تفسير ابن كثير

سورة التوبة
بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴿1﴾ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ﴿2﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے۔ ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے عہد وپیمان کیا تھا۔ (1) پس [اے مشرکو!] تم ملک میں چار مہینے تک تو چل پھر لو، جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ [بھی یاد رہے] کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے واﻻ ہے۔ (2)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 2 ،1 ،


یہ سورت سب سے آخر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہے۔ بخاری شریف میں ہے سب سے آخر میں آیت «يَسْتَفْتُونَكَ» (4-النساء: 176) اتری۔ اور سب سے آخری سورت سورۃ براۃ اتری ہے۔ (صحیح بخاری:4654)

اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر کے اسے قرآن میں نہیں لکھی تھی۔ ترمذی شریف میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے؟ جو آپ نے سورۃ الانفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورۃ براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان «‏‏‏‏بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ» ‏‏‏‏ نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھا؟

تو آپ نے جواب دیا کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب آیت اترتی آپ وحی کے لکھنے والوں میں سے کسی کو بلا کر فرما دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں لکھ دو جس میں یہ ذکر ہے سورۃ الانفال مدینہ منورہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی تھی اور سورۃ براۃ سب سے آخر میں اتری تھی۔

بیانات دونوں کے ملتے جلتے تھے مجھے خیال ہوا کہ کہیں یہ بھی اسی میں سے نہ ہو حضور اکرم صلی اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے نہیں فرمایا کہ یہ اس میں سے ہے اس لیے میں نے دونوں سورتوں کو متصل لکھا اور ان کے درمیان «‏‏‏‏بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ» ‏‏‏‏ نہیں لکھی اور سات پہلی لمبی سورتوں میں انہیں رکھا۔ (سنن ابوداود:786،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

اس سورت کا ابتدائی حصہ اس وقت اترا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ حج کا زمانہ تھا۔ مشرکین اپنی عادت کے مطابق حج میں آ کر بیت اللہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کیا کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں خلا ملا ہونا ناپسند فرما کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امام بنا کر اس سال مکہ مکرمہ روانہ فرمایا کہ مسلمانوں کو احکام حج سکھائیں اور مشرکوں میں اعلان کر دیں کہ وہ آئندہ سال سے حج کو نہ آئیں اور سورۃ براۃ کا بھی عام لوگوں میں اعلان کر دیں۔

آپ کے پیچھے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ آپ کا پیغام بحیثیت آپ کے نزدیکی قرابت داری کے آپ بھی پہنچا دیں، جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔

پس فرمان ہے کہ یہ بے تعلقی ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بعض تو کہتے ہیں: " یہ اعلان اس عہد و پیمان کے متعلق ہے جن سے کوئی وقت معین نہ تھا یا جن سے عہد چار ماہ سے کم کا تھا لیکن جن کا لمبا عہد تھا وہ بدستور باقی رہا "۔

جیسے فرمان ہے کہ «‏‏‏‏فَأَتِمّوا إِلَيهِم عَهدَهُم إِلىٰ مُدَّتِهِم» ‏‏‏‏ (9- التوبہ: 4) ان کی مدت پوری ہونے تک تم ان سے ان کا عہد نبھاؤ۔ حدیث میں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہم سے جن کا عہد و پیمان ہے ہم اس پر مقررہ وقت تک پابندی سے قائم ہیں۔ " (تفسیر ابن جریر الطبری:16384)

گو اس بارے میں اور اقوال بھی ہیں لیکن سب سے اچھا اور سب سے قوی قول یہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ " جن لوگوں سے عہد ہو چکا تھا ان کے لیے چار ماہ کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور جن سے عہد نہ تھا ان کے لیے حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کی عہد بندی مقرر کر دی یعنی دس ذی الحجہ سے محرم ختم تک پچاس دن "۔

اس مدت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لیں۔ اور جن سے عہد ہے وہ دس ذی الحجہ کے اعلان کے دن سے لے کر بیس ربیع الآخر تک اپنی تیاری کر لیں پھر اگر چاہیں مقابلے پر آ جائیں۔

