیں اور بدن کمزور ہیں۔ ہم سے اور بھی تخفیف کر۔
اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے جواب دیا «لبیک وسعدیک»، فرمایا: سن میری باتیں بدلتی نہیں جو میں نے اب مقرر کیا ہے یہی میں ام الکتاب میں لکھ چکا ہوں۔ یہ پانچ ہیں پڑھنے کے اعتبار سے اور پچاس ہیں ثواب کے اعتبار سے۔ جب آپ والپس آئے موسیٰ علیہ السلام نے کہا، کہو سوال منظور ہوا؟ آپ نے فرمایا۔ ہاں کمی ہو گئی یعنی پانچ کا ثواب پچاس کا مل گیا ہر نیکی کا ثواب دس گنا عطا فرمایا جانے کا وعدہ ہو گیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ میں بنی اسرائیل کا تجربہ کر چکا ہوں، انہوں نے اس سے بھی ہلکے احکام کو ترک کر دیا تھا، آپ پھر جائیے اور کمی طلب کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اے کلیم اللہ میں گیا، آیا، اب تو مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر تشریف لے جائیے۔ بسم اللہ کیجئے۔ اب جب آپ جاگے تو آپ مسجد الحرام میں ہی تھے۔ (صحیح بخاری:7517)

صحیح بخاری شریف میں یہ حدیث کتاب التوحید میں بھی ہے اور صفۃ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہے۔
یہی روایت شریک بن عبداللہ بن ابو نمر سے مروی ہے لیکن انہوں نے اضطراب کر دیا ہے بوجہ اپنی کمزوری حافظہ کم بالکل ٹھیک ضبط نہیں رکھا۔ ان احادیث کے آخر میں اس کا بیان آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بعض اسے واقعہ خواب بیان کرتے ہیں شاید اس جملے کی بنا پر جو اس کے آخر میں وارد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے اس جملے کو جس میں ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ قریب ہوا اور اتر آیا بس بقدر دو کمان کے ہو گیا۔ بلکہ اور نزدیک۔ شریک نامی راوی کی وہ زیادتی بتاتے ہیں جس میں وہ منفرد ہیں۔ اسی لیے بعض حضرات نے کہا کہ آپ نے اس رات اللہ عزوجل کو دیکھا۔
لیکن سیدہ عائشہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ان آیتوں کو اس پر محمول کرتے ہیں کہ آپ نے جرئیل علیہ السلام کو دیکھا۔ یہی زیادہ صحیح ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ کا فرمان بالکل حق ہے اور روایت میں ہے کہ جب آپ سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو آپ نے فرمایا۔ وہ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ اور روایت میں ہے کہ میں نے نور کو دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم:178)
یہ جو سورۃ النجم میں ہے «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ» ” یعنی پھر وہ نزدیک ہوا اور اتر آیا۔ “ (53-النجم:8) اس سے مراد جبرائیل ہیں جیسے کہ ان تینوں بزرگ صحابیوں رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کوئی اس آیت کی اس تفسیر میں ان کا مخالف نظر نہیں آتا۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس براق لایا گیا۔ جو گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا، جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا تھا، جتنی دور اس کی نگاہ پہنچے۔ میں اس پر سوار ہوا وہ مجھے لے چلا، میں بیت المقدس پہنچا اور اسی کنڈے میں اسے باندھ دیا، جہاں انبیاء علیہ السلام باندھاہ کرتے تھے، پھر میں نے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی۔ جب وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن میں شراب لائے اور ایک میں دودھ۔ میں نے دودھ کو پسند کر لیا، جبرائیل نے فرمایا تم فطرت تک پہنچ گئے۔
پھر اوپر اولیٰ حدیث کی طرح آسمان اول پر پہنچنا، اس کا کھلوانا، فرشتوں کا دریافت کرنا، جواب پانا، ہر آسمان پر اسی طرح ہونا، بیان ہے۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جہنوں نے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی۔ دوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہونے کا ذکر ہے، جو دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی بھائی تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ کو مرحبا کہا اور دعائے خیر دی، پھر تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جنہیں آدھا حسن دیا گیا ہے، آب نے بھی مرحبا کہا، نیک دعا کی، پھر چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جن کی بابت فرمان الٰہی ہے «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» (19-مريم:57) ” ہم نے اسے اونچی جگہ اٹھا لیا ہے۔ “
پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو بیت المعمور سے تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، مگر جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اور جس کے پھل مٹکے جیسے۔
اسے امر رب نے ڈھک رکھا تھا، اس خوبی کا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ پھر وحی ہونے کا اور پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا اور موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے واپس جا جا کر کمی کرا کرا کر پانچ تک پہنچنے کا بیان ہے۔ اس میں ہر بار کے سوال پر پانچ کی کمی کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر میں آپ سے فرمایا کیا جو نیکی کا ارادہ کرے گو وہ عمل میں نہ آئے تاہم اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے اور اگر کرلے تو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور گناہ کے صرف ارادے سے گناہ نہیں لکھا جاتا اور کر لینے سے ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے- (صحیح مسلم:162)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس رات آپ کو اسراء بیت اللہ سے بیت المقدس تک ہوا اسی رات معراج بھی ہوئی اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ براق کی لگام بھی تھی اور زین بھی تھی۔ جب وہ سواری کے وقت کسمسایا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کیا کر رہا ہے؟ واللہ تجھ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے، آپ سے زیادہ بزرگ شخص کوئی سوار نہیں ہوا۔ پس براق پسینہ پسینہ ہو گیا۔ (سنن ترمذي:3131،قال الشيخ الألباني:صحیح)

سرگزشت معراج ٭٭

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب مجھے میرے رب عزوجل کی طرف چڑھایا گیا تو میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے تانبے کے ناخن تھے، جن سے وہ اپنے جہروں اور سینوں کو نوچ اور چھیل رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت وآبرو کے درپے رہتے تھے۔ (سنن ابوداود:4878،قال الشيخ الألباني:صحیح)
ابوداؤد میں ہے کہ معراج والی رات جب میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرا تو میں نے انہیں وہاں نماز میں کھڑا پایا۔ (صحیح مسلم:2375)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے مسجد اقصٰی کے نشانات پوچھے آپ نے بتانے شروع کئے ہی تھے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، آپ بجا ارشاد فرما رہے ہیں اور سچے ہیں۔ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں۔ (مسند ابویعلیٰ:1329:صحیح) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ رکھا تھا۔
مسند بزار میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں سویا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ دیا۔ پس میں کھڑا ہو کر ایک درخت میں بیٹھ گیا جس میں پرندوں کے مکان جیسے تھے ایک میں جبرائیل علیہ السلام بیٹھ گئے وہ درخت پھول گیا اور اونچا ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔ میں تو اپنی چادر ٹھیک کر رہا تھا، لیکن میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام سخت تواضع اور فروتنی کے عالم میں ہیں، تو میں جان گیا کہ اللہ کی معرفت کے علم میں یہ مجھ سے افضل ہیں، آسمان کا ایک دروازہ میرے لیے کھولا گیا۔ میں نے ایک زبردست عظیم الشان نور دیکھا، جو حجاب میں تھا اور اس کے اس طرف یاقوت اور موتی تھے، پھر میری جانب بہت کچھ وحی کی گئی۔ (بزار کشف الاستار:47/1)
دلائل بیہقی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ کی پیٹھ کو انگلی سے اشارہ کیا، آپ ان کے ساتھ ایک درخت کی جانب چلے جس میں پرندوں کے گھونسلے جیسے تھے الخ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہماری طرف نور اترا تو جبرائیل علیہ السلام تو بیہوش ہو کر گر پڑے الخ پھر میری جانب وحی کی گئی کہ نبی اور بادشاہ بننا چاہتے ہو؟ یا نبی اور بندہ بننا چاہتے ہو اور جنتی؟ جبرائیل علیہ السلام نے اسی طرح تواضع سے گرے ہوئے، مجھے اشارے سے فرمایا کہ تواضع اختیار کرو، تو میں نے جواب دیا کہ اے اللہ میں نبی اور بندہ بننا منظور کرتا ہوں۔ (مجمع الزوائد:18252:ضعیف و مرسل)
اگر یہ روایت صحیح ہو جائے تو ممکن ہے کہ یہ واقعہ معراج کے سوا اور ہو کیونکہ اس میں نہ بیت المقدس کا ذکر ہے نہ آسمان پر چڑھنے کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بزار کی ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا لیکن یہ روایت غریب ہے ۔ (ضعیف)
ابن جریر میں ہے کہ براق نے جب جبرائیل کی بات سنی اور پھر وہ آپ کو سوار کرا کر کے لے چلا تو آپ نے راستے کے ایک کنارے پر ایک بڑھیا کو دیکھا پوچھا یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ چلے چلئے۔ پھر آپ نے چلتے چلتے دیکھا کہ کوئی راستے سے یکسو ہے اور آپ کو بلا رہی ہے پھر آپ آگے بڑھے تو دیکھ کہ اللہ کی ایک مخلوق ہے اور باآواز بلند کہہ رہی ہے «السلام علیک یا اول السلام علیک یا اخر السلام علیک یا حاشر»، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا جواب دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔

پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا، پھر تیسری مرتبہ بھی یہی ہوا، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچے۔ وہاں آپ کے سامنے پانی، شراب اور دودھ پیش کیا گیا، آپ نے دودھ لے لیا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ نے راز فطرت پالیا۔ اگر آپ پانی کے برتن لے کر پی لیتے تو آب کی امت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت بہک جاتی۔ پھر آپ کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانے تک کے تمام انبیاء بھیجے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کرائی اور اس رات نماز سب نے آپ کی اقتداء میں پڑھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا راستے کے کنارے جس بڑھیا کو آپ نے دیکھا تو وہ گویا یہ دکھایا گیا کہ دنیا کی عمر اب صرف اتنی ہی باقی ہے جیسے اس بڑھیا کی عمر اور جس کی آواز پر آپ تو جہ کرنے والے تھے وہ دشمن اللہ ابلیس تھا اور جن کی سلام کی آوازیں آب نے سنیں وہ ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے۔
(تفسیر ابن جریر الطبری:22020:ضعیف) اس میں بھی بعض الفاظ میں غرابت ونکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کہ جب میں براق پر جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں چلا تو ایک جگہ انہوں نے مجھ سے فرمایا یہیں اتر کے نماز ادا کیجئے جب میں نماز پڑھ چکا تو فرمایا۔ جانتے ہو کہ یہ کون سی جگہ ہے؟ یہ طیبہ ( یعنی مدینہ ) ہے یہی ہجرت گاہ ہے۔ پھر ایک اور جگہ مجھ سے نماز پڑھوائی اور فرمایا یہ طور سینا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔ پھر ایک اور جگہ نماز پڑھوا کر فرمایا۔ یہ بیت لحم ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے پھر میں بیت المقدس پہنچا۔ وہاں تمام انبیاء علیہم السلام جمع ہوئے، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے امام بنایا۔ میں نے امامت کی، پھر مجھے آسمان کی طرف چڑھالے گئے پھر آپ کا ایک ایک آسمان پر پہنچنا، وہاں پیغمبروں سے ملنا مذکور ہے۔ فرماتے ہیں جب میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا تو مجھے ایک نوارنی ابر نے ڈھک لیا میں اسی وقت سجدے میں گر پڑا، پھر آپ پر پچاس نمازوں کا فرض ہونا اور کم ہونا وغیرہ کا بیان ہے۔ آخر میں موسیٰ علیہ السلام کے بیان میں ہے کہ میری امت پر تو صرف دو نمازیں مقرر ہوئی تھیں لیکن وہ انہیں بھی نہ بجا لائے۔ آپ پھر پانچ سے بھی کمی چاہنے کے لیے گئے تو فرمایا گیا کہ میں نے تو آسمان و زمین کی پیدائش والے دن ہی تجھ پر اور تیری امت پر یہ پانچ نمازیں مقرر کر دی تھیں۔ یہ پڑھنے میں پانچ ہیں اور ثواب میں پچاس ہیں۔ پس تو اور تیری امت اس کی حفاظت کرنا آپ فرماتے ہیں اب مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے پھر واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن چونکہ میں معلوم کر چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی حکم ہے، اس لیے میں پھر اللہ کے پاس نہ گیا ۔ (سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:صحیح)
ابن ابی حاتم میں بھی معراج کے واقعہ کی مطول حدیث ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی مسجد کے پاس اس دروازے پر پہنچے جسے باب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہا جاتا ہے وہیں ایک پتھر تھا جسے جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی لگائی تو اس میں سوراخ ہو گیا، وہیں آپ نے براق کو باندھا اور مسجد پر چڑھ گئے۔
بیچوں بیچ پہنچ جانے کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ آرزو کی ہے کہ وہ آپ کو حوریں دکھائے؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا آئیے، وہ یہ ہیں سلام کیجئے وہ صخرہ کے بائیں جانب بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا، سب نے میرے سلام کا جواب دیا، میں نے پوچھا، تم سب کون ہو؟ انہوں نے کہ ہم نیک سیرت، خوبصورت، حوریں ہیں ہم بیویاں ہیں اللہ کے پرہیز گار بندوں کی جو نیک کار ہیں، جو گناہوں کے میل کچیل سے دور ہیں، جو پاک کرکے ہمارے پاس لائے جائیں گے پھر نہ نکالے جائیں گے ہمارے پاس ہی رہیں گے، کبھی جدا نہ ہوں گے ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی نہ مریں گے۔
میں ان کے پاس سے چلا آیا۔ وہیں لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور ذرا سی دیر میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے۔ مؤذن نے اذان کہی تکبیر ہوئی اور ہم سب کھڑے ہو گئے۔ منتظر تھے کہ امامت کون کرائے گا؟ جو جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کردیا۔ میں نے انہیں نماز پڑھائی جب فارغ ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا جانتے بھی ہو کن کو آپ نے نماز پڑھائی؟ میں نے کہا نہیں فرمایا آپ کے پیچھے آپ کے یہ سب مقتدی اللہ کے پیغمبر تھے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ مبعوث فرما چکا ہے۔

