تفسير ابن كثير

سورة التحريم
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿1﴾ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴿2﴾ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ﴿3﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ [کیا] آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے۔ (1) تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی [پورے] علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے۔ (2) اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے۔ (3)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 3 ،2 ،1 ،

خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭

اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ (سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح)

ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل)

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل)
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل)

ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح)

بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭

اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، (مسند بزار:2274) بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت ۔ (صحیح بخاری:4912)

امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ (صحیح بخاری:5267)

پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭

صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی حاجت نہیں، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔
(صحیح بخاری:5268)
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ (صحیح مسلم:1474) اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔

اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔

ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔

الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»

طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭

آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» (66-التحریم:4) الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ابن عباس! افسوس، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔

میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔

میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک ( دربار خاص ) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟

یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ (صحیح بخاری:5191)
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ (صحیح بخاری:4931)

صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔

إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ﴿4﴾ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا﴿5﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] [اے نبی کی دونوں بیویو!] اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو [تو بہت بہتر ہے] یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کارساز اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک اہل ایمان اور ان کے علاوه فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں۔ (4) اگر وه [پیغمبر] تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب! تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں اللہ کے حضور جھکنے والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا ﻻنے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوه اور کنواریاں۔ (5)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 5 ،4 ،


یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» (66-التحريم:5) اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» (66-التحريم:4)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔

اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» (4-النساء:83) آخر تک اتری یعنی ” جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے “۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔

عمر اور موافقت قرانی ٭٭

صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری (صحیح بخاری:4916)

پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» (66-التحریم:5) نازل ہوئی۔

صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ (صحیح بخاری:4913)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» (66-التحريم:1)، نازل ہوئی ۔ (طبرانی کبیر:12640:ضعیف) لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔

«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، (تفسیر ابن جریر الطبری:508/14) دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»

جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭

پھر فرمایا ” ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے “، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔

معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔

ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ (ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف)

اور روایت میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے ۔ (ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف) یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔

ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو ۔ (ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف) یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