تفسير ابن كثير

سورة غافر
تفسیر سورۃ غافر

بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء «حم» سے ہے انہیں «حوامیم» کہنا مکروہ ہے۔ «ال حم» کہا جائے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ال حم» قرآن کا دیباچہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ «ال حم» ہے یا فرمایا «حوامیم» ہیں۔ مسعر بن کدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سورتوں کو «عرائس» کہا جاتا تھا۔ «عروس» دلہن کو کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے، یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہو گا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں «حم» والی سورتیں۔ ( بغوی)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی «حم» والی سورتیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا «حم» والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے، پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں، ایک شخص نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے «حم» والی سورتوں کے لئے بنا رہا ہوں، ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی حفاظت سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہیں ایک روایت میں «تُنْصَرُونَ» ہے۔

مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے۔ (سنن ترمذي:2879،قال الشيخ الألباني:ضعیف)


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

حم﴿1﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴿2﴾ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ﴿3﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] حٰم۔ (1) اس کتاب کا نازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے۔ (2) گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ سخت عذاب واﻻ انعام و قدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ (3)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 3 ،2 ،1 ،

یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭

سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔
ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا،(سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح)

اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔

جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ‏‏‏‏ (15- الحجر: 50، 49) یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» (14-إبراهيم: 34) بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» (13-الرعد: 41) اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ (ابن ابی حاتم)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔

جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔

حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «‏‏‏‏غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» ‏‏‏‏ اور جب «‏‏‏‏شدید العقاب» ‏‏‏‏ تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔

۔
سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔

مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ﴿4﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ﴿5﴾ وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ﴿6﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ (4) قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی۔ (5) اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا کہ وه دوزخی ہیں۔ (6)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 6 ،5 ،4 ،

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» (3-آل عمران: 196، 197) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» (31-لقمان: 24) ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔
طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ (سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