پھر میرا ہاتھ تھام کر آسمان کی طرف لے چلے۔ پھر بیان ہے کہ آسمانوں کے دروازے کھلوائے۔ فرشتوں نے سوال کیا۔ جواب پاکر دروازے کھولے وغیرہ۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے اور نیک نبی کو مرحبا ہو۔ اس میں چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات کرنے کا ذکر بھی ہے۔ ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملنے اور ان کے بھی وہی فرمانے کا ذکر ہے جو آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا۔
پھر مجھے وہاں سے بھی اونچا لے گئے۔ میں نے ایک نہر دیکھی، جس میں لؤلؤ یاقوت اور زبرجد کے جام تھے اور بہترین، خوش رنگ، سبز پرند تھے۔ میں نے کہا یہ تو نہایت ہی نفیس پرند ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ہاں ان کے کھانے والے ان سے بھی اچھے ہیں پھر فرمایا معلوم بھی ہے؟ میں نے کہا نہیں فرمایا وہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرما رکھی ہے

اس میں سونے چاندی کے آبخورے تھے جو یاقوت و زمرد سے جڑاؤ تھے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ میں نے ایک سونے کا پیالہ لے کر پانی بھر کر پیا تو وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا تھا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ جب میں اس سے بھی اوپر پہنچا تو ایک نہایت خوش رنگ بادل نے مجھے آگھیرا جس میں مختلف رنگ تھے، جبرائیل علیہ السلام نے تو مجھے چھوڑ دیا اور میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑا۔

پھر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا بیان ہے۔ پھر آپ واپس ہوئے، ابراہیم علیہ السلام نے تو کچھ نہ فرمایا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو سمجھا بجھا کر واپس طلب تخفیف کے لیے بھیجا، الغرض اسی طرح آپ کا باربار آنا، بادل میں ڈھک جانا دعا کرنا، تخفیفی ہونا، ابراہیم علیہ السلام سے ملتے ہوئے آنا اور موسیٰ علیہ السلام سے بیان کرنا ہاں تک کہ پانچ نمازوں کا رہ جانا وغیرہ بیان ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے کر نیچے اترے میں نے ان سے پوچھا کہ جس آسمان پر میں پہنچا وہاں کے فرشتوں نے خوشی ظاہر کی ہنس ہنس کر مسکراتے ہوئے مجھ سے ملے بجز ایک فرشتے کے کہ اس نے میرے سلام کا جواب تو دیا مجھے مرحبا بھی کہا لیکن مسکرائے نہیں یہ کون ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ مالک ہیں۔ جہنم کے داروغہ ہیں، اپنے پیدا ہونے سے لے کر آج تک وہ ہنسے ہی نہیں اور قیامت تک ہنسیں گے بھی نہیں کیونکہ ان کی خوشی کا یہی ایک بڑا موقعہ تھا۔

واپسی میں قریشیوں کے ایک قافلے کو دیکھا جو غلہ لا دے جا رہا تھا، اس میں ایک اونٹ تھا جس پر ایک سفید اور ایک سیاہ بورا تھا، جب آپ اس کے قریب سے گزرے تو وہ چمک گیا اور مڑ گیا اور گر پڑا اور لنگڑا ہو گیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پہنچا دئے گئے۔

صبح ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس معراج کا ذکر لوگوں سے کیا۔ مشرکوں نے جب یہ سنا تو وہ سیدھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے لو تمہارے پیغمبر صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ آج کی ایک ہی رات میں مہینہ بھر کے فاصلے کے مقام تک ہو آئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر فی الواقع آپ نے یہ فرمایا ہو تو آپ سچے ہیں، ہم تو اس سے بھی بڑی بات میں آپ کو سچا جانتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کو آن کی آن میں آسمان سے خبریں پہنچتی ہیں۔

مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی سچائی کی کوئی علامت بھی آپ پیش کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے راستے میں فلاں فلاں جگہ قریش کا قافلہ دیکھا۔ ان کا ایک اونٹ جس پر سفید و سیاہ رنگ کے دو بورے ہیں، وہ ہمیں دیکھ کر بھڑ کا، گھوما اور چکر کھا کر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی جب وہ قافلہ آیا لوگوں نے ان سے جا کر پوچھا کہ راستے میں کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا ہاں ہوئی۔ فلاں اونٹ فلاں جگہ اس طرح گرا وغیرہ۔ کہتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی اسی تصدیق کی وجہ سے انہیں صدیق کہا گیا ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں موسیٰ علیہ السلام تو گندم گوں رنگ کے ہیں، جیسے ازدعمان کے آدمی ہوتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام درمیانہ قد کے کچھ سرخی مائل رنگ کے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ان کے لبوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔
(ضعیف) اس سیاق میں بھی عجائب وغرائب ہیں۔
مسند احمد میں ہے، میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) حطیم میں سویا ہوا تھا، اور روایت میں صخر میں سویا ہوا تھا کہ آنے والا آیا۔ ایک نے درمیان والے سے کہا اور وہ میرے پاس آیا اور یہاں سے یہاں تک چاک کر ڈالا یعنی گلے کے پاس سے ناف تک۔ پھر مندرجہ بالا احادیث کے مطابق بیان ہے اس میں ہے کہ چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام سے میں نے سلام کیا۔ آپنے جواب دیا اور فرمایا نیک بھائی اور نیک نبی کو مرحبا ہو۔

جب میں وہاں سے آگے پڑھ گیا تو آپ رو دئے۔ پوچھا گیا کیسے روئے؟ جواب دیا کہ اس لیے کو جو بچہ میرے بعد نبی بنا بھیجا گیا، اس کی امت بہ نسبت میری امت کے جنت میں زیادہ تعداد میں جائے گی۔ اس میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس چار نہریں دیکھیں دو ظاہر اور دو باطن میں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا، آپ نے مجھے بتلایا کہ باطنی تو جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری نیل و فرات ہیں۔

پھر میری جانب بیت المعمور بلند کیا گیا۔ پھر میرے پاس شراب کا، دودھ کا اور شہد کا برتن آیا۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا۔ فرمایا: یہ فطرت ہے جس پر تو ہے اور تیری امت۔ اس میں ہے کہ جب پانچ نمازیں ہی رہ گئیں اور پھر بھی کلیم اللہ علیہ السلام نے واپسی کا مشورہ دیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے رب سے سوال کرتے کرتے شرما گیا۔ اب میں راضی ہوں اور تسلیم کر لیتا ہوں۔
(صحیح بخاری:3207)
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی میں اس وقت مکہ میں تھا الخ۔ اس میں ہے کہ جب میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آسمان دنیا پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، جن کے دائیں بائیں بری بڑی جماعت ہے وہ داہنی جانب دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں اور ہنسنے لگتے ہیں اور جب بائیں جانب نگاہ اٹھتی ہے تو رو دیتے ہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ اور ان کے دائیں بائیں کون ہیں؟ فرمایا یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کی اولاد ہے، دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانب والے جہنمی ہیں، انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں دیکھ کر رنجیدہ۔

اس روایت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر ملاقات ہوئی۔ اس میں ہے کہ ساتویں آسمان سے میں اور اونچا پہنچایا گیا مستوی میں پہنچ کر میں نے قلموں کے لکھنے کی آوازیں سنیں۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے میں طلب تخفیف کے لیے گیا تو اللہ نے آدھی معاف فرما دیں۔ پھر گیا، پھر آدھی معاف ہوئی، پھر گیا تو پانچ مقرر ہوئیں۔ اس میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ سے ہو کر میں جنت میں پہنچایا گیا۔ جہاں سچے موتیوں کے خیمے تھے اور جہاں کی مٹی مشک خالص تھی۔ (صحیح بخاری:349)

یہ پوری حدیث صحیح بخاری شریف کی کتاب الصلوۃ میں ہے اور ذکر بنی اسرائیل میں بھی ہے اور بیان حج میں اور احادیث انبیاء میں بھی ہے۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کتاب الایمان میں بھی وارد فرمائی ہے۔ مسند احمد میں عبداللہ بن ثیقق رحمہ اللہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو کم از کم ایک بات تو ضرور پوچھ لیتا آپ نے دریافت فرمایا کیا بات؟ کہا یہی کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو میں نے آپ سے پوچھا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا۔ میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ (صحیح مسلم:291،292)

اور روایت میں ہے کہ وہ نور ہے، میں اسے کہاں سے دیکھ سکتا ہوں ؟ (صحیح مسلم:178)

ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے نور دیکھا۔ (صحیح مسلم:178)

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب میں نے معراج کے واقعہ کا لوگوں سے ذکر کیا اور قریش نے جھٹلایا، میں اس وقت حطیم میں کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میری نگاہوں کے سامنے لا دیا اور اسے بالکل ظاہر کر دیا۔ اب جو نشانیاں وہ مجھ سے پوچھتے تھے میں دیکھتا جاتا تھا اور بتاتا جاتا تھا۔ (صحیح بخاری:3886)

بیہقی میں ہے کہ بیت المقدس میں آپ نے ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی۔ اس میں ہے کہ جب واپس آکر لوگوں میں یہ قصہ بیان فرمایا تو بہت سے لوگ فتنے میں پڑ گئے، جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ کفار قریش کی جماعت اسی وقت دوڑی بھاگی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی اور کہنے لگے لو اور سنو آج تو تمہارے ساتھی ایک عجیب خبر سنا رہیں، کہتے ہیں ایک ہی رات میں وہ بیت المقدس سے ہو کر بھی آ گئے۔

آپ نے فرمایا اگر وہ فرماتے ہیں تو سچ ہے۔ واقعی ہو آئے ہیں انہوں نے نے کہا یعنی تم اسے بھی مانتے ہو کہ رات کو جائے اور صبح سے پہلے ملک شام سے واپس مکہ پہنچ جائے؟ آپ نے فرمایا اس بھی زیادہ بڑی بات کو میں اس سے بہت پہلے سے مانتا چلا آیا ہوں۔ یعنی میں مانتا ہو کہ ان کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور وہ ان تمام میں سچے ہیں۔ اسی وقت سے آپ کا لقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوا۔ (دلائل النبوہ للبیہقی:359/2:ضعیف)
مسند احمد میں ہے زربی حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت آپ معراج کا واقعہ بیان فرا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم چلے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے، دونوں صاحب اندر نہیں گئے، میں نے یہ سنتے ہی کہا، غلط ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے بلکہ اس رات آپ نے وہاں نماز بھی پڑھی، آپ نے فرمایا تیرا کیا نام ہے، میں تجھے جانتا ہوں لیکن نام یاد نہیں پڑتا۔ میں نے کہا میرا نام زر بن جیش ( رضی اللہ عنہ ) ہے فرمایا تم نے یہ بات کیسے معلوم کر لی؟ میں نے کہا یہ تو قرآن کی خبر ہے۔

آپ نے فرمایا جس نے قرآن سے بات کہی اس نے نجات پائی۔ پڑھئے وہ کون سی آیت ہے تو میں نے «سُبْحَانَ الَّذِي» کی یہ آیت «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ» پڑھی۔ (17-الإسراء:1)

آپ نے فرمایا اس میں کس لفظ کے معنی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی؟ ورنہ آپ نے اس رات وہاں نماز نہیں پڑھی اور اگر پڑھ لتیے تو تم پر اسی طرح وہاں کی نماز لکھ دی جاتی۔ جس طرح بیت اللہ کی ہے۔ واللہ وہ دونوں براق پر ہی رہے یہاں تک کہ آسمان کے دروازے ان کے لیے کھل گئے، پس جنت دوزخ دیکھ لی اور آخرت کے وعدے کی اور تمام چیزین بھی۔ پھر ویسے کے ویسے ہی لوٹ آئے۔

پھر آپ خوب ہنسے اور فرمانے لگے مزہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں آپ نے براق باندھا کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ حالانکہ عالم الغیب و الشہادۃ اللہ عالم نے اسے آپ کے لیے مسخر کیا تھا۔ میں نے پوچھا کیوں جناب یہ براق کیا ہے؟ کہا ایک جانور ہے سفید رنگ لانبے قد کا جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا ہے، جتنی دور نگاہ کام کرے۔
(سنن ترمذي:3147،قال الشيخ الألباني:حسن)

لیکن یہ یاد رہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے محض انکار سے وہ روایتیں جن میں بیت المقدس کی نماز کا ثبوت ہے وہ مقدم ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب دلائل النبوۃ میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کے واقعہ کے ذکر کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو یہی آیت «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ» (17-الإسراء:1) کی تلاوت فرمائی