یہ واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تیس یا چالیس آیتیں قرآن کی اس صورت کی دے کر بھیجا کہ آپ چار ماہ کی مدت کا اعلان کر دیں۔
آپ نے ان کے ڈیروں میں، گھروں میں، منزلوں میں جا جا کر یہ آیتیں انہیں سنا دیں اور ساتھ ہی سرکار نبوت کا یہ حکم بھی سنا دیا کہ اس سال کے بعد حج کے لیے کوئی مشرک نہ آئے اور بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا شخص نہ کرے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16376) قبیلہ خزاعہ قبیلہ مدلج اور دوسرے سب قبائل کے لیے بھی یہی اعلان تھا۔

تبوک سے آ کر آپ نے حج کا ارادہ کیا تھا لیکن مشرکوں کا وہاں آنا اور ان کا ننگے ہو کر وہاں کا طواف کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھا اس لیے حج نہ کیا اور اس سال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے ذی المجاز کے بازاروں میں اور ہر گلی کوچے اور ہر ہر پڑاؤ اور میدان میں اعلان کیا کہ " چار مہینے تک کی تو شرک اور مشرک کو مہلت ہے اس کے بعد ہماری اسلامی تلواریں اپنا جوہر دکھائے گی " بیس دن ذی الحجہ کے، محرم پورا، صفر پورا، اور ربیع الاول پورا اور دس دن ربیع الآخر کے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16377)

زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: " شوال محرم تک کی ڈھیل تھی " لیکن یہ قول غریب ہے۔ اور سمجھ سے بھی بالا تر ہے کہ حکم پہنچنے سے پہلے ہی مدت شماری کیسے ہو سکتی ہے؟

وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴿3﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی، اگر اب بھی تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے۔ اور کافروں کو دکھ اور مار کی خبر پہنچا دیجئے۔ (3)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 3 ،

حج اکبر کے دن اعلان ٭٭

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عام اعلان ہے اور ہے بھی بڑے حج کے دن یعنی عید قرباں کو جو حج کے تمام دنوں سے بڑا اور افضل دن ہے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بری الذمہ بیزار اور الگ ہے اگر اب بھی تم گمراہی اور شرک و برائی چھوڑ دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے توبہ کر لو نیک بن جاؤ اسلام قبول کر لو، شرک و کفر چھوڑ دو۔

اور اگر تم نے نہ مانا اپنی ضلالت پر قائم رہے تو تم نہ اب اللہ تعالی کے قبضے سے باہر ہو نہ آئندہ کسی وقت اللہ کو دبا سکتے ہو وہ تم پر قادر ہے تمہاری چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ کافروں کو دنیا میں بھی سزا کرے گا اور آخرت میں بھی عذاب کرے گا۔

صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قربانی والے دن ان لوگوں میں جو اعلان کے لیے بھیجے گئے تھے بھیجا۔ ہم نے منادی کر دی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی شخص ننگا ہو کر نہ کرے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ سورۃ براۃ کا اعلان کر دیں پس آپ نے بھی منٰی میں ہمارے ساتھ عید کے دن انہیں احکام کی منادی کی "۔ (صحیح بخاری:369)

حج اکبر کا دن بقر عید کا دن ہے۔ کیونکہ لوگ حج اصغر بولا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اعلان کے بعد حجتہ الوداع میں ایک بھی مشرک حج کو نہیں آیا تھا۔ (صحیح بخاری:3177)
حنین کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا تھا پھر اس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو منادی کے لیے روانہ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ براءت کا اعلان کر دیں امیر حج سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی رہے۔ لیکن اس روایت میں غربت ہے۔ (تفسیر عبد الرزاق:1037:مرسل)

عمرہ جعرانہ والے سال امیر حج سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ تھے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تو سنہ ٩ ھ میں امیر حج تھے۔

