تفسير ابن كثير

سورة القيامة
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴿1﴾ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ﴿2﴾ أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ﴿3﴾ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ﴿4﴾ بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ﴿5﴾ يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ﴿6﴾ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ﴿7﴾ وَخَسَفَ الْقَمَرُ﴿8﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (1) اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو۔ (2) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں۔ (3) ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں۔ (4) بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے۔ (5) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا۔ (6) پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی۔ (7) اور چاند بے نور ہو جائے گا۔ (8)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 8 ،7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔

حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔

یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔

پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔

آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔

پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔

اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو یوم حساب کا منکر ہے، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» (34-سبأ:29،30)، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔

وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ﴿9﴾ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ﴿10﴾ كَلَّا لَا وَزَرَ﴿11﴾ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ﴿12﴾ يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ﴿13﴾ بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ﴿14﴾ وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ﴿15﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے۔ (9) اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟۔ (10) نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں۔ (11) آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے۔ (12) آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا۔ (13) بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے۔ (14) اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ (15)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 15 ،14 ،13 ،12 ،11 ،10 ،9 ،


یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» (14-إبراھیم:43)، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔

«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔

جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» (81-التكوير:2،1)

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» (42-الشورى:47) یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔

جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» (18-الكهف:49) ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔

جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» (17-الإسراء:14) ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔

کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» (6-الأنعام:23) ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔

اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» (58-المجادلہ:18) ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔

جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» (40-غافر:52) ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