اور فرمایا کہ میں عشاء کے بعد مسجد میں سویا ہوا تھا، جو ایک آنے والے نے آ کر مجھے جگایا میں اٹھ بیٹھا لیکن کوئی نظر نہ پڑا، ہاں کچھ جانور سا نظر آیا، میں نے غور سے اسے دیکھا اور برابر دیکھتا ہوا مسجد کے باہر چلا گیا تو مجھے ایک عجیب جانور نظر پڑا ہمارے جانوروں میں سے تو اس کے کچھ مشابہ خچر ہے۔ ہلتے ہوئے اور اوپر کو اٹھے ہوئے کانوں والا تھا۔
اس کا نام براق ہے مجھ سے پہلے کے انبیاء بھی اسی پر سوار ہوتے رہے، میں اس پر سوار ہو کر چلا ہی تھا کہ میری دائیں جانب سے کسی نے آواز دی کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میری طرف دیکھ میں تجھ سے کچھ پوچھوں گا۔ لیکن نہ میں نے جواب دیا نہ ٹھیرا۔ پھر کچھ آگے گیا کہ ایک عورت دنیا بھر کی زینت کئے ہوئے باہیں کھولے کھڑی ہوئی ہے، اس نے مجھے اسی طرح آواز دی کہ میں کچھ دریافت کرنا چاہتی ہوں لیکن میں نے نہ اس کی طرف التفات کیا، نہ ٹھیرا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس پہنچنا، دودھ کا برتن لینا اور جبرائیل علیہ السلام کے فرمان سے خوش ہو کر دد دفعہ تکبیر کہنا ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر فکر کیسے ہے؟ میں نے وہ دونوں واقعے راستے کے بیان کئے تو آپ نے فرمایا کہ پہلا شخص تو یہود تھا اگر آپ اسے جواب دیتے یا وہاں ٹھہرتے تو آپ کی امت یہود ہو جاتی۔

دوسرا نصرانیوں کا دعوت دینے والا تھا وہاں ٹھہرتے تو آپ کی امت دنیا کو آخرت پر ترجیح دے کر گمراہ ہو جاتی۔ پھر میں اور جبرائیل علیہ السلام بیت المقدس میں گئے ہم دونوں نے دو دو رکعتیں ادا کیں پھر ہمارے سامنے معراج لائی گئی جس سے بنی آدم کی روحیں چڑھتی ہیں دنیا نے ایسی اچھی چیز کبھی نہیں دیکھی تم نہیں دیکھتے کہ مرنے والے کی آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہیں یہ اسی سیڑھی کو دیکھتے ہوئے تعجب کے ساتھ۔

ہم دونوں اوپر چڑھ گئے میں نے اسماعیل نامی فرشتے سے ملاقات کی جو آسمان دنیا کا سردار ہے جس کے ہاتھ تلے ستر ہزار فرشتے ہیں، جن میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ اس کے لشکری فرشتوں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ فرمان الٰہی ہے تیرے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے۔

جبرائیل علیہ السلام نے اس آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہا، پوچھا گیا کون ہے؟ کہا جبرائیل ( علیہ السلام )، پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کون ہیں؟ بتلایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا کہ کیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں، وہاں میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا، اسی ہیئت میں، جس میں وہ اس دن تھے جس دن اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا تھا۔ ان کی اصلی صورت پر۔ ان کے سامنے ان کی اولاد کی روحیں پیش کی جاتی ہیں۔ نیک لوگوں کی روحوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں پاک روح ہے اور جسم بھی پاک ہے۔ اسے علیین میں لے جاؤ اور بدکاروں کی روحوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں۔ خبیث روح جسم بھی خبیث ہے۔ اسے سجین میں لے جاؤ۔



کچھ ہی چلا ہوں گا جو میں نے دیکھا کہ خوان لگے ہوئے ہیں جن پر نہایت نفیس گوشت بھنا ہوا ہے اور دوسری جانب اور خوان لگے ہوئے ہیں جن پر بدبودار سڑا بسا گوشت رکھا ہوا کچھ لوگ ہیں جو عمدہ گوشت کے تو پاس بھی نہیں آتے اور اس سڑے ہوئے گوشت کو کھا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا جرئیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ جواب دیا کہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو حلال کو چھوڑ کر حرام کی رغبت کرتے تھے۔
پھر میں کچھ اور چلا تو کچھ اور لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ اونٹ کی طرح کے ہیں، ان کے منہ پھاڑ پھاڑ کر فرشتے انہیں اس گوشت کم لقمے دے رہے ہیں جو ان کے دوسرے راستے سے واپس نکل جاتا ہے وہ چیخ چلا رہے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا یہ آپ کی امت کے لوگ ہیں جو یتیموں کا مال کھا جایا کرتے تھے جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ ضرور بھڑ کتی ہوئی جہنم کی آگ میں جائیں گے۔

میں کچھ دور اور چلا جو دیکھا کہ کچھ عورتیں اپنے سینوں کے بل ادھر لٹکی ہوئی ہیں اور ہائے وائے کر رہی ہیں۔ میرے پوچھنے پر جواب ملا کہ یہ آپ کی امت کی زنا کار عورتیں ہیں۔

میں کچھ دور اور گیا تو دیکھا کہ کچھ لوگوں کے پیٹ بڑے بڑے گھروں جیسے ہیں جب وہ اٹھنا چاہتے ہیں گر پڑتے ہیں اور باربار کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ قیامت قائم نہ ہو فرعونی جانوروں سے وہ روندے جاتے ہیں اور اللہ کے سامنے آہ وزاری کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے، سود خور ان لوگوں کی طرح ہی کھڑے ہوں گے، جنہیں شیطان نے باؤلا بنا رکھا ہو۔

میں کچھ دور اور چلا تو دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں، جن کے پہلو سے گوشت کاٹ کاٹ کر فرشتے انہی کو کھلا رہے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ جس طرح اپنے بھائی کا گوشت اپنی زندگی میں کھاتا رہا اب بھی کھا۔ میں نے پوچھا جبرائیل یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ آپ کی امت کے عیب جو اور آوازہ کش لوگ ہیں۔
پھر ہم دوسرے آسمان پر چڑھے تو میں نے وہاں ایک نہایت ہی حسین شخص کو دیکھا جو اور حسین لوگوں پر وہی فضیلت رکھتا ہے جو فضیلت چاند کو ستاروں پر ہے، میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ آپ کے بھائی یوسف علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا جس کا جواب انہوں نے دیا۔ پھر ہم تیسرے آسمان کی طرف چڑھے۔ اسے کھلوایا وہاں یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ آدمی تھے، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے جواب دیا،

پھر میں چوتھے آسمان کی طرف چڑھا۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو پایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مکان پر اٹھا لیا ہے، میں نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا، پھر پانچویں آسمان کی طرف چڑھا، وہاں ہارون علیہ السلام تھے، جنکی آدھی داڑھی سفید تھی اور آدھی سیاہ اور بہت لمبی داڑھی تھی، قریب قریب ناف تک۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا انہوں نے بتایا کہ یہ اپنی قوم کے ہر دلعزیز ہارون بن عمران علیہ السلام ہیں ان کے ساتھ ان کی قوم کی جماعت ہے، انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب دیا،

پھر میں چھٹے آسمان کی طرف چڑھا، وہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، آپ کا گندم گوں رنگ تھا بال بہت تھے، اگر دو کرتے بھی پہن لیں تو بال ان سے گزر جائیں آپ فرمانے لگے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس ان سے بڑے مرتبے کا ہوں، حالانکہ یہ مجھ سے بڑے مرتبے کے ہیں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کرنے سے مجھے معلوم ہوا کہ آپ موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں، آپ کے پاس بھی آپ کی قوم کے لوگ تھے۔ آپ نے بھی میرے سلام کا جواب دیا۔

پھر میں ساتویں آسمان کی طرف چڑھا۔ وہاں میں نے اپنے والد ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کو اپنی پیٹھ بیت المعمور سے ٹکائے ہوئے بیٹھا دیکھا۔ آپ بہت ہی بہتر آدمی تھے۔ دریافت کرنے پر مجھے آپ کا نام بھی معلوم ہوا۔ میں نے سلام کیا آپ نے جواب دیا۔

میں نے اپنی امت کو نصفا نصف دیکھا۔ نصف کے تو سفید بگلے جیسے کپڑے تھے اور نصف کے سخت سیاہ کپڑے تھے۔ میں بیت المعمور میں گیا۔ میرے ساتھ ہی سفیدکپڑے والے سب گئے اور دوسرے جن کے خاکی کپڑے تھے وہ سب روک دئیے گئے ہیں وہ بھی خیر پر۔ پھر ہم سب نے وہاں نماز ادا کی اور وہاں سے سب باہر آئے۔ اس بیت المعمور میں ہر دن ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں لیکن جو ایک دن پڑھ گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔
پھر میں سدرۃ المنتہیٰ کی جانت بلند کیا گیا، جس کا ہر ایک پتہ اتنا بڑا تھا کہ میری ساری امت کو ڈھانک لے۔ اس میں سے ایک نہر جاری تھی جس کا نام «سلسلبیل» ہے۔ پھر اس میں سے دو چشمے پھوٹے ہیں۔ ایک نہر کوثر دوسرا نہر رحمت۔ میں نے اس میں غسل کیا۔ میرے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہو گئے۔

پھر میں جنت کی طرف چڑھایا گیا وہاں میں نے ایک حور دیکھی اس سے پوچھا تو کس کی ہے؟ اس نے کہا، زید بن حارثہ ( رضی اللہ عنہ ) کی۔ وہاں میں نے نہ بگڑنے والے پانی کی اور مزہ متغیر نہ ہونے والے دودھ کی اور بے نشہ لذیذ شراب اور صاف ستھری شہد کی نہریں دیکھیں۔ اس کے انار بڑے بڑے ڈولوں کے برابر تھے۔

اس کے پرند تمہارے ان بختی اونٹوں جیسے تھے بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک گزرا۔ پھر میرے سامنے جہنم پیش کی گئی، جہاں غضب الٰہی، عذاب الٰہی، ناراضگی الٰہی تھی، اس میں اگر پتھر اور لوہا ڈالا جائے تو وہ بھی کھا جائے پھر میرے سامنے سے وہ بند کر دی گئی۔

میں پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا دیا گیا اور اور مجھے ڈھانپ لیا پس میرے اور اس کے درمیان صرف بقدر دو کمانوں کے فاصلہ رہ گیا بلکہ اور قریب اور سدرۃ المنتہیٰ کے ہر ایک پتے پر فرشتہ آ گیا اور مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی اور فرمایا کہ تیرے لیے ہر نیکی کے عوض دس ہیں تو جب کسی نیکی کا ارادہ کرے گا گو بجا نہ لائے تا ہم نیکی لکھ لی جائے گی اور جب بجا بھی لائے تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور برائی کے محض ارادے پر تغیر کئے ہوئے کچھ بھی نہ لکھا جائے گا اور اگر کرلی تو صرف ایک ہی برائی شمار ہو گی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے اور آپ کے مشورے سے جانے اور کمی ہونے کا ذکر ہے جیسے کہ بیان گزر چکا آخر جب پانچ رہ گئیں تو فرشتے نے ندا کی کہ میرا فریضہ پورا ہو گیا۔ میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی اور انہیں ہر نیکی کے بدلے اسی جیسی دس نیکیاں دیں۔
موسیٰ علیہ السلام نے واپسی پر اب کی مرتبہ بھی مجھے واپس جانے کا مشورہ دیا لیکن میں نے کہا کہ اب تو جاتے ہوئے مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ پھر آپ نے صبح کو مکے میں ان عجائبات کا ذکر کیا کہ میں اس شب بیت المقدس پہنچا، آسمانوں پر چڑھایا گیا اور یہ یہ دیکھا۔ اس پر ابوجہل بن ہشام کہنے لگا لو تعجب کی بات سنو۔ اونٹوں کو مارتے پیٹتے ہم تو بیت المقدس مہینہ بھر میں پہنچیں اور مہینہ بھر ہی واپسی میں لگ جائے۔ یہ کہتے ہیں دو ماہ مسافت ایک ہی رات میں طے کر آئے۔

آپ نے فرمایا سنو جاتے وقت میں نے تمہارے قافلے کو فلاں جگہ دیکھا تھا اور آتے وقت مجھے وہ عقبہ میں ملا۔ سنو اس میں فلاں فلاں شخص ہے، فلاں اس رنگ کے اونٹ پر ہے اور اس کے پاس یہ یہ اسباب ہے۔ ابوجہل نے کہا خبریں تو دے رہا ہے دیکھئیے کیسی نکلیں؟ اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا میں بیت المقدس کا حال تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس کی عمارت کا حال اس کی شکل و صورت پہاڑ سے اس کی نزدیکی وغیرہ۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاب دور کر دئے گئے اور جیسے ہم گھر میں بیٹھے گھر کی چیزوں کو دیکھتے ہیں اسی طرح آپ کے سامنے بیت المقدس کر دیا گیا۔ آپ فرمانے لگے اس کی بناوٹ اس طرح کی ہے۔ اس کی ہیئت اس طرح کی ہے، وہ پہاڑ سے اس قدر نزدیک ہے وغیرہ۔ اس نے کہا بیشک آپ فرماتے ہیں۔ پھر اس نے کفار کے مجمع کی طرف دیکھ کر کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات میں سچے ہیں یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے۔
(تفسیر ابن جریر الطبری:22023:ضعیف جداً)

یہ روایت اور بھی بہت سے کتابوں میں ہے ہم نے باوجود اس کی غربت اور نکارت اور ضعف کے اسے اس لیے بیان کیا ہے کہ اس میں اور احادیث کے بہت سے شواہد ہیں اور اس لیے بھی کہ بیہقی میں ہے۔
یزید بن ابی حکیم کہتے ہیں میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت میں سے ایک شخص ہیں جنہیں سفیان ثوری کہا جاتا ہے اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں میں نے پھر اور راویوں کے نام بیان کر کے پوچھا کہ وہ آپ کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کو ایک رات معراج ہوئی آپ نے آسمان میں دیکھا، الخ۔

آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت کے لوگ آپ کی طرف سے معراج والے واقعے میں بہت سے عجیب وغریب باتیں بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں وہ باتیں قصہ کہنے والوں کی ہیں۔
(دلائل النبوۃ للبیہقی:405/2:باطل و لاصل لہ)

ترمذی شریف میں ہے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معراج کی کیفیت تو بیان فرمائیے۔ آپ نے فرمایا سنو میں نے اپنے اصحاب کو مکہ میں عشاء کی نماز دیر سے پڑھائی پھر جبرائیل علیہ والسلام میرے پاس سفید رنگ کا ایک جانور لائے گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا اور مجھ سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جائیے اس نے کچھ سختی کی تو آپ نے اس کا کان مروڑا اور مجھے اس پرسوار کر دیا۔

اس میں مدینے میں نماز پڑھنے کا پھر مدین میں اس درخت کے پاس نماز پڑھنے کا ذکر ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام ٹھیرے تھے۔ پھر بیت لحم میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے تھے پھر بیت المقدس میں نماز پڑھنے کا، وہاں سخت پیاس لگنے کا اور دودھ اور شہد کے برتن آنے کا اور پیٹ بھر کر دودھ پینے کا ذکر ہے فرماتے ہیں۔

وہیں ایک شیخ تکیہ لگائے بیٹھے تھے جنہوں نے کہا یہ فطرت تک پہنچ گئے اور راہ یافتہ ہوئے۔ پھر ہم ایک وادی پر آئے جہنم کو میں نے دیکھا جو سخت دہکتے ہوئے انگارے کی طرح تھی پھر لوٹتے ہوئے فلاں جگہ قریش کا قافلہ ہمیں ملا جو اپنے کسی گمشدہ اونٹ کی تلاش میں تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا بعض لوگوں نے میری آواز بھی پہچان لی اور آپس میں کہنے لگے یہ آواز تو بالکل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہے پھر صبح سے پہلے میں اپنے اصحاب کے پاس مکہ شریف پہنچ گیا۔
میرے پاس ابوبکر آئے رضی اللہ عنہ اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رات کو کہاں تھے؟ جہاں جہاں خیال پہنچا۔ میں نے سب جگہ تلاش کیا لیکن آپ نہ ملے۔ میں نے کہا میں تو رات بیت المقدس ہو آیا کہا، وہ تو یہاں سے مہینہ بھر کے فاصلے پر ہے اچھا وہاں کے کچھ نشانات بیان فرمائیے اسی وقت وہ میرے سامنے کر دیا گیا گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ اب جو بھی مجھ سے سوال ہوتا میں دیکھ کر جواب دے دیتا۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میری گواہی ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ لیکن کفار قریش باتیں بنانے لگے کہ ابن ابی کبشہ کو دیکھو کہتا پھرتا ہے کہ ایک ہی رات میں بیت المقدس ہو آیا۔

آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں ایک نشان بتاؤں، تمہارے قافلے کو میں نے فلاں مقام پر دیکھا ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا جسے فلاں شخص لے آیا۔ اب وہ اتنے فاصلے پر ہیں ایک منزل ان کی فلاں جگہ ہو گی، دوسری فلاں اور وہ فلاں دن یہاں پہنچیں گے۔ ان کے قافلے میں سب سے پہلے گندمی رنگ کا اونٹ ہے، جس پر سیاہ جھول پڑی ہوئی ہے اور دو سیاہ بوریاں اسباب کی دونوں طرف لدی ہوئی ہیں۔ جب وہ دن آیا جو دن اس کے قافلے کے واپس پہنچنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ دوپہر کو لوگ دوڑے بھاگے شہر کے باہر گئے کہ دیکھیں یہ سب باتیں سچ ہیں؟ تو دیکھا کہ قافلہ آ رہا ہے اور واقعی وہی اونٹ آگے ہے۔
(دلائل النبوۃ للبیهقی:355/2:حسن)

یہی روایت اور کتابوں میں بہت مطول بھی مروی ہے اور اس میں بہت باتیں منکر بھی ہیں۔ مثلا بیت اللحم میں آپ کا نماز ادا کرنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا بیت المقدس کی نشانیاں دریافت کرنا وغیرہ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج والی رات جنت میں تشریف لے گئے تو ایک طرف سے پیروں کی چاپ کی آواز آئی آپ نے پوچھا جبرائیل ( علیہ السلام ) یہ کون ہیں؟ جواب ملا کہ بلال رضی اللہ عنہ مؤذن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آ کر فرمایا بلال تو نجات پاچکے۔ میں نے اس اس طرح دیکھا۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے بوقت ملاقات فرمایا۔ نبی امی کو مرحبا ہو۔ موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے لانبے قد کے کانوں تک یا کانوں سے قدرے اونچے بال والے تھے۔

اس میں ہے کہ ہر نبی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سلام کیا۔ جہنم کے ملاحظہ کے وقت آپ نے دیکھا کہ چھ لوگ مردار کھا رہے ہیں۔ پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے ( یعنی غیبت گو تھے ) وہیں آپ نے ایک شحص کو دیکھا جو خود آگ جیسا سرخ ہو رہا تھا۔ آنکھیں ٹیڑھی ترچھیں تھیں پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی ہے جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو مار ڈالا تھا۔ (مسند احمد:257/1:ضعیف)
مسند احمد میں ہے کہ جب آپ کو بیت المقدس پہنچا کر وہاں سے واپس لاکر ایک ہی رات میں مکہ شریف پہنچا دیا گیا اور آپ نے یہ خبر لوگوں کو سنائی۔ بیت المقدس کے نشان بتائے ان کے قافلے کی خبر دی تو بعض لوگ یہ کہہ کر کہ ہم ایسی باتوں میں انہیں سچا نہیں مان سکتے، اسلام سے پھر گئے۔ پھر یہ سب ابوجہل کے ہمراہ قتل کئے گئے۔ ابوجہل کہنے لگا کہ یہ ہمیں شجرۃ الزقوم سے ڈرا رہا ہے، لاؤ کھجور اور مکھن لاؤ اور تمرق کرلو یعنی ملاکر کھالو۔

آپ نے اس رات دجال کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا اور آنکھوں کا دیکھنا نہ کہ خواب میں دیکھنا۔ عیسیٰ علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا۔ دجال کی شبیہ آپ نے بیان فرمائی وہ بھدا، خبیث، چندھا ہے اور اس کی ایک آنکھ ایسی قائم ہے جیسے تارا اور بال ایسے ہیں جیسے کسی درخت کی گھنی شاخیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا وصف آپ نے اس طرح بیان فرمایا ک وہ سفید رنگ، گھنگریالے بالوں والے درمیان قد کے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے مضبوط اور قوی آدمی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام تو بالکل ہوبہو مجھ جیسے تھے۔
(مسند احمد:374/1:صحیح) الخ۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک کو بھی جو جہنم کے داروغہ ہیں دیکھا۔ ان نشانیوں میں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آپ کے چچا زاد بھائی نے آیت قرآن «‏‏‏‏فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ» (32-السجدة:23) پڑھی جس کی تفسیر قتادہ رحمہ اللہ اس طرح کرتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے ہونے میں تو شک نہ کر۔ ہم نے اسے یعنی موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا۔ یہ روایت صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ (صحیح بخاری:3396)

اور سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شب معراج ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلیٰ اور مست خوشبو کی مہک آنے لگی۔ میں نے پوچھا کہ یہ خوشبوی کیسی ہے؟ جواب ملا کہ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ اور اس کی اولاد کے محل کی۔ فرعون کی شہزادی کو کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اتفاقاً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بےساختہ «بسم اللہ» نکل گیا اس پر شہزادی نے اس سے کہا اللہ تو میرے ہی باپ ہیں؟ اس نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ وہ ہے جو مجھے اور تجھے اور خود فرعون کو روزیاں دیتا ہے۔

اس نے کہا اچھا تو کیا تو میرے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں ہاں میرا تیرا اور تیرے باپ سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس نے اپنے باپ سے کہلوایا وہ سخت غضبناک ہوا اور اسی وقت اسے برسر دربار بلوا بھیجا اور کہا کیا تو میرے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے۔
فرعون نے اسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی جو گائے بنی ہوئی ہے، اسے خوب تپایا جائے اور جب وہ بالکل آگ جیسی ہو جائے تو اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈال دیا جائے آخر میں خود اسے بھی اسی طرح ڈال دیا جائے۔ چنانچہ وہ گرم کی گئی جب آگ جیسی ہو گئی تو حکم دیا کہ اس کے بچوں کو ایک ایک کرکے اسے میں ڈالنا شروع کرو۔ اس نے کہا بادشاہ ایک درخواست میری منظور کر وہ یہ کہ میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک ہی جگہ ڈال دینا۔ اس نے کہا کہ اچھا تیرے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں۔ اس لیے یہ منظور ہے۔

جب وہ اور سب بچے اس میں ڈال دئیے گئے اور سب جل کر راکھ ہو گئے تو سب سے چھوٹے کی باری آئی جو ماں کی چھاتی سے لگا ہوا دودھ پی رہا تھا۔ فرعون کے سپاہوں نے اسے جب گھسیٹا تو اس نیک بندی کے آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو اسی وقت زبان دے دی اور اس نے باآواز بلند ہوکر کہا اماں جان! افسوس نہ کرو اماں جان ذرا بھی پس و پیش نہ کرو۔ حق پر جان دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے چنانچہ انہیں صبر آگیا اسے بھی اس میں ڈال دیا اور آخر میں ان بچوں کی ماں کو بھی رضی اللہ عنہم اجمعین۔

یہ خوشبو کی مہکیں اسی کے جنتی محل سے آرہی ہیں۔ آپ نے اس واقعہ کے ساتھ ہی بیان فرمایا کہ چار چھوٹے بچوں نے گہوارے ہی میں بات چیت کی ایک تو یہی بچہ۔ اور ایک وہ بچہ جس نے یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ اور ایک وہ بچہ جس نے جریج ولی اللہ کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام۔
(صحیح بخاری:3436) اس روایت کی سند بےعیب ہے۔
اور روایت میں ہے کہ معراج والی رات کو صبح مجھے یقین تھا کہ جب میں یہ ذکر لوگوں سے کروں گا، تو وہ مجھے جھٹلائیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف غمگین ہو کر بیٹھ گئے۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دشمن رب ابوجہل گزرا اور پاس بیٹھ کر بطور مذاق کہنے لگا کہیے کوئی نئی بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہے۔ اس نے کہا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو مجھے سیر کرائی گئی، اس نے پوچھا کہاں تک پہنچے؟ فرمایا بیت المقدس تک، کہا اور صبح کو پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہاں موجود بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔

اب اس موذی کے دل میں خیال آیا کہ اس وقت انہیں جھٹلانا اچھا نہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے مجمع میں پھر یہ بات نہ کہیں۔ اس لیے اس نے کہا کیوں صاحب اگر میں ان سب لوگوں کو جمع کرلوں تو سب کے سامنے بھی آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہی کہیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں؟ سچی باتیں چھپانے کو نہیں ہوتیں۔ اسی وقت اس نے ہانک لگائی کہ اے بنی کعب بن لوی کی اولاد والو آؤ۔ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بیٹھ گئے تو اس ملعون نے کہا اب اپنی قوم کے ان لوگوں کے سامنے وہ بات بیان کرو۔ جو مجھ سے کر رہے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سنو مجھے اس رات سیر کرائی گئی۔ سب نے پوچھا کہاں تک گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس تک۔ لوگوں نے کہا اچھا اور پھر صبح کو ہم میں موجود ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اب تو کسی نے تالیاں پیٹنی شروع کردیں کوئی تعجب کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھ کر بیٹھ رہا اور سخت حیرت کے ساتھ انہوں نے بالاتفاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھا پھر کچھ دیر کے بعد کہنے لگے اچھا تم وہاں کی کیفیت اور جو نشانات ہم پوچھیں بتاسکتے ہو؟ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بیت المقدس ہو آئے تھے اور وہاں کے چپے چپے سے واقف تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو کیا پوچھتے ہو؟ وہ پوچھنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتلانے لگے۔

فرماتے ہیں بعض ایسے باریک سوال انہوں نے کئے کہ ذرا مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی اسی وقت مسجد میرے سامنے کر دی گئی اب میں دیکھتا جاتا تھا اور بتاتا جاتا تھا۔ بس یوں سمجھو کہ عقیل کے گھر کے پاس ہی مسجد تھی یا عقال کے گھر کے پاس۔ یہ اس لیے کہ بعض اوصاف مجھے مسجد کے یاد نہیں رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان نشانات کے بتلانے کے بعد سب کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوصاف تو صاف صاف اور ٹھیک ٹھیک بتائے۔ اللہ کی قسم ایک بات میں بھی غلطی نہیں کی۔ یہ حدیث نسائی وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ (سنن نسائی:11285:حسن)