مسند کی روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " اس سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں تھا۔ ہم نے پکار پکار کر منادی کر دی کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے بیت اللہ کا طواف آئندہ سے کوئی شخص عریانی کی حالت میں نہیں کر سکے گا۔ جن کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان ہیں ان کی مدت آج سے چار ماہ کی ہے اس مدت کے گزر جانے کے بعد اللہ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بری الذمہ ہیں اس سال کے بعد کسی کافر کو بیت اللہ کے حج کی اجازت نہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منادی کرتے کرتے مرا گلا پڑ گیا "۔ (مسند احمد:299/2:حسن)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز بیٹھ جانے کے بعد میں نے منادی شروع کر دی تھی۔ ایک روایت میں ہے جس سے عہد ہے اس کی مدت وہی ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16382)

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " مجھے تو ڈر ہے کہ یہ جملہ کسی راوی کے وہم کی وجہ سے نہ ہو۔ کیونکہ مدت کے بارے میں اس کے خلاف بہت سی روایتیں ہیں۔ "
مسند میں ہے کہ براۃ کا اعلان کرنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ ذوالحلیفہ پہنچے ہوں گے جو آپ نے فرمایا کہ یہ اعلان تو یا میں خود کروں گا یا میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (سنن ترمذی:3090،قال الشيخ الألباني:حسن)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورۃ برات کی دس آیتیں جب اتریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: انہیں لے جاؤ اور اہل مکہ کو سناؤ۔ پھر مجھے یاد فرمایا اور ارشاد ہوا کہ تم جاؤ ابوبکر سے ملو جہاں وہ ملیں ان سے کتاب لے لینا اور مکہ والوں کے پاس جا کر انہیں پڑھ سنانا، میں چلا جحفہ میں جا کر ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کتاب لے لی۔ آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ " کیا میرے بارے میں کوئی آیتیں نازل ہوئی ہیں؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جبرائیل میرے پاس آئے اور فرمایا کہ یا تو یہ پیغام خود آپ پہنچائیں یا اور کوئی شخص جو آپ میں سے ہو۔ (مسند احمد:151/1:ضعیف)

اس سند میں ضعف ہے اور اس سے یہ مراد بھی نہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت لوٹ آئے نہیں بلکہ آپ نے اپنی سرداری میں وہ حج کرایا حج سے فارغ ہو کر پھر واپس آئے۔

جیسے کہ اور روایتوں میں صراحتاً مروی ہے اور حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام رسانی کا ذکر کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عذر پیش کیا کہ " میں عمر کے لحاظ سے اور تقریر کے لحاظ سے اپنے میں کمی پاتا ہوں۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن ضرورت اس کی ہے کہ اسے یا تو میں آپ پہنچاؤں یا تو پہنچائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہی ہے تو لیجئے میں جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے اور تیرے دل کو ہدایت دے۔پھر اپناہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔ (عبد اللہ فی المسند:1289:ضعیف)
لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ " حج کے موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بات پہنچانے بھیجا تھا؟ " آپ رضی اللہ عنہ نے اوپر والی چاروں باتیں بیان فرمائیں۔ (سنن ترمذي:3092،قال الشيخ الألباني:صحیح)

مسند احمد وغیرہ میں یہ روایت کسی طریق سے آئی ہے۔ اس میں لفظ یہ ہیں کہ جن سے معاہدہ ہے وہ جس مدت تک ہے اسی تک رہے گا۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے کہا کہ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھیج چکے ہیں کاش کہ یہ پیغام بھی انہیں پہنچا دیتے۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسے تو کوئ میرے گھر والا ہی پہنچاۓ گا۔ " اس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غضبأ نامی اونٹنی پر سوار ہو کر تشریف لے گے تھے انہیں راستے میں دیکھ کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ " سردار ہو یا ماتحت؟ " فرمایا: " نہیں میں تو ماتحت ہوں۔ " وہاں جا کر آپ نے تو حج کا انتظام کیا اور عید والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ احکام پہنچائے۔ پھر یہ دونوں آپ کے پاس آئے۔ پس مشرکین میں سے جن سے عام عہد تھا ان کے لیے تو چار ماہ کی مدت ہو گئی۔ باقی جس سے جتنا عہد تھا وہ بدستور رہا۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16391:ضعیف)

