تفسير ابن كثير

سورة الواقعة
تفسیر سورۃ الواقعة

ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)

حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)

مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ﴿1﴾ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴿2﴾ خَافِضَةٌ رَافِعَةٌ﴿3﴾ إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا﴿4﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا﴿5﴾ فَكَانَتْ هَبَاءً مُنْبَثًّا﴿6﴾ وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً﴿7﴾ فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ﴿8﴾ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ﴿9﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ﴿10﴾ أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ﴿11﴾ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ﴿12﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] جب قیامت قائم ہو جائے گی۔ (1) جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔ (2) وه پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔ (3) جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی۔ (4) اور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے۔ (5) پھر وه مثل پراگنده غبار کے ہو جائیں گے۔ (6) اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے۔ (7) پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے۔ (8) اور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا۔ (9) اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں۔ (10) وه بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ (11) نعمتوں والی جنتوں میں ہیں۔ (12)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 12 ،11 ،10 ،9 ،8 ،7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭

«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» (69-الحاقة:15) ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔

جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» (42-الشورى:47) ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔

اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» (70-المعارج:1) ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔

یقینی امر ٭٭

اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» (6-الانعام:73) ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔

قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:622/11)
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ (99-الزلزلة:1)

اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» (22-الحج:1) ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» (73-المزمل:14) آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔

«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔

«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔

لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»

تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔

پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» (35-فاطر:32) یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» (35-فاطر:32) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» (81-التكوير:7) ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ (مسند احمد:239/5:ضعیف)

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔ (مسند احمد:69/6:ضعیف)

«سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» (3-آل عمران:133) ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔

امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔

ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ﴿13﴾ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ﴿14﴾ عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ﴿15﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ﴿16﴾ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ﴿17﴾ بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴿18﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] [بہت بڑا] گروه تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا۔ (13) اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے۔ (14) یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر۔ (15) ایک دوسرے کےسامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (16) ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ [لڑکے ہی] رہیں گے آمدورفت کریں گے۔ (17) آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو۔ (18)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 18 ،17 ،16 ،15 ،14 ،13 ،

مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» (56-الواقعة:39،40) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔(مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف)

ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ (ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11) لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔

امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔

دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔

چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ (صحیح بخاری:3650)۔

ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ (مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد)

تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں ۔ (صحیح مسلم247)
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔

تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ۔ (صحیح مسلم369-370)

طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ (طبرانی کبیر3455:ضعیف)
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔

فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ (دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع)

ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