بیہقی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے جو چیز چڑھے وہ یہیں تک پہنچتی ہے پھر یہاں سے اٹھالی جاتی ہے اور جو اترے وہ یہیں تک اترتی ہے پھر یہاں سے لے لی جاتی ہے۔ اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں چھا رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کے آخر کی آیتیں دی گئیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو شرک نہ کرے گا اس کے کبیرہ گناہ بھی بخش دئے جائیں گے۔ مسلم وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے۔ (صحیح مسلم:173)
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے معراج کی مطول حدیث بھی مروی ہے جس میں غرابت ہے۔ حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جزء میں اسے وارد کیا ہے۔ ابو ظبیان کہتے ہیں ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے پاس سیدنا محمد بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے تو سیدنا محمد بن سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم نے معراج کی بابت جو کچھ اپنے والد سے سنا ہو سناؤ انہوں نے کہا نہیں، آپ ہی سنائیے جو آپ نے والد صاحب ( رضی اللہ عنہ ) سے سنا ہو۔

پس آپ نے روایت بیان کرنی شروع کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب براق اونچائی پر چڑھتا اس کے ہاتھ پاؤں برابر کے ہو جاتے۔ اس طرح جب نیچے کی طرف اتراتا تب بھی برابر ہی رہتے جس سے سوار کو تکلیف نہ ہو۔ ہم ایک صاحب کے پاس سے گزرے طویل قامت سیدھے سیدھے بالوں والے گندمی رنگ کے تھے ایسے ہی جیسے ازدشنوہ قبیلے کے آدمی ہوتے ہیں۔ وہ باآواز بلند کہہ رہے تھے کہ تم نے اس کا اکرام کیا اور اسے فضیلت عطا فرمائی۔ ہم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، پوچھا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ احمد ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) انہوں نے فرمایا، نبی امی عربی کو مرحبا ہو، جس نے اپنے رب کی رسالت پہنچائی اور اپنی امت کی خیر خواہی کی۔

پھر ہم لوٹے میں نے پوچھا جبرائیل ( علیہ السلام ) یہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ موسیٰ بن عمران ہیں علیہ الصلوۃ والسلام۔ میں نے کہا اور یہ ایسے لفظوں سے باتیں کس سے کر رہے تھے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ سے آپ کے بارے میں۔ میں نے کہا اللہ سے اور اس آواز سے؟ فرمایا ہاں اللہ کو ان کی تیزی معلوم ہے۔ پھر ہم ایک درخت کے پاس سے نکلے، جس کے پھل چراغوں جیسے تھے۔ اس کے نیچے ایک بزرگ شیخ بیٹھے ہوئے تھے، جن کے پاس بہت سے چھوٹے بچے تھے۔

جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا چلو اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کو سلام کرو۔ ہم نے وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا جواب پایا۔ جبرائیل علیہ السلام سے آپ نے میری نسبت پوچھا، انہوں نے جواب دیا کہ یہ آپ کے لڑکے احمد علیہ السلام ہیں، تو آپ نے فرمایا مرحبا ہو نبی امی کو جس نے اپنے رب کی پیغمبری پوری کی اور اپنی امت کی خیر خواہی کی۔ میرے خوش نصیب بیٹے آج رات آپ کی ملاقات اپنے پروردگار سے ہونے والی ہے۔ آپ کی امت سب سے آخری امت ہے اور سب سے کمزور بھی ہے۔ خیال رکھنا ایسے ہی کام ہوں جو ان پر آسان رہیں۔
پھر ہم مسجد اقصٰی پہنچے میں نے اتر کر براق کو اسی حلقے میں باندھا جس میں اور انبیاء باندھا کرتے تھے پھر مسجد میں گیا وہاں میں نے نبیوں کو پہچانا کوئی نماز میں کھڑا ہے کوئی رکوع میں ہے کوئی سجدے میں۔ پھر میرے پاس شہد کا اور دودھ کا برتن لایا گیا میں نے دودھ کا برتن لے کر پی لیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے میرے کندھے پر ہاتھ کر فرمایا رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم تو فطرت کو پہنچ گیا پھر نماز کی تککبیر ہوئی اور میں نے ان سب کو نماز پڑھائی پھر ہم واپس لوٹ آئے۔

اس کی اسناد غریب ہے۔ اس میں بھی غرائب ہیں مثلا انباء کا آپ کی شناخت کا سوال پھر آپ کا ان کے پاس جانے کے بعد ان کی معرفت کا سوال وغیرہ۔ حالانکہ صحیح احادیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام پہلے ہی آپ کو بتلادیا کرتے تھے کہ یہ فلاں نبی ہیں تاکہ سلام پہچان کے بعد ہو۔ پھر اس میں ہے کہ انبیاء سے ملاقات بیت المقدس کی مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہوئی۔ حالانکہ صحیح روایتیوں میں ہے کہ ان سے ملاقات آسمانوں پر ہوئی۔ پھر آپ دوبارہ اترتے ہوئے واپس میں بیت المقدس کی مسجد میں آئے۔ وہ سب بھی آپ کے ساتھ تھے اور یہاں آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر براق پر سوار ہو کر مکہ شریف واپس آئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی راویت سے ہے کہ میں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) شب معراج ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملا۔ وہاں قیامت کے قائم ہونے کے خاص وقت کی بابت مذاکرہ ہوا۔ ابراہیم علیہ السلام نے لاعلمی ظاہر کی تو کہا موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا۔ انہوں نے بھی بے خبری ظاہر کی پھر طے ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر رکھو۔ آپ نے فرمایا اس کے صحیح وقت کا علم تو بجز اللہ کے کسی کو نہیں، ہاں یہ تو مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے، اس وقت میرے ساتھ دو چھڑیاں ہوں گے، وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح گھلنے لگے گا، آخر میری وجہ سے اللہ اسے ہلاک کرے گا۔

پھر تو درخت پتھر بھی بول اٹھیں گے کہ اے مسلمان دیکھ یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے آ اور اسے قتل کر۔ پس اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کرے گا۔ لوگ ٹھنڈے دلوں اپنے شہروں اور وطنوں میں لوٹ جائیں گے اسی زمانے میں یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے کودتے پھاندتے آئیں گے۔ جو چیز پائیں گے غارت کر دیں گے، جو پانی دیکھیں گے پی جائیں گے، آخر لوگ تنگ آکر مجھ سے شکایت کریں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔

اللہ ان سب کو ایک ساتھ ہی ہلاک کر دے گا لیکن زمین پر ان لاشوں کی تعفن کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہو جائے گا اس وقت اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گی۔ مجھے یہ خوب معلوم ہے کہ اس کے بعد ہی فوراً قیامت آ جائے گی جیسے پورے دن کی حمل والی ہو کہ نہ جانے صبح فارغ ہو جائے یا رات ہی کو۔
(مسند احمد:375/1:ضعیف)

اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجد تک پہنچایا گیا اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان تھے جو جبرائیل علیہ السلام دائیں اور میکائیل علیہ السلام بائیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اڑا لے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی بلندیوں تک پہنچے لوٹتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تسبیحیں بھی مع اور تسبیحوں کے سنیں۔ یہ روایت اسی سورت کی آیت «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ» (17-الإسراء:44) الخ، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔

مسند احمد میں ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ میں تھے بیت المقدس کی فتح کا ذکر ہوا آپ نے کعب سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں مجھے وہاں کس جگہ نماز پڑھنی چاہیئے۔ انہوں نے فرمایا مجھ سے پوچھتے ہو تو میں تو کہوں گا کہ صخرہ کے پیچھے نماز پڑھئے تاکہ بیت المقدس آپ کے سامنے رہے آپ نے فرمایا تم نے وہی یہودیت کی مشابہت کی۔ میں تو اس جگہ نماز پڑھوں گا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے پس آپ نے آگے بڑھ کر قبلہ کی طرف نماز ادا کی۔ بعد از ادائے نماز آپ نے صخرہ کے آس پاس سے تمام کوڑا سمیٹا اور اپنی چادر میں باندھ کر باہر پھینکنا شروع کیا اور اوروں نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ (مسند احمد:38/1:ضعیف)

پس آپ نے نہ تو صخرہ کی ایسی تعظیم کی جیسے یہود کرتے تھے کہ نماز بھی اسی کے پیچھے پڑھتے تھے بلکہ اسی کو قبلہ بنا رکھا تھا۔ چونکہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بھی اسلام سے پہلے یہودی تھے، اسی لیے آپ نے ایسی رائے پیش کی تھی جسے خلیفتہ المسلمین نے ٹھکرادیا، اور نہ آپ نے نصرانیوں کی طرح صخرہ کی اہانت کی کہ انہوں نے تو اسے کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ بنا رکھا تھا۔ بلکہ آپ نے خود اس کے آس پاس سے کوڑا اٹھا کر پھینکا۔ یہ بالکل اس حدیث کے مشابہ ہے جس میں ہے کہ نہ تو قبروں پر بیٹھو نہ ان کی طرف نماز ادا کرو۔ (صحیح مسلم:972)

ایک طویل روایت معراج کی بابت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غرب والی بھی مروی ہے، اس میں ہے کہ جبرائیل اور میکائیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام سے کہا کہ میرے پاس زمزم کے پانی کا طشت بھر لاؤ کہ ان میں ان کے دل کو پاک کروں اور ان کے سینے کو کھول دوں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیٹ چاک کیا اور اسے تین بار دھویا اور تینوں مرتبہ میکائیل علیہ السلام کے لائے ہوئے پانی کے طشت سے اسے دھویا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کو کھول دیا۔ سب غل و غش دور کر دیا اور علم و حلم، ایمان و یقین سے اسے پر کیا، اسلام اس میں بھر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی۔ اور ایک گھوڑے پر بٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل علیہ السلام لے چلے۔

دیکھا کہ ایک قوم ہے ادھر کھیتی کاٹتی ہے، ادھر بڑھ جاتی ہے۔ جبرائیل علیہ السلام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا یہ اللہ کی راہ کے مجاہد ہیں جن کی نیکیاں سات سات سو تک بڑھتی ہیں، جو خرچ کریں اس کا بدلہ پاتے ہیں، اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس قوم پر ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جار ہے تھے، ہر بار ٹھیک ہو جاتے اور پھر کچلے جاتے۔ دم بھر کی انہیں مہلت نہ ملتی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ فرض نمازوں کے وقت ان کے سر بھاری ہو جایا کرتے تھے۔

پھر کچھ لوگوں کو میں نے دیکھا کہ ان کے آگے پیچھے دھجیاں لٹک رہی ہیں اور اونٹ اور جانوروں کی طرح کانٹوں دار جہنمی درخت چر چگ رہے اور جہنم کے پتھر اور انگارے کھا رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیسے لوگ ہیں؟ فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دینے والے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

پھر میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے سامنے ایک ہنڈیا میں تو صاف ستھرا گوشت ہے دوسری میں خبیث سڑا بھسا گندہ گوشت ہے، یہ اس اچھے گوشت سے تو روک دئے گئے ہیں اور اس بدبودار بد مزہ سڑے ہوئے گوشت کو کھا رہے ہیں۔ میں نے سوال کیا یہ کس گناہ کے مرتکب ہیں؟ جواب ملا کہ یہ وہ مرد ہیں جو اپنی حلال بیویوں کو چھوڑ کر حرام عورتوں کے پاس رات گزارتے تھے۔ اور وہ عورتیں ہیں جو اپنے حلال خاوند کو چھوڑ کر اوروں کے ہاں رات گزارتی تھیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ راستے میں ایک لکڑی ہے کہ ہر کپڑے کو پھاڑ دیتی ہے اور ہر چیز کو زخمی کر دیتی ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ فرمایا، یہ آپ کے ان امتیوں کی مثال ہے جو راستے روک کر بیٹھ جاتے ہیں۔

پھر اس آیت کو پڑھا «وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا» (7-الأعراف:86) الخ، ” یعنی ہر ہر راستے پر لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور راہ حق سے روکنے کے لیے نہ بیٹھا کرو “ الخ۔

پھر دیکھا کہ ایک شخص بہت بڑا ڈھیر جمع کئے ہوئے ہے جسے اٹھا نہیں سکتا، پھر بھی وہ اور بڑھا رہا ہے۔ پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا وہ شخص ہے جس کے اوپر لوگوں کے حقوق اس قدر ہیں کہ وہ ہرگز ادا نہیں کر سکتا تاہم وہ اور حقوق چڑھا رہا ہے اور امانتیں لیے جا رہا ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو دیکھا جن کی زبان اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ ادھر کٹے، ادھر درست ہو گئے، پھر کٹ گئے، یہی حال برابر جاری ہے۔ پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا یہ فتنے کے واعظ اور خطیب ہیں۔ پھر دیکھا کہ ایک چھوٹے سے پتھر کے سوراخ میں سے ایک بڑا بھاری بیل نکل رہا ہے، پھر وہ لوٹنا چاہتا ہے لیکن نہیں جا سکتا۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ وہ شخص ہے جو کوئ بڑا بول بولتا تھا، اس پر نادم تو ہوتا تھا مگر لوٹا نہیں سکتا تھا۔

پھر آپ ایک وادی میں پہنچے۔ وہاں نہایت نفیس، خوش گوار ٹھنڈی ہوا اور دل خوش کن، معطر، خوشبودار، راحت و سکون کی مبارک صدائیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ جنت کی آواز ہے، وہ کہہ رہی ہے کہ یا اللہ مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر۔ میرے بالاخانے، ریشم، موتی، مونگے، سونا، چاندی، جام، کٹورے اور پانی، دودھ، شراب وغیرہ وغیرہ نعمتیں بہت زیادہ ہو گئیں۔

