تفسير ابن كثير

سورة النازعات
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا﴿1﴾ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا﴿2﴾ وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا﴿3﴾ فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا﴿4﴾ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا﴿5﴾ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ﴿6﴾ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴿7﴾ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ﴿8﴾ أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴿9﴾ يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ﴿10﴾ أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَخِرَةً﴿11﴾ قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴿12﴾ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ﴿13﴾ فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ﴿14﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!۔ (1) بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!۔ (2) اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!۔ (3) پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم!۔ (4) پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!۔ (5) جس دن کانپنے والی کانپے گی۔ (6) اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی [پیچھے پیچھے] آئے گی۔ (7) [بہت سے] دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ (8) جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی۔ (9) کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟۔ (10) کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟۔ (11) کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے۔ (12) [معلوم ہونا چاہئے] وه تو صرف ایک [خوفناک] ڈانٹ ہے۔ (13) کہ [جس کے ﻇاہر ہوتے ہی] وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے۔ (14)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 14 ،13 ،12 ،11 ،10 ،9 ،8 ،7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں۔

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں،

پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» (73-المزمل:14) ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» (69-الحاقة:14) ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا ۔ (مسند احمد:5/136:حسن)

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے ۔ (سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن)

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» (17-الإسراء:52)، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» (54-القمر:50) ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏‏‏‏(16-النحل:77) ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد شام کی زمین ہے۔ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏‏‏‏ (14-إبراھیم:48)، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏‏‏‏ (20-طه:105-106) ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏‏‏‏ (18-الكهف:47) ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى﴿15﴾ إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى﴿16﴾ اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى﴿17﴾ فَقُلْ هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ تَزَكَّى﴿18﴾ وَأَهْدِيَكَ إِلَى رَبِّكَ فَتَخْشَى﴿19﴾ فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَى﴿20﴾ فَكَذَّبَ وَعَصَى﴿21﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَى﴿22﴾ فَحَشَرَ فَنَادَى﴿23﴾ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى﴿24﴾ فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى﴿25﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَى﴿26﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] کیا موسیٰ [علیہ السلام] کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟۔ (15) جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ (16) [کہ] تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے۔ (17) اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ (18) اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو [اس سے] ڈرنے لگے۔ (19) پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ (21) پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے۔ (22) پھر سب کو جمع کرکے پکارا۔ (23) تم سب کا رب میں ہی ہوں۔ (24) تو [سب سے بلند وباﻻ] اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا۔ (25) بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے۔ (26)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 26 ،25 ،24 ،23 ،22 ،21 ،20 ،19 ،18 ،17 ،16 ،15 ،

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» (28-القصص:38) یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏‏‏‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏‏‏‏ (28-القصص:41) یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