تفسير ابن كثير

سورة مريم
تفسیر سورۃ مريم

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ (مسند احمد:461/1) ( مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق )


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

كهيعص﴿1﴾ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا﴿2﴾ إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا﴿3﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴿4﴾ وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا﴿5﴾ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴿6﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] کہیعص۔ (1) یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔ (2) جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی۔ (3) کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے، لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا۔ (4) مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے، میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔ (5) جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب [علیہ السلام] کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بنده بنا لے۔ (6)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ (صحیح مسلم:2379)

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب! اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔

دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ (صحیح بخاری:3094)

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ (سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح)

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» (27-النمل:16) ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔

جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل)

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف) لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔

يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴿7﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحيٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا۔ (7)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 7 ،

دعا قبول ہوئی ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ” آپ علیہ السلام ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے “۔

جیسے اور آیت میں ہے «هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» (3-آل عمران:38-39) ” زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اپنے پاس سے بہترین اولاد عطا فرما، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں نماز میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہو گا اور پاکباز ہو گا اور نبی ہوگا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہو گا “۔

یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہو گا، یہی معنی «سَمِيًّا» کے آیت «هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا» (19-مريم:65) میں ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی۔ زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بے اولاد تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بے حد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بے اولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا، یہ تعجب کی وجہ تھی اور زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی ہی نہ تھی۔

اس لیے خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَىٰ أَن مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ» (15-الحجر:54) ” مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو؟ “ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے۔

آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے بھی اس خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» (11-هود:72،73) ” اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہو گی؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا تھا کہ کیا تمہیں امر الٰہی سے تعجب ہے؟ اے ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے والو! تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں۔ اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے “۔