اسے اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ ہر ایک مسلمان مومن مرد و عورت جو مجھے اور میرے رسولوں کو مانتا ہو، نیک عمل کرتا ہو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، میرے برابر کسی کو نہ سمجھتا ہو، وہ سب تجھ میں داخل ہوں گے۔ سن! جس کے دل میں میرا ڈر ہے، وہ ہر خوف سے محفوظ ہے۔ جو مجھ سے سوال کرتا ہے، وہ محروم نہیں رہتا۔ جو مجھے قرض دیتا ہے، میں اسے بدلہ دیتا ہوں۔ جو مجھ پر توکل کرتا ہے، میں اسے کفایت کرتا ہوں۔ میں سچا معبود ہوں، میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میرے وعدے خلاف نہیں ہوتے، مومن نجات یافتہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ہے جو سب سے بہتر خالق ہے۔ یہ سن کر جنت نے کہا، بس میں خوش ہو گئی۔

پھر آپ ایک دوسری وادی میں پہنچے جہاں نہایت بری اور بھیانک مکروہ آوازیں آ رہی تھیں اور سخت بدبو تھی۔ آپ نے اس کی بابت بھی جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا، انہوں نے بتلایا کہ یہ جہنم کی آواز ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اے اللہ مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر۔ میرے طوق و زنجیر، میرے شعلے اور گرمائی، میرا تھور اور لہو پیپ، میرے عذاب اور سزا کے سامان بہت وافر ہو گئے ہیں، میرا گہراؤ بہت زیادہ ہے، میری آگ بہت تیز ہے۔ مجھے وہ دے جس کا وعدہ مجھ سے ہوا ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ ہر مشرک و کافر، خبیث، منکر، بے ایمان مرد و عورت تیرے لیے ہے۔ یہ سن کر جہنم نے اپنی رضا مندی ظاہر کی۔

آپ پھر چلے۔ یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے، اتر کر صخرہ میں اپنے گھوڑے کو باندھا، اندر جاکر فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ فراغت کے بعد انہوں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے کہا آپ کی طرف بھیجا گیا؟ فرمایا ہاں، سب نے مرحبا کہا کہ بہترین بھائی اور بہت ہی اچھے خلیفہ ہیں اور بہت اچھائی اور عزت سے آئے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات نبیوں کی روحوں سے ہوئی۔ سب نے اپنے پروردگار کی ثنا بیان کی۔

ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنا خلیل بنایا اور مجھے بہت بڑا ملک دیا اور میرے امت کو ایسی فرمانبردار بنایا کہ ان کی اقتداء کی جاتی ہے، اسی نے مجھے آگ سے بچالیا اور اسے میرے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بنا دی۔

موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اللہ ہی کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھ سے کلام کیا، میرے دشمنوں کو آل فرعون کو ہلاک کیا، بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں نجات دی، میری امت میں ایسی جماعت رکھی جو حق کی ہادی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی تھی۔

پھر داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرنی شروع کی کہ الحمدللہ! اللہ نے مجھے عظیم الشان ملک دیا، مجھے زبور کا علم دیا، میرے لیے لوہا نرم کر دیا، پہاڑوں کو مسخر کر دیا اور پرندوں کو بھی جو میرے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے، مجھے حکمت اور پر زور کلام عطا فرمایا۔

پھر سلیمان علیہ السلام نے ثنا خوانی شروع کی کہ الحمدللہ! اللہ نے ہواؤں کو میرے تابع کر دیا اور شیاطین کو بھی کہ وہ میری فرمان کے ماتحت بڑے بڑے محلات اور نقشے اور برتن وغیرہ بناتے تھے۔ اس نے مجھے جانوروں کی گفتگو کے سمجھنے کا علم فرمایا۔ ہر چیز میں مجھے فضیلت دی، انسانوں کے، جنوں کے، پرندوں کے لشکر میرے ماتحت کر دئے اور اپنے بہت سے مومن بندوں پر مجھے فضیلت دی اور مجھے وہ سلطنت دی جو میرے بعد کسی کے لائق نہیں اور وہ بھی ایسی جس میں پاکیزگی ہی پاکیزگی تھی اور کوئی حساب نہ تھا۔

پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنی شروع کی کہ اس نے مجھے اپنا کلمہ بنایا اور میری مثال آدم علیہ السلام کی سی کی۔ جسے مٹی سے پیداکر کے کہہ دیا تھا کہ ہوجا اور وہ ہو گئے تھے۔ اس نے مجھے کتاب و حکمت، تورات و انجیل سکھائی، میں مٹی کا پرند بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ بحکم الٰہی زندہ پرند بن کر اڑ جاتا۔ میں بچپن کے اندھوں کو اور جذامیوں کو بحکم الٰہی اچھا کر دیتا تھا، مردے اللہ کی اجازت سے زندہ ہو جاتے تھے۔ مجھے اس نے اٹھا لیا، مجھے پاک صاف کر دیا، مجھے اور میری والدہ کو شیطان سے بچا لیا، ہم پر شیطان کا کچھ دخل نہ تھا۔


اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سب نے تو اللہ کی تعریفیں بیان کرلیں، اب میں کرتا ہوں۔ اللہ ہی کے لیے حمد و ثنا ہے جس نے مجھے رحمت للعالمین بناکر اپنی تمام مخلوق کے لیے ڈرانے اور خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا، مجھ پر قرآن کریم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ میری امت کو تمام اور امتوں سے افضل بنایا جو کہ اوروں کی بھلائی کے لیے بنائی گئی ہے۔ اسے بہترین امت بنایا، انہی کو اول کی اور آخر کی امت بنایا۔ میرا سینہ کھول دیا، میرے بوجھ دور کر دئے، میرا ذکر بلند کر دیا اور مجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، انہی وجوہ سے نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم سب سے افضل ہیں۔ امام ابو جعفر رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شروع کرنے والے آپ ہیں یعنی بروز قیامت شفاعت آپ ہی سے شروع ہو گی۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین ڈھکے ہوئے برتن پیش کئے گئے، پانی کے برتن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا پی کر واپس کر دیا۔ پھر دودھ کا برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ بھر کر دودھ پیا۔ پھر شراب کا برتن لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پینے سے انکار کر دیا کہ میں شکم سیر ہو چکا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر حرام کر دی جانے والی ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پی لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار بہت ہی کم ہوتے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان کی طرف چڑھایا گیا، دروازہ کھلوانا چاہا تو پوچھا گیا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ پوچھا گیا کیا آپ کی طرف بھیج دیا گیا؟ فرمایا ہاں، انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اس بھائی اور خلیفہ کو خوش رکھے یہ بڑے اچھے بھائی اور نہایت عمدہ خلیفہ ہیں۔ اسی وقت دروازہ کھول دیا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص ہیں پوری پیدائش کے، عام لوگوں کی طرح ان کی پیدائش میں کوئی نقصان نہیں، ان کے دائیں ایک دروازہ ہے جہاں سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہیں اور بائیں جانب ایک دروازہ ہے جہاں سے خبیث ہوا آ رہی ہے۔ داہنی طرف کے دروازے کو دیکھ کر ہنس دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور بائیں طرف کے دروازے کو دیکھ کر رو دیتے ہیں اور غمگین ہو جاتے ہیں۔

میں نے کہا جبرائیل علیہ السلام یہ شیخ پوری پیدائش والے کون ہیں؟ جن کی خلقت میں کچھ بھی نہیں گھٹا۔ اور یہ دونوں دروازے کیسے ہیں؟ جواب ملا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آدم علیہ السلام ہیں۔ دائیں جانب جنت کا دروازہ ہے۔ اپنی جنتی اولاد کو دیکھ کر خوش ہو کر ہنس دیتے ہیں اور بائیں جانب جہنم کا دروازہ ہے۔ آپ اپنی دوزخی اولاد کو دیکھ کر رو دیتے ہیں اور غمگین ہو جاتے ہیں۔

پھر دوسرے آسمان کی طرف چڑھے۔ اسی طرح کے سوال جواب کے بعد دروازہ کھلا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جوانوں کو دیکھا۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ یہ عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام ہیں۔ یہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی ہوتے ہیں۔

پھر اسی طرح تیسرے آسمان پر پہنچے۔ وہاں یوسف علیہ السلام کو پایا جنہیں حسن میں اور لوگوں پر وہی فضیلت تھی جو چاند کو باقی ستاروں پر۔

پھر چوتھے آسمان پر اسی طرح پہنچے۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو پایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مکان پر چڑھا لیا ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں آسمان پر بھی انہی سوالات و جوابات کے بعد پہنچے۔ دیکھا کہ ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے آس پاس کچھ لوگ ہیں جو ان سے باتیں کر رہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب ملا کہ ہارون علیہ السلام ہیں جو اپنی قوم میں ہر دلعزیز تھے اور یہ لوگ بنی اسرائیل ہیں۔

پھر اسی طرح چھٹے آسمان پر پہنچے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے بھی آگے نکل جانے پر وہ رو دئیے۔ دریافت کرنے پر سبب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میری نسبت یہ سمجھتے تھے کہ تمام اولاد آدم میں اللہ کے پاس سب سے زیادہ بزرگ میں ہوں لیکن یہ ہیں میرے خلیفہ جو دنیا میں ہیں اور میں آخرت میں ہوں۔ خیر صرف یہی ہوتے تو بھی چنداں مضائقہ نہ تھا لیکن ہر نبی کے ساتھ اس کی امت ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ساتویں آسمان پر پہنچے۔ وہاں ایک صاحب کو دیکھا جن کی داڑھی میں کچھ سفید بال تھے۔ وہ جنت کے دروازے پر ایک کرسی لگائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کچھ اور لوگ بھی ہیں۔ بعض کے چہرے تو روشن ہیں اور بعض کے چہروں پر کچھ کم چمک ہے بلکہ رنگ میں کچھ اور بھی ہے۔ یہ لوگ اٹھے اور نہر میں ایک غوطہٰ لگایا جس سے رنگ قدرے نکھر گیا، پھر دوسری نہر میں نہائے کچھ اور نکھر گئے، پھر تیسری میں غسل کیا بالکل روشن سفید چہرے ہو گئے۔ آکر دوسروں کے ساتھ ملکر بیٹھ گئے اور انہی جیسے ہو گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ روئے زمین پر سفید بال سب سے پہلے ان ہی کے نکلے۔ یہ سفید منہ والے وہ ایماندار لوگ ہیں جو برائیوں سے بالکل بچے رہے اور جن کے چہروں کے رنگ میں کچھ کدورت تھی، یہ وہ لوگ ہیں جن سے نیکیوں کے ساتھ کچھ بدیاں بھی سرزد ہو گئی تھیں۔ ان کی توبہ پر اللہ تعالیٰ مہربان ہو گیا۔ اول نہر اللہ کی رحمت ہے، دوسری نعمت ہے، تیسری شراب طہور کی نہر ہے جو جنتیوں کی خاص شراب ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سنتوں پر جو پابندی کرے وہ یہاں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کی جڑ سے پاکیزہ پانی کی، صاف ستھرے دودھ کی، لذیذ بے نشہ شراب کی اور صاف شہد کی نہریں جاری تھیں۔

اس درخت کے سائے میں کوئی سوار اگر ستر سال بھی چلا جائے تاہم اس کا سایہ ختم نہیں ہوتا۔ اس کا ایک ایک پتہ اتنا بڑا ہے کہ ایک ایک امت کو ڈھانپ لے۔ اللہ تعالیٰ عز و جل کے نور نے اسے چاروں طرف سے ڈھک رکھا تھا اور پرند کی شکل کے فرشتوں نے اسے چھپا لیا تھا جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت میں وہاں تھے۔

اس وقت اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں، فرمایا کہ مانگو کیا مانگتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گزارش کی کہ اے اللہ تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور انہیں بڑا ملک دیا، موسیٰ علیہ السلام سے تو نے باتیں کیں، داؤد علیہ السلام کو تو نےعظیم الشان سلطنت دی اور ان کے لیے لوہا نرم کر دیا۔

سلیمان علیہ السلام کو تو نے بادشاہت دی، جنات، انسان، شیاطین، ہوائیں ان کے تابع فرمان کیں اور وہ بادشاہت دی جو کسی کے لائق ان کے سوا نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کو تو نے تورات و انجیل سکھائی، اپنے حکم سے اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کرنے والا اور مردوں کو جلانے والا بنایا، انہیں اور ان کی والدہ کو شیطان رجیم سے بچایا کہ اسے ان پر کوئی دخل نہ تھا، میری نسبت فرمان ہو۔

رب العالمین عز و جل نے فرمایا، تو میرا خلیل ہے، توراۃ میں میں نے تجھے خلیل الرحمن کا لقب دیا ہے۔ تجھے تمام لوگوں کی طرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، تیرا سینہ کھول دیا ہے، تیرا بوجھ اتار دیا ہے۔ تیرا ذکر بلند کر دیا ہے، جہاں میرا ذکر آئے وہاں تیرا ذکر بھی ہوتا ہے اور تیری امت کو میں نے سب امتوں سے بہتر بنایا ہے جو لوگوں کے لیے ظہور میں لائی گئی ہے۔ تیری امت کو بہترین امت بنایا ہے، تیری ہی امت کو اولین اور آخرین بنایا ہے۔ ان کا خطبہ جائز نہیں جب تک وہ تیرے بندے اور رسول ہونے کی شہادت نہ دے لیں۔

