تفسير ابن كثير

سورة النور
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنْزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴿1﴾ الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴿2﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] یہ ہے وه سورت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کردی ہے اور جس میں ہم نے کھلی آیتیں [احکام] اتارے ہیں تاکہ تم یاد رکھو۔ (1) زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے۔ (2)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 2 ،1 ،

مسئلہ رجم ٭٭

اس بیان سے کہ ” ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے “، اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔

«فَرَضْنٰھَا» کے معنی مجاہد و قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بیان کئے ہیں کہ حلال و حرام، امر و نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کر دیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔

پھر زناکاری کی شرعی سزا فرمائی، زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلا وطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلا وطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔

جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ دو اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کربیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ ( یہ انیس رضی اللہ عنہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے )۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کر دینا ۔ چنانچہ اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا اور انہیں رجم کر دیا گیا رضی اللہ عنہا ۔ (صحیح بخاری:2314)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنوارے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلا وطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کر دیا جائے گا۔

چنانچہ موطا مالک میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک خطبہ میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ لوگو! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں رجم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے،اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔ (موطا:823/2) یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ (صحیح بخاری:2462)
مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر ( رضی اللہ عنہ ) نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔ (مسند احمد:29/1:صحیح) یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر ( رضی اللہ عنہ ) نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے، اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔ (مسند احمد:23/1:اسنادہ ضعیف)

مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔ (مسند احمد:36/1:صحیح) امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ (سنن ترمذي:1431،قال الشيخ الألباني:صحیح)
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم قرآن میں آیت رجم پڑھتے تھے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کاری کریں تو انہیں ضرور رجم کردو مروان نے کہا کہ تم نے پھر اس آیت کو قرآن میں کیوں نہ لکھا؟ فرمایا سنو! ہم میں جب اس کا ذکر چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہاری تشفی کر دیتا ہوں، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجم کی آیت لکھ لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا، یا اسی کے مثل ۔ (نسائی فی السنن الکبری:7145:) یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔

پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہو گئی اور حکم باقی رہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔

اسی لیے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں، پھر رجم کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو جائے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زناکاری میں آئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا، اور فرمایا کہ کتاب اللہ پر عمل کر کے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے سنگسار کرایا۔

مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کر لے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم ۔ (صحیح مسلم:1690)
پھر فرمایا ” اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہیئے “۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہیئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔

حدیث میں ہے آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی ۔ (سنن ابوداود:4376،قال الشيخ الألباني:صحیح)

اور حدیث میں ہے کہ حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔ (سنن نسائی:4909،قال الشيخ الألباني:حسن)

یہ بھی قول ہے کہ ترس کھا کر، مار کو نرم نہ کر دو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حماد بن ابوسلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ رحمہ اللہ نے یہی جملہ آیت «وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ» (24-النور:2)، پڑھا تو سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے؟ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔
پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہیئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہیئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بکری کو زبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا ۔ (سلسلة احادیث صحیحه البانی:26:صحیح)

پھر فرماتا ہے ” ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہیئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں “۔ اسے اعلانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دس۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعا مغفرت و رحمت کریں۔

الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴿3﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا۔ (3)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 3 ،

زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے زانیوں کے نکاح میں دینا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدکار عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام ہے جیسے اور آیت میں ہے «مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ» (4-النساء:25) یعنی ” مسلمانوں کو جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہیئے ان میں یہ تینوں اوصاف ہونے چاہئیں وہ پاک دامن ہوں، وہ بدکار نہ ہوں، نہ چوری چھپے برے لوگوں سے میل ملاپ کرنے والی ہوں “۔ یہی تینوں وصف مردوں میں بھی ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔

اسی لیے امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ہاں بعد از توبہ عقد نکاح درست ہے۔ اسی طرح بھولی بھالی، پاک دامن، عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا، جب تک وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کر لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ ” یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے “۔

ایک شخض نے ام مھزول نامی ایک بدکار عورت سے نکاح کر لینے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ کر سنائی ۔ (مسند احمد:159/2:حسن) ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی طلب اجازت پر یہ آیت اتری۔ (مسند احمد:225/2:صحیح)
ترمذی شریف میں ہے کہ ایک صحابی جن کا نام سیدنا مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ تھا، یہ مکہ سے مسلمان قیدیوں کو اٹھالایا کرتے تھے اور مدینے پہنچا دیا کرتے تھے۔ عناق نامی ایک بدکار عورت مکے میں رہا کرتی تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کا اس عورت سے تعلق تھا۔ سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ایک قیدی کو لانے کیلئے مکہ شریف گیا، میں ایک باغ کی دیوار کے نیچے پہنچا رات کا وقت تھا چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ اتفاق سے عناق آ پہنچی اور مجھے دیکھ لیا بلکہ پہچان بھی لیا اور آواز دے کر کہا کیا مرثد ہے؟ میں نے کہا ہاں مرثد ہوں۔ اس نے بڑی خوشی ظاہر کی اور مجھ سے کہنے لگی چلو رات میرے ہاں گزارنا۔ میں نے کہا عناق اللہ تعالیٰ نے زناکاری حرام کردی ہے۔ جب وہ مایوس ہوگئی تو اس نے مجھے پکڑوانے کیلئے غل مچانا شروع کیا کہ اے خیمے والو ہوشیار ہو جاؤ دیکھو چور آ گیا ہے۔ یہی ہے جو تمہارے قیدیوں کو چرا کر لے جایا کرتا ہے۔ لوگ جاگ اٹھے اور آٹھ آدمی مجھے پکڑنے کیلئے میرے پیچھے دوڑے۔ میں مٹھیاں بند کر کے خندق کے راستے بھاگا اور ایک غار میں جا چھپا۔

یہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے غار پر آ پہنچے لیکن میں انہیں نہ ملا۔ یہ وہیں پیشاب کرنے کو بیٹھے واللہ ان کا پیشاب میرے سر پر آ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں اندھا کردیا۔ ان کی نگاہیں مجھ پر نہ پڑیں، ادھر ادھر ڈھونڈ بھال کر واپس چلے گئے۔ میں نے کچھ دیر گزار کر جب یہ یقین کرلیا کہ وہ پھر سوگئے ہوں گے تو یہاں سے نکلا، پھر مکے کی راہ لی اور وہیں پہنچ کر اس مسلمان قیدی کو اپنی کمر پر چڑھایا اور وہاں سے لے بھاگا، چونکہ وہ بھاری بدن کے تھے، میں جب اذخر میں پہنچا تو تھک گیا میں نے انہیں کمر سے اتارا ان کے بندھن کھول دیئے اور آزاد کر دیا۔


اب اٹھاتا چلاتا مدینے پہنچ گیا، چونکہ عناق کی محبت میرے دل میں تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت اتری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مرثد زانیہ سے نکاح زانی یا مشرک ہی کرتا ہے تو اس سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دے ۔ (سنن ترمذي:3177،قال الشيخ الألباني:حسن) امام ابوداؤد اور نسائی بھی اسے اپنی سنن کی کتاب النکاح میں لائے ہیں۔ (سنن ابوداود:2051،قال الشيخ الألباني:صحیح)

ابوداؤد وغیرہ میں ہے زانی جس پر کوڑے لگ چکے ہوں وہ اپنے جیسے سے ہی نکاح کر سکتا ہے ۔ (سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح)
مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگ ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے اور جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (١) ماں باپ کا نافرمان۔ (٢) وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کریں۔ (٣) اور دیوث۔

اور تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، (١) ماں باپ کا نافرمان (٢) ہمیشہ کا نشے کا عادی (٣) اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتانے والا
۔ (مسند احمد:134/2:حسن)

مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے (١) ہمیشہ کا شرابی، (٢) ماں باپ کا نافرمان۔ (٣) اور اپنے گھر والوں میں خباثت کو برقرار رکھنے والا ۔ (مسند احمد:29/2:صحیح بالشواهد)

ابوداؤد طیالسی میں ہے جنت میں کوئی دیوث نہیں جائے گا ۔ (مسند طیالسی:642:ضعیف)

ابن ماجہ میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنا چاہتا ہے، اسے چاہیئے کہ پاکدامن عورتوں سے نکاح کرے جو لونڈیاں نہ ہوں ۔ (سنن ابن ماجه:1862،قال الشيخ الألباني:ضعیف) اس کی سند ضعیف ہے۔ دیوث کہتے ہیں بے غیرت شخص کو۔

نسائی میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنی بیوی سے بہت ہی محبت ہے لیکن اس میں یہ عادت ہے کہ کسی ہاتھ کو واپس نہیں لوٹاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلاق دیدے ۔ اس نے کہا مجھے تو صبر نہیں آنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جا اس سے فائدہ اٹھا ۔ (سنن نسائی:3231،قال الشيخ الألباني:حسن) لیکن یہ حدیث ثابت نہیں اس کا راوی عبدالکریم قوی نہیں۔ دوسرا راوی اس کا ہارون ہے جو اس سے قوی ہے مگر ان کی روایت مرسل ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ یہی روایت مسند میں مروی ہے لیکن امام نسائی رحمتہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مسند کرنا خطا ہے اور صواب یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ یہ حدیث کی اور کتابوں میں ہے اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اسے منکر کہتے ہیں۔ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ یہ جو کہا ہے کہ وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ کو لوٹاتی نہیں اس سے مراد بے حد سخاوت ہے کہ وہ کسی سائل سے انکار ہی نہیں کرتی۔ لیکن اگر یہی مطلب ہوتا تو حدیث میں بجائے «لَامِسٍ» کے لفظ کے «مُلْتَمِسٍ» کا لفظ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی خصلت ایسی معلوم ہوتی تھی نہ یہ کہ وہ برائی کرتی تھی کیونکہ اگر یہی عیب اس میں ہوتا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی رضی اللہ کو اس کے رکھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ یہ تو دیوثی ہے۔ جس پر سخت وعید آئی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ خاوند کو اس کی عادت ایسی لگی ہو اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ دیا کہ پھر طلاق دیدو لیکن جب اس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت ہی محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسانے کی اجازت دیدی کیونکہ محبت تو موجود ہے۔ اسے ایک خطرے کے صرف وہم پر توڑ دینا ممکن ہے کوئی برائی پیدا کر دے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

الغرض زانیہ عورتوں سے پاک دامن مسلمانوں کو نکاح کرنا منع ہے ہاں جب وہ توبہ کر لیں تو نکاح حلال ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک ایسی ہی واہی عورت سے میرا برا تعلق تھا، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توبہ کی توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح کرلوں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ زانی ہی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آیت کا یہ مطلب نہیں تم اس سے اب نکاح کرسکتے ہو، جاؤ اگر کوئی گناہ ہو تو میرے ذمے۔ حضرت یحییٰ رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر آیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے اس کے بعد کی آیت «وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» (24-النور:32) سے۔ امام ابو ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