اور روایت میں ہے کہ ابوبکر صدیق کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر حج بنا کر بھیجا تھا اور مجھے ان کے پاس چالیس آیتیں سورۃ برات کی دے کر بھیجا تھا۔ آپ نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: " اُٹھئے اور سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں کو سنا دیجئیے۔ " پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر ان چالیس آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر لوٹ کر منٰی میں آ کر جمرہ پر کنکریاں پھینکیں۔ اونٹ نحر کیا سر منڈوایا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ سب حاجی اس خطبے کے وقت موجود نہ تھے۔ اس لیے میں نے ڈیروں میں اور خیموں میں اور پڑاؤ میں جا جا کر منادی شروع کر دی میرا خیال ہے کہ شاید اس وجہ سے لوگوں کو یہ گمان ہو گیا یہ دسویں تاریخ کا ذکر ہے حالانکہ اصل پیغام نویں کو عرفہ کے دن پہنچا دیا گیا تھا۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16392:ضعیف)
ابواسحٰق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابوجحیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حج اکبر کا کون سا دن ہے؟ آپ نے فرمایا: عرفے کا دن۔ میں نے کہا: یہ آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہوا۔ فرمایا: سب کچھ یہی ہے۔ عطاء رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی فرما کر فرماتے ہیں: پس اس دن کو کوئی روزہ نہ رکھے۔

راوی کہتا ہے: میں نے اپنے باپ کے بعد حج کیا۔ مدینے پہنچا اور پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے مدینے والوں سے پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں؟ تو انہوں نے آپ کا نام لیا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں یہ فرمائیے کہ عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: لو میں تمہیں اپنے سے ایک سو درجے بہتر شخص کو بتاؤں وہ سیدنا عمر یا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں وہ اس روزے سے منع فرماتے تھے اور اسی دن کو حج اکبر فرماتے تھے۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ)

اور بھی بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے کہ حج اکبر سے مراد عرفے کا دن ہے ایک مرسل حدیث میں بھی ہے آپ نے اپنے عرفے کے خطبے میں فرمایا یہی حج اکبر کا دن ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16407)

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بقرہ عید کا دن۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بقر عید والے دن اپنے سفید خچر پر سوار جا رہے تھے کہ ایک شخص نے ان کی لگام تھام لی اور یہی پوچھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حج اکبر کا دن آج ہی کا دن ہے لگام چھوڑ دے۔ عبداللہ بن ابی اوفی کا قول بھی یہی ہے۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عید کے خطبے میں فرمایا: آج ہی کا دن یوم الاضحی ہے آج ہی کا دن یوم النحر ہے۔ آج ہی کا دن حج اکبر کا دن ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور بھی بہت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ حج اکبر بقر عید کا دن ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔

صحیح بخاری کے حوالے سے پہلے حدیث گذر چکی ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منادی کرنے والوں کو منٰی میں عید کے دن بھیجا تھا۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع میں جمروں کے پاس دسویں تاریخ ذی الحجہ کو ٹھہرے اور فرمایا: یہی دن حج اکبر کا دن ہے۔ (صحیح بخاری تعلیقا:1742)

اور روایت میں ہے کہ آپ کی اونٹنی سرخرنگ کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ جانتے بھی ہو آج کیا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: قربانی کا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ ہے یہی دن حج اکبر کا ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:16462)

اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے لوگ اس کی نکیل تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ یہ دن کون سا ہے جانتے ہو؟ ہم اس خیال سے خاموش ہو گئے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور ہی نام بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ حج اکبر کا دن نہیں؟ (تفسیر ابن جریر الطبری:16460) اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے آپ کے سوال پر جواب دیا کہ یہ حج اکبر کا دن ہے۔ (سنن ترمذي:2159،قال الشيخ الألباني:صحیح)

سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عید کے بعد کا دن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: حج کے سب دنوں کا یہی نام ہے۔ سفیان رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جیسے یوم جمل، یوم صفین ان لڑائیوں کے تمام دنوں کا نام ہے ایسے ہی یہ بھی ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ سے جب یہ سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا حاصل یہ تو اس سال تھا جس سال حج کے امیر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ اسی سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: یہی وہ دن تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور عام لوگوں کا حج ہوا۔