میں نے تیری امت میں ایسے لوگ بنائے ہیں جن کے دل میں الکتاب ہے۔ تجھے از روئے پیدائش سب سے اول کیا اور از روئے بعثت کے سب سے آخر کیا اور از روئے فیصلہ کے بھی سب سے اول کیا۔ تجھے میں نے سات ایسی آیتیں دیں جو باربار دہرائی جاتی ہیں جو تجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملیں، تجھے میں نے اپنے عرش تلے سے سورۃ البقرہ کے خاتمے کی آیتیں دیں جو تجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ میں نے تجھے کوثر عطا فرمائی اور میں نے تجھے اسلام کے آٹھ حصے دئے۔ اسلام، ہجرت، جہاد، نماز، صدقہ، رمضان کے روزے، نیکی کا حکم، برائی سے روک اور میں نے تجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مجھے میرے رب نے چھ باتوں کی فضیلت مرحمت فرمائی۔ کلام کی ابتداء اور اس کی انتہا دی۔ جامع باتیں دیں۔ تمام لوگوں کی طرف خوشخبری دینے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا۔ میرے دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہوں، وہیں سے اس کے دل میں میرا رعب ڈال دیا گیا۔ میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوئیں۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا اور بہ مشورہ موسیٰ علیہ السلام تخفیف طلب کرنے کا اور آخر میں پانچ رہ جانے کا ذکر ہے۔ جیسے کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ پس پانچ رہیں اور ثواب پچاس کا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی خوش ہوئے۔ جاتے وقت موسیٰ علیہ السلام سخت تھے اور آتے وقت نہایت نرم اور سب سے بہتر۔
(تفسیر ابن جریر الطبری:22021:ضعیف)

اور کتاب کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اسی آیت «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى» الخ (17-الإسراء:1) کی تفسیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔

یہ بھی واضح رہے کہ اس لمبی حدیث کا ایک راوی ابو جعفر رازی بظاہر حافظہ کے کچھ ایسے اچھے نہیں معلوم ہوتے۔ اس کے بعض الفاظ میں سخت غرابت اور بہت زیادہ نکارت ہے۔ انہیں ضعیف بھی کہا گیا ہے اور صرف انہی کی روایت والی حدیث قابل توجہ ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ خواب والی حدیث کا کچھ حصہ بھی اس میں آ گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سی اجادیث کا مجموعہ ہو یا خواب یا معراج کے سوا کے واقعہ کی اس میں روایت ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بخاری و مسلم کی ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ بیان کرنا وغیرہ بھی مروی ہے۔ (صحیح بخاری:3437)

صحیح مسلم کی حدیث میں حطیم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے سوالات کئے جانے اور پھر اس کے ظاہر ہو جانے کا واقعہ بھی ہے۔ اس میں بھی ان تینوں نبیوں سے ملاقات کرنے کا اور ان کے حلیہ کا بیان ہے اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز میں کھڑا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک خازن جہنم کو بھی دیکھا اور انہوں نے ہی ابتداءاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا۔ (صحیح مسلم:172)

بیہقی وغیرہ میں کئی ایک صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی کے مکان پر سوئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہو گئے تھے۔ وہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی۔ (بیہقی:404/2:ضعیف)

پھر امام حاکم نے بہت لمبی حدیث بیان فرمائی ہے جس میں درجوں کا اور فرشتوں وغیرہ کا ذکر ہے۔ اللہ کی قدرت سے تو کوئی چیز بعید نہیں بشرطیکہ وہ روایت صحیح ثابت ہو جائے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ اس روایت کو بیان کر کے فرماتے ہیں کہ مکہ شریف سے بیت المقدس تک جانے اور معراج کے بارے میں اس حدیث میں پوری کفایت ہے لیکن اس راویت کو بہت ائمہ حدیث نے مرسل بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سنئے۔ بیہقی میں ہے کہ جب صبح کے وقت لوگوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا تو بہت سے لوگ مرتد ہو گئے جو اس سے پہلے با ایمان اور تصدیق کرنے والے تھے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا ماننا اور صدیق لقب پانا مروی ہے۔ (مستدرک حاکم:62/3:ضعیف)

خود ام ہانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میرے ہی مکان سے کرائی گئ ہے۔ اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد میرے مکان پر ہی آرام فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سو گئے اور ہم سب بھی۔ صبح سے کچھ ہی پہلے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ہم نے صبح کی نماز ادا کی تو آپ نے فرمایا، اے ام ہانی میں نے تمہارے ساتھ ہی عشاء کی نماز ادا کی اور اب صبح کی نماز میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں۔ اس درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بیت المقدس پہنچایا اور میں نے وہاں نماز بھی پڑھی۔ (المطالب العالیہ:4287:ضعیف)

ایک راوی کلبی متروک ہے اور بالکل ساقط ہے لیکن اسے ابویعلیٰ میں اور سند سے خوب تفصیل سے روایت کیا ہے۔ طبرانی میں ام ہانی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میرے ہاں سوئے ہوئے تھے۔ میں نے رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چند تلاش کی لیکن نہ پایا، ڈر تھا کہ کہیں قریشیوں نے کوئی دھوکا نہ کیا ہو۔

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ تھام کر مجھے لے چلے۔ دروازے پر ایک جانور تھا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے اونچا تھا، مجھے اس پر سوار کیا۔ پھر مجھے بیت المقدس پہنچایا۔

ابراہیم علیہ السلام کو دکھایا، وہ اخلاق میں اور صورت شکل میں بالکل میرے مشابہ تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دکھایا، لانبے قد کے سیدھے بالوں کے ایسے تھے جیسے ازدشنوہ کے قبیلے کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح مجھے عیسٰی علیہ السلام کو بھی دکھایا، درمیانہ قد سفید سرخی مائل رنگ بالکل ایسے جیسے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔ دجال کو دکھایا، ایک آنکھ اس کی بالکل مٹی ہوئی تھی، ایسا تھا جیسے قطن بن عبد العزی۔

یہ فرما کرفرمایا، اچھا اب میں جاتا ہوں، جو کچھ دیکھا ہے وہ قریش سے بیان کرتا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور عرض کیا، للہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں اس خواب کو بیان نہ کریں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہرگز نہ مانیں گے اور اگر بس چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بےادبی کریں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھٹکا مار کر اپنا دامن میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور سیدھے قریش کے مجمع میں پہنچ کر ساری باتیں بیان فرما دیں۔

جبیر من مطعم کہنے لگا، بس آج ہمیں معلوم ہو گیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہوتے تو ایسی بات ہم میں بیٹھ کر نہ کہتے۔ ایک شخص نے کہا کیوں؟ راستے میں ہمارا فلاں قافلہ بھی ملا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ان کا ایک اونٹ کھو گیا تھا جس کی تلاش کر رہے تھے۔ کسی نے کہا اور فلاں قبیلے والوں کے اونٹ بھی راستے میں ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ بھی ملے تھے، فلاں جگہ تھے۔ ان میں ایک سرخ رنگ اونٹنی تھی جس کا پاؤں ٹوٹ گیا تھا۔ ان کے پاس ایک بڑے پیالے میں پانی تھا۔ جسے میں نے بھی پیا۔ انہوں نے کہا، اچھا ان کے اونٹوں کی گنتی بتاؤ۔ ان میں چرواہے کون کون تھے یہ بھی بتاؤ؟ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے قافلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری گنتی بھی بتادی اور چرواہوں کے نام بھی بتا دئے۔ ایک چرواہا ان میں ابن ابی قحافہ تھا اور یہ بھی فرما دیا کہ کل صبح کو وہ ثنیہ پہنچ جائیں گے۔

چنانچہ اس وقت اکثر لوگ بطور آزمائش ثنیہ جا پہنچے۔ دیکھا کہ واقعی قافلہ آ گیا۔ ان سے پوچھا کہ تمہارا اونٹ گم ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا درست ہے گم ہو گیا تھا۔ دوسرے قافلے والوں سے پوچھا، تمہاری کسی سرخ رنگ اونٹنی کا پاؤں ٹوٹ گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ پوچھا، کیا تمہارے پاس بڑا پیالہ پانی کا بھی تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہا، ہاں اللہ کی قسم اسے تو میں نے خود رکھا تھا اور ان میں سے نہ کسی نے اسے پیا، نہ وہ پانی گرایا گیا۔ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اس دن سے ان کا نام صدیق رکھا گیا۔
(طبرانی کبیر:432/24:ضعیف)

” فصل “ ان تمام احادیث کی واقفیت کے بعد جن میں صحیح بھی ہیں، حسن بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، کم از کم اتنا تو ضرور معلوم ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ شریف سے بیت المقدس تک لے جانا ہوا۔ اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ صرف ایک ہی مرتبہ ہوا ہے۔ گو راویوں کی عبارتیں اس باب میں مختلف الفاظ سے ہیں۔ گو ان میں کمی بیشی بھی ہے، یہ کوئی بات نہیں اور سوائے انبیاء علیہم السلام کے خطا سے پاک ہے کون؟ بعض لوگوں نے ہر ایسی روایت کو ایک الگ واقعہ کہا جاتا ہے اور اس کے قائل ہوئے ہیں کہ یہ واقعہ کئی بار ہوا لیکن یہ لوگ بہت دور نکل گئے اور بالکل انوکھی بات کہی اور نہ جانے کی جگہ چلے گئے اور پھر بھی مطلب حاصل نہ ہوا۔

متاخرین میں سے بعض نے ایک اور ہی توجیہہ پیش کی ہے اور اس پر انہیں بڑا ناز ہے۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ تو آپ کو مکہ سے صرف بیت المقدس تک کی سیر ہوئی۔ ایک مرتبہ مکہ سے آسمانوں پر چڑھائے گئے اور ایک مرتبہ مکہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے آسمانوں تک۔ لیکن یہ قول بھی بعید از قیاس اور بالکل غریب ہے۔ سلف میں سے تو اس کا کوئی قائل نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اسے کھول کر بیان فرما دیتے اور راوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے باربار ہونے کی روایت بیان کرتے۔

بقول زہری رحمہ اللہ معراج کا یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے کا ہے۔ عروہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں چھ ماہ پہلے کا ہے۔ لہٰذا حق بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگتے میں نہ کہ خواب میں مکہ شریف سے بیت المقدس تک کی اسرا کرائی گئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار تھے۔ مسجد قدس کے دروازے پر آپ نے براق کو باندھا، وہاں جاکر اس کے قبلہ رخ تحیۃ المسجد کے طور پر دو رکعت نماز ادا کی۔

پھر معراج لائے گئے جو درجوں والی ہے اور بطور سیڑھی کے ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان دنیا پر چڑھائے گئے۔ پھر ساتوں آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ ہر آسمان کے مقربین الٰہی سے ملاقاتیں ہوئیں، انبیاء علیہم السلام سے ان کے منازل و درجات کے مطابق سلام علیک ہوئی۔ چھٹے آسمان میں کلیم اللہ علیہ السلام سے اور ساتویں میں خلیل اللہ علیہ السلام سے ملے۔ پھر ان سے بھی آگے بڑھ گئے۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم و علی سائر الانبیاء علیہم الصلوۃ و السلام )۔

یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستوی میں پہنچے جہاں قضاء و قدر کی قلموں کی آوازیں آپ نے سنیں۔ سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا جس پر عظمت ربی چھا رہی تھی۔ سونے کی ٹڈیاں اور طرح طرح کے رنگ وہاں پر نظر آ رہے تھے۔ فرشتے چاروں طرف سے اسے گھیرے ہوئے تھے۔ وہیں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا جن کے چھ سو پر تھے۔ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رف رف سبز رنگ کا دیکھا۔ جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھک رکھا تھا۔

بیت المعمور کی زیارت کی جو خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کے زمینی کعبے کے ٹھیک اوپر آسمانوں پر ہے، یہی آسمانی کعبہ ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام اس سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت ربانی کے لیے جاتے ہیں مگر جو آج گئے، پھر ان کی باری قیامت تک نہیں آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت دوزخ دیکھی۔ یہیں اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم نے پچاس نمازیں فرض کرکے پھر تخفیف کر دی اور پانچ رکھیں جو خاص اس کی رحمت تھی۔ اس سے نماز کی بزرگی اور فضیلت بھی صاف طور پر ظاہر ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس بیت المقدس کی طرف اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تمام انبیاء علیہم السلام بھی اترے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو نماز پڑھائی جب کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ ممکن ہے وہ اس دن کی صبح کی نماز ہو۔ ہاں بعض حضرات کا قول ہے کہ امامت انبیاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں کی۔ لیکن صحیح روایات سے بظاہر یہ واقعہ بیت المقدس کا معلوم ہوتا ہے۔

گو بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھائی لیکن ظاہر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی میں امامت کرائی۔ اس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ جب آسمانوں پر انبیاء علیہم السلام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کی بابت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہیں؟ اگر بیت المقدس میں ہی ان کی امامت آپ نے کرائی ہوئی ہوتی تو اب چنداں اس سوال کی ضرورت نہیں رہتی۔ دوسرے یہ کہ سب سے پہلے اور سب سے بڑی غرض تو بلندی پر جناب باری تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا تھا تو بظاہر یہی بات سب پر مقدم تھی۔

