تفسير ابن كثير

سورة عبس
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

عَبَسَ وَتَوَلَّى﴿1﴾ أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى﴿2﴾ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى﴿3﴾ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى﴿4﴾ أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى﴿5﴾ فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى﴿6﴾ وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى﴿7﴾ وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى﴿8﴾ وَهُوَ يَخْشَى﴿9﴾ فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى﴿10﴾ كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ﴿11﴾ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ﴿12﴾ فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ﴿13﴾ مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ﴿14﴾ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ﴿15﴾ كِرَامٍ بَرَرَةٍ﴿16﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا۔ (1) [صرف اس لئے] کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔ (2) تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا۔ (3) یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی۔ (4) جو بے پرواہی کرتا ہے۔ (5) اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے۔ (6) حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں۔ (7) اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے۔ (8) اور وه ڈر [بھی] رہا ہے۔ (9) تو اس سے بےرخی برتتا ہے۔ (10) یہ ٹھیک نہیں قرآن تو نصیحت [کی چیز] ہے۔ (11) جو چاہے اس سے نصیحت لے۔ (12) [یہ تو] پر عظمت صحیفوں میں [ہے]۔ (13) جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے۔ (14) ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے۔ (15) جو بزرگ اور پاکباز ہے۔ (16)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 16 ،15 ،14 ،13 ،12 ،11 ،10 ،9 ،8 ،7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ” آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں “۔

مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ (مسند ابویعلیٰ)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے (مسند ابو یعلی:3123:صحیح)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔ (سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح)

ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ (تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى»، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617)

سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»
«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ» یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔ (صحیح بخاری:4937)

وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا ۔ (صحیح بخاری:4937)

قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ﴿17﴾ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ﴿18﴾ مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ﴿19﴾ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ﴿20﴾ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ﴿21﴾ ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ﴿22﴾ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ﴿23﴾ فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ﴿24﴾ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا﴿25﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا﴿26﴾ فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا﴿27﴾ وَعِنَبًا وَقَضْبًا﴿28﴾ وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا﴿29﴾ وَحَدَائِقَ غُلْبًا﴿30﴾ وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴿31﴾ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ﴿32﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے۔ (17) اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا۔ (18) [اسے] ایک نطفہ سے، پھر اندازه پر رکھا اس کو۔ (19) پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا۔ (20) پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا۔ (21) پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا۔ (22) ہرگز نہیں۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی۔ (23) انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے۔ (24) کہ ہم نے خوب پانی برسایا۔ (25) پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح۔ (26) پھر اس میں سے اناج اگائے۔ (27) اور انگور اور ترکاری۔ (28) اور زیتون اور کھجور۔ (29) اور گنجان باغات۔ (30) اور میوه اور [گھاس] چاره [بھی اگایا]۔ (31) تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے۔ (32)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 32 ،31 ،30 ،29 ،28 ،27 ،26 ،25 ،24 ،23 ،22 ،21 ،20 ،19 ،18 ،17 ،

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟

اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» (76-الإنسان:3) یعنی ” ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا “۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»
اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ” اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا “۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ (30-الروم:20) ” اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے “۔

اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ (2-البقرة:259) ” ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں “۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی ۔ (اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935)

یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا ۔ (صحیح بخاری:4935)

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی “۔

مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔
ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔

ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔

تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں “
۔

«حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔

«غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔
عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔

ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے اس تکلیف کو چھوڑ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:451/12)

اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ‏‏‏‏ (31-لقمان:10)۔ پھر اللہ فرماتا ہے ” تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے “۔