جب یہ ہو چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اس رات میں جو فریضہ نماز مقرر ہونا تھا، وہ بھی ہو چکا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بھائیوں کے ساتھ جمع ہونے کا موقعہ ملا اور ان سب کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت ظاہر کرنے کے لیے جبرائیل علیہ السلام کے اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام بن کر انہیں نماز پڑھائی۔ پھر بیت المقدس سے بذریعہ براق آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس رات کو اندھیرے اور صبح کے کچھ ہی اجالے کے وقت مکہ شریف پہنچ گئے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم» ۔

اب یہ جو مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ اور شہد یا دودھ اور شراب یا دودھ اور پانی پیش کیا گیا یا چاروں ہی چیزیں، اس کی بابت روایتوں میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ بیت المقدس کا ہے اور یہ بھی کہ یہ واقعہ آسمانوں کا ہو، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی جگہ یہ چیز آپ کے سامنے پیش ہوئی ہو اس لیے کہ جیسے کسی آنے والے کے سامنے بطور مہمانی کے کچھ چیز رکھی جاتی ہے، اسی طرح یہ تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

معراج جسمانی تھی یا روحانی ؟ ٭٭

پھر اس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ معراج آپ کو جسم و روح سمیت کرائی گئی تھی؟ یا صرف روحانی طور پر؟ اکثر علماء کرام تو یہی فرماتے ہیں کہ جسم و روح سمیت آپ کو معراج ہوئی اور ہوئی بھی جاگتے میں نہ کہ بطور خواب کے۔ ہاں اس کا انکار نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے خواب میں یہی چیزیں دکھائی گئی ہوں۔ آپ خواب میں جو کچھ ملاحظہ فرماتے، اسے اسی طرح پھر واقعہ میں جاگتے ہوئے بھی ملاحظہ فرما لیتے۔

اس کی بڑی دلیل ایک تو یہ ہے کہ اس واقعہ کے بیان فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزگی بیان فرمائی ہے۔ اس اسلوب بیان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد کی بات کوئی بڑی اہم ہے۔ اگر یہ واقعہ خواب کا مانا جائے تو خواب میں ایسی باتیں دیکھ لینا اتنا اہم نہیں کہ اس کو بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ پہلے سے بطور احسان اور بطور اظہار قدرت اپنی تسبیح بیان کرے۔

پھر اگر یہ واقعہ خواب کا ہی تھا تو کفار اس طرح جلدی سے آپ کی تکذیب نہ کرتے، ایک شخص اپنا خواب اور خواب میں دیکھی ہوئی عجیب چیزیں بیان کر رہا ہے یا کرے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بھڑ بھڑا کر آ جائیں اور سنتے ہی سختی سے انکار کرنے لگیں۔ پھر جو لوگ کہ اس سے پہلے آپ پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی رسالت کو قبول کر چکے تھے، کیا وجہ ہے کہ وہ واقعہ معراج کو سن کر اسلام سے پھر جاتے ہیں؟

اس سے بھی ظاہر ہے کہ آپ نے خواب کا قصہ بیان نہیں فرمایا تھا۔ پھر قرآن کے لفظ «بِعَبْدِهِ» پر غور کیجئے۔ عبد کا اطلاق روح اور جسم دونوں کے مجموعے پر آتا ہے۔ پھر «‏‏‏‏أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا» کا فرمانا اس چیز کو اور صاف کر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو رات کے تھوڑے سے حصے میں لے گیا۔ اس دیکھنے کو لوگوں کی آزمائش کا سبب آیت «وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» (17-الإسراء:60) میں فرمایا گیا ہے۔ ” اگر یہ خواب ہی تھا تو اس میں لوگوں کی ایسی بڑی کون سی آزمائش تھی جسے مستقل طور پر بیان فرمایا جاتا؟ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا۔ (صحیح بخاری:4716)۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ» ‏‏‏‏ (53-النجم:17) ” نہ تو نگاہ بہکی نہ بھٹکی۔ “ ظاہر ہے کہ بصر یعنی نگاہ انسان کی ذات کا ایک وصف ہے، نہ کہ صرف روح کا۔

پھر براق کی سواری کا لایا جانا اور اس سفید چمکیلے جانور پر سوار کراکر آپ کو لے جانا بھی اسی کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ جاگنے کا اور جسمانی ہے ورنہ صرف روح کے لیے سواری کی ضرورت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ معراج صرف روحانی تھی نہ کہ جسمانی۔

چنانچہ محمد بن اسحاق لکھتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا یہ قول مروی ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:22032:ضعیف و منقطع)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جسم غائب نہیں ہوا تھا بلکہ روحانی معراج تھی۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:22033:ضعیف و باطل)

اس قول کا انکار نہیں کیا گیا کیونکہ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» (17-الإسراء:60) الخ، آیت اتری ہے۔

اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت خبر دی ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں نے خواب میں تیرا ذبح کرنا دیکھا ہے۔ اب تو سوچ لے کیا دیکھتا ہے؟ پھر یہی حال رہا۔ پس ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر وحی جاگتے میں بھی آتی ہے اور خواب میں بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میری آنکھیں سو جاتی ہیں اور دل جاگتا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس میں سے کون سی سچی بات تھی؟ آپ گئے اور آپ نے بہت سی باتیں دیکھیں۔ جس حال میں بھی آپ تھے سوتے یا جاگتے سب حق اور سچ ہے۔ یہ تو تھا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا قول۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی بہت کچھ تردید کی ہے اور ہر طرح اسے رد کیا ہے اور اسے خلاف ظاہر قرار دیا ہے کہ الفاظ قرآنی کے سراسر خلاف یہ قول ہے۔ پھر اس کے خلاف بہت سی دلیلیں پیش کی ہیں جن میں سے چند ہم نے بھی اوپر بیان کر دی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

فائدہ

ایک نہایت عمدہ اور بہت زبردست فائدہ اس بیان میں اس روایت سے ہوتا ہے جو حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ کتاب دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب وحیہ بن خلیفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کے پاس بطور قاصد کے اپنے نامہ مبارک کے ساتھ بھیجا۔ یہ گئے، پہنچے اور عرب تاجروں کو جو ملک شام میں تھے، ہرقل نے جمع کیا۔ ان میں ابوسفیان صخر بن حرب تھا اور اس کے ساتھی مکے کے دوسرے کافر بھی تھے۔ پھر اس نے ان سے بہت سے سوالات کئے جو بخاری و مسلم وغیرہ میں مذکور ہیں۔ (صحیح بخاری:7)

ابوسفیان کی اول سے آخر تک یہی کوشش رہی کہ کسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی اور حقارت اس کے سامنے کرے تاکہ بادشاہ کے دل کا میلان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ ہو۔ وہ خود کہتا ہے کہ میں صرف اس خوف سے غلط باتیں کرنے اور تہمتیں دھرنے سے باز رہا کہ کہیں میرا کوئی جھوٹ اس پر کھل نہ جائے۔ پھر تو یہ میری بات کو جھٹلا دے گا اور بڑی ندامت ہو گی۔

اسی وقت دل میں خیال آ گیا اور میں نے کہا، بادشاہ سلامت سنئے، میں ایک واقعہ بیان کروں جس سے آپ پر یہ بات کھل جائے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بڑے جھوٹے آدمی ہیں۔ سنئے ایک دن وہ کہنے لگا کہ اس رات وہ مکہ سے چلا اور آپ کی اس مسجد میں یعنی بیت المقدس کی مسجد قدس میں آیا اور پھر واپس صبح سے پہلے مکہ پہنچ گیا۔
میری یہ بات سنتے ہی بیت المقدس کا لاٹ پادری جو شاہ روم کی اس مجلس میں اس کے پاس بڑی عزت سے بیٹھا تھا، فوراً ہی بول اٹھا کہ یہ بالکل سچ ہے۔ مجھے اس رات کا علم ہے۔ قیصر نے تعجب خیز نظر سے اس کی طرف دیکھا اور ادب سے پوچھا، جناب کو کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا، سنئے میری عادت تھی اور یہ کام میں نے اپنے متعلق کر رکھا تھا کہ جب تک مسجد شریف کے تمام دروازے اپنے ہاتھ سے بند نہ کر لوں، سوتا نہ تھا۔

اس رات میں دروازے بند کرنے کو کھڑا ہوا۔ سب دروازے اچھی طرح بند کر دئے لیکن ایک دروازہ مجھ سے بند نہ ہو سکا۔ میں نے ہر چند زور لگایا لیکن کواڑ اپنی جگہ سے سرکا بھی نہیں، میں نے اسی وقت اپنے آدمیوں کو آواز دی۔ وہ آئے ہم سب نے مل کر طاقت لگائی لیکن سب کے سب ناکام رہے۔

بس یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا ہم کسی پہاڑ کو اس کی جگہ سے سرکانا چاہتے ہیں لیکن اس کا پہیہ تک بھی تو نہیں ہلا۔ میں نے بڑھئی بلوائے۔ انہوں نے بہت ترکیبیں کیں، کوششیں کیں لیکن وہ بھی ہار گئے اور کہنے لگے، صبح پر رکھئے۔ چنانچہ وہ دروازہ اس شب یونہی رہا، دونوں کواڑ بالکل کھلے رہے۔

صبح ہی جب میں اسی دروازے کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس کے پاس کونے میں جو چٹان پتھر کی تھی اس میں ایک سوراخ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں رات کو کسی نے کوئی جانور باندھا ہے۔ اس کے اثر اور نشان موجود تھے۔ میں سمجھ گیا اور میں نے اسی وقت اپنی جماعت سے کہا کہ آج کی رات ہماری یہ مسجد کسی نبی کے لیے کھلی رکھی گئی اور اس نے یہاں ضرور نماز ادا کی ہے۔ (ضعیف) یہ حدیث بہت لمبی ہے۔
ابو الخطاب عمر بن وحیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب التنویر فی مولد السراج المنیر میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے معراج کی حدیث وارد کرکے اس کے متعلق نہایت عمدہ کلام کرکے پھر فرماتے ہیں، معراج کی حدیث متواتر ہے۔

سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوذر، سیدنا مالک بن صعصعہ، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوسعید، سیدنا ابن عباس، سیدنا شداد بن اوس، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا عبدالرحمٰن بن قرظ، سیدنا ابو حبہ، سیدنا ابو لیل، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا جابر، سیدنا حذیفہ، سیدنا بریدہ، سیدنا ابو ایوب، سیدنا ابو امامہ، سیدنا سمرہ بن جندب، سیدنا ابو الحمراء، سیدنا صہیب رومی، سیدہ ام ہانی، سیدہ عائشہ اور سیدہ اسماء وغیرہ سے مروی ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔

ان میں سے بعض نے تو اسے مطول بیان کیا ہے اور بعض نے مختصر۔ گو ان میں سے بعض روایتیں سنداً صحیح نہیں لیکن بالجملہ صحت کے ساتھ واقعہ معراج ثابت ہے اور مسلمان اجماعی طور پر اس کے قائل ہیں۔ ہاں بیشک زندیق اور ملحد لوگ اس کے منکر ہیں۔ «يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» (61-الصف:8) ” وہ اللہ تعالیٰ کے نورانی چراغ کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ پوری روشنی کے ساتھ چمکتا ہوا ہی رہے گا، گو کافروں کو برا لگے۔ “

وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِي وَكِيلًا﴿2﴾ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا﴿3﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا۔ (2) اے ان لوگوں کی اوﻻد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کردیا تھا، وه ہمارا بڑا ہی شکرگزار بنده تھا۔ (3)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 3 ،2 ،

طوفان نوح کے بعد ٭٭

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے واقعہ کے بیان کے بعد اپنے پیغمبر کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام کا ذکر بیان فرماتا ہے قرآن کریم میں عموماً یہ دونوں بیان ایک ساتھ آئے ہیں اسی طرح تورات اور قرآن کا بیان بھی ملا جلا ہوتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام تورات ہے۔ وہ کتاب بنی اسرائیل کیلئے ہادی تھی انہیں حکم ہوا تھا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور مددگار اور معبود نہ سمجھیں ہر ایک نبی اللہ کی توحید لے کر آتا رہا ہے۔

پھر انہیں کہا جاتا ہے کہ اے ان بزرگوں کی اولادو جنہیں ہم نے اپنے اس احسان سے نوازا تھا کہ طوفان نوح کی عالمگیر ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور اپنے پیارے نبی نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی پر چڑھا لیا تھا۔ تمہیں اپنے بڑوں کی طرح ہماری شکر گزاری کرنی چاہیئے دیکھو میں نے تمہاری طرف اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے۔ مروی ہے کہ نوح علیہ السلام چونکہ کھاتے پیتے اور پہنتے غرض ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے تھے اس لیے آپ کو شکر گزار بندہ کہا گیا۔

مسند احمد وغیرہ میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جو نوالہ کھائے تو اللہ کا شکر بجا لائے اور پانی کا گھونٹ پئے تو اللہ کا شکر ادا کرے۔ (صحیح مسلم:2734)

یہ بھی مروی ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے۔ شفاعت والی لمبی حدیث جو بخاری وغیرہ میں ہے اس میں ہے کہ جب لوگ طلب شفاعت کے لیے نوح نبی علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو ان سے کہیں گے کہ زمین والوں کی طرف آپ ہی پہلے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شکر گزار بندہ رکھا ہے۔ آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے الخ۔ (صحیح بخاری:3340)